20 نومبر 2018

عالمی خبروں کے حاشیے عالمی خبروں کے حاشیے

27 اگست 2018ء کو ہسپانوی پولیس نے دارالحکومت میڈرڈ کی سبزی منڈی سے 67 کلو گرام کوکین قبضے میں لے لی جو درجنو ں انناس کو اندر سے خالی کر کے ان میں چھپائی گئی تھی۔ یہ انناس وسطی امریکا کے چھوٹے سے ملک کوسٹاریکا سے پرتگال کی بندرگاہ سیٹو بل میں لائے گئے تھے اور وہاں سے بذریعہ سڑک میڈرڈ پہنچائے گئے۔ آگے ان کی منزل غالباً ہسپانوی شہر بارسیلونا تھا جہاں سے وہ فرانس میں سمگل ہوتی۔ ہر انناس میں کوکین کے 800 تا 1000 کلو گرام سلنڈر نما پیکٹ چھپائے گئے تھے اور ان پر موم یا ییلو پیرافین لگائی گئی تھی تاکہ کوکین کی بو باہر نہ آئے۔ پولیس نے کوکین مافیا سے منسلک تین افراد میڈرڈ سے اور چار بار سیلونا سے گرفتار کر لیے۔ انناس کے ہر خول کے نفاست سے اس طرح دو ٹکڑے کیے گئے تھے کہ ان کے دندانہ دار کٹے ہوئے حصے باہم پیوست ہو کر کسی طرح دکھائی نہ دیں۔
سپین کے لاطینی امریکا سے تاریخی اور لسانی رشتے استوار ہیں جہاں شمال میں میکسیکو سے لے کر جنوب میں چلی(Chile) اور ارجنٹینا تک کے ممالک سپین کی نو آبادیاں (کالونیاں) تھیں، جو 1815ء میں نپولین کی جنگیں ختم ہونے پر سب یکے بعد دیگرے آزاد ہو گئیں۔ اسی وجہ سے بولیویا اور پیرو میں کوکا کے پودوں سے تیار ہونے والی کوکین یورپ کو سپلائی کرنے کے لیے سپین کا روٹ استعمال ہوتا ہے، جبکہ امریکا ، کینیڈا اور یورپ کو سپلائی کا سب سے بڑا مرکز کولمبیا ہے جس کے جنگلوں میں بولیویا سے لائے ہوئے کوکا کے پتوں سے نشہ آور کوکین تیار کی جاتی ہے۔
 میکسیکو سے چلی و ارجنٹینا تک کے ممالک بشمول برازیل لاطینی امریکا(Latin America) کہلاتے ہیں۔ برازیل پرتگال کی نو آبادی تھا جبکہ باقی سب لاطینی ممالک سپین کی نو آبادیاں تھے جن کی سرکاری زبان سپینش (ہسپانوی) ہے اور برازیل میں پرتگالی (Portugese) زبان رائج ہے۔ چونکہ ہسپانوی اور پرتگالی دونوں زبانیں لاطینی الاصل ہیں، اس لیے مغربی نصف کرے میں واقع کینیڈا ، ریاست ہائے متحدہ امریکا (USA ) اور جزائر غرب الہند (ویسٹ انڈیز) کے ممالک ہیٹی، بہاماز، جمیکا، بارباڈوس، گریناڈا، ٹرینیڈاڈوٹوباگو وغیرہ اور جنوبی امریکا کے ممالک گائیانا (سابق برطانوی گی آنا) اور مسلم اکثریتی سرینام (سابق ڈچ گی آنا) کے سوا باقی سارے امریکی ممالک کو مجموعی طور پر لاطینی امریکا کہا جاتا ہے۔ ان میں وسطی امریکا کے ممالک پاناما، کوسٹاریکا، نکارا گوا، گواٹے مالا، ہانڈوراس اور بیلائز بھی شامل ہیں۔
امریکا کے سابق صدارتی امیدوار (2008ء) اور ریپبلکن سینیٹر جان مکین 25 اگست 2018ء کو 81 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ انہیں ہنوئی (ویت نام کا دارالحکومت ) میں بھی خراج عقیدت پیش کیا گیا کیونکہ ویت نام کے سابق دشمن مکین نے (جو جنگ ویت نام میں قیدی بن گئے تھے) 1973ء میں اپنی رہائی اور اپریل 1975ء میں دس سالہ جنگ ویت نام ختم ہونے کے بعد امریکا ویت نام تعلقات کے قیام میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ دارالحکومت ہنوئی کی ٹروک باچ جھیل کے کنارے مکین کا کنکریٹ کا مجسمہ نصب ہے جہاں جنگ ویت نام کے دوران میں 26 اکتوبر 1967ء کو نیوی پائلٹ جان مکین کا بمبار طیارہ گرا لیا گیا تھا ۔ جان مکین کو 5 سال بدنام عمارت’’ ہنوئی ہلٹن‘‘ میں قید تنہائی میں رکھا گیا تھا جہاں ان تشدد بھی ہوتا رہا لیکن پھر اپنی رہائی کے بعد مکین نے بحالی امن کے لیے جو خدمات انجام دیں، ان کے نتیجے میں 1995ء میں دونوں ملکوں میں سفارتی تعلقات قائم ہو گئے، تب حکومت ویتنام نے جھیل کے کنارے ان کا مجسمہ نصب کر دیا۔ جان مکین 1936ء میں پاناما میں پیدا ہوئے تھے جہاں نہر پاناما کے دونوں طرف پاناما زون اس وقت امریکا کے کنٹرول میں تھا۔ وہ 1958ء میں امریکی بحریہ کی سروس میں شامل ہوئے تھے۔
آنجہانی سینیٹر جان مکین کی یاد میں یکم ستمبر کی تعزیتی تقریب (واشنگٹن نیشنل کیتھڈرل) میں سابق صدور بل کلنٹن، جارج بش اور بارک حسین اوباما، سابق نائب صدور الگور اور ڈک چینی اور سابق وزرائے خارجہ ہنری کسنجر(1973ء تا 1977ء)، میڈلین البرائٹ، جان کیری اور ہلیری کلنٹن اور موجودہ وزیر دفاع جم میٹس نے شرکت کی۔ ہفتے کی صبح مکین کا تابوت Vietnam Veterans Memorial لے جایا گیا جہاں ان کی بیوہ سینڈی مکین نے ان 58 ہزار امریکی مقتولین (Martyres) کی یاد میں پھولوں کی چادر چڑھائی جو ویت نام کی جنگ کا ایندھن بنے تھے۔ حیرت انگیز طور پر صدر ٹرمپ تعزیتی تقریب سے غائب رہے اور حسبِ معمول گولف کھیلنے چلے گئے جس پر انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا ۔ یاد رہے سابق صدر جارج بش نے پرائمری صدارتی چنائو 2000ء میں اور بارک اوباما نے ملکی صدارتی چنائو 2008ء میں جان مکین کو ہرایا تھا۔
سعودی عرب، یمن، عُمان (Oman)، متحدہ عرب امارات، قطر اور کویت پر مشتمل جزیرہ نمائے عرب دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ نما (Peninsula) ہے جس کے تین طرف پانی اور ایک طرف خشکی ہے۔ اس کے مشرق میں خلیج فارس ہے جسے عرب ممالک خلیج العربی کہنے پر مصر ہیں جبکہ دنیا صرف خلیج یا گلف کہہ کر کام چلاتی ہے۔ اس کے جنوب مشرق میں خلیج عمان ہے جو تنگ آبنائے ہرمز (Hormuz Strait) کے ذریعے سے خلیج فارس سے ملی ہوئی ہے۔ جزیرہ نمائے عرب کے جنوب میں بحیرۂ عرب اور خلیج عدن، مغرب میں بحیرۂ احمر (بحیرۂ قلزم) اور خلیج عقبہ ہیں جبکہ شمال میں اردن اور عراق واقع ہیں۔ تاریخی طور پر عرب کی حدود شمال میں دریائے فرات تک کہی جاتی ہیں جو عراق و شام میں بہتا ہے۔ اسی لیے عرب کو جزیرۃالعرب بھی کہا جاتا ہے۔
جزیرہ نمائے عرب کے مشرق میں قطر کا چھوٹا جزیرہ نما ہے جس کے صرف جنوب میں خشکی (سعودی عرب) ہے۔ جزیرہ نمائے قطر کے شمال اور مشرق میں خلیج العربی اور مغرب میں خلیج البحرین اور مغرب میں دوحہ سلویٰ واقع ہیں۔عربی میں’’ دوحہ‘‘ کے معنی ہیں چھوٹی خلیج۔بوتل نما ملک قطر کے شمال مغرب میں خلیج البحرین کے پار ملک بحرین واقع ہے جو بڑے جزیرہ بحرین اور چند چھوٹے جزائر پر مشتمل ہے۔ قطر تیل کی دولت سے مالا مال ہے۔ یہاں امریکا نے ایک بہت بڑا فضائی اڈا بنا رکھا ہے۔قطر کا دارالحکومت الدوحہ (Doha ) مشرقی ساحل پرایک چھوٹی خلیج (دوحہ) کے کنارے واقع ہے۔
گزشتہ ایک سال سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے قطر سے سفارتی تعلقات منقطع کر رکھے ہیں اور اس کا بائیکاٹ کیا ہوا ہے۔ وجہ نزاع قطر کی طرف سے اخوان المسلمون کی سرپرستی اور ایران کی طرف داری ہے۔ اب سعودی عرب نے قطر کے جنوب میں ایک نہر کھودنے کا اعلان کیا ہے جو خلیج العربی کھاڑی خور العدید سے دوحہ سلویٰ تک جائے گی۔ ’’خور‘‘ کے معنی سمندری کھاڑی ہیں۔ نہر کی کھدائی سے قطر ایک جزیرہ نماکے بجائے جزیرہ بن جائے گا۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے سینئر مشیر سعودالقحطانی نے ٹویٹر پر کہا ہے کہ میں’’ جزیرہ سلویٰ منصوبہ‘‘ پر عمل درآمد کے لیے کوشاں ہوں۔ یہ تاریخی منصوبہ علاقے کا جغرافیہ بدل کر رکھ دے گا۔ اس سے قطری جزیرہ نما سعودی عرب سے کٹ جائے گا۔
گزشتہ اپریل میں ’’سبق‘‘ نیوز ویب سائٹ نے خبر دی تھی کہ سعودی حکومت 60 کلومیٹر لمبی اور 200 میٹر چوڑی سمندری نہر سعودی قطر سرحد کے ساتھ ساتھ تعمیر کرے گی۔ اس پر 2.8 ارب ریال (75 کروڑ ڈالر) لاگت آئے گی اور اس کا ایک حصہ مجوزہ نیو کلیئر ویسٹ فیسیلیٹی کے لیے وقف ہو گا۔ اس ماہ نہر کی کھدائی کا ٹھیکہ بذریعہ بولی کامیاب کمپنی کو دیا جائے گا۔ گزشتہ سال جون میں تعلقات منقطع ہونے پر قطر کی واحد زمینی سرحد بند ہو گئی تھی جو سعودی عرب سے متصل ہے۔ قطر کی سرکاری ایئر لائن کو ہمسایوں کی ایئر سپیئس استعمال کرنے سے روک دیا گیا تھا اور قطری باشندوں کو بائیکاٹ کرنے والے ممالک سے نکال دیا گیا تھا۔ تب قطر پر دہشت گردی کی حمایت کرنے اور عربوں کے حریف ملک ایران سے بہت قریبی تعلقات استوار کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ ادھر قطری مسئلہ حل کرنے کے لیے امریکا اور کویت کی کوششیں ابھی تک بارآور نہیں ہوئیں۔