20 نومبر 2018
تازہ ترین

عاصمہ جہانگیر کی کمی عاصمہ جہانگیر کی کمی

عاصمہ جہانگیر کی وفات پر افسوس کا اظہار کرنے والے تقریباً ہر فرد نے یہ رسمی فقرہ کہا تھا کہ ان کا خلا کبھی پر نہیں ہو سکے گا۔ عاصمہ کے انتقال پر رسمی طور پر کہی گئی بات کی حقیقت کو ان کی موت کے بعد شاید پہلی مرتبہ شدت کے ساتھ محسوس کیا جا رہا ہے۔ عدل، سیاست اور صحافت کے ایوانوں میں جو کچھ اب ہو رہا ہے، جب بھی ان کی زندگی میں ہوا، عاصمہ کبھی خاموش نہ رہیں۔ اکثر دیکھا گیا کہ ہمت طلب اظہار کی ضرورت کے وقت صحافت، سیاست اور انسانی حقوق کے شعبوں میں خود کو دبنگ تصور کرنے والے لوگ جب ابھی اپنے بیان کی قطع و برید میں ہی الجھے ہوتے، اس سے بہت پہلے عاصمہ کا بے لاگ تبصرہ صاحب اختیار لوگوں کے بد معاملہ رویوں کا احاطہ کر چکا ہوتا۔ عاصمہ نے اپنی ذات کی نمود کے بجائے ہمیشہ عام لوگوں کے حقوق کی بات کی، مگر یہ عمل کرتے ہوئے وہ ہر مرتبہ پہلے سے زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آئیں۔ عاصمہ نے اپنی زندگی میں صاحب اختیار قانون دانوں کے بجائے ہمیشہ قانون کی حکمرانی کے لیے آواز بلند کی۔ منحنی سی عاصمہ نے اپنا وزن بھاری بھرکم اختیارات رکھنے والی شخصیات کے پلڑے میں ڈالنے کے بجائے ہمیشہ انصاف، بنیادی انسانی حقوق اور جمہوریت کے پلڑے میں رکھا۔ عاصمہ کسی عہدے سے وابستہ واجب احترام کو صرف اسی وقت تک ملحوظ خاطر رکھتی، جب تک اس عہدے پر براجمان انسان اپنی قانونی حدود میں رہتے ہوئے اپنے فرائض منصبی ادا کرتا بصورت دیگر وہ اپنے عمل سے احترام اور ڈر کے فرق کو دنیا پر اچھی طرح واضح کر دیا کرتی تھیں۔
آج عاصمہ ہم میں نہیں ہیں، مگر ان کے متعلق یہ خیال ذہن میں ضرور آتا ہے کہ اگر وہ زندہ ہوتی تو آج یہاں رونما ہونیوالے واقعات کے رد عمل میں ان کا رویہ کیسا ہوتا۔ عاصمہ کی جدوجہد سے بھر پور زندگی کا ہر باب سب کے سامنے کھلی کتاب کی طرح موجود ہے۔ اس کھلی کتاب کو سامنے رکھتے ہوئے یہ قیاس کرنا محال نہیں کہ اگر عاصمہ زندہ ہوتیں تو موجودہ حالات میں اپنا مطمع نظر کن الفاظ میں بیان کرتیں۔ عاصمہ کے عمل کے متعلق کوئی قیاس تو کیا جا سکتا ہے مگر اس کا بیان عاصمہ جیسی ہمت کے بغیر ممکن نظر نہیں آتا۔ جس ہمت کو عاصمہ اپنے ساتھ لے کر یہاں سے رخصت ہوئیں اسے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے یہاں صرف وہ یادداشتیں بیان کی جا سکتی ہیں، جن میں ان کی بے پایاں ہمت کی کہانیاں موجود ہیں۔ عاصمہ کی ایسی ہی ایک کہانی اس دور سے متعلق ہے جس میں عدالت عظمیٰ کے اعلیٰ ترین عہدے دار ناگواری کے اظہار کے طور پر وکیلوں کے لائسنس تک معطل کر دیا کرتے تھے۔
ایسے دور میں جسٹس ریٹائرڈ دیدار حسین شاہ کو چیئرمین نیب مقرر کرنے کا واقعہ رونما ہوا۔ دیدار حسین شاہ کی تعیناتی کو اس وقت کے قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی نے اس موقف کے تحت سپریم کورٹ میں چیلنج کیا کہ اس تعیناتی کے لیے آئینی تقاضوں کے مطابق ان سے مشاورت سے نہیں کی گئی تھی۔ چوہدری نثار کا یہ موقف درست تھا اس لیے پیپلز پارٹی کی حکومت نے جسٹس ریٹائرڈ دیدار حسین کو ایک نئے نوٹیفیکیشن کے تحت چیئرمین نیب بنانے کی کوشش کی۔ سپریم کورٹ نے اس کیس میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے نا صرف آئینی تقاضے پورے نہ ہونے کی وجہ سے دیدار حسین کی تعیناتی کو کالعدم قرار دیا بلکہ انہیں اس عہدے کے لیے نااہل بھی قراردے دیا اور اس کے ساتھ ہی آئندہ چیئرمین نیب کی تعیناتی کے لیے چیف جسٹس سے مشاورت کو بھی لازمی قرار دے دیا۔ دیدار حسین شاہ کیس کے فیصلہ کے حوالے سے عاصمہ نے عدالت کی اس بات سے اتفاق کیا کہ چیئرمین نیب کی تعیناتی کرتے ہوئے حکومت نے اٹھارویں ترمیم میں وضع کیے گئے طریقہ کار کے مطابق قائد حزب اختلاف سے مشاورت نہیں کی تھی۔ اس حد تک اتفاق کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس فیصلے میں چیئرمین نیب کی تعیناتی کو جس طرح سے چیف جسٹس آف پاکستان کے مشورے سے مشروط کر دیا گیا ہے یہ بات سمجھ سے بالا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2002 ء سے قبل چیئرمین نیب کی تعیناتی کے لیے چیف جسٹس سے مشاورت نیب آرڈیننس کا حصہ تھی، تاہم بعد ازاںترمیم کرتے ہوئے چیف جسٹس سے مشاورت کی شق ختم کر دی گئی۔ اب عدالت اپنے طور پر اس شق کو بحال نہیں کر سکتی بلکہ یہ کام صرف اور صرف پارلیمنٹ کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب کا کام کسی کیس کا فیصلہ کرنا نہیں بلکہ کسی الزام کے تحت تیار کردہ کیس عدالت کو بھیجنا ہے۔ یہاں سوال
پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی شہری چیف جسٹس کی مرضی کے مطابق تعینات کیے گئے چیئرمین نیب کے خلاف عدالت میں جائے گا تو کیا وہاں چیف جسٹس کی غیر جانبداری غیر مشکوک رہ سکے گی؟ مذکورہ کیس کے فیصلے کے ایک نکتے کو عجیب قراردیتے ہوئے عاصمہ نے کہا کہ ایک طرف تو دیدار حسین شاہ کی تعیناتی کو خلاف ضابطہ قرار دیا گیا ہے اور دوسری طرف انہیں دوبارہ تعیناتی کے لیے نااہل بھی قرار دے دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بات چیئرمین نیب کی تعیناتی کوخلاف ضابطہ قرار دیے جانے والے فیصلے کا حصہ ہونی چاہیے تھی کہ انہیں اس عہدے پر کبھی تعینات سمجھا ہی نہ جائے۔ اس صورت میں انہیں نااہل قرار نہیں دیا جا سکتا تھا۔ اگر انہیں کسی بھی مدت کے لیے چیئرمین نیب تعینات سمجھا جائے گا تو پھر قانون کے مطابق انہیں عہدے سے ہٹائے جانے یا نااہل قرار دینے کا اختیار کسی عدالتی بنچ کا نہیں بلکہ ان کو ہٹانے کا وہی طریقہ کار ہی جو اعلیٰ عدلیہ کے کسی جج کے لیے آئین میں درج ہے۔
دیدار حسین کیس کیے فیصلے پر کی گئی عاصمہ جہانگیر کی تنقید نا صرف آج بھی قانونی طور پر قابل جواز ہے بلکہ اس لیے بھی قابل تعریف ہے کہ یہ تنقید اس دور میں کی گئی جب سیاسی، صحافتی اور سرکاری حلقوں میں ایک اعلیٰ عدالتی شخصیت کو دہشت کی علامت سمجھا جانے لگا تھا۔ عاصمہ کی اس فیصلے پر کی گئی تنقید کا اہم پہلو یہ تھا کہ اگر کوئی شہری چیف جسٹس کی مرضی کے مطابق تعینات کیے گئے چیئرمین کے خلاف عدالت عظمیٰ میں جائے گا تو کیا وہاں چیف جسٹس کی غیر جانبداری غیر مشکوک رہ سکے گی۔ عاصمہ کی طرف سے اٹھائے گئے اس اہم نقطے میں یہ اشارہ موجود ہے کہ معیاری اور شفاف انصاف کی فراہمی کے لیے ضروری ہے کہ جن اعلیٰ عدالتی شخصیات کو فیصلے کی حتمی اتھارٹی حاصل ہے وہ کسی بھی معاملے کی قانونی کارروائی کے ابتدائی اور ثانوی مراحل سے خود کو دور رکھیں۔ اگرکسی اعلیٰ عدالتی شخصیت کا عمل دخل تفتیش سے لے کر حتمی فیصلے تک ہر مرحلے میںموجود نظر آئے گا تو اس کی نیک نیتی کے دعووں کے باوجود اس کے کردار کو کسی طرح بھی معیاری تصور نہیں کیا جا سکے گا۔ 
کسی کیس کی تفصیل میں جائے بغیر یہاں صرف یہی کہا جا رہا ہے کہ جس قسم کے کردار کو عاصمہ جہانگیر ناپسندیدہ قرار دیتی رہیں، اس کی مثالیں ہمیں آج بھی نظر آ رہی ہیں۔ یاد رہے اس طرح کی مثالیں قائم کرنے والوں کے عہدے ختم ہونے کے بعد کوئی ان کا نام لیوا نہیں رہتا مگر عاصمہ جیسے کردار کے حامل لوگ مر کر بھی ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔
بقیہ: لعل و گوہر