24 مئی 2019
تازہ ترین

عازمین حج کی مشکلات حل ہوسکتی ہیں عازمین حج کی مشکلات حل ہوسکتی ہیں

عازمین حج کے ناموں کی قرعہ اندازی ہوچکی، اب کامیاب ہونے والے خوش نصیبوں کو تربیتی مرحلے سے گزرنا پڑے گا۔ حج ایسی عبادت ہے جو حق تعالیٰ نے صاحب استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک ہی بار فرض کی ہے، حج کے لیے ایک دن مقرر ہے جسے یوم عرفات کہا جاتا ہے۔ اس دن کے لیے انسان پوری زندگی انتظار میں رہتا ہے کہ وہ کون سی گھڑی ہوگی جب وہ میدان عرفات میں اللہ تعالیٰ کے حضور قبولیت کے دعاو مناجات کرے گا۔ یوم عرفات کو حج کا رکن اعظم کہا گیا ہے۔ عازمین حج کو 9 ذوالحجہ کو عرفات کے میدان میں ٹھہرنا ہوتا ہے۔ اگر کوئی وہاں وقوف نہیں کرتا تو اس کا حج نہیں ہوتا۔ 
اللہ تعالیٰ نے اپنے مہمانوں کی میزبانی کا شرف سعودیوں کو بخشا ہے، اسی لیے سعودی کہتے ہیں کہ حجاج کی خدمت ان کے لیے باعث شرف ہے۔ اگر چہ  پاکستان اور سعودی حکومتیں دونوں ہی اپنے طور پر عازمین حج کی خدمت کے لیے ہمہ وقت تیار رہتی ہیں، لیکن اس کے باوجود بہت سے مسائل ایسے ہیں، اگر وزارت مذہبی امور اور خصوصاً سعودی وزارت حج انہیں حل کرنا چاہے تو ان کے لیے بڑی بات نہیں۔ حج کے انتظامات میں مرکزی کردار تو سعودی حکومت کا ہی ہے کیونکہ اسے تو عالم اسلام سے آئے حجاج کی دیکھ بھال کرنا ہوتی ہے، تاہم کچھ امور ایسے ہیں اگر ہماری مذہبی امور اور سعودی وزارت حج انہیں حل کرنا چاہے تو ان کے لیے کوئی مشکل کام نہیں۔ جس طرح سعودی حکومت نے ابھی حال ہی میں روڈ ٹو مکہ پروجیکٹ کے تحت چار شہروں سے حج پر جانے والے عازمین حج کا امیگریشن اور کسٹم پاکستان میں ہی کرنے کی سہولت دی ہے۔ یوں کئی ہزار عازمین حج کو جدہ کے حج ٹرمینل پر کیے جانے والے طویل انتظار کی صعوبت سے نجات مل جائے گی۔ ان شاء اللہ آنے والے وقتوں میں پاکستان کے دوسرے شہروں کے ہوائی اڈوں پر بھی عازمین حج کو امیگریشن کی سہولت مل جائے گی۔
راقم کے مشاہدات کے مطابق عازمین حج کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا اس وقت کرنا پڑتا ہے جب انہیں بسوں میں منیٰ سے عرفات لے جایا جاتا ہے۔ اس موقع پر حجاج کی اکثریت صبح سویرے اپنے خیموں سے نکل کر سڑکوں پر آجاتی ہے، جس سے مکہ مکرمہ سے منیٰ آنے والی بسوں کی آمدورفت رک جاتی ہے جو کوئی بس خیموں کے قریب آبھی جائے تو حجاج بغیر دیکھے دوسرے مکاتب کی بسوں میں سوار ہوجاتے ہیں۔ بدنظمی کا آغاز یہیں سے ہوجاتا ہے۔ اس موقع پر حجاج کوکنٹرول کرنا کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی، کیونکہ سب کو میدان عرفات جانے کی ہوتی ہے۔ بسااوقات بسوں کے ڈرائیور راستہ بھی بھول جاتے ہیں، ڈرائیوروں کی اکثریت مصر سے تعلق رکھتی ہے جو منیٰ اور عرفات کے راستوں سے ناواقف ہوتے ہیں، اس صورت حال میں ہمارے حجاج کو بہت زیادہ پریشانی کا سامنا ہوتا ہے۔ کئی عشرے پہلے سعودی حکومت کی تعلیمات کے مطابق ہر معلم بسوں کے ساتھ ڈرائیوروں کی رہنمائی کے لیے مرشد کو بھرتی کیا کرتا تھا جو حجاج کی منیٰ اور عرفات روانگی سے ایک روز قبل ڈرائیوروں کو منیٰ اور عرفات لے جاکر باقاعدہ راستوں اور حجاج کے خیموں سے متعارف کرایا کرتے تھے۔ لیکن اب ایسا نہیں ہورہا، معلمین نے اپنے پیسے بچانے کے لیے مرشدین کی بھرتی کو ترک کردیا ہے۔ لہٰذا اس مشکل سے عہدہ برآ ہونے کے لیے ہمارے وفاقی وزیر مذہبی امور اور سعودی عرب میں حج مشن کے حکام کو سعودی وزارت حج کے حکام سے بات چیت کرکے مرشدین کے تقرر کو یقینی بنانا چاہیے۔ اس کے ساتھ سعودی ٹرانسپورٹ سنڈیکیٹ کے حکام سے بات چیت کرکے پاکستانی حجاج کو مشاعر مقدسہ لے جانے والی بسوں کو منیٰ سے عرفات تک ایک ہی پھیرا لگانے پر رضامند کرنا چاہیے، کیونکہ جب حجاج کو عرفات چھوڑ کر بس واپس دوسرے پھیرا لگانے کے لیے جاتی ہے تو وہ واپس منیٰ میں پہنچ ہی نہیں پائے گی۔ 
اگرچہ سعودی حکومت نے منیٰ اور عرفات میں بہت سی سڑکیں بنادی ہیں، لیکن ٹریفک کے رش کی وجہ سے بسوں کو پاکستانی حجاج کے خیموں تک پہنچانا ہی مشکل ہوتا ہے۔ ہم یقین سے کہتے ہیں اگریہ دونوں کام وزارت مذہبی امور، سعودی وزارت حج سے کرالے تو حجاج کی نوے فیصد مشکلات ختم ہوسکتی ہیں۔ سعودی حکومت نے حجاج کو مشاعر مقدسہ میں ریل کی سہولت سے منیٰ سے عرفات پہنچانے کے لیے مونو ٹرین سروس شروع کردی ہے۔ لیکن مشاہدے میں آیا ہے کہ منیٰ میں ریل کے اسٹیشن پاکستانیوں کے خیموں کے دو کلومیٹر دُور واقع ہیں، جس کی وجہ سے ہمارے بوڑھے حجاج کے لیے ٹرین اسٹیشن تک جانا ہی مشکل ہوتا ہے۔ لہٰذا ہمارے حاجیوں کے لیے اگر بس ایک ہی پھیرا لگائے تو یہ ٹرین کی سہولت سے بہتر ثابت ہوسکتی ہے۔ پاکستان حج مشن کو بھی ماضی کی طرح پاکستان سے جانے والے حج میڈیکل مشن اور خدام الحجاج کو منیٰ اور عرفات کے راستوں سے قبل ازوقت روشناس کرانا ضروری ہے۔ یہ کام ایک دو مرحلوں میں کیا جانا چاہیے۔
مشاہدے میں آیا ہے کہ جب حجاج کرام منیٰ اور عرفات چلے جاتے ہیں تو حج کے بعد واپسی پر ان کی عمارات میں پانی کی شکایات ہوتی ہیں، لہٰذا حجاج کی اس مشکل کو حل کرنے کے لیے حجاج کی حج کے بعد اپنی رہائش گاہوں میں واپسی سے پہلے خدام الحجاج کو پانی کی موجودگی یقینی بنانی چاہیے، تاکہ ہر حاجی باآسانی غسل کرسکے۔ یہ بھی دیکھا گیا کہ ہمارے میڈیکل مشن کے لوگ حجاج کی رہائش گاہوں میں نہیں جاتے، حالانکہ بھارت کے میڈیکل مشن کے ڈاکٹر اپنے حاجیوں کی عمارات میں جاکر ان کا علاج معالجہ کرتے ہیں۔ پہلے تو ہمارے میڈیکل مشن والوں کا کہنا ہوتا تھا کہ حاجیوں کی عمارات اتنی زیادہ ہیں کہ ہر عمارت میں جانا مشکل ہوتا ہے، لیکن اب تو جب سے عزیزیہ میں حجاج کو ٹھہرایا جارہا ہے، یہ عذر بھی ختم ہوگیا، کیونکہ عزیزیہ میں بڑی بڑی رہائش گاہوں کے ہوتے ہوئے حاجیوں کی ایک بڑی تعداد بہت کم عمارات میں قیام پذیر ہوتی ہے۔ لہٰذا وزارت مذہبی امور کو چاہیے کہ وہ میڈیکل مشن اور خدام الحجاج کو سعودی عرب روانگی سے پہلے حاجی کیمپ میں یہ تمام امور باور کرائیں تاکہ عازمین حج کی مشکلات میں کمی کو یقینی بنایا جاسکے۔ اُنہیں تربیتی پروگراموں میں یہ بات بھی زور دے کر بتائی جائے کہ جب وہ عرفات سے شام کو مزدلفہ لوٹیں تو جس بس میں سوار ہوکر وہ عرفات سے مزدلفہ آئیں، اسی کے قریب ہی رات کو قیام کریں، تاکہ انہیں اگلی صبح منیٰ جاتے ہوئے بس کی تلاش میں مشکل پیش نہ آئے، اگر وہ بس سے کہیں دُور رات گزاریں گے تو اگلی صبح انہیں ایک جیسی بسوں میں سے اپنی بس کی تلاش میں مشکل پیش آئے گی۔