25 مئی 2019
تازہ ترین

 صحافت بمقابلہ فسطائیت صحافت بمقابلہ فسطائیت

الیکٹرونک یا پرنٹ میڈیا عوام تک تازہ ترینخبریں پہنچانے کاذریعہ سمجھے جاتے ہیں، تاہم اس حوالے سے عموماً بحث ہوتی ہے کہ کیا میڈیا اپنے پیشہ ورانہ ذمے داری غیر جانب داری سے انجام دے رہا ہے یا پھر اس کا میزان کسی ’’خاص‘‘ جانب جھکا ہوا ہے۔ حالیہ دنوں بھارتی میڈیا میں جھوٹی خبروں، ٹاک شوز عروج پر ہیں یہاں تک کہ مودی سرکار سے مطالبہ کیا گیا کہ پاکستان پر حملہ کرکے جنگ شروع کردی جائے۔ چونکہ بھارت میں انتخابات کی سرگرمیاں عروج پر ہیں، اس لیے غیر ذمے دار رویے کو لے کر دنیا بھر میں بھارتی میڈیا کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کا اندازہ بھارت کی سیاسی جماعتوں کو بھی ہوا۔ گزشتہ دنوں آر جے ڈی کے رہنما اور بہار کے سابق نائب وزیراعلیٰ تیجسوی یادو نے بڑا اہم اقدام کرکے مثبت صحافت کی بنیاد رکھنے کی کوشش کی۔ 
تیجسوی یادو نے 21اپوزیشن جماعتوں کو ارسال ایک مکتوب میں اپیل کی کہ ’’اپوزیشن جماعتیں نیوز چینلوں کا بائیکاٹ کریں‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ہر شام مباحث میں ٹی وی اینکرز صرف اپوزیشن کے ترجمان کی توہین کرتے ہیں بلکہ ان کا مقصد ملک کے بنیادی مسائل سے توجہ ہٹانا اور بھارتی سماج میں منافرت اور تشدد کی آگ کو بھڑکانا بھی ہوتا ہے۔‘‘ تیجسوی یادو نے اپنے مکتوب میں لکھا کہ ’’ایسی صورت حال میں ہمیں لگتا ہے کہ نیوز چینل کے اسٹوڈیوز میں اب صرف فسطائیت کا بول بالا ہے اور یہاں کوئی معقول بحث نہیں ہوسکتی۔ یہ چینل اپوزیشن کی آواز کا استعمال صرف اپنے جھوٹ کو تقویت پہنچانے کے لیے کرتے ہیں۔ اس لیے تمام سیاسی پارٹیوں سے اپیل کرتے ہیںکہ وہ ٹی وی پر مباحثے کے نام پر ہونے والی اس چیخ و پکار کے مقابلے میں شرکت نہ کریں اور چینلوں کی تخریب کاری کی اس مہم کا حصہ بننے سے انکار کردیں۔
تیجسوی یادو نے تمام اہم ملکی لیڈران کو یہ مکتوب ارسال کیا ہے، جن میںایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی، کانگریس کے صدر راہول گاندھی، ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتابینرجی، عام آدمی پارٹی کے اروند کیجریوال، ٹی آر ایس کے صدر چندر شیکھر، رائو نیشنل کانفرنس کے سرپرست فاروق عبداللہ، پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی، این سی پی کے صدر شردپوار، راشٹریہ لوک دل کے اجیت سنگھ، تیلگودیشم پارٹی کے صدر چندرا بابونائیڈو کے علاوہ کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکریٹری سیتا رام بچپوری جیسی اہم شخصیات شامل ہیں۔اس سے قبل بھارتی نیوز چینل کے سینئر اینکر روش کمار نے ایک پروگرام کے دوران عوام سے اپیل کی تھی کہ ’’وہ کم ازکم الیکشن تک ٹی وی دیکھنا چھوڑ دیں کیونکہ یہ ٹی وی چینل ناصرف منافرت پھیلاتے ہیں بلکہ عوام کی توجہ اہم مسائل سے ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔‘‘
بھارتی میڈیا کے خلاف بائیکاٹ مہم کی یہ اپیلیں نوشتۂ دیوار ہیں کہ جب عوام کے حقیقی مسائل سے ہٹ کر نان ایشوز پر ایسی صحافت کی جائے تو صحافت نہیں بلکہ فسطائیت کہلاتی ہے۔ پھر ان حالات میں ٹی وی نیوز چینلوں کو نہ دیکھنے کی اپیل برحق نظر آتی ہے۔ بھارتی میڈیا کی اکثریت منافرت، تعصب اور اشتعال انگیزی کی آگ بھڑکاتے ہیں۔ بھارتی میڈیا نے ہمیشہ کوشش کی کہ جھوٹی صحافت کے ریکارڈ قائم کیے جائیں اور پورے ملک میں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ایسا جنگی و خوف وہراس کا ماحول پیدا کیا جائے کہ جو جتنا بڑا جھوٹ بولے گا، وہ اتنا بڑا میڈیا گروپ کہلائے گا۔ اور میڈیا جتنا عوام کے مسائل کو چھپاکر فروعی مفادات کے تحت چیخ و پکار کرے گا۔ اس نیوز چینل کو زیادہ دیکھا جائے گا۔ اس قسم کے مفروضوں سے بھرا بھارتی میڈیا مکمل بے لگام ہوچکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب خود بھارتی سیاست دان و جماعتیں اپنے میڈیا کے منفی کردار سے متنفر ہوچکی ہیں، کیونکہ صحت مندانہ ماحول میں مثبت گفتگو کا تصور بھارت میں مفقود ہوچکا ہے۔ 
پاکستانی میڈیا اس حوالے سے بھارت سے کئی درجے بہتر تصور کیا جاتا ہے۔ کم ازکم جنگی جنون میں مبتلا کرنے کے بجائے امن پسند پالیسی کے تحت اشتعال انگیزی کا سہارا نہیں لیتا، تاہم  بدقسمتی سے کچھ برسوں سے پاکستانی میڈیا  بھی اخلاقی گراوٹ کا شکار ہے۔ سیاسی جلسوں میں اشتعال انگیز تقاریر ہوں یا جھوٹے الزامات کی بوچھاڑ، گالم گلوچ اور بدتہذیبی کو بیشتر پاکستانی میڈیا  ہائوسز نے بھی من وعن کوریج کا وتیرہ بنالیا ہے۔ یہ عمل رواں دواںہے کہ جب کوئی سیاست دان جوش خطابت میں غیر پارلیمانی جملوں یا بنا شواہد کسی بھی شخصیت پر الزامات عائد کرتا ہے تو ہمارا میڈیا بغیر قطع برید کیے من وعن نشر کردیتا ہے۔ انویسٹی گیشن اور فوٹوگرافک جرنلزم کا تصور ناپید ہوتا جارہا ہے، اب تو یہ حال ہوگیا ہے کہ سوشل میڈیا میں وائرل ہونے والی ویڈیوز معروف میڈیا ہائوسز کی بریکنگ نیوز  اور ہیڈ لائن بننے لگی ہیں۔ ایک سمارٹ موبائل فون کی بنی فوٹیج پروفیشنل صحافت پر حاوی نظر آتی ہے۔
بھارت کی کھلی جارحیت کے بعد پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں ایک صفحے پر اکٹھا ہوئیں اور یکجہتی پر مبنی مثبت پیغام پوری دنیا میں گیا۔ لیکن یہ اثرمیڈیا میںصرف چند دن قائم رہ سکا کیونکہ بعض وزراء نے عجلت و جذبات میں دوبارہ احتجاجی سیاست شروع کردی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارے میڈیا کا دھیان ملک کو درپیش مسائل سے ہٹ گیا۔ بھارتی میڈیا کے جھوٹ کا جواب ہمارا میڈیا ہی بہترانداز میں دے سکتا ہے، تاہم بدقسمتی سے یہاں بھی صبح و شام بے معنی مباحث و بریکنگ نیوز، پریس کانفرنس اور ٹاک شوز میں ملکی مسائل کے بجائے سیاست دانوں کے ذاتی مسائل کو فوقیت دینے کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا ہے۔ 
جب ہم بھارتی میڈیا کو دیکھتے ہیں کہ ان کی جھوٹ کی دکان ہر حدود پھلانگتے جارہی ہے تو اس کا موثر جواب دینے کے بجائے ہمارے میڈیا نے ’’نیرو‘‘ کی بانسری بجانا شروع کردی ہے۔ میڈیا ہائوسز کے درمیان ایسا کوئی ضابطہ اخلاق دیکھنے میں نہیں آتا کہ جب تک کوئی سیاست دان یا شخصیت عدالت میں مجرم ثابت نہیں ہوجاتی، ہمارے میڈیا کو خودساختہ تبصروں سے گریز کرنا چاہیے۔ کسی بھی سیاست دان کی جانب سے کسی پر بھی الزامات کی نوعیت میں دیکھنا ضروری ہے کہ کیا ملزم پر عدالت میں کوئی مقدمہ چل رہا ہے یا نہیں۔ اگر عدالت میں مقدمہ چل رہا ہے تو اس پر کسی بھی فریق کا نقطۂ نظر عدالتی کارروائی کا حصہ بن جانے پر نشر و شائع تو کیا جاسکتا ہے، لیکن عدالت جب تک کسی ملزم کو مجرم قرار نہیں دیتی، ہمیں مصنوعی سنسنی پیدا کرنے سے گریز کی راہ اپنانی چاہیے۔ 
وطن عزیز کو ان گنت مسائل و عالمی دبائو کا سامنا ہے۔ حکمراں یا اپوزیشن جماعتیں پارلیمان سے باہر کچھ اور پارلیمان میں کچھ اور نظر آتی ہے۔ اس عمل سے عوام کا اعتماد اٹھتا چلا جاتا ہے کہ جب تک حقیقی مسائل کو اجاگر نہیں کیا جائے گا اور اس کے حل کے لیے تمام سیاسی جماعتیں سنجیدہ کردار ادا نہیں کریں گی تو ملک کو مسائل کے بھنور سے نکالنا مشکل سے مشکل تر ہو جائے گا۔ تمام سیاسی جماعتوں کو تحمل، اخلاقیات و رواداری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ خصوصاً پاکستانی میڈیا ہاؤسز کو بھارتی میڈیا کی طرح غیر سنجیدہ بننے سے گریز کرنا ہو گا۔