شیخ چلّی سے بل گیٹس تک شیخ چلّی سے بل گیٹس تک

شیخ چلّی بچّوں کے لیے تخلیق کردہ ادب کا زندہ جاوید کردار ہے، ٹاٹ اور خستہ حال سرکاری سکولوں سے علم حاصل کرنے والے اس سے بخوبی آشنا اور انگریزی سکولوں میں پڑھنے والے یقیناً اس سے ناواقف ہونگے۔
شیخ چلّی نے اپنے دوستوں کو بتایا کہ اس نے کاروبار شروع کرنے کا ارادہ کیا ہے اور اس مقصد کے لیے مرغی کا ایک انڈا خریدا ہے، اب وہ اسے گھر لے جاکر اپنے لحاف میں رکھ دے گا، جہاں انڈے سے بچّہ برآمد ہوگا۔ بچّہ بڑا ہوکر مرغی بنے گا، مرغی مزید انڈے دے گی، انڈوں سے مزید بچّے نکلیں گے، پھر یہ مزید انڈے دیں گے، درجنوں مرغیاں سیکڑوں نہیں ہزاروں بچّے، پھر ان مرغیوں اور چوزوں کے کاروبار میں دن دوگنی رات چوگنی ترقی ہوگی، خوب دولت کمائوں گا اور زندگی کی تمام آسائشیں حاصل کروں گا، بلٹ پروف گاڑیوں کی قطاریں، نوکروں کی قطاریں غرضیکہ سب کچھ۔ کہانی سیدھی سادی سی تھی لیکن اس میں کاروبار کے لیے آئیڈیا تھا، جسے تھوڑی سی ترمیم واضافے کے ساتھ عملی جامہ پہنایا جائے تو یہ معقول کاروبار بن سکتا ہے، بنتا رہا ہے۔
شیخ چلّی لوکل کردار ہے، ہم لوکل ٹیلنٹ کی قدر نہیں کرتے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں بہت کم لوگوں نے اس طرف توجہ دی، برسوں پہلے شہبازشریف اور بعدازاں حمزہ شہباز نے ان کے اس کاروبار کو سنبھالا اور اسے بلندیوں تک لے گئے، یہ الگ بات کہ ان کے کاروبار کو آسمان تک پہنچانے میں ان کے خاندان کے اقتدار کا اہم کردار ہے۔ مرغی اور اس کے انڈے کی قیمت بھی اسی دور میں آسمان تک پہنچی، اب دن رات دعائوں سے اقتدار تو زمین پر لے آیا، مرغی اور انڈے کی قیمتیں ابھی آسمان پر ہیں۔
چند روز قبل دنیا کے امیر ترین لوگوں میں سے ایک بل گیٹس سے انٹرویو کے دوران پوچھا گیا کہ اگر آپ سے آپ کی تمام دولت واثاثے واپس لے لیے جائیں تو آپ کیا کریں گے، بل گیٹس نے جواب دیا، میں مرغیاں پالوں گا پھر انہوں نے مرغبانی پر ایک لیکچر دیا، وہی لیکچر جو ہمارے لوکل ٹیلنٹ شیخ چلّی نے اپنے دوستوں کو دیا تھا۔
وطن عزیز میں 100 روزہ جشن اور اپوزیشن کے سو روزہ ماتم کے بعد حکومت میں شامل بعض شیخ چلیز کو بل گیٹس کی بات بہت پسند آئی، وہ اس پر متفق نظر آتے ہیں کہ مرغبانی کو فروغ دے کر معاشی حالات میں تبدیلی لائی جاسکتی ہے، لہٰذا پرانے منشور میں دیسی مرغی کا تڑکا لگاکر فیصلہ کیا گیا کہ اعلیٰ نسل کا ایک مرغ اور پانچ مرغیاں نہایت مناسب قیمت میں مختلف گھرانوں میں تقسیم کی جائیں گی، جہاں وہ ان کے انڈوں سے نکلنے والے چوزوں، ان چوزوں کی مرغیاں بن کر مزید انڈے دینے، پھر ان انڈوں سیمزید چوزوں اور مرغیوں کے کاروبار سے اپنی معاشی حالت کو سنواریں گے اور حکومت پر انحصار کم کریں گے۔
جب سے یہ خبر مارکیٹ میں آئی ہے، مرغ فیملیز میں جشن کی سی کیفیت ہے، گھر میں مہمانوں کی آمد پر ان کی خاطر مدارات کی خاطر مرغی خریدنے کے لیے جس مارکیٹ گئے ڈربے خالی پائے گئے، پوچھنے پر بتایاگیا کہ تمام مرغ اپنی اپنی فیملی کے ہمراہ حکومت کے اس فیصلے پر خوشی منانے کے لیے مال روڈ پر عظیم الشان ریلی میں شرکت کے لیے گئے ہیں، جہاں سے فراغت کے بعد وہ اپنے بچوں کو بیڈن روڈ سے آئس کریم کے نام پر بکنے والا دھوکہ کھلائیں گے، اس کے بعد انہیںچڑیا گھر کی سیر کرائیں گے اور رات گئے اپنے ڈربوں میں لوٹیں گے۔ مرغ ریلی کی خبر سن کر رہا نہ گیا تو مال روڈ کا رخ کیا، جہاںٹریفک اور انسانوں کا سمندر تھا، ٹریفک سگنل خراب تھے، لہٰذا سڑک عبور کرنا جوئے شیر لانے سے زیادہ مشکل محسوس ہوا۔
مال روڈ کے کنارے کھڑے کھڑے ذہن میں کئی ویڈیوکلپ تازہ ہوگئے کہ کسی مہذب ملک میں دن بھر کے سیرسپاٹے کے بعد ایک بطخ اپنے بچوں کے ساتھ گھر آرہی ہے، راستے میں ایک مصروف ترین شاہراہ عبور کرنے کے لیے جوں ہی وہ اوراس کے بچّے سڑک پر قدم رکھتے ہیں، تمام چھوٹی بڑی گاڑیاں، موٹر سائیکلیں، ٹرک حتیٰ کہ پیدل چلنے والے مردوزن بھی رک جاتے اور انہیں راستہ دیتے ہیں، بطخ اور اس کے بچوں کے سڑک کراس کرنے کے بعد زندگی ایک مرتبہ پھر رواں دواں ہوجاتی ہے۔
خیال تھاکہ شاید مال روڈ پر بھی مرغ ریلی میں ایسا ہی منظر دیکھنے کو ملے، لیکن وہاں پہنچ کر اندازہ ہوا کہ مرغ ریلی میں شرکاء کی تعداد اتنی ہی ہے، جتنی آج کل اپوزیشن کی اے پی سی میں ہوتی ہے، ریلی میں عام مرغ مرغیاں اور چوزے بہت کم تھے جب کہ لیڈر مرغوں اور مرغیوں میں کوئی قابل ذکر شخصیت نظر نہ آئی۔ ایک مرغ فیملی نے سڑک عبور کرنے کے لیے قدم بڑھایا تو خیال تھا کہ ٹریفک رک جائے گا پر کئی بلٹ پروف گاڑیاں انہیں روندتی ہوئی گزرگئیں، مرغ اور اس کی فیملی کے کئی ممبر زخمی ہوگئے، کچھ تو ریسکیو1122 کے پہنچنے سے قبل ہی جاں بحق ہوگئے جبکہ بعض معجزانہ طور پر محفوظ رہے، انہیں خراش تک نہ آئی۔
حادثے میں محفوظ رہنے والوں کے حوصلے بلند تھے، انہیں گاڑیوں تلے آکرکچلے جانے والوں کا کوئی غم نہ تھا، وہ سب بالکل ہم انسانوں کی طرح بی ہیو کررہے تھے، یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ جانوروں نے بھی انسانی رویے اپنالیے ہیں، یعنی اب وہ بھی انسانوں کے نقش قدم پر چلنا سیکھ چکے ہیں۔
حادثے میں بچ جانے والی مرغی سے جائے حادثہ پر پہنچنے والے میڈیا نمائندے نے پوچھا کہ اس حادثے کے بعد جبکہ آپ کے کئی فیملی ممبر جاں بحق ہوچکے، آپ کیسا محسوس کررہی ہیں، اس نے جواب دیاکہ باقی تو سب ٹھیک ہے جو ہونا تھا وہ ہوگیا لیکن میرا قیمتی آئی فون نہیں مل رہا، شاید کسی نے اٹھالیا ہے، آپ برائے مہربانی اس پر بیل دیں، اس کے بتائے ہوئے نمبر پر بیل دی گئی تو فون خاموش تھا، فون اٹھانے والا سمجھ دار ثابت ہوا۔
ایک اور سوال کے جواب میں مرغ فیملی کی اہم رکن نے بتایا کہ حکومت کے وزیر خزانہ کی طرف سے ملک کی اقتصادی حالت کو سنوارنے کے لیے تیزرفتار پالیسی نہ دیے جانے کے بعد وزیراعظم نے یہ اہم ذمے داری مرغ اور مرغیوں کے ناتواں کاندھوں پر ڈالی ہے جس پر انہیں فخر ہے، ہماری کوشش ہوگی زیادہ سے زیادہ ملک کی خدمت کریں۔ 
سوال وجواب کا سلسلہ دیکھ کر ہمارا بھی جی چاہا کہ مسٹر مرغ اور میڈم مرغی سے ایک سوال پوچھ لیں، اجازت ملنے پر ان سے پوچھا کہ یہ فرمائیے کہ آپ کے انڈوں سے نکلنے والے چوزے اگر بلی کھاگئی تو پھر ہماری معیشت کا کیا بنے گا، جس پر انہوں نے جواب دیا، یہ تو پھر آپ کی بدقسمتی ہوگی، اس میں ہمارا یا وزیراعظم عمران خان کا کوئی قصور نہیں ہوگا۔