22 ستمبر 2018

شہنشاہیت…! شہنشاہیت…!

ہماری طرح کروڑوں عوام جن کے بدن پر کپڑا نہیں، پاؤں میں جوتی نہیں، کھانے کو گھر میں آٹا دال نہیں، اُنہیں تو بھول ہی جائیں، ان بے چاروں کا کیا قصور؟ وہ تو خود ہی قسمت کے ستائے ہوئے ہیں، لیکن آپ غور کریں کہ شاہد خاقان جیسے شریف النفس انسان (جنہیں عبوری وزیراعظم کے طور پر نامزد کیا گیا ہے) عہدے کا حلف اُٹھانے سے پہلے ہی، پوری طرح وزیراعظم کا پروٹوکول لے کر شان و شوکت کا مظاہرہ کرنے میں ذرا بھی نہیں ہچکچاتے۔ آئیے ہم آپ کو تصویر کا دوسرا رُخ دِکھاتے ہیں۔ ایک نامور صحافی، بے باک مصنف جس نے کئی کتابیں تحریر کر ڈالیں (آپ سمجھ گئے ہوں گے میرا اشارہ کس شخصیت کی طرف ہے) ہمارے ملک میں تو ویسے ہی بہت اعلیٰ ظرف صحافی، شاعر اور ادیب گزرے ہیں، کچھ تو گزر گئے، باقی اﷲ تعالیٰ کی رحمت سے ابھی ہم میں موجود ہیں، چلئے نام لے لیتا ہوں، منو بھائی اور مستنصر حسین تارڑ۔ آخر الذکر نے ایک پیغام بھیجا جو میں آپ کی خدمت میں پیش کردیتا ہوں، فرماتے ہیں کہ اگر برطانوی شہزادہ (بلکہ کرائون پرنس کہیں تو زیادہ مناسب ہے) پرنس چارلس کا چالان ہوجاتا ہے، وزیراعظم ٹونی بلیئر کی بیوی زیر زمین ٹرین میں سفر کرتی غلطی سے اگلے اسٹاپ پر اُتر جاتی ہے تو اُسے جرمانہ ہوجاتا ہے، سویڈن کا وزیراعظم بھٹو کی دعوت میں شامل ہونے کے لیے پیدل چلا آتا ہے، ڈنمارک و ہالینڈ کی ملکائیں سائیکلوں پر گھومتی نظر آتی ہیں، جرمن پارلیمنٹ کی ایک رکن دوبارہ منتخب نہیں ہوتی تو گزر اوقات کے لیے ایک اسٹور میں صفائی کرنے کی نوکری کرتی ہیں، آئرن لیڈی مارگریٹ تھریچر اتوار کے روز اپنے اور بال بچّوں کے کپڑے دھو کر ڈائوننگ اسٹریٹ کے مکان نمبر 10 کے مختصر صحن میں سوکھنے کے لیے خود ڈالتی ہیں تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں کہ ہم اس حوالے سے بھی کچھ مضطرب ہوجائیں، کیوںکہ یہ تو ہم بھول چکے ہیں کہ یہ اصل میں مسلمانوں کی روایات تھیں۔
آج ہمیں شان و شوکت نے گھیر لیا ہے، اس میں ہمارا قصور تو ضرور ہے۔ ملتِ اسلامیہ میں مصر، انڈونیشیا، پاکستان ہی ایسے ممالک ہیں جہاں جمہوریت لولی لنگڑی ہی سہی، رائج ہے، لیکن خلیجی ممالک کو چھوڑ کر جہاں امیر اور بادشاہوں کی سلطنت ہے، بقیہ ممالک میں یا تو ڈکٹیٹرز سربراہِ مملکت ہیں، یا جمہوریت کا سرے سے نام لینا ہی کال کوٹھری میں جانے کو دعوت دینا ہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ حضورﷺ نے انسانیت کا جو سبق پڑھایا اُسے ہم سرے سے بھول ہی بیٹھے ہیں۔ علامہ اقبالؒ نے کہا تھا کہ:
ترے صوفے ہیں افرنگی ترے قالیں ہیں ایرانی
لہو مجھ کو رُلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی
ہم نے عیش و عشرت کو اپنانے میں فخر محسوس کیا، غریب کی نظر تو اب بھولے سے بھی نہیں اُٹھتی کہ اُس کے گھر بچوں کو کھلانے کے لیے کیا ہے۔ ہمارے اسلامی اصولوں (جو ہمیں، اﷲ، اُس کے رسولؐ اور قرآن پاک نے بتائے) کو مغربی ممالک نے اپنالیا اور آج وہاں سب کے حقوق برابر ہیں۔ حضرت عمر فاروقؓ کی مثال آج بھی زندہ ہے، جہاں ایک کپڑے کا حساب امیر المومنین کو دینا پڑ گیا تھا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے جنگ کے دوران اپنے گھر کا سارا سازوسامان، اونٹ، بھیڑ، بکریاں سب کچھ حضورﷺ کے قدموں میں ڈال دیا اور جب رسول پاکﷺ نے پوچھا کہ ابوبکرؓ گھر میں بھی کچھ چھوڑا ہے تو جواب بغیر کسی وقفے کے آیا کہ جی اﷲ اور اُس کا رسولﷺ۔ یہ تھیں درخشاں روایات۔ کیا ہم آج بھی امین اور صادق ہیں، یا کہلانے کے بھی قابل۔ ہم تو راندۂ درگاہ ہوچکے ہیں، اُمراء اور رئوسا کا طبقہ اعلیٰ منصوبوں کی دوڑ میں بے ایمانی، چوری اور ڈکیتی تک سے باز نہیں آتا، پارلیمنٹ میں جانے اور وزیر، وزیراعلیٰ، وزیراعظم بننے میں عوام کو یکسر نظرانداز کردیتا ہے، بڑے بڑے محلات عوام الناس کے ٹیکسوں سے بنا کر اُس میں داد عشرت دینے میں مصروف ہیں، مغربی ممالک (جہاں اکثر جانے کا اتفاق ہوتا ہے) میں وزیراعظم کے لیے چھوٹے سے مکانات ہوتے ہیں، امریکی صدر کے لیے وائٹ ہائوس میں صرف تین کمرے مخصوص ہیں، جاپان کے وزیراعظم اور جرمنی کی چانسلر محدود اور چھوٹے مکان میں رہتے ہیں۔ یہ وہ ممالک ہیں جہاں دولت کی ریل پیل ہے، امارت عوام کی ہتھیلیوں پر کھیلتی ہے۔ کیا انہی سب باتوں کے لیے ہم نے ایک علیحدہ ملک بنایا تھا، لاکھوں جانوں کی قربانی دی۔ 
ہمارے ملک کے لیڈران شہنشاہیت پر یقین رکھتے ہیں۔ کیا حکومت انہی کا حق ہے؟ کیا قومی اسمبلی میں جہاں آپ کی پارٹی میں 342 میں سے 188 ارکان ہیں اور حلیفوں کی ملاکر یہ تعداد 214 تک پہنچتی ہے، کسی اور کا حق نہیں کہ وزیراعظم بنے۔ جمشید دستی بے چارہ غریب ایم این اے ہے، وہ جیل تو جاسکتا ہے، لیکن کسی اعلیٰ عہدے کے لیے سوچا بھی نہیں جاسکتا، اس لیے کہ سچ بولتا ہے۔ تو قارئین یہ ہے ہمارے پیارے پاکستان کا حال، آپ سے تو کچھ چھپا ہوا نہیں۔ بس میں نے قلم اُٹھانے کی ہمت کرلی، خدا خیر کرے۔