22 جولائی 2019
تازہ ترین

شہر ِ خرافات میں این آر او کی گونج شہر ِ خرافات میں این آر او کی گونج

اس شہر خرابات کو شہر خرافات میں تبدیل کرنے کی ہنرمندی اور مہارت کا آغاز ہوا تھا۔ تجربے کی بدترین ناکامی کے باوجود اس کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ روز قومی اسمبلی میں جو کچھ ہوا وہ قابل تحسین نہیں، شرمندگی کا باعث ہے۔ چونکہ یہ کوئی نئی بات نہیں، اسے محسوس کرنا بھی وقت کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں رہا۔ اس کے باوجود ان شاہکار اراکین پارلیمنٹ کے بارے کبھی کبھی یہ خیال ضرور آتا ہے کہ سیاسی ماحول کو پراگندہ کرنے والے ان شرفا کا مستقبل کیا ہو گا۔ مزید بدقسمتی کہ اگر مخالفین کو عوام نے منتخب کر لیا تو ان خرافاتیوں کے ساتھ جو سلوک ہو گا اس پر کسی کو احتجاج کا موقع بھی نہیں ملے گا۔ کیونکہ سیاست میں رواداری، برداشت اور وضع داری تو قصہ پارینہ ہوئی، جو جتنا زبان دراز ہے وہی ٹیلی ویژن کی سکرین ریٹنگ میں اضافہ کا باعث ہوتا ہے اور ہمارے کل کے رپورٹر آج کے اینکرز بلکہ دانشور اس زبان درازی سے حظ بھی اٹھاتے ہیں اور اپنے ناظرین کو مفت میں تماشا دیکھنے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔
اس انداز گفتگو میں چھپی لفظوں کی ’’مکے بازی‘‘ کہاں سے اور کیسے شروع ہوئی اس پر کوئی رائے ظاہر کرنے کی ہم تو پوزیشن میں نہیں لیکن آج کے منظرنامہ میں جو تیر اندازی ہوتی ہے، زبان کی کمانوں پر جس طرح لفظوں کو مخالفین پر پھینکنے کیلئے چڑھایا جاتا ہے وہ کسی بھی طرح مناسب و موزوں نہیں۔ شاہ سے زیادہ شاہ کے مصاحب جس طرح فنکاریاں دکھاتے، اچھل کود کرتے حدود سے تجاوز کرتے ہیں اس سے جنگل کا زمانہ اور ڈارون کی تہذیبی تھیوری بھی یاد آتی ہے۔ ایک پرانا گانا بھی ذہن میں ابھرتا ہے:
’’یہ بندر انسان تھا پہلے‘‘
ہم نے جب انسان اور کتا کا مکالمہ لکھا تو اس میں ’’کتا صاحب‘‘ نے بھی انسان کو اس کی اوقات یاد کراتے ہوئے کہا تھا کہ انسان بندر کی بگڑی ہوئی شکل ہے لیکن جو کچھ ہم نے پچھلے آٹھ ماہ میں نئے پاکستان کی منتخب اسمبلی میں عوام کی نمائندگی کو اچھلتے کودتے ایک دوسرے پر ناخن آزمائی کرتے دیکھا اور سنا ہے ’’کتا صاحب‘‘ کے دعوے کو محدود پیمانے پر تسلیم کرنے کو تیار تو ہیں لیکن حقیقتاً وہی کچھ ہے جو ارتقائی عمل میں آگے بڑھتا ہوا نئے مناظر پیش کرتا ہے۔ یہ بندر نما انسان یا انسان نما بندر کون ہیں؟ ہم کسی ایک کے بارے کچھ کہہ سکتے ہیں نہ یہ اعزاز چند لوگوں تک محدود کر سکتے ہیں۔ سیاست کے اس جنگل کے ہر درخت پر کوئی نہ کوئی بیٹھا فطری مظاہر پیش کر رہا ہے۔ کسی کیلئے کوئی خاص پابندی نہیں، جو بھی چاہے اپنی بہترین صلاحیتوں کے ساتھ جلوہ گر ہو سکتا ہے۔ ویسے ہمیں یہ اندازہ بھی ہے کہ اگر ہم نے کسی کو نظرانداز کیا، اس کا نام ’’پاناما لیکس‘‘ میں شامل نہ کیا تو اس کی ناراضی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ زبان درازی مکے بازی کی طرف بھی بڑھ سکتی ہے، ہماری عزت اور شرافت کا دامن تار تار بھی ہو سکتا ہے۔ کوئی ہمیں بچانے والا بھی نہیں ہو گا، کٹہرے میں کھڑے ہم غیر مشروط معافی مانگنے پر مجبور ہوں گے۔ کوئی وکیل ہماری وکالت کو تیار ہو گا نہ ہمیں ضمانت پر رہائی ملے گی۔
کیونکہ سچائی یہ ہے کہ ضمانتوں پر رہائی بھی انہیں ملتی ہے جن کے پاس ’’این آر او‘‘ کی صلاحیت اور طاقت ہو یا پھر وہ این آر او دینے والوں کی ضرورت یا مجبوری ہوں۔ یہ جو این آر او نہ دینے کا دعویٰ کرتے صبح و شام ہنگامہ کھڑا کیے ہوئے ہیں سب فریب نظر اور عوام کو گمراہ رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں بلکہ اپنی ساکھ بچانے کے جتن کر رہے ہیں ورنہ یہ تو خود ’’این آر او‘‘ کے تحت صادق اور امین حکومت کے تجربہ میں شامل کیے گئے تھے۔ اب ان کی خواہش اور کوشش ہے کہ مستقبل میں وہ لوگوں کو یہ بتا سکیں کہ ہم تو این آر او کے مخالف تھے، ہم تو مجرموں کو پس دیوار دھکیلنا چاہتے تھے لیکن کچھ لوگوں کو یہ پسند نہیں آیا، وہ تحریکوں سے خوفزدہ ہو گئے تھے۔ ان کا یہ موقف یا مستقبل کی منصوبہ بندی اپنی جگہ لیکن:
یہ تشویش اور پریشانی حق بجانب بھی ہے مگر یہ سوال تو بہرحال موجود ہے کہ اگر آپ امیدوں، آرزوؤں پر پورا اترتے؟ آپ میں صلاحیت ہوتی یا پھر آپ کے پاس بیٹنگ پچ پر کھیلنے والے کھلاڑی ہوتے؟ یہ تجربہ ناکام ہوتا اور نہ ہی پالیسی سازوں کو ’’این آر او‘‘ کی طرف بڑھنا پڑتا۔ آپ جو مرضی دعوے کریں، نعرے ماریں، مستقبل کی منصوبہ بندی کریں لیکن زمینی حقائق اس امر کی شہادت پیش کر رہے ہیں کہ ’’این آر او‘‘ ہو چکا ہے۔ نواز شریف علاج کیلئے بیرون ملک چلے جائیں گے، مسلم لیگ (ن) کی ذمہ داری شہباز شریف کے پاس ہی وقتی طور پر ہو گی۔ یہ الگ بات کہ پاکستان میں کوئی بھی سانحہ کوئی وقوعہ حالات کا رخ تیزی سے تبدیل کر دیتا ہے اور پھر:
وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے
ہمارے سیاستدانوں میں یہ پرانی عادت ہے کہ وہ حقائق کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ اس کی نفی میں ہی اپنی تمام صلاحیتیں صرف کرتے ہیں۔ جب پانی سر سے گزر جاتا ہے تو پھر اشک باری میں پناہ حاصل کرتے اور عوام کو گمراہ رکھنے کی نئی ذمہ داری پر کام شروع کر دیتے ہیں۔ اس امید پر کہ وقت اور حالات کی ستم ظریفی ایک بار پھر ان کی طرف متوجہ ہو سکتی ہے حالانکہ وقت اورحالات کا تجزیہ کرنے کے کچھ اور پیمانے بھی ہوتے ہیں، ان میں ایک انصاف کی دیوی کا بدلا ہوا مزاج بھی ہوتا ہے۔ اب بھی اگر بات کسی کی سمجھ میں نہ آئے تو ہم اس نادانی کو بھلا اور کیا نام دے سکتے ہیں۔
سوال صرف اتنا ہے کہ مستقبل کی نقشہ بندی کیا ہو گی اور اس پر عملدرآمد کے امکانات کیسے تلاش کیے جائیں گے؟ آئین پر بھی کوئی آنچ نہ آئے اور ترجیحات پر بھی عملدرآمد ہو جائے ’’سٹیٹس کو‘‘ کی بالادستی بھی برقرار رہے اور چہروں کی تبدیلی بھی ہو جائے۔ عوام کی خواہشوںکا احترام بھی ہو جائے اور موجودہ جمہوری نظام کے تسلسل میں عزت پر بھی کوئی آنچ نہ آئے۔ اس صف بندی کے باوجود افسوس صرف اس امر پر ہے کہ نئے پاکستان میں سب سے کم ووٹ کا شاید ہی کوئی ایسا منتخب وزیراعظم تاریخ میں موجود ہو گا۔