21 نومبر 2018
تازہ ترین

شراب، شہد اور زیتون شراب، شہد اور زیتون

تحریک انصاف کی عام انتخابات میں کامیابی اور عمران خان کے وزیراعظم بن جانے پر خاتون اوّل بشریٰ بی بی کی صاحبزادی اپنے والد خاور مانیکا اور سوتیلی والدہ کے ہمراہ بابا فرید گنج شکر کے مزار پر شکرانے کے نوافل کی ادائیگی کے لیے روانہ ہوئی۔ خاور مانیکا اپنی اہلیہ کے ہمراہ گاڑی ڈرائیو کررہے تھے جب کہ صاحبزادی گاڑی کے آگے شکرانے کے سجدے اداکرتی جارہی تھی کہ پولیس اہلکاروں نے اپنے روایتی انداز میں شکرانے کے سجدوں سے روکا اور باز پُرس شروع کردی، حتیٰ کہ خاتون کو روایتی انداز میں بازو سے پکڑ کر گھسیٹا اور طوفان بدتمیزی برپا کردیا، جس پر خاور مانیکا نے پولیس اہلکاروں کو روکا۔ بہرحال جیسے تیسے کرکے یہ مختصر خاندان مزار پہنچا، لیکن واپسی پر، ڈھاک کے وہی تین پات یعنی پولیس اہلکاروں کا روایتی بدتمیزی کا مظاہرہ آڑے آیا، بات دُور تک گئی، ڈی پی او پولیس نے اپنے ملازمین کو بچانے کی خاطر افسران بالا سے جھوٹ بولا۔ اور بجائے معاملہ سمیٹنے کے مزید الجھادیا، حتیٰ کہ چیف جسٹس نے ازخود نوٹس لے کر فریقین و افسران بالا کو بھی طلب کرلیا اور کھلی عدالت میں جو کچھ ہوا، وہ یقیناً ناقابل بیان اور انسانیت کی دھجیاں اُڑانے کے لیے کافی ہے، لیکن آئی جی پنجاب نے اسے انتظامی امور قرار دیا، بعد ازاں خاور مانیکا اور اسلم اقبال گجر کے بیانات کی روشنی میں چیف جسٹس نے تحقیقات کرکے اصل ذمے داروں کے خلاف کارروائی کا حکم جاری کیا۔ چیف جسٹس نے پولیس کی بابت وزیراعظم کے بیانیے پر توجہ دی۔
کہتے ہیں کہ ’’ابتدائے آفرنیش میں عزازیل نے زمین کے چپے چپے پر سوسوسال تک عبادت کی اور اللہ کے قریبی فرشتوں میں شمار ہوا۔ یہ تب کی بات ہے جب پولیس معرض وجود میں نہیں آئی تھی، ورنہ عزازیل کو بھی عبادت کرنے نہ دی جاتی اور پولیس کے ہاتھوں دھر لیا جاتا۔‘‘ سنا ہے کہ ’’تب قاضی القضاء ازخود نوٹس لینے کے عادی بھی نہیں تھے، ورنہ دھر لیے جانے کی صورت میں، عزازیل، یعنی شیطان ملعون کی ضمانت؟‘‘ اس ضمن میں ہم پولیس اور قاضی صاحبان کے شکر گزار ہیں، انہی کی بدولت آج دنیا میں چپے چپے پر سجدے دینے کی ممانعت ہے، ورنہ چہ معلوم عزازیل کی خلافت سرعام نسل درنسل پنپ رہی ہوتی اور ہم اور آپ عزازیل کی جمہوریت کی خلافت کے گواہ ہوتے۔
پولیس اور عزازیل کی ضد یعنی قلبی سکون کی خاطر لانڈھی جیل میں پابند سلاسل میڈیکل سہولتوں کی بجا آوری یعنی علاج کروانے اور جسم کو جراثیم سے پاک کروانے میں مصروف کار معروف سیاست دان شرجیل میمن کے ضیاء الدین ہسپتال کے کمرے پر عزت مآب چیف جسٹس پاکستان نے چھاپہ مارا اور کمرے سے دو عدد شراب کی بوتلیں پکڑیں، چیف جسٹس صاحب کے سوال پر شرجیل میمن نے جواب دیا، ’’ شراب ۔۔ کی یہ بوتلیں میری نہیں‘‘ لیکن بعد ازاں سیاست کے تُرپ کے پتے کے کمال سے ’’شراب کی ان بوتلوں میں سے شہد اور زیتون کا تیل نکل آیا، جو یقیناً آج کے دورِ پُرفِتن میں معجزہ ہی قرار دیا جاسکتا ہے، یہ یقیناً جمہوریت کا مرہون منت ہے۔‘‘ بہ قول ساغر صدیقی:
’’کون کہتا ہے کہ رِندوں کو خُدا یاد نہیں‘‘
’’شراب، شہد اور زیتون کی بات ہو اور ہم دوسرے دھرنے کا ذکر نہ کریں، یہ ناممکن ہے، اُس دور میں پی ٹی آئی کے لوگوں سے کیا معلوم حقیقتاً شہد پکڑ کر اسے پیار محبت سے شراب سے بدل دیا گیا ہو؟‘‘، ’’قبل ازیںمعروف اداکارہ عتیقہ اوڈھو سے اسلام آباد سے کراچی سفر کے دوران زیتون کے تیل کی بوتل برآمد ہوئی، جسے شراب سے بدل دیا گیا؟‘‘ تازہ ترین خبر کے مطابق معروف ٹی وی اداکار علی سلیم المعروف بیگم نوازش علی کراچی کی زمانہ جدید کی سرائے یعنی کلفٹن کے گیسٹ ہاؤس سے ایک بوتل شراب، زیتون کے تیل یا شاید شہد کی بوتل سمیت گرفتار ہوئے۔ بیگم نوازش علی بے چاری نے بہت واویلا مچایا کہ معروف اصلی اداکارہ میرا بھی اُن کے ہمراہ تھیں جو بُرے وقت میں سلیمانی ٹوپی پہن کر اُڑن چھُو ہوگئیں؟ لیکن ابھی اس بوتل اور ان کے خون کی کیمیائی تجزیاتی رپورٹ آنا باقی ہے، جس کے بعد وکلا اور عدالت جانیں، آیا کہ متذکرہ بوتل کس نوعیت کے مال سے لبریز تھی؟ بعد ازاں ان کے خون کے نمونے کی بابت متعلقہ ہسپتال کے ترجمان کی ایک اور پریس کانفرنس متوقع ہے؟ 
مزید تفصیلات کے مطابق اسی نوعیّت کی ایک اور خبر منظرعام پر آئی ہے، جس کے مطابق ’’سمگلروں سے پکڑا گیا لگ بھگ ساڑھے تین ارب روپے کا سامان کسٹم ویئر ہاؤسز سے اُڑن چھُو ہوگیا اور کسی کو کانوں کان خبر بھی نہ ہوئی؟‘‘، ’’تفصیلات کے مطابق موبائل فونز، چھالیہ، سگریٹ، گٹکا، ڈرائی فروٹ اور اعلیٰ قسم کی غیر ملکی شراب پر مشتمل سامان کسٹم کے مال غنیمت سے اہلکاروں اور افسران بالاو اعلیٰ کی ملی بھگت سے غائب کیا گیا۔‘‘ واضح ہو کہ ’’غیر ملکی اعلیٰ قسم کی شراب کی فقط 75 ہزار بوتلوں کی80فیصد مقدار سیاستدانوں، افسران اعلیٰ و بالا میں ’’مالِ مفت، دلِ بے رحم‘‘ کی مانند بانٹ دی گئی، اس ضمن میں تمام ویئر ہاؤسز کے خصوصی آڈٹ کا عندیہ دیا گیا ہے؟ جب کہ سکینڈل بے نقاب ہونے کے دورانیے میں متعین چیئرمین ایف بی آر رخسانہ یاسمین نے کسٹم انٹیلی جنس کی پیش کردہ رپورٹ خاموشی سے ردّی کی ٹوکری میں ڈال دی تھی؟
پچھتائے کیا ہوت جب۔ سیاستدان و افسران بالا چُگ گئے کھیت؟
سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ ’’اس ضمن میں عدالت، اب کس کس سیاست دان اور کس کس اعلیٰ و ارفع افسر کے خون کے کیمیائی تجزیے کا حکم جاری کرے گی اور کیونکر ملزمان گرفت میں آسکیں گے؟‘‘ واہ رے نیلی چھتری والے تیرے بھی کھیل نرالے۔ کبھی کے دن بڑے تو کبھی کے پھر دن ہی بڑے۔ کیونکہ سیاسی یکّوں، مہروں اور مشرف بہ سیاست و مشرف بہ عقیدت کے باہمی معاملات میں زمانے کی اُونچ نیچ گِرگِٹ کی طرح رنگ بدلنے میں یکتائے روزگار ہے ورنہ صاحب۔۔۔
پتہ پتہ بُوٹا بُوٹا حال ہمارا جانے ہے
بات ہورہی تھی عزازیل کی۔ عرض ہے کہ اگر ہماری پنجاب پولیس بروقت معرض وجود میںلائی گئی ہوتی تو ’’آج ہم دنیا میں دھکے کھانے کے بجائے ’’اپنے ابّا امّاں یعنی باوا آدم اور امّاں حوا کے ساتھ جنت میں مزے لُوٹ رہے ہوتے، لیکن بُر ا ہو اس جمہوریت یعنی عزازیل یعنی شیطان ملعون کا کہ ہمارے ابّا اور امّاں کو بہلا پھسلاکر اس جہانِ فانی میں لے آیا اور لوگ، یہاں امتحانی کسوٹی پر بار بار پرکھے جا رہے ہیں۔‘‘ بقول اقبالؒ:
تیرے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا
یہاں مرنے کی پابندی وہاں جینے کی پابندی