پہلی بات تو یہ ہے کہ چائے آئی کے کی سفید شلوار پر ہی کیوں گری؟ اگر گرگئی تو برا منانے کی کیا بات، کوئی گرائی تو نہیں اتفاق سے گر گئی ہوگی۔ جب کسی محفل میں ایسا واقعہ ہوجائے تو گرانے والا اور متاثر ہونے والا دونوں ہی سوری کہا کرتے ہیں اور ظاہر ہے گرانے والا خفیف ہوا یوتا ہے، اس میں کوئی ماورائی، غیر معمولی یا پر تقدس بات کیا ہے۔ پھر یہ کہ ایسی محفلوں میں کوئی اے ڈی سی متبادل لباس تو بیگ میں لیے نہیں پھرتا کہ جھٹ سے پیش کرے اور رہنما شلوار بدل لے۔ ایسی صورت میں یا تو ہوٹل واپس جانا پڑتا یا باتھ روم میں جا کر شلوار کی ایک طرف کو دھو کر مزید مضحکہ خیز بنایا جا سکتا تھا۔ میرے خیال میں ایسا ہوا ہی نہیں اس تصویر کے فیک ہونے کا اندازہ پوسٹ کرنے والے ( میرے ہم جماعت نہیں کیونکہ انہوں نے تو ری پوست کی ہوگی ) کی اردو کی سطح اور عالمی اقتصادیات کے بارے میں علم کی استعداد ظاہر کر رہی ہے۔
چینی پاکستانی روپوں میں تجارت کرنے پر وزیراعظم پاکستان کی شلوار پر چائے گرنے اور اس بارے میں ان کی بے اعنائی کے باعث رضامند نہیں ہوئے بلکہ یہ ان کی پالیسی کا حصہ ہے وہ گذشتہ پانچ سال سے روس کے ساتھ اور گذشتہ اڑھائی برس سے ہندوستان کے ساتھ ان ملکوں کی کرنسیوں اور یوآن میں ہی لین دین کر رہے ہیں۔ اس میں بھی چین کا ہی فائدہ ہے کیونکہ چین کا یوآن باقی کرنسیوں کی نسبت قدرے مستحکم ہے اور چین کا روس، ہندوستان اور پاکستان کو بھیجا جانے والا مال، ان ملکوں سے چین منگوائے جانے والے مال سے کئی گنا زیادہ ہوتا ہے۔ آپ ان کے منگوائے مال کی ادائیگی روپوں میں کرتے ہیں اور وہ آپ سے منگوائے مال کی ادائیگی یوآن میں یا آپ سے ہی لیے روپوں میں۔ روپوں میں ایک خاص حد تک اور خاص اشیا کی ادائیگی کی جا سکتی ہے باقی کی ادائیگی نئے معاہدوں کے مطابق آپ کو یوآن میں کرنی پڑتی ہے جس کیلئے آپ اپنے ڈالر دیکر ان سے ان کی سرکاری قیمت پر یوآن خریدتے ہیں اور ان کے مال کی ادائیگی کرتے ہیں۔ آپ چینی حکومت سے یوآن بھی ایک خاص حد تک خرید سکتے ہیں، اضافی یوآن آپ کو مارکیٹ سے مہنگے خریدنے پڑتے ہیں چنانچہ یوں چینیوں کو کرنسی کے ادل بدل میں دہرا نہیں بلکہ تہرا منافع ہوتا ہے۔ آپ کے روپے کی قدر مسلسل گرتی جاتی ہے اور آپ کی لیکویڈیٹی یعنی کیش کی موجودگی بھی کم ہوتی جاتی ہے۔ یہ کوئی بہت خوش آئند معاہدہ نہیں ہے۔ چین کیلئے البتہ ضرور بہتر ہے کیونکہ وہ اپنی تجارت میں ڈالر پر اپنے انحصار کو کم سے کم تر کرنا چاہتا ہے۔ یہ عمل اس کی امریکہ سے اقتصادی جنگ کا ایک چھوٹا سا ہتھیار ہے۔ اس لیے کہ ڈالر کو آئندہ کئی دہائیاں شکست دیے جانا مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہے۔
   سوال یہ ہے کہ ایسی تصاویر پھیلا کر شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار عام لوگوں کی آنکھوں میں دھول کیوں جھونکنے میں لگے ہوئے ہیں۔ لوگ اندھے نہیں وہ سب دیکھ رہے ہیں کہ پیر افضل قادری کیا کر سکتے ہیں جبکہ ان کو کوئی ہاتھ لگانا تو درکنار رہا ان سے کیے معاہدے پر بطور مخالف فریق دستخط لینے پر مجبور پایا جاتا ہے۔ یہ بھی بہت خوشی کی بات ہے نا شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادارو؟

" /> Jehan Pakistan
21 نومبر 2018
تازہ ترین

شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار  (2) شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار (2)

یہ ادا چینیوں کا دل چرا گئی اور وہ پاکستانی روپوں میں تجارت پر راضی ہو گئے۔ اور یہ چائے چائنا کے ایک بڑے بزنس گروپ ڈالیان وانڈا کے چیئرمین وانگ جیان لن کے کپ سے گری تھی اور وہ شرم سے پانی پانی ہو رہے تھے لیکن کپتان نے الٹا سوری کہ کر انکو شرمندگی سے بچا لیا۔کپتان ایسی چیزوں کی پروجیکشن پسند نہیں کرتے" ( میں نے اس تحریر کی اردو اور ہجے درست نہیں کیے جیسے لکھی ویسے ہی نقل کر دی)
پہلی بات تو یہ ہے کہ چائے آئی کے کی سفید شلوار پر ہی کیوں گری؟ اگر گرگئی تو برا منانے کی کیا بات، کوئی گرائی تو نہیں اتفاق سے گر گئی ہوگی۔ جب کسی محفل میں ایسا واقعہ ہوجائے تو گرانے والا اور متاثر ہونے والا دونوں ہی سوری کہا کرتے ہیں اور ظاہر ہے گرانے والا خفیف ہوا یوتا ہے، اس میں کوئی ماورائی، غیر معمولی یا پر تقدس بات کیا ہے۔ پھر یہ کہ ایسی محفلوں میں کوئی اے ڈی سی متبادل لباس تو بیگ میں لیے نہیں پھرتا کہ جھٹ سے پیش کرے اور رہنما شلوار بدل لے۔ ایسی صورت میں یا تو ہوٹل واپس جانا پڑتا یا باتھ روم میں جا کر شلوار کی ایک طرف کو دھو کر مزید مضحکہ خیز بنایا جا سکتا تھا۔ میرے خیال میں ایسا ہوا ہی نہیں اس تصویر کے فیک ہونے کا اندازہ پوسٹ کرنے والے ( میرے ہم جماعت نہیں کیونکہ انہوں نے تو ری پوست کی ہوگی ) کی اردو کی سطح اور عالمی اقتصادیات کے بارے میں علم کی استعداد ظاہر کر رہی ہے۔
چینی پاکستانی روپوں میں تجارت کرنے پر وزیراعظم پاکستان کی شلوار پر چائے گرنے اور اس بارے میں ان کی بے اعنائی کے باعث رضامند نہیں ہوئے بلکہ یہ ان کی پالیسی کا حصہ ہے وہ گذشتہ پانچ سال سے روس کے ساتھ اور گذشتہ اڑھائی برس سے ہندوستان کے ساتھ ان ملکوں کی کرنسیوں اور یوآن میں ہی لین دین کر رہے ہیں۔ اس میں بھی چین کا ہی فائدہ ہے کیونکہ چین کا یوآن باقی کرنسیوں کی نسبت قدرے مستحکم ہے اور چین کا روس، ہندوستان اور پاکستان کو بھیجا جانے والا مال، ان ملکوں سے چین منگوائے جانے والے مال سے کئی گنا زیادہ ہوتا ہے۔ آپ ان کے منگوائے مال کی ادائیگی روپوں میں کرتے ہیں اور وہ آپ سے منگوائے مال کی ادائیگی یوآن میں یا آپ سے ہی لیے روپوں میں۔ روپوں میں ایک خاص حد تک اور خاص اشیا کی ادائیگی کی جا سکتی ہے باقی کی ادائیگی نئے معاہدوں کے مطابق آپ کو یوآن میں کرنی پڑتی ہے جس کیلئے آپ اپنے ڈالر دیکر ان سے ان کی سرکاری قیمت پر یوآن خریدتے ہیں اور ان کے مال کی ادائیگی کرتے ہیں۔ آپ چینی حکومت سے یوآن بھی ایک خاص حد تک خرید سکتے ہیں، اضافی یوآن آپ کو مارکیٹ سے مہنگے خریدنے پڑتے ہیں چنانچہ یوں چینیوں کو کرنسی کے ادل بدل میں دہرا نہیں بلکہ تہرا منافع ہوتا ہے۔ آپ کے روپے کی قدر مسلسل گرتی جاتی ہے اور آپ کی لیکویڈیٹی یعنی کیش کی موجودگی بھی کم ہوتی جاتی ہے۔ یہ کوئی بہت خوش آئند معاہدہ نہیں ہے۔ چین کیلئے البتہ ضرور بہتر ہے کیونکہ وہ اپنی تجارت میں ڈالر پر اپنے انحصار کو کم سے کم تر کرنا چاہتا ہے۔ یہ عمل اس کی امریکہ سے اقتصادی جنگ کا ایک چھوٹا سا ہتھیار ہے۔ اس لیے کہ ڈالر کو آئندہ کئی دہائیاں شکست دیے جانا مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہے۔
   سوال یہ ہے کہ ایسی تصاویر پھیلا کر شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار عام لوگوں کی آنکھوں میں دھول کیوں جھونکنے میں لگے ہوئے ہیں۔ لوگ اندھے نہیں وہ سب دیکھ رہے ہیں کہ پیر افضل قادری کیا کر سکتے ہیں جبکہ ان کو کوئی ہاتھ لگانا تو درکنار رہا ان سے کیے معاہدے پر بطور مخالف فریق دستخط لینے پر مجبور پایا جاتا ہے۔ یہ بھی بہت خوشی کی بات ہے نا شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادارو؟