21 نومبر 2018
تازہ ترین

شامی پناہ گزین اور لبنان کے مسائل شامی پناہ گزین اور لبنان کے مسائل

شام کے مسئلہ پر عالمی بے حسی نے اس کے اثرات کو پڑوسی ممالک تک پھیلادیا ہے اور اب اس کا دائرہ کار مشرق وسطی کے کئی علاقوں تک پھیل چکا ہے ۔شام کا مسئلہ کی جہاں بہت ساری جہتیں ہیں وہیں ایک اہم معاملہ شامی پناہ گزینوں کا ہے جو ملک میں سات سال سے زائد عرصہ سے جاری بدترین خانہ جنگی کے نتیجہ میں بے گھر ہوچکے ہیں ۔اقوام متحدہ کے ادرہ برائے پناہ گزین UNHCRکے اعداد وشمار کے مطابق ملک کی سوا دو کروڑ آبادی میں سے تقریبا55 لاکھ سے زائد افراد پڑوسی ممالک میں مہاجرین کی حیثیت سے زندگی بسر کر رہے ہیںاور 66لاکھ شامی ملک کے اندر بے گھر ہیں ۔سب سے زیادہ شامی پناہ گزین ترکی میں ہیں جہاں ان کی تعداد 3500000سے زیادہ ہے ۔لبنان میں ان کی تعداد  1500000 ,  اردن میں 650000،عراق میں250000جب کہ مصر میں ان کی تعداد 150000کے لگ بھگ ہے۔خواتین اور بچے کل مہاجرین کا تین چوتھائی بنتے ہیں جو کہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔ان مہاجرین کی آمد کی وجہ سے ان ممالک کی معیشتوں پر کافی دبائو پڑاہے خاص طور پر لبنان اس حوالے سے کافی متاثر نظر آتا ہے اگرچہ وہاں کی عوام نے مہاجرین کے حوالے سے فراخدلی کا مظاہرہ کیاتاہم ملک کے محدود وسائل ،بے روزگاری اور امن وامان کے بڑھتے ہوئے مسائل کی وجہ سے مہاجرین اور مقامی افراد میں کشیدگی دیکھنے میں نظر آرہی ہے جس میں اب اضافہ ہورہاہے۔  وہاں معاملہ صرف اقتصادیات تک حدود نہیں ہے بلکہ وہاں اس کے سیاسی اور مذہبی اثرات کا بھی بخوبی مشاہدہ کیا جاسکتا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ شام کے دیگر پڑوسی ممالک کی نسبت لبنان اس کی بھاری قیمت ادا کرہا ہے۔پناہ گزینوں کی دن بدن بڑہتی ہوئی تعداد نے لبنانیوں کو خدشات میں مبتلا کردیا ہے اور وہ اس حوالے سے کافی فکر مند دکھائی دیتے ہیںاور ان کا خیال یہ ہے کہ ان مہاجرین کی طویل عرصہ تک ملک میں موجودگی کے نہایت منفی اثرات مرتب ہوں گے جس کی ملک کو مستقبل میں کافی بھاری قیمت چکانی پڑے گی جیسا کہ 1948ء میں فلسطین پر اسرائیلی قبضہ کے وقت فلسطینی پناہ گزینوںکا ریلہ لبنان میں آگیا تھا جس کے اثرات اب تک لبنان کی سیاست ومعیشت پر نظر آتے ہیں ۔
اس مسئلہ کے دو پہلو ہیں کہ ان مہاجرین کی فی الحال قلیل مدت کی ضروریات کو کیسے پورا کیا جائے؟اورجب تک یہ مہاجرین لبنان میں قیام پذیر ہیں انہیں کیسے منظم رکھا جائے؟اگر پہلے پہلو کا جائزہ لیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان مہاجرین کے لئے بین الاقوامی امداد قطعا ناکافی ہے حالانکہ یہ مہاجرین لبنان کی کل آبادی کا تقریبا ایک چوتھائی بنتے ہیں۔اقوام متحدہ نے لبنان میں موجود شامی پناہ گزینوں کے لئے امداد کی اپیل کر رکھی ہے جس میں سے ابھی تک آدھی رقم ہی بمشکل جمع ہو پائی ہے جب کہ دوسری جانب ان پناہ گزینوں کی موجودگی نے لبنانی حکومت مشکلات میں کافی اضافہ کردیا ہے ۔اس کے علاوہ ایک اہم مسئلہ ملک میں نسلی و مذہبی تغیر کا بھی ہے کیوں کہ شام سے لبنان ہجرت کرنے والے اکثر مہاجرین سنی ہیں اور بشار الاسد کے مخالفیں میں شمار ہوتے ہیں اور صورت حال یہ ہے کہ جب تک شام کا مسئلہ حل نہیں ہوتا اس وقت تک موجودہ شامی حکومت انہیں دوبارہ ان علاقوں میں آباد کرنے میں زیادہ سنجیدہ نظر نہیں آتی۔یہاں ہم یہ بات حتمی طور پر تو نہیں کہ سکتے کہ شامی مہاجرین مستقل طور پر لبنان میں آباد ہو جائیں گے لیکن شام کے بحران کو دیکھتے ہوئے بادی النظر میں یہی محسوس ہوتا ہے کہ اگلے تین سے پانچ سالوں تک ان مہاجرین کے واپس ملک میں لوٹنے کے امکانات کم ہی نظر آتے ہیں اور اگر اس دوران بھی یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا تو ان مہاجرین کی مستقل آبادکاری لبنا ن کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ہو گا اور اس کے لئے آئینی ترامیم کا سہارا لینا ناگزیر ہوگاجس کے لئے لبنان ذہنی طور پر تیار نہیں ہے۔اگرچہ روس نے یہ تجویز دی ہے کہ شامی مہاجرین کی وطن واپسی کا سلسلہ فورا شروع کیا جائے اور عالمی ادارے اور امیر ممالک اس کی تعمیر نو کے لئے کوششیں شروع کریں لیکن اس تجویز کو زیادہ پذیرائی نہیں مل سکی کیوں کہ اکثر کا خیال ہے کہ ملک کے حالات ایسے نہیں کہ ان مہاجرین کی دوبارہ آبادکاری کی جاسکے۔
 دوسری طرف مصدقہ اطلاعات کے مطابق شامی حکومت کئی شہروں میں ٓابادی کے تناسب کو  فرقہ وارانہ حیثیت میں تبدیل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے جو کہ مستقبل میں ایک نئے بحران کو جنم لے سکتا ہے کیوں کہ اسد حکومت ان مہاجرین کو دوبارہ ان علاقوں میں آباد کرکے باغیوں کو دوبارہ کو ئی موقع فراہم نہیں کرنا چاہتی کہ وہ اس صورت حال کا فائدہ اٹھا کر شامی حکومت کے لئے مسائل کا باعث بنیں ۔مہاجرین کے مسائل کے حل کے لئے لبنان کے وزیر خارجہ جبران باسل نے یہ تجویز دی کہ لبنان میں موجود شامی مہاجرین کے کیمپ شام کی حدود کے اندر لبنانی سرحد کے ساتھ قائم کئے جائیںلیکن اس کے لئے شامی حکومت کی اجازت درکار ہوگی جس کی فی الحال کوئی امید نظر نہیں آتی ۔یہاں ہمیں اس حقیقت کو بھی مد نظر رکھنا چاہئے کہ لبنان کے بار ہا کے اصرار کے باوجوشامی حکومت لبنان کے مسائل پر کان دھرنے کو تیار نہیں کیوں کہ ابھی تک شامی حکومت کی حکمت عملی یہ نظر آتی ہے کہ پڑوسی ممالک میں عدم استحکام کی کیفیت کو برقرار رکھا جائے تا کہ ممکنہ طور پر بین الاقوامی برادری سے مستقبل میں کسی قسم کی ڈیل میں سہولت ہو سکے۔بہر کیف شامی پناہ گزینوں کا مسئلہ ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے جس کی پڑوسی ممالک تو بھاری قیمت تو چکا ہی رہے ہیں لیکن یہ بحران آہستہ آہستہ مشرق وسطی کی سیاسی ،معاشی ،جغرافیائی اور سماجی ہیئت کو بھی تبدیل کررہا ہے اور اس کے اثرات صرف اس علاقہ تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی محسوس کئے جارہے ہیں ۔اگر اس معاملہ کا جلد تدارک نہ کیا گیا تو ایک نہایت سنگین انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔
(تلخیص وترجمہ: محمد احمد۔۔۔بشکریہ:الجزیرہ)