24 مارچ 2019
تازہ ترین

شادی یا بربادی شادی یا بربادی

معزز قارئین!بچپن میں ہم نے صوفی تبسم کی ایک نظم پڑھی تھی جو آج تک ہمیں ازبر ہے کیونکہ اس میں ایک دلچسپ اور خوفناک حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ نظم کچھ یوں ہے:
پانچ چوہے گھر سے نکلے، کرنے چلے شکار
اک چوہے نے بات نہ مانی، باقی رہ گئے چار
چار چوہے پھر جوش میں آ کر، لگے بجانے بین
اک چو ہے کو آ گئی کھانسی، باقی رہ گئے تین
تین چوہے پھر ڈر کر بولے، گھر کو بھاگ چلو
اک چوہے نہ بات نہ مانی، باقی رہ گئے دو
باقی جو دو رہ گئے چوہے دونوں ہی تھے نیک
اک چوہے کو کھا گئی بلی، باقی رہ گیا ایک
اک چوہا جو باقی رہ گیا اس نے کر لی شادی
بیوی اس کو ملی لڑاکی، یوں ہوئی ’’بربادی‘‘
صاحبو! اس نظم کے حوالے سے مجھے ایک فلاسفر کا قول یاد آ گیا جس نے کہا : ’’شادی‘‘ وہ پنجرہ ہے جس کے اسیر آزاد ہونا چاہتے ہیں اور آزاد پنچھی اس میں قید ہو جانا چاہتے ہیں‘‘۔ خود ہمارے علم میں سیکڑوں افراد ایسے ہیں جنہیں شادی شدہ لوگوں نے شادی کرنے سے منع کیا تو انہوں نے ایک نہ سنی اور بڑے چاؤ سے شادی رچا لی اگر ہستی کے چکر میں پھنستے ہی ان پر چودہ طبق ایسے روشن ہوئے کہ انہوں نے نا صرف اپنی رسی تڑانے کی جدوجہد شروع کر دی بلکہ شادی کے خواہشمند کنواروں کو نصیحت بھی کرنی شروع کر دی کہ:
اے تازہ واردان بِساط ہوائے دِل
زنہار تم کو گر ہوسِ یک ’’بیاہ‘‘ ہے
میری سنو جو گوشِ نصیحت نیوش ہو
دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نِگاہ ہے
مگر سب بے سود۔ ان کی دونوں کوششیں ناکام ہوئیں۔ نہ اُن کی اپنی رَسّی ٹوٹی اور نہ کنواروں نے اِن کے حالِ زار سے عبرت پکڑی۔ اور اُن کا اپنا حال بھی وہی رہا کہ تفکرات کی آندھی میں گھرے ہوئے ہیں اور وہ گردو پیش سے بے خبر نون تیل لکڑی کے کولہو میں جُتے خود اپنا تیل نکال رہے ہیں۔
صاحبو! شادی کا یہ عبرتناک انجام کوئی آج کی بات نہیں ہے۔ بلکہ بزرگوں سے یہی ہوتی آ رہی ہے کہ شہ زوری، منہ زوری، سینہ زو ری اور ایسے ہر قسم کے زور کا شافی علاج یہی ہے کہ شادی کرا دو اس ’’زور آور‘‘ کی، انشاء اللہ خود بخود ٹھیک ہو جائے گا۔ لڑکا بے کار ہے کماتا دھماتا نہیں، یا اوباش ہے، شعر و ادب کا مریض ہے، ضرورت سے زیادہ حاضر دماغ و حاضر جواب ہے، نافرمان ہے، سیاست میں نعرے باز ہے، انقلابی ہے، احساس برتری کا شکار ہے یا احساس کمتری کا مارا ہوا ہے، شاہ خرچ ہے یا ایک دم مکھی چُوس ہے، غرض یہ ہے کہ بیماری کوئی سی بھی کیوں نہ ہو مجرب نسخہ وہی ’’تین تولہ کُٹکی‘‘ ہے یعنی شادی کرا دو ، ٹھیک ہو جائے گا۔ گھر گر ہستی کا بار اٹھائے گا تو اپنے آپ سُدھر جائے گا۔ معروف مزاح گو شاعر مسٹر دہلوی نے اس موضوع پہ کیا خوب اشعار کہے ہیں:
شیرانِ نر ہیں ایک سے اِک جری
رہتی ہے جن کے خوف سے دنیا ڈری ڈری
کہتے ہیں مسٹر آپ کی یہ بات ہے کھری
رکھا قدم جو گھر میں طبیعت ہوئی ہری
رُوباہ شیرِ نَر کو بناتی ہیں بیویاں
پھر دھاڑنا سب اُس کا بھُلاتی ہیں بیویاں
عقد کے سلسلہ میں سید آل رضا کا قول ہے اور بڑا وزنی قول ہے کہ
رضا کتنی حسیں و مختصر شرحِ محبت ہے
نہ راس آئے تو دوزخ ہے جو راس آ جائے جنت ہے
لیکن بقیہ اہل علم و ادب کی اکثریت راس آنے نہ آنے کی شرط کو نہیں مانتی بلکہ شادی کو سراسر دوزخ جانتی ہے۔ شاید اس لیے کہ شادی سے قبل ہر دوشیزہ کی واحد خواہش ایک ’’اچھے‘‘ شوہر کا حصول ہوتی ہے لیکن شادی ہوتے ہی اس کے دل میں ضروریات زندگی، تکلفات زندگی، تعیشات زندگی و فضولیات زندگی سے متعلق ہزاروں خواحشیں جنم لینے لگتی ہیں جب کہ بیچارہ اہل قلم شوہر اپنے قلم سے قوت لایموت بھی بمشکل فراہم کر پاتا ہے جس کے نتیجہ میں دنیا بھر میں دانشور مانا جانے والا شوہر جلد یا بدیر اپنی بیگم کی نظر میں ’’ڈفر‘‘ بن کر رہ جاتاہے۔ اور وہ اسے بقول شوکت تھانوی یہ طعنہ دینے لگتی ہے کہ اے اپنے وقت کے فردوسی اپنے عہد کے حافظ اور اپنے دور کے خیام تو مان لیا کہ آپ شاعراعظم ہیں لیکن:
’’ان بچّوں کے بھی تھوڑے بہت تو باپ ہیں‘‘
چنانچہ انگریزی ادب کے شہسوار جناب شیکسپیئر بھی شادی سے الرجک تھے گو ان کی بیزاری کی وجہ گھر گر ہستی کی ذمہ داریوں سے زیادہ یہ تھی کہ :’’میں کسی پر بھروسہ کر لوں تو میرے اپنے ساتھ ناانصافی ہے اور اگر بھروسہ نہ کروں تو یہ اس پر ظلم ہے۔ اس لیے میں نے زندگی بھر کنوارا ہی رہنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔‘‘
ہمارے ایک بہت ہی قریبی دوست اور بیوروکریٹ نے،شادی نہ کر کے اپنی پوری زندگی کو قابل فخر گردانا ہے اور بڑے آج 
بھی سکون سے زندگی گزار رہے ہیں۔ شاید انہی کے حوالے سے سید ضمیر جعفری نے ایک خوبصورت شعر کہا ہے:
سالہا صحرا نوردی کی مگر شادی نہ کی
گویا دیوانہ بھی تھا کتنا سمجھدار آدمی!
صاحبو! ہم نے تو اپنی چالیس سال سے زائد المعیاد شادی کے بارے میں ذاتی تجربات کے حوالے سے یہی نتیجہ اخذ کیا ہے کہ :
شادی کے جو افسانے ہیں رنگین بہت ہیں
لیکن جو حقائق ہیں وہ سنگین بہت ہیں