26 ستمبر 2018
تازہ ترین

سیاسی بیگمات اور فرمائشیں سیاسی بیگمات اور فرمائشیں

وزیراعظم عمران خان نے اقتدار سنبھالتے ہی جن چند باتوں پر زور دیا ہے، انہیں پاکستان تحریک انصاف اور حکومت پاکستان کا ایجنڈا قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس میں کرپشن کا خاتمہ، کرپٹ لوگوں کا احتساب، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، روزگار کا انتظام، پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر، تھانہ کچہری اور پٹوار نظام کو بہتر کرنا، زیادہ ٹیکس اکٹھا کرنا اور سب سے بڑھ کر کفایت شعاری کو رواج، پروٹوکول کلچر کا خاتمہ، تعلیم اور صحت کی سہولتیں بہم پہنچانا ان کی ترجیح ہے۔انہوں نے اپنے دفتر میں مہمانوں کو چائے کے ساتھ دو بسکٹ پیش کرنے کی روایت ڈال دی ہے، جس کا جی چاہے بسکٹ کھائے جو نہ چاہے وہ صرف چائے پیئے، چائے بدمزہ ہو تو بیشک آدھی پیالی میں ہی چھوڑ دے۔ کام کی بات کرے اور وقت ضائع کیے بغیر رخصت ہو جائے۔
وزیراعظم پاکستان نے آنے والے مہمانوں سے متعدد بار ’’ہور کی حال اے‘‘ پوچھنا بھی بند بلکہ منع کر رکھا ہے۔ ان کے خیال کے مطابق اس میں سرکار کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے۔ وہ لگژری گاڑیوں کی نیلامی کا حکم جاری کر چکے ہیں، جس کے مطابق اس کا اخباروں میں اشتہار دیا جا چکا ہے۔ یہ قیمتی اور بلٹ پروف گاڑیاں دیکھ کر بعض سیاستدانوں، کاروباری شخصیات، کرپٹ پٹواریوں، تھانے داروں، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے علاوہ کسٹم کے افسروں، محکمہ صحت میں پرچیز ڈیوٹی پر مامور افراد، پراپرٹی ڈیلروں، جعلی ادویات بنانے کے کاروبار سے وابستہ لوگوں اور مردہ جانوروں کے گلے پر چھری پھیر کر انہیں حلال گوشت کے طور پر بیچنے والوں، ککھ پتی سے ارب پتی بننے والوں کے منہ میں صرف پانی ہی نہیں آ رہا، بلکہ وہ رالو رال ہو چکے ہیں۔ ان کی رالیں بے قابو ہو کر دامن تر کر رہی ہیں۔ ایسے افراد کی پہلی بیگم صاحبہ کو تو مہنگی گاڑیوں کے بارے میں زیادہ علم نہیں ہوتا، لیکن دوسری یا تیسری بیگم کے علاوہ سیاسی بیگم کا اس معاملے میں جنرل نالج مثالی ہوتا ہے، لہٰذا ایسی تمام بیگمات نے اپنے شوہروں سے جو تازہ ترین فرمائش کی ہے، وہ یہ ہے ’’میں تے ہن بلٹ پروف گڈی ہی لے ساں‘‘۔ بعض نے اپنی سہیلیوں اور خاندان میں اس کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ ایسی خواتین کے علاوہ بعض شوباز شوہر بھی سنجیدگی سے ایسی گاڑی خریدنے کا سوچ رہے ہیں، جو اس سرکاری نیلام سے گاڑی خرید کر اپنے کم حیثیت دوستوں اور رشتہ داروں کو فخریہ بتا سکیں کہ یہ وہ گاڑی ہے جس میں سابق وزیراعظم نوازشریف سفر کرتے تھے، یا ان کی سیاسی وراثت کی اکلوتی مالک وزیراعظم پاکستان بنتے بنتے رہ جانے والی بیٹی مریم نواز شاپنگ کیلئے جایا کرتی تھیں۔
کچھ عجب نہیں ان گاڑیوں کے نئے خریداروں میں سے کسی کی دو نمبر بیگم یا تیسری بیگم گاڑی خریدنے اور اسے اپنے زیراستعمال لانے کے بعد وہی انداز اختیار کر لے جو ان گاڑیوں میں سفر کرنے والے مرد و زن کے ہوا کرتے تھے۔مہنگی بلٹ پروف گاڑیوں کے شوقین مردوں اور ان کی پارٹ ٹائم بیگمات کچھ انجانے خدشات کے باعث حتمی فیصلے تک نہیں پہنچے۔ بڑا خطرہ یہ ہے کہ گاڑیاں کئی کئی کروڑ روپے کی ہیں، اگر شوق کے ہاتھوں مجبور ہو کر گاڑی خریدنے کا پروگرام بن جائے، بولی کی شرائط کے مطابق کئی کروڑ روپے ایڈوانس بحق سرکار جمع کرا کے بولی دینے کی اہلیت حاصل کرنے کے بعد کامیاب بولی دہندہ کا اعزاز حاصل ہو جائے اور پھر مقررہ قیمت تک واجب الادا قیمت دے کر ڈرائیونگ سیٹ کے ساتھ والی سیٹ پر دو نمبر یا تین نمبر بیگم کو بٹھا کر خود ڈرائیو کرکے گھر پہنچیں تو کہیں گھر کے پورچ میں نیب کی ٹیم منتظر نہ ہو، جو بغیر چائے پانی پیئے یہ سوال کر دے کہ جناب بلٹ پروف گاڑی خریدنے کیلئے کئی کروڑ کہاں سے آئے؟ یہ بنگلہ کب اور کیسے خریدا؟ گزشتہ برسوں میں انکم ٹیکس کس قدر ادا کیا؟ اس کے ساتھ ہی دو نمبر بیگم تین نمبر بیگم یا سیاسی بیگم کے معاملات بھی افشا ہو سکتے ہیں جو دیگر دنیاوی کاغذوں میں ظاہر نہیں کیے گئے بلکہ انہیں صیغہ راز میں رکھا گیا۔
وزیراعظم کی طرف سے اپنے پہلے خطاب میں سستے گھروں کے پراجیکٹ کا اعلان کیا گیا، اس کیلئے ٹاسک فورس بنا دی گئی ہے۔ اس میں ماہر تعمیرات، انجینئر اور بعض کاروباری شخصیات شامل ہیں۔ اعلان کردہ پچاس لاکھ میں سے حکومت پنجاب کو تیس لاکھ گھر تعمیر کرنے کا ٹارگٹ دیا گیا ہے، وزیراعظم کی خواہش ہے کہ آئندہ چند ماہ کے اندر کم از کم اس منصوبے کے خدوخال واضح کر کے عوام کے سامنے رکھ دیے جائیں۔حکومت کی زیرِ نگرانی سستا گھر سکیم نے لینڈ مافیا پر کاری ضرب لگائی ہے، جس کے سبب مارکیٹ میں زمین کی قیمتیںکم ہو جائینگی، خصوصاً چھوٹے پلاٹوں کے خریدار تیزی سے کم ہونا شروع ہو جائیں گے کیونکہ حکومت پاکستان تین مرلہ اور پانچ مرلہ پر مشتمل گھر، فلیٹ بنا کر دیگی جن کی قیمت مارکیٹ میں دستیاب پلاٹ کی قیمت سے بھی کم ہو گی۔
اس سکیم میں ہر بے گھر شخص حصہ لے سکے گا، لیکن اسے درخواست کے ساتھ بیان حلفی دینا ہو گا کہ وہ ملک بھر میں گھر یا پلاٹ کا مالک نہیں ہے۔ اگر بعدازاں اس کے نام کوئی جائیداد نکلی تو اس کا گھر یا پلاٹ ضبط کیا جا سکے گا۔ اس طرح یہ فلیٹ، گھر فروخت نہیں ہو سکے گا۔ مالک یا الاٹی کے انتقال کی صورت میں یہ جائیداد اس کے کاغذات میں لکھے گئے ورثاء کے نام منتقل ہو گی۔گمان ہے کہ اس سکیم سے ضرورت مند اور کم آمدن والے طبقے کو فائدہ پہنچے گا جبکہ لینڈ مافیا نے اس سکیم میں اپنی مرضی و فائدے کیلئے شقیں تراشنا شروع کر دیں  ہیں، تاکہ سکیم مارکیٹ ہونے کے بعد وہ ماضی کے دیگر منصوبوں کی طرح اس سے ہاتھ رنگ سکیں۔
مختلف سرکاری اور پرائیویٹ سکیموں میں سیکڑوں کے حساب سے پلاٹ رکھنے والوں کے گھر صف ماتم بچھ چکی ہے۔ اب ان کی کوشش ہے کہ جلد از جلد اپنے پلاٹ بیچ کر اپنا سرمایہ ڈوبنے سے بچا لیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اس کام کیلئے ان کے پاس  وقت کم ہے۔
پلاٹ خرید کر گھر بنانے والوں کو چاہیے کہ ذرا رک جائیں جلدی نہ کریں، زمین و پلاٹ کے ساتھ ساتھ بنے بنائے چھوٹے گھروں کی قیمتیں بھی اوقات میں آنے والی ہیں۔