21 نومبر 2018
تازہ ترین

’’سیاسی آنسو۔ کرپشن اور اللہ کی پکڑ‘‘ ’’سیاسی آنسو۔ کرپشن اور اللہ کی پکڑ‘‘

لاہوریوں کی روایت رہی کہ بسنت کی شام دھندلکا پھیلنے تک ایسی پتنگ بازی کرتے جیسی بھارت میں بھی نہیں ہوتی۔ کٹی پتنگ لُوٹنے کی خاطر لڑکے بالے سارا دن ہلکان رہتے۔ ایک لڑکا پتنگ اُچک لیتا تو، شرارتی لڑکے ہاتھ مار کر اُسے پھاڑ دیتے۔ اب ہماری ملکی سیاست کا حال بھی کچھ ایسا ہی دکھائی دیتا ہے۔
ماضی کی دونوں، روایتی یوں کہیے کہ مفاہمتی لیکن بظاہرسیاسی حریفوں کو غالباً احتسابی پارٹی کی آمد سے ’’مجبوراً، بہ یَک وقت، مشرف بہ اپوزیشن‘‘ ہونا پڑا، جس سے انہیں باہمی۔ مفاہمتی سیاست کی مئے کشی سے بھی مجبوراً کنارہ کش ہونا پڑا ہے۔ شاید اسی لیے دونوں پارٹیوں کے یکّے الیکشن کو ’’فکسنگ‘‘ قرار دے رہے ہیں جو اک اور چال ٹھہری۔ آخر سیاست جو ہوئی۔ متذکرہ بالا دونوں پارٹیوں کو اقتدار سے بہ یک وقت فراق اور بظاہرتھرڈ پارٹی آڈٹ کا یقینی سامنا ہے، جو سچ بھی ہے اورقرین حقیقت بھی۔
نئی اسمبلی کے معرض وجود میں آنے کے بعد شہباز شریف نے ’’موجودہ الیکشن کو متنازع ترین قرار دیتے ہوئے  نتائج کے خلاف بھرپور آواز اٹھانے کا عندیہ دے ڈالا‘‘، ’’گویا ماضی کے الیکشن میں بھی، ایسی ہی صورتحال درپیش رہی؟‘‘ الیکشن 2018 میں کئی بڑے سیاسی بُرج الٹ جانے اور ان کی جگہ جوان قیادت کی آمد کا سیدھا سا مطلب ان منجھے ہوئے سیاسی خانوادوں پر قوم کا سیاسی عدم اعتماد واضح ہوتا ہے، ان بظاہر بڑے سیاسی برجوں کے چہروں کے پیچھے کتنے چھوٹے لوگ تھے، اس کا ثبوت آپ کو مولانا فضل الرحمان کے الیکشن ہار جانے کے بعد تمام سیاسی پارٹیوں کو اسمبلی کا حلف اٹھانے سے روکنے سے ملتا ہے، لیکن وہ بھول گئے کہ وقت کے ساتھ ان کی سوچ اور عمل سے خود ان کے اپنے علاقے کے لوگ بھی اُکتا چکے، چنانچہ انہیں سیاسی چکاچوند چھوڑ کر اللہ سے لَو لگالینی چاہیے کیونکہ ان کی نااہلی سے کشمیر کمیٹی اپنا اصل مقام بھول چکی۔ امسال ماضی کی دونوں روایتی سیاسی پارٹیوں کے بجائے ایک نئی پارٹی اقتدار میں آنے سے سیاسی و مفاہمتی جماعتوں کے مفادات متاثر ہوئے، لیکن شاید بھول گئے کہ ’’بجائے خود ان کے اپنے صدور کے ہاتھوں ان کے وزرائے اعظم کے خلاف کیسز موجودہ الزامات کے مطابق ہی اٹھائے جاتے رہے جب کہ قومی احتسابی ادارے کی جانب سے موجودہ الزامات پر جزا و سزا کا سلسلہ آخری مراحل میں ہے۔ تو کیونکر۔۔؟‘‘ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ’’ممبئی حملوں پر نواز شریف کے بیان کے بعد پاکستان کا یوم آزادی نہ منانے کی بابت شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان کے متنازع بیانات نے ایک بار پھر عوامی غم و غصے میں اضافہ کردیا‘‘ جس پر ’’آپ نے یوم آزادی پر پاکستان کا قومی پرچم لہراکر مستقل مزاج سیاست دان کی جانب سے یوٹرن لینے کا اعزاز حاصل کیا؟‘‘ واضح ہو کہ ’’(ن) لیگ اور پی پی نے قومی اسمبلی کا حلف لینے سے پہلے عید الاضحیٰ کے بعد قومی کانفرنس بلانے اور وائٹ پیپر شائع کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا‘‘، ’’اس ضمن میں دونوں پارٹیوں میں ملاقاتیں بھی ہوئیں جس کے بعد سپیکر، ڈپٹی سپیکر اور وزیراعظم کے معاملے پر ان میں کھل کر اختلافات منظرعام پر آئے اور راہیں بھی جُدا ہوئیں۔ اب دیکھنا ہے کہ نئے صدر کے معاملے پر کون سی بلی سیاسی مفاہمتی تھیلے سے باہر نکلتی ہے؟‘‘ جس کی کم ہی توقع ہے۔
ایوان اعلیٰ کو سیاسی احتجاج کا شاہکار بنانے کی بابت نومنتخب وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی میں اپنے پہلے فی البدیہہ خطاب میں مختصراً جواب دیا، ’’آپ دھرنا دیں۔ ہم کنٹینر اور کھانا بھی دیں گے، لیکن ’این آر او‘ نہیں ملے گا‘‘ انہوں نے وزیراعظم بنتے ہی اچھی روایت قائم کرتے ہوئے خود شہباز شریف کی سیٹ پر جاکر ان سے ہاتھ ملایا جبکہ اگلے دن وزیراعظم کی تقریب حلف برداری میں کسی بھی سیاسی مخالف کے شریک نہ ہونے کا صاف سیدھا مطلب ’’این آر او کی امیدوں کا ٹوٹنا قرار دیا جارہا ہے‘‘ واضح ہو کہ ’’دونوں روایتی جماعتوں کے صف اوّل کے رہنماؤں کو قومی احتسابی ادارے میں کرپشن کے سنجیدہ الزامات کا سامنا ہے، جو ان کے اپنے ادوار کی پیداوار ہیں۔
وزیراعلیٰ کے انتخاب کے بعد نئے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بُزدار نے اپنے مختصر خطاب میں کرپشن فری صوبہ بنانے اور اپوزیشن کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عندیہ دیا ہے، ان کے خطاب کے بعد پنجاب اسمبلی میں عجب صورتحال پیدا ہوگئی جب حمزہ شہباز نے اپنے خطاب میں ’’پانچ سال قبل سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کوحکومت بنانے دینے جیسے ماضی کے سیاسی احسان کے بدلے پنجاب میں سیاسی بدلہ نہ چکانے کی بابت دُہائی دے ڈالی‘‘ لیکن غالباً اپنی گوناگوں سیاسی مصروفیات کے باعث پنجاب میں تحریک انصاف کی نشستوں کی تعداد اور 90ء کی دَہائی میں پنجاب وفاق سیاسی چپقلش کی تاریخی وجوہ مدنظر نہ رکھ سکے۔ موصوف نے مشرف دور میں اپنے بینکنگ کورٹ کیس کی جانب توجہ مبذول کرواتے ہوئے اسے بھی سیاسی زیادتی قرار دے دیا اور کہا، ’’میں تب بھی نہیں گھبرایا تھا‘‘ اور ’’غالباً قومی احتسابی ادارے کے نئے کیسز پر آئندہ بھی نہیں گھبرائیں گے؟ گویا۔۔۔‘‘
’’اب تو عادت ہوگئی ہے مجھ کو ایسے جینے کی‘‘
یہ زندہ جاوید حقیقت ہے کہ ’’اگر پنجاب سے آپ کو عوامی اعتماد حاصل ہوجاتا تو یقیناً آپ کو کہیں بھی اپنے گذشتہ سیاسی احسان جتانے کی ضرورت پیش نہ آتی‘‘، ’’کاش کہ آپ اعلیٰ ملکی عدالتوں پر تنقید کے بجائے ان کے فیصلوں پر سرتسلیمِ خم فرماتے‘‘ لیکن آپ ملکی مفاد کے خلاف ’’جانے کِس کے خفیہ اشاروں پر 1971 کے انتہائی تکلیف دہ حالات کے پیش نظر کسی حادثے کی بابت، نوید سناتے اور کیوں نکالا کی بابت بغاوت کا راگ الاپتے رہے‘‘ 
صدر ممنون حسین نے لندن ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ’پاناما لیکس‘ پر دیے ہوئے اپنے ماضی کے بیان کی ایک بار پھر تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’بدعنوان آخرکار اللہ کی پکڑ میں آجاتا ہے، آدمی کچھ دن بچتا ہے پھر پکڑا جاتا ہے‘‘، ’’احتساب ہونا چاہیے، جو عمل شروع ہوا وہ ٹھیک مگر کچھ خامیاں بھی ہیں، میں احتساب کا قائل ہوں مگر اسے صحیح ہونا چاہیے‘‘ نیز پنجاب کے نئے وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے عید کے موقع پر لاہور کے جیلانی پارک کی آخری صفوں میں نماز عید ادا کی اور شہریوں میں گھل مل گئے، اس موقع پر انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’سٹیٹس کو، کو توڑیں گے، کرپشن ناقابل برداشت، پولیس میں اصلاحات لائیں گے، اقتدار کا مقصد صوبے میں گڈ گورننس، غریبوں کو اوپر لاتے ہوئے پورا نظام ٹھیک کرنا ہے‘‘، ’’جس نے کرپشن کرنی ہے وہ پنجاب چھوڑ دے‘‘
’’پنجاب کے ساتھ وفاق میں بھی انتہائی تجربہ کار بیوروکریسی کے تبادلوں اور اکھاڑ پچھاڑ کا سلسلہ تیزی سے جاری و ساری ہے جب کہ وفاقی وزارت خزانہ کے اسحاق ڈالر کے منظور نظر افسران نئے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کے پہنچنے سے پہلے ہی کونے کھدروں میں جا چھپے ہیں‘‘ یعنی ’’کرپشن کے خلاف تبدیلی آ نہیں رہی، بلکہ آگئی ہے۔‘‘