20 ستمبر 2019
تازہ ترین

سیاست دان ایک بار پھر ناکام سیاست دان ایک بار پھر ناکام

میرے آج کے موضوع پر اعتراض تو ہو سکتا ہے اس لیے کہ میں نے تقریباً سارے ہی سیاست دانوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کی جسارت کی ہے جو خود میری نظر میں نامناسب ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ عمومی طور پر پاکستانی سیاست دان جان بوجھ کر یا انجانے میں ایسی غلطیاں کر بیٹھتے ہیں جو بعد میں اکثر اُن کے لیے مشکلات کا باعث بن جاتی ہیں۔ تو پھر ایسی بات ہی کیوں کی جائے جس سے شرمندگی اُٹھانا پڑے، یا جو آپ کے سیاسی معاملات پر اثرانداز ہو۔ عمران خان نے کئی بار یہ غلطیاں کیں اور آج اُن کی مقبولیت 2013 سے کہیں کم ہے، 2018 تک وہ اپنی ساکھ بحال کر لیں یہ اور بات ہے، سیاست کسی کی میراث نہیں ہوتی، صحیح فیصلے کریں گے آپ کو فائدہ ہو گا، غلطیاں کریں گے، ظاہر ہے نقصان اُٹھانا پڑے گا۔
اب نواز شریف کو کون سمجھائے کہ وہ جو اَب تک کرتے آئے ہیں، اُن سب باتوں سے اُنہیں کافی نقصان پہنچ چکا ہے، بہت سے لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ سابق وزیراعظم کو اپنے ہی پیر پر کلہاڑی مارنے کا شوق ہے۔ میری نظر میں یہ کسی حد تک صحیح بھی ہے، لیکن دراصل نواز شریف میں انا بہت ہے، 3 اکتوبر کو اُنہوں نے قومی اسمبلی میں اپنے ارکان کی عددی برتری کی بنا پر Election reforms bill 2017 منظور کرا لیا اور اپنی ہی پارٹی کے آئین میں تبدیلی کر کے کسی نااہل ہونے والے شخص کو دوبارہ صدر یا اہم عہدوں پر بحال کرنے کی اجازت دلوا دی،الیکشن ریفارم بل کے بارے میں شبہ ہے کہ اس حوالے سے پیپلز پارٹی نے اُن کا ساتھ دیا اور نواز و زرداری میں خفیہ معاہدہ ہوا، جس کے بعد یہ صورت حال سامنے آئی۔
حالات و واقعات شاہد ہیں کہ کوئی بھی سیاست دان، بے نظیر اور نواز شریف سمیت اہم ملکی معاملات میں خود فیصلہ نہیں کر سکتا، اُسے زیر اثر رہنا پڑتا ہے۔ یہ سب جانتے ہوئے بھی اور سپریم کورٹ سے نااہل ہونے کے باوجود میاں نواز شریف نے اپنے مزاج میں تبدیلی لانے کے بجائے، انا اور اکڑ کو ہی فوقیت دی۔ اُنہوں نے ناصرف الیکشن ریفارم کے نام پر ایک نیا قانون منظور کرایا جس پر صدر مملکت نے بھی مہر ثبت کر دی بلکہ شق 203 ایک پلان کے تحت ڈالی گئی کہ نااہل ہونے والا شخص بھی دوبارہ پارٹی کا صدر بن سکتا ہے۔ یاد رہے کہ نواز شریف سپریم کورٹ سے نااہل ہونے کے بعد بھی پارٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے رہے تھے، جس کا الیکشن کمیشن نے نوٹس لیا اور اُنہیں لکھ کر بھیج دیا کہ آپ فوری طور پر (ن) لیگ کی صدارت سے مستعفی ہو جائیں اور سیاست میں حصّہ لینے سے باز رہیں۔ لیکن جس ملک میں قوانین کی اہمیت ہی نہ ہو، وہاں جس کی لاٹھی اُس کی بھینس ہی اصل قانون ہوتا ہے۔ پاکستان میں بھی بدقسمتی سے ایسا ہی ہے۔ نواز شریف نے عہدے پر دوبارہ منتخب ہونے کے بعد ایک دھواں دھار تقریر کر ڈالی جس کا لب لباب اہم اداروں کو پیغام دینا تھا کہ اب سیاسی رہنما ہی ملک کے اصل مالک ہیں۔ اُن کے جملے زہر سے بھرے تھے۔ یہ سراسر عاقبت نااندیشی تھی۔ اس کے اثرات اُن کی ذات اور اُن کے اہل خانہ پر منفی پڑ سکتے ہیں، جس کا اظہار شاید جلد ہو جائے۔
ایک بات جو بار بار میرے ذہن میں گردش کر رہی ہے، وہ ہے افواج پاکستان کا فوری طلب کردہ کور کمانڈر کا اجلاس، جو نواز شریف کی تقریر کے بعد ایک دم ہی بلا لیا گیا۔ اعلان تو یہی ہوا کہ ملکی سلامتی کے امور زیرِ غور آئے اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورۂ افغانستان اور اُن کی افغان صدر اشرف غنی سے بات چیت پر بھی غور ہوا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ادارے اپنے اوپر ہونے والے حملوں کو خاموشی سے برداشت کر لیں گے۔ آئی ایس آئی کے پُرانے ڈائریکٹر جنرل نے واٹس ایپ سے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ نواز شریف اور زرداری دونوں مل کر ایک اہم ادارے کا قلع قمع کرنا چاہتے ہیں، اس کا ثبوت نواز شریف کی ایک بھارتی سفیر سے لندن میں ملاقات اور پھر چونکہ موجودہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی وہیں تھے، اُن سے کہہ کر بسام کو اسلام آباد میں سفیر مقرر کرا دینا سے ملتا ہے، ظاہر ہے کہ نواز شریف کا بھارت میں بہت سرمایہ لگا ہوا ہے، اور اُنہیں تو بس دولت سے مطلب ہے، چاہے کسی طرح بھی ہاتھ آئے۔
نواز شریف کا (ن) لیگ کی سربراہی اختیار کرنا تھا کہ مریم اورنگزیب نے لندن سے ایک مہم شروع کر دی، کہ میاں صاحب کے مخالفین ہار گئے، اُن کے خواب نواز شریف کو نیچا دِکھانے کے شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکے۔ نواز خود بھی صدر منتخب ہونے کے بعد غصّے میں تھے اور تمام تر غیظ و غضب اُن کے چہرے اور زبان سے عیاں تھا۔ بھلا یہ کون سی عقل مندی تھی، وہی بتا سکتے ہیں۔ دوسری طرف کئی مبصرین نے اس بات کا نوٹس لیا کہ اعلیٰ عدالتیں بہت ہمت اور حوصلے سے ساری تنقیدی مہمات (جو محترم جج صاحبان کے خلاف چلائی جا رہی ہیں) برداشت کر رہی ہیں، جج صاحب کے ساتھ مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ عدالت سے باہر بول نہیں سکتے، نظام عدل کے خلاف ہو گا ایسا کرنا۔ لیکن عدلیہ پہلے بھی نواز شریف، اُن کے صاحبزادوں، صاحبزادی اور داماد کے طعنے خاموشی سے سنتی رہی، لیکن فیصلہ بالآخر نواز شریف کے خلاف آیا۔
دوسری طرف شہباز شریف (جو نواز شریف کے چھوٹے بھائی اور پنجاب کے وزیراعلیٰ بھی ہیں) نے ایک اور شوشہ چھوڑ دیا کہ نواز شریف اپنے چند عاقبت نااندیش دوستوں سے ہوشیار رہیں جو اُنہیں دن میں خواب دِکھاتے ہیں اور اُن کی بربادی کا باعث بنتے ہیں۔ بات تو عقل کی ہے، لیکن کیا نواز شریف اس پر یقین رکھتے ہیں۔ دوسرے کئی سیاست دان، جن میں پیپلز پارٹی کے لیڈر خورشید شاہ اور نثار کھوڑو (جن کا تعلق بھی سندھ سے ہے) نے بھی بیان داغ دیا کہ نیم فوجی دستے اپنی اوقات سے باہر نکل رہے ہیں۔ اُنہیں وزیر داخلہ احسن اقبال کو احتساب عدالت میں جانے سے نہیں روکنا چاہیے تھا، یہ اُن کے اختیارات سے باہر ہے۔ ایسا کیوں کیا گیا، ملک میں بحث چھڑ گئی ہے۔