سیاحت کی ترقی۔ خوشحالی کی نوید    (3) سیاحت کی ترقی۔ خوشحالی کی نوید (3)

دنیا کے 50 فیصد سے زائد ممالک اپنی اقتصادی بہتری کے لیے سیاحتی صنعت پر انحصار کرتے ہیں اور ہمیں بھی ان کی صف میں شامل ہونے کے لیے سرتوڑ کوشش کرنی ہوگی۔ سیاحت کے حوالے سے پاکستان جنوبی ایشیا ہی نہیں بلکہ ایشیا پیسیفک ممالک میں بھی خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کی عالمی ورثہ کمیٹی نے شمالی امریکا اور یورپ کے 73 قدرتی، 432 ثقافتی اور 11متفرق مقامات کو عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ قرار دے رکھا ہے۔ ایشیا پیسیفک ریجن کے 52 قدرتی،142 ثقافتی اور 9متفرق مقامات اس فہرست میں شامل ہیں، اٹلی کے 47 سیاحتی مقامات عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ ہیں۔ لہٰذا وہ اس درجہ بندی میں سب سے آگے ہیں۔ اسپین 42 مقامات کے ساتھ دوسرے جب کہ چین 41 مقامات کے ساتھ تیسرے نمبر پرہے۔ ایران اسلامی ممالک میں سے اس فہرست میں سب سے آگے ہے۔ بیلجیئم، جنوبی کوریا اور ترکی کے 10/10 مقامات کو اقوام متحدہ نے عالمی ثقافتی ورثہ تسلیم کیا ہے۔ عالمی ورثہ قرار دیے جانے والے قدرتی اور ثقافتی سیاحتی مقامات کی اس درجہ بندی میں جنوبی ایشیا کے 41مقامات شامل ہیں۔ 
پاکستان کے جو سیاحتی مقامات عالمی تاریخی ورثہ قرار دیے گئے ہیں۔ ان میں خیبر پختون خوا میں بدھ مت سے متعلق آثار قدیمہ، موئن جودڑو، لاہور کا شاہی قلعہ، شالامار باغ اور ٹیکسلا، مکلی کے تاریخی آثار اور قلعہ روہتاس شامل ہیں۔ پاکستان کی وزارت سیاحت اگر اپنی ذمے داریاں قومی سیاحتی مقامات کی اقتصادی اہمیت کے حوالے سے پوری محنت، منصوبہ بندی اور شفاف انداز میں انجام دے تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان اپنی سیاحتی صنعت کے ذریعے قومی آمدنی میں غیر معمولی اضافہ نہ کرسکے۔ ترکی اس شعبے کے ذریعے سالانہ 20ارب ڈالر کمارہا ہے اور مصر صرف اہرام مصر کی سیاحتی سرگرمی سے سالانہ ساڑھے 6 ارب ڈالر کماتا ہے۔ نیپال کی سیاحتی آمدن ہم سے کہیں زیادہ ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ بیرون ملک پاکستان کے تمام سفارت خانوں اور مشیروں کے ذریعے قومی سیاحتی مقامات کا بھرپور تعارف کرایا جائے، تاکہ غیر ملکی سیاح بھاری تعداد میں اس سرزمین پاک و کشمیر کے خوبصورت مناظر اور عظیم مقامات کا رخ کرسکیں۔ اس حوالے سے اندرونِ ملک بھی سیاحتی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہوگا، تاکہ رفتہ رفتہ سیاحت ہمارے قومی مزاج کا حصہ بن جائے، سیاحت کی اقتصادی اہمیت پر مذاکرے، سیمینارز اور تقاریب کے انعقاد کے لیے پی ٹی ڈی سی کو پوری طرح منظم، فعال اور مؤثر ہونا چاہیے۔ 
ہمارے سیکڑوں مقامات عالمی سیاحتی دنیا کے لیے اہمیت کے حامل ہیں۔ اگر ہم ان جگہوں پر سرما یہ کاری کرکے سیاحوں کو سہولتیں فراہم کریں، انفراسٹرکچر کو بہتر بنائیں، ترکی کے سیاحتی ماڈل کو سامنے رکھیں تو ہم چند برسوں میں ملکی قرضوں سے نجات بھی حاصل کرسکتے ہیں۔
پاکستان کی سیاحت میں جو اَب تک سب سے بڑی رکاوٹ رہی وہ دنیا کے سامنے وطن عزیز کا تصور ہے، ’’پاکستانی سیاحت ایک ایسی پروڈکٹ ہے جس کی مناسب طریقے سے مارکیٹنگ اور برانڈنگ نہیں ہوئی۔ سیاحتی مقامات کے حوالے سے پاکستان میں کوئی کمی نہیں۔ جو لوگ پاکستان سیاحت کے لیے آتے ہیں، ان مقامات کو دیکھ کر خوش ہوکر یہاں سے جاتے ہیں، وہ یہاں دوبارہ آنا چاہتے ہیں اور یہاں کے کلچر، لینڈ اسکیپ، تہذیبوں اور ثقافتوں سے روشناس ہونا چاہتے ہیں۔ لیکن سب سے بڑی رکاوٹ بیرون ملک پاکستان کا امیج ہے۔ یہاں پر سیاح آتے ہیں، چاہے وہ یورپ سے ہوں یا امریکا یا دیگر ممالک سے، ہم ان کو پاکستان کی خوبصورت کہانی سنانے میں اب تک کامیاب نہیں ہوئے۔
نیشنل ٹورازم کے حوالے سے ایک پورٹ کے مطابق 2009 میں 46 ملین پاکستانی سیاحوں نے اندرون ملک سفر کیا۔ ان ’’سیاحوں‘‘ میں سے صرف 14 فیصد نے خالص سیر و تفریح کی غرض سے سفر کیا، باقی لوگ اپنے رشتہ داروں سے ملاقات، کاروبار، علاج معالجہ یا زیارات کی غرض سے عازم سفر ہوئے۔ اسی رپورٹ کے مطابق پاکستان آنے والے بین الاقوامی سیاحوں میں سے قریباً پچاس فیصد بیرون ملک خصوصاً یورپ میں رہائش پذیر پاکستانی ہوتے ہیں جو سالانہ چھٹیوں میں اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کی غرض سے وطن واپس آتے ہیں۔ بین الاقوامی غیر ملکی سیاحوں کے پاکستان کا رخ نہ کرنے کی کئی وجوہ ہیں جن میں سرفہرست امن و امان کی غیر تسلی بخش صورت حال اور سیاحوں کے لیے ان کی مطلوبہ سہولتوں کی عدم فراہمی کے ساتھ مناسب رہنمائی نہ ہونا ہے، جن کے پیچھے حکومت کی اس سیکٹر سے عدم دلچسپی کا واضح ہاتھ نظر آتا ہے۔ 
سیاحت اہم شعبہ ہے جس سے ٹرانسپورٹ، مواصلاتی خدمات جیسے موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز، ہوٹلز، ریسٹورنٹس، ریسٹ/ گیسٹ ہاؤسز، ٹورسٹ/ سووینیئر شاپس، مقامی سوغاتوں اور ہنرمندوں کی ترقی، ٹریول گائیڈز، ٹور آپریٹرز، پورٹرز کا کاروبار اور روزگار منسلک ہے اور یہ شعبہ ان ذیلی سیکٹرز میں ایک بہت بڑی تعداد میں روزگار کے مواقع اور ریونیو پیدا کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ بین الاقوامی ٹورازم اینڈ ٹریول تقابلی انڈیکس کی 2015 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان سیاحت کے حوالے سے دنیا کے 141 ملکوں کی فہرست میں 125 ویں نمبر پر ہے۔ سیاحت جیسے اہم شعبے میں حکومت کی دلچسپی کا عالم یہ ہے کہ کبھی اس کو وزارت مذہبی امور کے ساتھ منسلک کردیا جاتا ہے تو، کبھی وزارت تجارت کے ماتحت، کبھی پی ٹی ڈی سی قائم کردی اور کبھی وزارت ثقافت و کھیل کے حوالے کردیا۔ کبھی یہ فیصلہ نہ ہوسکا کہ ٹورازم وفاقی معاملہ ہے یا صوبائی۔ 
پاکستان کی پہلی سرکاری سیاحتی پالیسی کا اجرا 1990 میں ہوا، لیکن فنڈز کی کمی کے باعث یہ پالیسی کبھی پورے طور پر نافذ نہ ہوسکی۔ 2010 میں ایک اور سیاحتی پالیسی تیار کی گئی، لیکن 18ویں ترمیم کے بعد سیاحت کا محکمہ صوبوں کے حوالے کردینے کے باعث نافذ نہ ہوسکی۔ 
 حال ہی میں دنیا کے ان خوبصورت ترین ممالک کی ایک فہرست جاری کی گئی ہے جن کی سیاحت انتہائی کم خرچ میں کی جاسکتی ہے اور پاکستان ان ممالک میں سرفہرست ہے۔ یہ وہ ملک ہے جسے دنیا پر جنت قرار دیا جاتا ہے اور اس کی وجہ اس کا فطری حسن اور انتہائی خوبصورت ثقافت ہے۔ لاہور کی بادشاہی مسجد سے لے کر جھیل سیف الملوک تک پاکستان میں ان گنت ایسے مقامات ہیں جن کی خوبصورتی کی مثال دنیا میں کہیں اور نہیں ملتی۔ ہمارے لیے یہ بھی ایک سبق ہے کہ صرف 2017 میں دبئی میں ڈیڑھ کروڑ سے زائد سیاح آئے، جہاں صرف ریت، دھوپ اور بڑی بڑی عمارتیں ہیں۔ سیاحت کو ترقی دے کر ہم ایک طرف ملکی معیشت میں اور دوسری جانب زرمبادلہ میں بہت بہتری لاسکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ممالک کی ویزا پالیسی کی درجہ بندی میں پاکستان کی بدترین پوزیشن ہے، جہاں 136 ممالک میں 135 واں نمبر ہے جب کہ حکومت کی سیاحتی ترجیحات کی فہرست میں پاکستان 136 ممالک میں 132ویں نمبر پر ہے۔ پاکستان کا سیاحت کی صنعت میں بہترین کی فہرست میں 128 اور سیاحوں کو راغب کرنے کی حکمت عملی میں 125 واں نمبر ہے۔ ملک میں سیاحت کے انفراسٹرکچر میں 123 واں نمبر جبکہ ہوٹل کے کمروں کی درجہ بندی میں 129 واں نمبر ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان میں سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے والے عالمی ثقافتی ورثے کی تعداد 36 ہے، اسی لیے پرکشش قدرتی اثاثوں میں 127 نمبر ہے۔ 
سیاحت کی صنعت کا عالمی معیشت میں 7 کھرب اور 6 ارب ڈالر کا حصہ ہے جو دنیا کی معیشت کا 10.2 فی صد بنتا ہے جبکہ 2016 میں 20 کروڑ 92 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا ہوئے۔
ہمیں دنیا میں سیاحت کی درجہ بندی کے حوالے سے محولہ بالا سطور میں جو گزارشات کی گئی ہیں، ان پر عمل کرنا ہو گا، اپنی سڑکوں، مواصلات کی حالت زار بہتر کرنے کے ساتھ یہاں لوگوں کی ذہنی تربیت بھی کرنا ہو گی، تب جا کر ہم سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کر پائیں گے۔