25 جون 2019
تازہ ترین

سیاحت کی ترقی۔ خوشحالی کی نوید  (2) سیاحت کی ترقی۔ خوشحالی کی نوید (2)

شمالی علاقہ جات میں کئی پرانے قلعے ہیں، پرانے زمانے کی فن تعمیر، ہنزہ اور چترال کی وادیاں جو ایک چھوٹی سی خوبصورت اقلیت سماجی گروہ کیلاش کا مسکن ہے جو خود کو سکندر اعظم کی اولاد سے بتاتے ہیں۔ پاکستان کے ثقافتی مرکز لاہور میں مغل فن تعمیر کی بہت سی مثالیں موجود ہیں، جیسے بادشاہی مسجد، شالیمار باغ، مقبرہ جہانگیر اور قلعہ لاہور  کے علاوہ بھی کئی قابل دید مقام شامل ہیں جو تمام سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز ہیں۔ کبھی  پاکستان میں سالانہ  دس لاکھ سے زائد سیاح آتے تھے، تاہم 2008  سے یہاں اندرونی بے یقینی صورتحال کی وجہ سے یہ تعداد کافی کم ہوگئی ہے۔ اکتوبر 2005ء میں کشمیر کے زلزلے کے بعد رسالہ دی گارڈین نے پاکستان کے پانچ مقبول ترین سیاحتی مقامات کے نام سے ایک مضمون شائع کیا، تاکہ ملکی سیاحتی صنعت کی مدد کرسکے۔ یہ پانچ مقامات ٹیکسلا، لاہور، شاہراہ قراقرم، کریم آباد اور جھیل سیف الملوک تھے۔ 
عالمی معاشی فورم کے سفر اور سیاحت کے مقابلے کی رپورٹ نے پاکستان کو مقبول ترین 25 فیصد سیاحتی مقامات کا اعزاز عالمی ورثے کے مقامات کے طور پر مقرر کیا۔ سیاحتی مقامات کی پہنچ جنوب میں مینگروو جنگلات سے وادیٔ سندھ کی تہذیب کے موئنجودڑو اور ہڑپہ جیسے 5000 سال پرانے شہروں تک ہے۔
دنیا کے متعدد ممالک ہیں جو سمندر سے محروم ہیں، کئی صحرا ہی صحرا پر مشتمل ہیں، کئی ہیں جو سال بھر برف سے ڈھکے ہوتے ہیں، لیکن پاکستان ایسا ملک ہے جو کراچی سے کشمیر اور گوادر سے خنجراب تک مختلف جغرافیائی اور موسمی خطوں پر مشتمل ہے۔ شمال میں دنیا کے تین عظیم ترین سلسلہ ہائے کوہ ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش ایک دوسرے سے ملتے ہیں جن میں دنیا کی بلند ترین 14 چوٹیوں میں سے پانچ بشمول ’’کے۔ٹو’’ جو دنیا کی دوسری سب سے اونچی چوٹی ہے، یہاں موجود ہیں۔ پہاڑوں سے قدموں میں قطبین کے بعد دنیا میں سب سے بڑا برفانی خزانہ 5000 سے زائد گلیشیئرز کی صورت پاکستان میں محفوظ ہے۔ یہاں کے بلند بالا سرسبز جنگلات، چراگاہیں اور جھیلیں ہیں جن میں سطح سمندر سے 4000 میٹر بلند الپائن جنگلات، سطح مرتفع دیوسائی اور تین ہزار میٹر بلند فیری میڈوز مشہور ہیں۔ 
جنگلات اور چراگاہوں سے نیچے نظر ڈالیں تو دریائے سندھ کے میدانی علاقے جو اپنی زرخیزی کے باعث بریڈ باسکٹ آف پاکستان کہلاتے ہیں، پھر شمالی لینڈ اسکیپ سے بالکل مختلف سندھ اور بلوچستان کے خطے ہیں، جن کا اپنا انفرادی جغرافیہ ہے۔ ایک طرف سندھ کے گرم میدانی علاقے جو کھجور اور آم کی فصلوں کے لیے مشہور ہیں، رفتہ رفتہ تھرپارکر کے عظیم صحرا میں تبدیل ہوجاتے ہیں، جو بالآخر سندھ کے ساحلوں سے جاملتے ہیں۔ دوسری جانب بلوچستان کا پتھریلا مگر خوبصورت لینڈاسکیپ ہے، جسے ماؤنٹین اسکیپ یا راک اسکیپ کہنا زیادہ مناسب ہے، جس کے ساتھ بلوچستان کے ان چھوئے، خوبصورت اور شفاف پانیوں والے ساحل بچھے ہیں، پر پاکستان ان ساحلوں پر ختم نہیں ہوجاتا، سمندروں میں پاکستانی حدود میں متعدد جزائر ہیں جو وطن عزیز کا حصہ ہیں۔ ان میں استولا، چرنا اور منوڑا مشہور ہیں۔ غرض پاکستان میں وہ سب کچھ ہے جس کے لیے کسی سیاح کو شاید کئی ملکوں جانا پڑے۔ 
بدقسمتی سے یہاں سیاحت کو وہ مقام نہیں ملا جو اس کا حق ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2010 میں عالمی سیاحت کا حجم قریباً ساڑھے نو لاکھ سیاح تھا، جو کم ہو کر 2013 میں ساڑھے پانچ لاکھ رہ گیا اور 2014 میں مزید کم ہوکر ابتدائی چھ ماہ میں دولاکھ سیاحوں سے بھی کم رہ گیا تھا، یعنی سال بھر میں کوئی چار لاکھ۔ (جاری ہے)