23 ستمبر 2018
تازہ ترین

سہمے سہمے لوگ سہمے سہمے لوگ

’’میں اور آپ‘‘ہی نہیں پوری قوم کی خواہش تھی کہ الیکشن متنازعہ نہ ہوں لیکن قسمت کا لکھا کب ٹلتا ہے دوسرے ہمارے تمام معاملات مصلحت پسندی میں بنتے بنتے بگڑ جاتے ہیں،اسی لئے2013ء کے الیکشن متنازعہ بنے اور اَب 2018ء کے الیکشن بھی متنازعہ ہونے کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں پھر بھی ’’دیر آئد درست آئد‘‘کے مصداق اقتدار بھی منتخب نمائندوں کو منتقل ہو گیا تمام تر حربوں ،کوششوں اور منصوبہ بندیوں کے باوجود ملک کی تین بڑی پارٹیاں ہی بڑ ی ٹھہریں صرف نمبر رنگ تبدیل ہوئی،تحریک انصاف ملک کی سب سے بڑی پارٹی بن گئی لیکن اسے بھی اکثریت کیلئے آزاد سیاسی پنچھیوں کا سہارا لینا پڑا،وزیراعظم عمران خان نئے پاکستان کے نعرے پر قائم ہیں دیکھنا یہ ہے کہ ’’تبدیلی‘‘کتنی آئے گی یقیناپہلے سو روز اور پہلا سال ان کیلئے کٹھن امتحان ثابت ہو گا لیکن فی الحال ’’تبدیلی آئی ہے‘‘کا گیت گانے والے عمران اسماعیل گورنر سندھ بن گئے ہیں ان کا اعلان ہے کہ وہ تمام سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر چلیں گے پھر بھی یہ تو ’’وقت‘‘بتائے گا کہ وہ گورنری ’’عشرت العباد‘‘کی طرح کریں گے یا محمد زبیر کے انداز میں صرف پارٹی گیت گائیں گے۔موجودہ حالات اور الیکشن نتائج میں شکست خوردہ جماعتیں بہت زیادہ ناراض دکھائی دے رہی ہیں پھر بھی ’’عمران خان‘‘کی خوش قسمتی کہ ’’اتحاد و اتفاق‘‘کے باوجود ’’پہلے پہل‘‘دو احتجاج نہ صرف ناکام رہے بلکہ قیادت کی غیر حاضری کے باعث انتہائی کمزور دکھائی دئیے اور تمام جماعتیں اس ناکامی کی وجوہات مختلف بتاتی ہیں لیکن ایک ہی ہے کہ یہ ’’سہمے سہمے لوگ‘‘ابھی تک اس سوچ میں مبتلا ہیں کہ ان کے ساتھ ہوا کیا؟اسی لئے سب ساتھ ہوتے ہوئے بھی مختلف موقف رکھتے ہیں اسی لئے ’’الیکشن کمیشن‘‘کے خلاف شروع ہونے والا اپوزیشن جماعتوں کا احتجاج اپنی ’’دھاگ‘‘نہیں بٹھا سکا تاہم پاکستان پیپلز پارٹی کی رائے درست ہے کہ ’’عمران خان‘‘کو اگر اقتدار ملا ہے تو اسے کم از کم ’’سو روز‘‘تو دیکھا جائے ویسے بھی ’’احتجاج‘‘ابھی صرف الیکشن کمیشن تک محدود ہے اور یہ تقرری خالصتاً پاکستان مسلم لیگ (ن)اور پاکستان پیپلز پارٹی کی مشاورت سے ہوئی تھی الزام بھی اس وقت آر۔ٹی۔ایس سسٹم کے بیٹھنے اور سستی پر لگایا جارہا ہے جس کی وجہ سے تاخیری حربوں کو تقویت ملی تحقیقات جاری ہیں کہ حقیقت سسٹم کی خرابی ہے کہ کسی کی نیت کی؟
دراصل ’’نیب‘‘اور عدالتی کارروائی نے سابق حکمرانوں کی بے اصولی اور قومی خزانے کے لٹیروں کی ’’پکڑ،دھکڑ اور جکڑ‘‘نے پوری قوم کو پریشان کر کے رکھ دیا ہے عام آدمی سے لے کر ایوان اقتدار تک ذمہ دار بھی یہ نہیں جانتے کہ کل کس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے؟سیاست اور اقتدار کے بڑے اہم برج ابھی تک اپنی بے گناہی ثابت نہیں کر سکے اس لئے لوگ سہمے سہمے دکھائی دے رہے ’’ہماری اور آپ‘‘کی غیرمتنازعہ انتخاب کی خواہش پوری نہیں ہو سکی لیکن عمران خان کی خواہش پوری ہو گئی اس ’’پکڑ،دھکڑ اور جکڑ‘‘کے خوف میں بد نامی سے بچنے کیلئے تحریک انصاف کے قائد نے الزام اور مقدمات زدہ شخصیات کو ’’ایوان اقتدار‘‘سے دور کردیا۔جس کا سب سے زیادہ نقصان لاہوری متوالوں کے ہر دلعزیز علیم خاں کو ہوا ،ان کا دعویٰ ہے کہ وہ کسی منصب کیلئے نہیں اصولی طور ر عوامی فلاح ،ملکی خوشحالی اور استحکام پاکستان کیلئے ’’تبدیلی‘‘کیلئے عمران خاں کا غیر مشروط کھلاڑی اور جانثار ہوں پھر بھی سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہٰی کے سپیکر بننے کے بعد کھلاڑیوں نے یہ سوال اٹھا دیا کہ اگر پرویز الہٰی کا منصب قابل قبول ہے تو پھر برسوں سے ساتھ نبھانے والا علیم خاں کیوں نہیں ؟’’نیب‘‘کے بلاوے پر چکر تو دونوں لگا رہے ہیں پھر یہ تضاد کیوں؟بس ایسا ہی سوال الیکشن سے پہلے نیب کارروائیوں اور عدالتی گرفت پر بھی اٹھ رہے ہیں ،دعویدار یہ کہہ رہے ہیں کہ کسی سوچی سمجھی سازش کے تحت الیکشن سے پہلے ’’خوف‘‘کا ماحول بنا دیا گیا اور اس ماحول کو نوازشریف کی اداروں سے لڑائی نے بھی مضبوط کیا کیونکہ سوائے نواز شریف ہر کوئی یہ جان رہا تھا کہ اس انداز بیان کی بھاری قیمت ادا کرنی ہو گی لیکن ریکارڈ ہولڈر نااہل وزیراعظم نواز شریف کے اردگرد موجود نادان دوستوں اور ڈیوٹی فل لوگوں نے بیان میں نرمی پیدا نہیں ہونے دی۔نہال ہاشمی کی تقریر دلپذیر نے بھی بڑا رنگ پیدا کیا لیکن خود تو بزرگی کے ٹکٹ پر معافی مانگ کر بری ہو گئے پھنسوا گئے چودھری دانیال عزیز اور طلال چودھری کو،اسی طرح احد چیمہ اور فواد حسن فواد سمیت دیگر ذمہ داروں کے مقدمات نے ’’بیوروکریسی‘‘کو دھمکا دیا۔معاشرے کے قابل عزت بھاری بھرکم تنخواہیں اور مراعات کے مزے اڑانے والے 56کمپنیوں کے سربراہ اور عہدیداران بھی چیف جسٹس آف پاکستان کی نشاندہی پر حاضری دے چکے ہیں اڈیالہ جیل کے تمام صاحب حیثیت قیدی بیماری کا شکار ہو گئے جو ابھی تک ’’اڈیالہ‘‘کے مہمان نہیں بن سکے انہیں بھی خوف لاحق ہے کہ کسی وقت بھی ان کی باری آسکتی ہے اس مرتبہ سیاسی رقابت اور دشمنی کا بالکل شور نہیں اس لئے کہ قوم کی خواہش پر ’’کڑا احتساب‘‘ صرف اور صرف لوٹ مار میں ملوث افراد کا ہورہا ہے لیکن حالات تو ایسے ہی ہیں کہ70سالہ دور میں بڑے بڑوں نے موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔جو1947ء میں کچھ نہیں تھے اَب وہی سب کچھ ہیں ہمارے تضادات ارو ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی خواہش نے ’’ہمیں اور آپ‘‘کو وہ کچھ کرگزرنے کی ہمت دے دی کہ آج ہر کوئی اپنے ہمزاد سے پریشان ہے اس الیکشن کی تبدیلی میں کے۔پی۔ کے کے سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی خواتین کے ووٹوں کی مطلوبہ تعداد نہ نکلنے پر نا اہل قرار دے دئیے گئے اَب ماضی کے اس صحافی کیلئے دوبارہ الیکشن میں حصہ لینا عذاب بنا ہوا ہے پھر بھی غریب چائے فروش پی۔ٹی۔آئی کے گل ظفر خان باجوڑ سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہو کر سوشل میڈیا پر داد و تحسین حاصل کرتے رہے لیکن ’’میڈیا‘‘نے ان کا راز فاش کر دیا کہ الیکشن کمیشن کے ریکارڈکے مطابق ان کے اثاثے تین کروڑ نکلے ہیں البتہ کراچی کے نواحی علاقے سے پیپلز پارٹی نے ایک شہید جیالے کی سیاہ فام بیوی کو صوبائی اسمبلی کا ٹکٹ جاری کیا اور وہ کامیاب بھی ہو گئیں پھر بھی یہ کسی تبدیلی سے کم نہیں کہ حضرت مولانا فضل الرحمان نے اسمبلی نہ پہنچنے پر ’’یوم آزادی‘‘14اگست منانے سے انکار کا نعرہ لگا دیا اسی طرح سابق حکومت میں بلوچستان کی گورنری اور دیگر مراعات حاصل کرنے والے محمود خان اچکزئی نے آواز بلند کی ہے کہ جب تک پشتون ،سرائیکی اور سندھی زندہ باد نہ ہونگے تب تک پاکستان زندہ باد کا نعرہ نہیں لگائوں گا اسی طرح یہ بھی تبدیلی ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے پیرو کار،آمر ضیاء الحق کے جانشینوں کو ووٹ بھی ڈال رہے ہیں ،یقینا یہی وجوہات ہیں کہ لوگ سہمے سہمے نظر آرہے ہیں الیکشن جیتنے اور ہارنے والوںدونوں جانب مستقبل کا ’’خوف‘‘با آسانی محسوس کیا جا سکتا ہے اَب یہ سب کچھ ختم کر کے سب اچھا کی رپورٹ عمران خان کی ذمہ داری بنی ہے جو کہ کوئی آسان کام نہیں کیونکہ ’’دعا اور دوا‘‘دونوں کی ضرورت ہے۔