25 ستمبر 2018
تازہ ترین

سپاں دے پُت مِت نیں ہندے  سپاں دے پُت مِت نیں ہندے 


میں اکثر عرض کرتا ہوں کہ کامیاب تاجر وہ ہے جو اپنے گاہک کو مرنے نہیں دیتا اسے ہر صورت زندہ رکھتا ہے۔ خواہ کبھی کبھی اسے کمائی کی شرح میں کمی ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔ گزشتہ قریباً تیس سال سے ہمارے برسر اقتدار رہنے والے جمہوری بادشاہوں نے دہشت گردی، بدامنی، خوف اور دھونس دھاندلی کا دھندہ کیا ہے جب تک یہ بیماریاں زندہ ہیں ان کے دھندے چلتے رہتے ہیں جیسے ہی ان کے خاتمے یا کمی کا امکان ظاہر ہو یہ بادشاہ گر فوراً اپنی قیمتوں میں نمایاں کمی کر کے اپنا جمعہ بازار لگا دیتے ہیں عوام کو خوفزدہ رکھنا انہیں بالواسطہ یا بلاواسطہ یہ یقین دلائے رکھنا کہ عوامی سلامتی کے لیے برسر اقتدار طبقے کا وجود لازم ہے بصورت دیگر سارا دھندہ چوپٹ ہو جائے گا اور عوام کو جان کے لالے پڑ جائیں گے۔ یہی ان کا بزنس ہے۔ جسے جاری و ساری رکھنے کے لیے ہر غیر انسانی، غیر اخلاقی، غیر آئینی طریقہ اپنایا جاتا ہے۔
کراچی کی مثال لیں… کراچی میں 30سال الطاف حسین نے ان ہی ’’سنہری اصولوں‘‘ کی بنیاد پر اپنی بادشاہت قائم رکھی۔ اس نے کراچی کے پڑھے لکھے اور ان پڑھ دونوں طبقات کو مختلف نفسیاتی حربوں سے اپنا ’’معمول‘‘ بنائے رکھا اور خود ’’عامل‘‘ بن کر ان پر مسلط رہا۔ ایک بے نام سا خوف کراچی کے ہر بڑے چھوٹے کے رگ و پے میں سرایت کر چکا تھا۔ کراچی کے عوام نے طوعاً کرہاً یہ بات شعوری طور پر قبول کر لی تھی کہ اگر انہوں نے اس شہر میں زندہ رہنا ہے اپنا کاروبار حیات چلانا ہے تو انہیں مقامی سیکٹر کمانڈر کے غلاموں کی سی حیثیت سے زندہ رہنا ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی ایم کیو ایم کے اشارے کا محتاج ہوتا تھا۔ الطاف حسین اور اس کے کارخاص ہر رات یہ فیصلہ کرتے تھے کہ اگلے روز شہر میں کس کو جینے کا حق ہے اور کون جینے کے لائق نہیں رہا۔ 
انسانوں کو حشرات الارض کی طرح اپنے پیروں تلے کچل دینا ان کے لیے معمول تھا۔ اگر کسی نے اس موضوع پر ریسرچ کی تو آپ کو شاید یقین نہ ہو کہ ’’الطاف شاہی‘‘ کے دنوں میں ہر روز کراچی میں تین چار ’’باغیوں‘‘ کو موت کے گھاٹ اتارنا عام سی بات سمجھی جاتی تھی۔ ایسی بے نام لاشوں کے ساتھ یہ آثار موجود ہوتے تھے کہ ان کا قاتل کون ہے؟ ہر لاش اور اس کے لواحقین قاتلوں کے نام اور ایڈریس سے آگاہ تھے۔ پولیس کو بھی علم تھا لیکن پولیس انہیں گرفتار نہیں کرتی تھی کیونکہ پولیس کو بھی اس مافیا نے اپنے سسٹم کا حصہ بنا لیا تھا۔ الطا ف حسین نے ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن میں حصہ لینے والے قریباً تمام پولیس افسران کو قتل کروا دیا۔ ایک فوجی افسر ملک چھوڑ کر جان بچا کر بھاگ گیا شاید ایک دو پولیس والے بھی بھاگ گئے تھے۔ صرف وہی زندہ بچے البتہ مثال دینے کے لیے ایک ایس ایس پی ابھی تک موجود ہے۔ آپ نے الطاف مافیا کے زوال کے بعد ان کے باغیوں کی زبانی اس دور کی سینکڑوں کہانیاں پڑھی اور سنی ہوں گی اگر کوئی سماجی علوم کا محقق اس موضوع پر ریسرچ کرے تو اسے گزشتہ 30سال میں ہزاروں ایسی کہانیوں کا باقاعدہ ریکارڈ پولیس کے متعلقہ دفتروں سے مل جائے گا۔ الطاف مافیا کے زوال میں (خاتمے کا لفظ میں استعمال نہیں کر رہا) بنیادی کردار بظاہر رینجرز کا دکھائی دیتا ہے لیکن میں اسے تسلیم نہیں کرتا رینجرز تو 25سال سے کراچی میں موجود تھے۔ فوجی چھائونی بھی موجود ہے۔ بحریہ کا ہیڈ کوارٹر ہے ایسی بات ہوتی تو یہ بہت پہلے ہو چکا ہوتا۔ میرا دل گواہی دیتا ہے کہ اس کی وجہ بلدیہ ٹائون میں 350افراد کا زندہ جلانا ہے۔ آگ سے 350افراد کو اس جرم کی پاداش میں جلا دیا گیا کہ وہ ایک ایسی فیکٹری میں کام کرتے ہیں جس نے الطاف مافیا کو اس کی مرضی کا غنڈہ ٹیکس ادا کرنے سے معذوری ظاہر کر دی تھی اور وہ اپنا کاروبار سمیٹ کر ملک سے فرار ہونے والے تھے۔ ایسی بات نہیں کہ وہ پہلے سے بھتہ نہیں دے رہے تھے؟ اس بات کا تو تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ کراچی میں کوئی کام کرے اور الطاف مافیا کو بھتہ نہ دے۔ وہ بے چارے بھی ان غلاموں میں شامل تھے لیکن اچانک اتنی بڑی ڈیمانڈ آگئی جسے وہ واقعی پورا کرنے سے قاصر تھے۔ اس جرم کی پاداش میں ان کی فیکٹری کو 350زندہ انسانوں سمیت جلا کر راکھ کا ڈھیر کر دیا گیا۔ شاید قارئین کے لیے یہ اچھنبے کی بات نہ ہو کیونکہ اب پاکستانی عوام کے لیے کوئی بری خبر بھی ’’سرپرائز‘‘ نہیں ہو سکتی وہ اپنے صاحب اقتدار طبقے سے کچھ بھی امید رکھ سکتے ہیں۔ آپ نے صرف بلدیہ ٹائون کی خبر سنی ہو گی لیکن ایسے سینکڑوں واقعات اس سے پہلے ہو چکے تھے الطاف مافیا کراچی کی سینکڑوں بلڈنگوں اور فیکٹریوں، پلازوں کو حکم کی مکمل تعمیل نہ ہونے کی پاداش میں جلا چکا تھا۔ لیکن کسی کو یہ خبر رپورٹ کرنے کی جرأت بھی نہیں ہوتی تھی۔
اس مافیا کی کامیابی کا ایک ہی راز تھا کہ یہ اپنے گاہک کبھی نہیں مرنے دیتا تھا۔ خوف کو مختلف ریپرز میں لپیٹ کر فروخت کرنے کا سلسلہ کبھی نہیں ٹوٹا۔ اس کے پاس چرب زبان، مکار ترین لیکن صاحب اسلوب خوش پوش اور پڑھے لکھے سیلزمینوں کی ایک فوج موجود تھی۔ اس فوج کے ہر سپاہی کی کوشش یہی ہوتی تھی کہ ان کے دھندے میں کوئی کمی نہ آئے۔ کاروبار جاری رہنے کی صورت میں ہی انہیں اپنا حصہ بخرہ ملتا تھا جس سے انہوں نے اپنی الگ ایمپائرز کھڑی کی ہوئی تھیں۔
جنرل راحیل کی عظمت کو سلام کہ اس اللہ کے شیر نے الطاف مافیا کے ملکی اور غیر ملکی سرپرستوں کو جوتے کی نوک پر رکھ کر نائن زیرو سے انہیں بے دخل کر کے ان کی ریڑھ کی ہڈی توڑ دی۔ کسی سیاسی اور جمہوری مصلحت کی پروا کیے بغیر انہیں اچھا خاصا رگڑا دیا اور اس آدم خور اژدھے کو کینچوے کی طرح زمین پر رینگنے پر مجبور کر دیا۔اپنے زوال کے بعد سے تادم تحریر الطاف مافیا اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کے لیے ہاتھ پائوں مار رہا تھا۔ جنرل راحیل نے ان کے سہولت کار سیاسی و جمہوری غنڈوں پر بھی چونکہ گرفت کی ہوئی تھی انہیں اس قابل ہی نہیں چھوڑا تھا کہ وہ اس ’’خونی مافیا‘‘ کی مدد کر کے انہیں دوبارہ مکمل متحرک کر سکیں جب سیاسی مافیا ان کے کام کا ہی نہیں رہا تو یہ بے چارے اس کے ساتھ کیا جھک مارتے۔ انہوں نے مجبوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیارکیے رکھی۔ مصطفیٰ کمال، ڈاکٹر فاروق ستار، لندن گروپ وغیرہ کی صورت میں ہاتھ پائوں البتہ مارتے رہے۔ اب اچانک لندن گروپ کے پارٹ ٹو یعنی ڈاکٹر فاروق ستار گروپ نے ماضی کی طرح ہمارے سیاسی گاڈ فادر کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر اپنی ٹانگوں میں طاقت کے انجکشن لگا لیے ہیں۔ دروغ برگردن راوی 50کروڑ روپے بطور بھتہ وصول کرنے کے بعد مرکزی حکومت میں جنرل مٹھا خان کے صاحبزادے زبیر احمد کے ذریعے نقب لگائی ہے یہ خبر مصدقہ ہے یا غیر مصدقہ اس کا فیصلہ شاید کبھی نہ ہو سکے لیکن ہمارے ہاں اپنے اقتدار کی طوالت کے لیے ملک دو ٹکڑے کرنے کی روایت بھی موجود ہے اس لیے ابھی سے ڈرنا شروع کر دیں۔ بقول حضرت میاں محمد بخشؒ
سپاں دے پت متِ نہیں ہندے
بھاویں چلو دودھ پیائیے