26 ستمبر 2018
تازہ ترین

سوراجیہ جماعت اور کونسلیں سوراجیہ جماعت اور کونسلیں

(15 ستمبر1923 ء کی تحریر ) 
آپ ایک مسلمان ایسا نہیں دکھا سکتے جس نے کانگرس کے اصول کی حمایت کے اعلان کے بعد اس سے غداری کی ہو لیکن ہندوئوں میں صدہا اس غداری کی مثالیں ملتی ہیں۔ آپ کے بھائی کیسریؔ، پرتاپؔ اور تیجؔ عدالت میں مقدمات کی پیروی کر رہے ہیں لیکن زمیندارؔ آج بھی اسی طرح عدالتوں کے مقاطعہ کا پابند ہے جس طرح 1921ء میں تھا۔ لالہ رام پرشاد بقول پرتاپؔ جرمانہ ادا کرکے جیل سے واپس آ گئے ہیں لیکن اولوالعزم شعیب نے ایک حبہ بھی ادا نہ کیا اور مزید قید کی سزا بھگت لی۔ ہم، ڈاکٹر کچلو، رئیس الاحرار اور دوسرے مسلمان اب تک کونسلوں کے مقاطعہ کے حامی ہیں لیکن آپ پروفیسر رچی رام، پرتاپؔ وغیرہ نہ محض کونسلوں میں جانے کے حامی ہیں بلکہ وہاں جا کر عام موالاتیوں کے طریق کار کی پابندی کیلئے طیار ہیں۔ کیا یہ کانگرس سے کھلی ہوئی غداری نہیں ہے؟ پھر اگر ایسی باتوں پر آپ سے بازپرس کی جاتی ہے تو آپ بھرے  جلسوں میں پیٹتے ہیں کہ مسلمان جراید مجھے گالیاں دیتے ہیں۔ کیا یہ طریق عمل آپ جیسے لوگوں کیلئے باعث ناز ہو سکتا ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوراجیہ جماعت اور کونسلیں
ہم دیش بندھو، پنڈت نہرو اور دوسرے بزرگوں سے پھر عرض کرتے ہیں کہ کونسلوں کا داخلہ نہایت اہم فتنوں سے لبریز ہے۔ ہزارہا اشخاص داخلہ کی اجازت کے ساتھ ہی موالاتی بن جائیں گے اور کانگرس تباہ ہو جائے گی۔ خدارا وہ غور کریں اور کانگرس کو تباہی سے بچائیں۔ اگر وہ اپنی جماعت کے مقتدر ارکان کی طرف سے ترک موالات کے اصول کے خلاف اظہار خیالات پر بھی بدستور داخلے پر مصر رہے تو ہم سمجھیں گے کہ وہ دیدہ و دانستہ قومی تحریک کو تباہ کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم کونسلوں کو تباہ کر دیں گے لیکن ان کے معاونین و رفقائے کار کونسلوں کی آبادی کے سامان کر رہے ہیں۔ کاش ان کی آنکھوں سے پردہ ہٹ جائے اور وہ حقیقت حال سے آگاہ ہو جائیں۔ اگر کانگرس کو تباہ ہی ہونا ہے تو پھر اس طرح سسک سسک کر جان دینے سے فائدہ؟ بہتر ہے کہ مردانہ وار اپنے اصول پر کاربند رہیں۔ اگر ان اصولوں کی پابندی کانتیجہ تباہی ہے تو ہو ان سے ہٹ کر بھی تو سوائے تباہی کے اور کوئی نتیجہ نظر نہیں آتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لالہ دونی چند اور فساداتِ سہارنپور
ہم لالہ دونی چند جی انبالوی کے اس بیان کی حقیقت اچھی طرح واضح کر چکے ہیں جو انہوں نے فسادات سہارنپور کے متعلق اخبارات میں شایع کرایا تھا۔ اگر لالہ جی قدرے صبر و تحمل سے کام لیتے اور اپنے شایع کردہ بیانات کی آسمانی حقانیت پر اصرار کرنے کے بجائے ہمارے اعتراض کا تشفی بخش جواب دینے کی کوشش کرتے تو نہایت اچھا ہوتا۔ لیکن انہوں نے ایسا کرنے کی تکلیف گوارا نہ کی بلکہ اپنے بیانات کو جا و بے جا دہرانا شروع کر دیا حالانکہ ایسی باتوں سے کشیدگی اور منافرت کے بڑھنے، جذبات کے مشتعل ہونے اور ہندو و مسلم میں فساد کا بیج بونے کے سوا اور کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا۔ کل تک تو صرف چند غیر ذمہ دار ہندو اخبارات کا رونا تھا لیکن آج کانگرس کے نہایت ذمہ دار ہندو کارکن بھی اسی طریق افتراق و انشقاق کے پابند ہو رہے ہیں۔ چنانچہ بندےؔ ماترم لکھتا ہے کہ 9 دسمبر کو سوراجیہ جماعت کے جلسے میں لالہ دونی چند جی نے فسادات سہارنپور کا تذکرہ چھیڑا اور اپنے چشم دید حالات سنانے شروع کئے تو چند مسلمان اصحاب اس کی تاب نہ لا سکے اور انہوں 
نے شور مچانا شروع کر دیا۔ کئی اصحاب تو بول اٹھے کہ یہ سب جھوٹ ہے۔ ناچار جلسہ کو برخاست کر دینا پڑا۔ ہمیں افسوس ہے کہ معاملہ نے ایسی صورت اختیار کی لیکن کن پر، ان لوگوں پر نہیں جنہوں نے بھرے مجمع میں شور مچایا اس لئے کہ عوام سے اس قسم کی باتوں کے سوا اورکیا توقع ہو سکتی ہے۔ لالہ دونی چند جی انبالوی پر دلی افسوس ہے کہ انہوں نے ہندوئوں اور مسلمانوں کے مشترکہ مجمع کے روبرو فسادات سہارنپور کے متنازعہ فیہ واقعات کو اشتعال انگیز صورت میں پیش کیا۔ کیا اس سے ان کا مقصود یہ تھا کہ لاہور میں سہارنپور کے واقعات کا اعادہ ہو، ہندو مسلمان آپس میں لڑ پڑیں، ایک دوسرے پر چڑھ دوڑیں، کشت و خون کا بازار گرم کردیں اور امن و انسانیت کی متاع عزیز کو پامال کر ڈالیں۔ اگر نہیں تو پھر انہوں نے موجودہ حالات و معاملات کا لحاظ رکھتے ہوئے ایسی بحث کیوں چھیڑی جس سے ہندوئوں اور مسلمانوں کے تعلقات زیادہ نازک صورت اختیار کرلیں۔ جن لوگوں نے شور مچا کر جلسے کو بند کروا دیا انہوں نے نادانستہ ایک اچھی خدمت انجام دی ورنہ کون کہہ سکتا ہے کہ لالہ دونی چند جی کی تقریر کے اثرات کتنے مضرت خیز ثابت ہوتے۔ بندےؔ ماترم لکھتا ہے کہ لالہ جی نے علیٰ الاعلان اپنے بیان کئے ہوئے واقعات کی صداقت پر زور دیا اور کہا کہ جس شخص کا جی چاہے وہ اسے سہارنپور ساتھ لے جا کر سب کچھ دکھا سکتے ہیں۔ لیکن ہم پوچھتے ہیں کہ وہ کیا دکھا سکتے ہیں؟ راکھ کے انبار جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ ہندو ساہو کاروں کی بہیوں، تمسکوں اور کپڑوں کی راکھ ہے حالانکہ اس کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ متعدد مکانات میں کھدے ہوئے گڑھے اور خالی برتن جن کے متعلق دعویٰ کیا جاتا ہے کہ مسلمان ان میں سے مال نکال کر لے گئے حالانکہ ایسے دعاوی کو عقل کسی حال میں قابل اعتماد قرار نہیں دے سکتی اس لئے کہ ہندوئوں نے اپنامال مسلمانوں کو دکھلا کر دفن نہیں کیا تھا۔ لالہ جی کیلئے ایسے اشتعال انگیز مبحث کو چھیڑنا مناسب نہیں تھا۔    (جاری ہے)