19 جنوری 2019
تازہ ترین

سنتے تھے وہ آئیں گے، سنتے تھے سحر ہو گی سنتے تھے وہ آئیں گے، سنتے تھے سحر ہو گی

کیسے عجیب لوگ تھے جن کے یہ مشغلے رہے
میرے بھی ساتھ ساتھ تھے غیر سے بھی ملے رہے
تو بھی نہ مل سکا ہمیں عمر بھی رائیگاں گئی
تجھ سے تو خیر عشق تھا، خود سے بڑے گلے رہے
(سلیم کوثر)
میں نے چند ماہ پہلے لکھا تھا ’’عامر احمد علی مجھے بیعت کر لو‘‘ کئی دوست اس کالم سے اتفاق نہیں کرتے تھے۔ میں نے اس کالم میں ثابت کیا تھا کہ ہر اچھا عہدہ، پوسٹنگ، سٹاف کالج سب عامر احمد علی کا پیدائشی حق ہے۔ آپ اسے پی ایس پی ایم بھی بننے سے نہیں روک سکتے۔ پھر وہی ہوا ناں، چیف کمشنر اسلام آباد کے بعد گزشتہ روز انہیں چیئرمین سی ڈی اے کا بھی چارج دے دیا گیا۔عجیب بات ہے کہ میری افضل لطیف کے ساتھ کبھی کوئی خاص نہیں بنی۔ میں انہیں پتھر دل(stone hearted)  افسر کہا کرتا تھا۔ وہ طبعاً خشک آدمی ہیں مگر یہ ان کا وصف ہے کہ وہ ’’بائی بک‘‘ چلتے ہیں۔ ٹھیک کام کیلئے سفارش کرانے کی ضرورت نہیں، غلط کام وہ کرتے نہیں، مضبوط خاندانی پس منظر ہے۔ معاملات اور اپنے کام پر عبور اور مضبوط گرفت رکھتے ہیں۔ اسلام آباد اور سی ڈی اے کو ان کی ضرورت تھی۔ سی ڈی اے کے لوگوں کو پہلی بار میں نے خوف میں اور کام کرتے دیکھا ہے۔ انتہائی اچھی شہرت کے مالک ہیں، شہر میں کچھ نظر بھی آنا شروع ہوا تھا۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں ان سے میری ویسے ہی گرمی سردی رہتی تھی، غیر محسوس سی ایک لڑائی تھی۔ چودھری ایڈیشنل سیکرٹری ان کے عشاق میں سے تھے۔ مجھے اکثر کہتے تھے کہ آپ اس آدمی کو سمجھیں۔ اس کا کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں، ایسے شخص کو سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ہونا چاہیے۔ میں انہیں ہنس کر کہتا کہ چودھری صاحب آپ گورے صاحب کے پکے فین ہیں۔ چودھری ایڈیشنل سیکرٹری کا یہ ماننا تھا کہ سسٹم چل ہی ایسے لوگوں کی وجہ سے رہا ہے، یہ سسٹم کی مزاحمت کے استعارے ہیں۔
 آپ یقین کریں واقعی آج افضل لطیف کو جبری رخصت پر بھجوائے جانے پر میں بہت دکھی ہوں۔ میرا دل اندر سے رو رہا ہے۔ یہ ہے ہمارا اصل چہرہ، یہ ہے وہ تبدیلی جس کے لانے کیلئے ہم گھلے جا رہے تھے۔ میں مکمل یقین سے کہتا ہوں کہ تبدیلی سرکار کو ایک بھی اپ رائٹ افسر سوٹ ہی نہیں کرتا۔ آج چار ماہ سے اوپر ہو گئے ہیں، عام آدمی کیلئے کام کرنے کے جرم میں اکبر درانی او ایس ڈی ہے۔ شبیر بھٹی جیسا اپ رائٹ محنتی اور کمال افسر کسی دلدل میں پھینک دیا گیا ہے۔ سردار احمد نواز سکھیرا جیسا افسر غریبوں کا ہمدرد، سسٹم اور نئے جہان ڈھونڈنے والا افسر نام نہاد سرمایہ کاری بورڈ میں دفن ہے۔ عارف ابراہیم جیسا ’’کام کا جن‘‘ افسر اتنا بددل ہے کہ اپنی سروس کے آخری مہینے ختم ہونے کا انتظار کر رہا ہے۔ سہیل اکبر شاہ جیسا ہیرا افسر آج عزت بچائے سندھ میں بیٹھا ہوا ہے۔ احسن راجہ جیسے افسر جن حالات میں ریٹائر ہوئے یہ سوچ کر ہی کلیجہ 
منہ کو آتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا جرم ای او بی آئی کے 200 ارب روپے بچانا تھا۔ ایف آئی اے اور عدالتوں میں رسوائی الگ سے ہوئی ہے، کتنے تکلیف دہ ایام انہوں نے کاٹے ہیں۔ سرخرو انہوں نے ہونا ہی تھا مگر یہ کیسی بات ہے کہ جس نے ملک کی خدمت کی اور جس نے لوٹا، ان میں کوئی فرق ہی نہیں ہے؟ 
ایک طویل فہرست ہے نیک نام اور اچھے افسروں کی، جو ایک عرصہ سے ٹارگٹ ہیں۔ آج کتنے ہی سفید پوش گھرانوں کے افسر ہیں جو رشتہ داری اور سفارش نہ ہونے کی وجہ سے راندہ درگاہ ہیں۔ اجمل بھٹی ایک عرصہ سے ہیلتھ فاؤنڈیشن پنجاب میں حنوط ہے۔ لمز، ہیلتھ فاؤنڈیشن کو بطور فیل اسٹڈی پڑھا رہا تھا، اس نوجوان نے کمال کر دیا۔ لمز اب ہیلتھ فاؤنڈیشن کو بطور کامیاب اسٹڈی کے طور پر پڑھانے جا رہا ہے۔ اس نوجوان نے وزیراعلیٰ پنجاب کو سب سے پہلے ایک پیپر بھیجا کہ یہ ایک لاکھ نوکریاں ہیں جو ہم لوگوںکو دے سکتے ہیں۔ اس نوجوان کا نام تبدیلی سرکار کی اس فہرست میں تھا کہ جو نئے ڈپٹی کمشنر لگائے جانے تھے۔ مجھے ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب نے کہا کہ واقعی وہ بڑا اچھا افسر ہے، ہم اسے ڈی سی لگانے جا رہے ہیں۔ پھر اس کا نام مکھن سے بال کی طرح باہر نکال دیا گیا۔ اس کے والد اسے نوکری چھوڑ کر کوئی بھی ڈھنگ کا کام کرنے کو کہہ رہے ہیں۔ گلگت  بلتستان سے لے کر افریقا تک کونسی جگہ تھی جہاں اس نے ملک اور اپنی سروس کا نام روشن نہیںکیا مگر اس سے ایک ہی جرم سرزد ہوا ہے کہ یہ کسی پیر و مرشد سعید مہدی کے گھر پیدا نہیں ہوا۔ یہ کسی فواد حسن فواد کا منظور نظر نہیں ہے۔ یہ کسی سیاسی گھرانے کا داماد اور کسی مشیر ماحولیات کا ہم زلف نہیں ہے۔
 اس کی ایک اور غلطی بھی ہے کہ اس نے گجرات میں سروس نہیں کی۔ اے سی مری یا اے سی نواب شاہ یا اے سی رائیونڈ نہیں رہا۔ اس نے اپنے ساتھ سب سے بڑی زیادتی کی کہ اس نے اپنا انتہائی قیمتی وقت خوشامد کے اسلوب سیکھنے، بڑے لوگوں کی پالش، اشرافیہ کے کام 
کرنے کے بجائے کتابوں میں غرق کر دیا، سسٹم بنانے پر صرف کر دیا۔ عام آدمی کے مصائب اور تکالیف کم کرنے جیسے ’’فضول اور واہیات کام‘‘ پر خرچ کر دیا۔ آج بھٹی صاحب، آپ بھگتیں۔ کم از کم اکبر درانی، افل لطیف، احمد نواز سکھیرا، شبیر بھٹی اور عارف ابراہیم جیسے لوگوںکی طرف دیکھ کر ہی کچھ سیکھ لیتے۔ اب بھی وقت نہیں گزرا۔ نوجوان ہو، باہر والے تمہیں بلا رہے ہیں۔ یہاں کچھ ٹھیک نہیں ہونے والا۔ اکبر درانی کی طرف دیکھ کر ہی عبرت پکڑو۔ اپنے خاندان اور اپنی زندگی اس ملک کی خاطر داؤ پر لگا دی، گھر راکٹوں اور بم سے اڑوا لیا۔ قسمت اچھی تھی کہ جس کمرے میں سب تھے وہ کمرہ محفوظ رہا۔ دو بار مائنز کے اوپر سے گزرے، پیچھے آنے والا ٹرک اڑ گیا۔ اسے آج کیا ملا ہے؟ اپنے کیریئر کے عروج پر او ایس ڈی شپ ملی ہے۔ اس کے بچے پوچھتے تو ہوں گے، ابا جی! آپ نے آخر ایسا کیا کیا ہے کہ تبدیلی سرکار آپ کو پوسٹنگ تک نہیں دے رہی؟ جیسے کیپٹن عثمان زکریا کو فواد حسن فواد نے بینظیر کا اے ڈی سی ہونے کے جرم میں ساڑھے چار سال او ایس ڈی بنائے رکھا۔ اجمل بھٹی کچھ سیکھو، ان سب سے کچھ عبرت پکڑو۔ آپ کی سفارش ہونی چاہیے۔ آج ڈپٹی کمشنر لاہور کا میرٹ کیا ہے۔ یا پھر آپ بھی کوئی پیر یا پیرنی پکڑو۔ ویسے یہاں کچھ نہیں ہونے والا۔ ہم کس کس کے دکھ لکھیں۔ محسن نقوی نے کہا تھا:
ہماری جان پہ دوہرا عذاب ہے محسن
کہ دیکھنا ہی نہیں، ہم کو سوچنا بھی ہے
میرا تو کبھی کبھی اپنی عقل پر ماتم کرنے کو دل چاہتا ہے۔ مجھ سے تو زیادہ میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہی سمجھدار ہیں۔ انہوں نے دو مہینے پہلے ہی گھر سے تحریک انصاف کے جھنڈے اتار کر پھینک دیے تھے۔ مجھے کہنے لگے، یار پاپا! ہم نے غلط فیصلہ کیا ۔ پھر کہنے لگے، ہمارے کلاس فیلوز بھی یہی کہتے ہیں۔ میں حیرانی سے انہیں دیکھتا رہا۔ میں انہیں کیسے کہتا کہ تم لوگ ٹھیک ہی کہتے ہو۔ ہم لوگوں سے دھوکہ نہیں ہوا، ہم لوگ بیوقوف ہیں۔ ایک بار پھر ’’بدھو‘‘ بلکہ ’’ماموں‘‘ بن گئے۔ یہاں کچھ نہیں بدلنے والا۔ یہ بھی سابقہ حکومتوں کا تسلسل ہی ہے۔
کب ٹھہرے گا درد اے دل، کب رات بسر ہو گی
سنتے تھے وہ آئیں گے، سنتے تھے سحر ہو گی
کب جان لہو ہو گی، کب اشک گہر ہو گا
کس دن تیری شنوائی، اے دیدہ تر ہو گی
کب مہکے گی فصل گل، کب بہکے گا مہ خانہ
کب صبح سخن ہو گی، کب شام نظر ہو گی
واعظ ہے نہ زاہد ہے، ناصح ہے نہ قاتل ہے
اب شہر میں یاروں کی، کس طرح بسر ہو گی
کب تک ابھی رہ دیکھیں، اے قامت جانانہ
کب حشر معین ہے، تجھ کو تو خبر ہو گی
(فیض احمد فیض)