20 ستمبر 2019
تازہ ترین

سعودیہ میں حقوق نسواں کا اعتراف سعودیہ میں حقوق نسواں کا اعتراف

ستمبر 2017ء کا دن سعودی خواتین کے لیے ایک چھوٹا سا انقلاب بن کر نمودار ہوا۔ خواتین کے ڈرائیونگ کرنے کے جس حق کو عرصہ دراز سے غیر مذہبی قرار دے کر ماننے سے انکار کیا جاتا رہا، اسے نا صرف تسلیم کر لیا گیا بلکہ یہ بھی کہا گیا کہ یہ حق مذہبی طور پر کسی طرح بھی ناجائز نہیں ہے۔ اس موقع پر مرحوم دوست اور استاد شیخ کلب علی کی ایک بات بہت شدت سے یاد آئی جو انہوں نے اس وقت کہی تھی جب یہاں جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد مرحوم کی سرپرستی میں پاسبان تنظیم کی سرگرمیاں زوروں پر تھیں۔ اخبار میں ایک خبر شائع ہوئی کہ قاضی حسین احمد کی موجودگی میں پاسبان کی طرف سے ایک ایسا سٹیج ڈرامہ پیش کیا گیا جس کے تمام کردار مردوں نے نبھائے۔ شیخ کلب علی نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ جماعت اسلامی کے لوگوں نے غیر مذہبی قرار دی گئی اس جدت پر عمل کیا ہے جو یہاں 1913ء میں اس وقت نمودار ہوئی تھی جب دادا صاحب پھالکے نے راجہ ہریش چندر نام کی ایک ایسی پہلی مکمل ہندوستانی فلم بنائی تھی جس میں تمام کردار مردوں نے ادا کیے تھے۔
حقوق نسواں کو تسلیم کرنے کے ضمن میں 26 ستمبر کو سعودی حکومت نے تقریباً یو ٹرن لینے کی جو مثال قائم کی ہے ایسی مثالیں ہر جگہ ایسے لوگوں میں ملتی ہیں جو اپنے روزمرہ امور کو ارتقائی اور جدید تقاضوں کے مطابق سرانجام دینے کے بجائے ان کے جواز ماضی میں تلاش کرتے رہتے ہیں۔ ایسی ہی ایک مثال ان دنوں بھارت میں سامنے آئی ہے جہاں دور دراز دیہات کے بعض بنیاد پرست ہندو اپنے وزیر اعظم نریندر مودی کی گھر کے اندر سوچالے (لیٹرین) بنانے کی سکیم کی یہ کہتے ہوئے مخالفت کر رہے ہیں کہ ان کے نزدیک شاستروں (ہندو عقائد) کے مطابق گھر کے اندر رفع حاجت کرنے کی ممانعت ہے۔ اس لیے گھر میں لیٹرین بنانے کے بجائے ضروری کام کھیتوں میں جا کر ہی کرتے رہنا چاہیے مگر وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ان کے بلاجواز مذہبی عقیدے کی وجہ سے ان عورتوں کو کس قدر مشکلات کا سامنا ہے جو اندھیرے میں یا تو رات کو دس بجے کے بعد یا پھر صبح چار بجے سے پہلے ہی رفع احتیاج کے لیے کھیتوں میں جا سکتی ہیں۔ یہ مسئلہ بھارت میں اتنی گمبھیر صورت اختیار کر گیا کہ وہاں کی حکومت کو ایک فلم ’’ٹوائلٹ ایک پریم کتھا‘‘ کے ذریعے لوگوں کو آگاہی دینا پڑی کہ گھر میں لیٹرین کا ہونا کسی طرح بھی ان کے مذہب کے خلاف نہیں ہے۔
بات شروع ہوئی تھی سعودیہ میں عورتوں کے ڈرائیونگ کے حق کو تسلیم کرنے سے جو پاکستان سے ہوتی ہوئی بھارت تک پہنچ گئی۔ سعودی عرب میں عورتوں کو ڈرائیونگ کا حق دلوانے میں کئی خواتین نے کردار ادا کیا۔ ایسی خواتین میں منال الشریف نامی خاتون کا نام کافی اہم ہے۔ منال سے قبل وجیہہ الہویدر نامی خاتون عورتوں کی ڈرائیونگ کے حق میں آواز بلند کرتی چلی آ رہی تھی۔ منال کا یہ کمال ہے کہ اس نے بطور رضا کار وجیہہ کی معاونت سے کار چلاتے ہوئے ایک ویڈیو بنوائی اور اسے یو ٹیوب پر اپ لوڈ کیا۔ منال کی یہ جرأت سوشل میڈیا پر عام ہونے سے حکومتی مشینری حرکت میں آ گئی اور اس کی جرأت کو جرم قرار دیتے ہوئے اسے کچھ روز کے لیے جیل میں ڈال دیا۔ بعد ازاں اسے اس ضمانت پر رہائی ملی کے وہ نہ تو آئندہ گاڑی چلائے گی اور نہ ہی اس سلسلے میں میڈیا سے بات کرے گی۔ 2011ء میں کی گئی منال کی جرأت نے کئی دوسری خواتیں کو بھی تحریک دی جس کے بعد 2013 ء میں منال جیسی60  کے قریب عورتوں نے ڈرائیونگ کرتے ہوئے اپنی ویڈیو بنائی اور اسی کی طرح سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی۔ ان عورتوں کے اس عمل کو نیک چال چلن کے متضاد قرار دے کر جیل میں ڈالا گیا اور رہائی کے بعد پولیس کو ان پر مسلسل نظر رکھنے کو کہا گیا۔
مذکورہ واقعات کی وجہ سے عالمی ذرائع ابلاغ نے سعودی عرب کو عورتوں کے حقوق کے حوالے سے غیر موزوں ملک قراردیا۔ ورلڈ اکنامک فورم کی 2016ء میں جاری کردہ عورتوں اور مردوں کی جنسی تفاوت پر مبنی رپورٹ کے مطابق 144  ممالک میں سے سعودی عرب کا نمبر 141  واں تھا۔ گزشتہ برس کی نسبت اس سلسلے میں بہتری آنے کے بجائے ابتری آئی تھی کیونکہ 2015 ء کی رپورٹ کی رپورٹ کی درجہ بندی میں سعودی عرب 145 ممالک میں 134 ویں نمبر پر تھا۔ عورتوں کے متعلق روا رکھے جانے والے سعودی حکومت اور مذہبی رہنماؤں کے رویوں کی وجہ سے عالمی میڈیا نے سعودی عرب کو نا صرف تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ دباؤ بھی ڈالا کہ عورتوں کے حقوق تسلیم کرتے ہوئے اصلاحات کا نفاذ کیا جائے۔ اس دباؤ کے نتیجے میں سعودی عرب میں عورتوں کے حق میں کئی مثبت تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔ سعودی عرب میں کوئی منتخب اسمبلی موجود نہیں بلکہ بادشاہ کی طرف سے نامزد کردہ مجلس شوریٰ حکومت کے لیے مشاورت کا کام کرتی ہے۔ 2011ء سے قبل صرف 30 برس سے زائد عمر کے مرد مجلس شوریٰ کے رکن بننے کے اہل تھے۔2011ء کے بعد اس وقت کے شاہ عبداﷲ نے خواتین کو بھی مجلس شوریٰ میں نامزدگی کا حق دیا۔ شاہ عبداﷲ کے اعلان نامے کی رو سے 2013ء میں 30  خواتین کو مجلس شوریٰ کا رکن نامزد کیا گیا۔ یہ خواتین نا صرف مجلس شوریٰ کی خصوصی کمیٹیوں میں بہترین کردار ادا کر رہی ہیں بلکہ ان میں سے کچھ کو ان کمیٹیوں میں اہم ذمہ داریاں بھی سونپی گئی ہیں۔ سعودی عرب میں صرف میونسپل اداروں کے لیے عوام کو اپنے نمائندے منتخب کرنے کا حق ہے۔ 2011ء سے قبل نہ تو عورتیں ان اداروں کا انتخاب لڑنے اور نہ ہی نمائندے منتخب کرنے کے لیے ووٹ ڈالنے کا حق رکھتی تھیں۔ شاہ عبداﷲ نے مجلس شوریٰ میں نامزدگی کی طرح میونسپل اداروں کے لے بھی عورتوں کو ووٹ ڈالنے اور الیکشن لڑنے کا حق 2011ء میں دیا۔ سعودی عرب میں منعقد ہونے والے 2015ء کے میونسپل انتخابات میں عورتوں نے اپنے تسلیم شدہ حق کے مطابق ووٹ بھی ڈالا اور بطور امیدوار حصہ بھی لیا۔ گو کہ 2100 میونسپل نشستوں میں سے عورتیں صرف20  پر ہی منتخب ہو سکیں مگر بلا شبہ محدود تعداد میں منتخب ہونے والی ان خواتین نے اپنے ملک میں ایک نئے دور کے آغاز کیا۔
سعودی عرب میں عورتوں کے حقوق کے اعتراف میں پیش رفت کا جو سفر شروع ہو چکا ہے اس میں اب واپسی ممکن نظر نہیں آتی۔ ثابت ہو گیا کہ مردانہ بالا دستی قائم رکھنے کے لیے پابندی کا مذہبی جواز موجود نہیں تھا بلکہ صرف گھڑا گیا تھا۔ برصغیر میں لاؤڈ سپیکر کے استعمال کو غیر مذہبی قرار دینے اور سعودی عرب میں عورتوں کی ڈرائیونگ کے حق کو مذہبی پابندیوں کے کھاتے میں ڈالنے جیسے افعال کے ابطال کے بعد اب یہ واضح ہو جانا چاہیے کہ مذہب کے اندر جو وسعت موجود ہو سکتی ہے اسے تنگ ذہنوں والے مذہبی ٹھیکیدار عام لوگوں تک نہیں پہنچنے دیتے۔