23 ستمبر 2018
تازہ ترین

سرکاری گاڑیاں اور مونٹائزیشن پالیسی سرکاری گاڑیاں اور مونٹائزیشن پالیسی

عمران خان کی حکومت وزیر اعظم ہاؤس کی گاڑیوں کی بڑی تعداد کو فروخت کرنے کا اعلان کر چکی۔ شاید ان گاڑیوں کی فروخت کے بعد ہی یہ بات منظر عام پر آئے کہ ان گاڑیوں کو خریدنے کے لیے قومی خزانے سے کتنی رقم خرچ ہوئی تھی اور ان کی فروخت سے کتنی رقم خزانے میں واپس آئی۔ یاد رہے کہ کسی حکومت یا حکومتی ادارے کو جب بھی کسی مد میں کچھ خرچ کرنا مقصود ہو تو سب سے پہلے اسے یہ جواز پیش کرنا پڑتا ہے کہ مطلوبہ رقم کا عوام کے بالواسطہ یا بلاواسطہ مفاد میں صرف کیا جانا کیونکر ضروری ہے۔ قواعد و ضوابط کے مطابق ویسے تو کوئی موزوں جواز پیش کیے بغیر فنڈز کا حصول ممکن نہیںہونا چاہیے مگر یہاں عمومی مشق کیونکہ رسمی کارروائیاں ہیں، اس لیے اکثر پیش کیے گئے جواز کو موزوں یا غیر موزوں کے معیار پر پرکھے بغیر ہی فنڈز جاری کر دیے جاتے ہیں۔ وزیر اعظم ہاؤس کی جن گاڑیوں کی فروخت کا اعلان کیا گیا ہے، ان کو خریدنے کے لیے یقیناً کوئی نہ کوئی جواز پیش کیا گیا ہو گا، جو کسی نہ کسی سرکاری فائل میں اب بھی ضرور محفوظ ہو گا۔ بہتر تو یہ تھا کہ ان اضافی سمجھی جانے والی گاڑیوں کے فروخت کے اعلان سے قبل نا صرف ان کی خرید کے لیے پیش کردہ جواز کو عوام کے سامنے رکھا جاتا بلکہ یہ بھی بتایا جاتا کہ یہ جواز کس قدر قابل یا ناقابل فہم تھا۔ مگر گاڑیوں کی فروخت کے لیے ہونے والی اب تک کی کارروائی سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہ جاننے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی کہ انہیں کس جواز کے تحت خریدا گیا تھا۔
پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت کے ترجمان کے مطابق وزیر اعظم ہاؤس کی گاڑیوں کی فروخت کا فیصلہ حکومتوں کے بے جا اخراجات کے خاتمے، سادگی کی مثال قائم کرنے اور قومی بچت کے مقاصد کے تحت کیا گیا ہے۔ یہاںسوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف وزیر اعظم ہاؤس کی چند گاڑیاں فروخت کر کے مذکورہ بڑے بڑے مقاصد حاصل کیے جا سکیں گے۔ ایک گزشتہ کالم میں بھی یہ بات بتائی جا چکی ہے کہ گاڑیوں کی خرید اور ان کے ناجائز استعمال کی وجہ سے قومی خزانے کو پہنچائے جانے والے نقصان کا کھرا وزیراعظم ہاؤس نہیں بلکہ ان لاکھوں گاڑیوں میں موجود ہے جو سرکاری افسران کے زیر استعمال ہیں۔ موجودہ حکومت چاہے یہ نہ دیکھے کہ وزیر اعظم ہاؤس کی گاڑیوں کی خرید کے لیے پیش کیا گیا جواز کس حد تک درست یا غلط تھا مگر اسے یہ ضرور دیکھ لینا چاہیے کہ اگرکسی سابقہ حکومت نے سرکاری گاڑیوں کا بے جا استعمال روکنے کے لیے کبھی کوئی پالیسی بنائی تھی تو وہ کیا تھی۔ گزارش ہے کہ ایسی کسی پالیسی کو سیاسی مخالفین کی پالیسی سمجھ کر دیکھے بغیر فوراً رد کرنے کے بجائے اس کے موزوں یا غیر موزوں ہونے پر غور ضرور کر لیا جائے۔
یاد رہے کہ پیپلز پارٹی کے حکومت نے اعلیٰ سرکاری افسران کے زیر استعمال گاڑیوں کا ناجائز استعمال روکنے کے لیے جون 2011ء میں ’’مونٹائزیشن آف ٹرانسپورٹ فیسلٹی‘‘ کے نام سے ایک پالیسی بنائی تھی۔ مونٹائزیشن (Monetization) اصل میں مالیاتی امور کے انتظام سے متعلق اصطلاح ہے۔ اس اصطلاح کا براہ راست تعلق ٹرانسپورٹ سے نہیں ہے۔ اس اصطلاح کو ٹرانسپورٹ کے شعبے میں استعمال کرنے کا مقصد اس شعبے سے وابستہ مالی معاملات کی بہتر اور احسن طریقے سے انجام دہی بیان کیا گیا تھا۔ اس پالیسی کے مطابق گاڑیوں کی فراہمی کے بجائے گریڈ 20 کے افسر کو 65960 روپے، گریڈ 21 کے افسر کو77430 روپے اور گریڈ22 کے افسر کو 95910 روپے ٹرانسپورٹ الاؤنس کے طور پر دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس اعلان میں کہا گیا تھا کہ آئندہ افسران کے لیے نئی کاریں خریدنے پر مکمل پابندی عائد ہو گی۔ گریڈ 20 سے 22 تک کے افسران جنہیں استعمال کے لیے سرکاری گاڑیاں مہیا کی جاتی ہیں، ان کو یہ موقع فراہم کیا جائے گا کہ پہلے سے ان کے زیر استعمال گاڑیاں خریدنے کا پہلا حق ان کا ہو گا۔ ان گاڑیوں کی فروخت کے لیے یہ قواعد و ضوابط بنائے گئے تھے کہ فروخت کی گئی گاڑیوں کی قیمت ماہانہ قسط کی شکل میں انہیں خریدنے والے افسران کی تنخواہ سے ان کی ریٹائرمنٹ سے قبل وصول کی جائے گی۔ فروخت کے بعد جب سرکاری گاڑی خریدنے والے افسر کی ذاتی ملکیت بن جائے گی تو وہ اس پر سرکاری گاڑیوں کے لیے مخصوص سبز رنگ کی نمبر پلیٹ لگانے کا مجاز نہیں ہو گا۔ گاڑیاں خریدنے والے افسران کو ٹرانسفر فیس سمیت دیگر تمام ٹیکس اور ڈیوٹیاں خود ادا کرنا ہونگی۔ اعلیٰ افسران کو سرکاری گاڑیوں کے ساتھ ڈرائیور بھی فراہم کیا جاتا ہے جو سرکاری ملازم کے طور پر خزانے سے تنخواہ وصول کرتا ہے۔ مونٹائزیشن پالیسی کے تحت افسران کو اپنے خرچ پر ڈرائیور رکھنے کا پابند کیا گیا تھا۔ ان افسران کو یہ پیشکش کی گئی ہے کہ اگر وہ سرکاری ملازمت میں پہلے سے موجود ڈرائیوروں کی خدمات حاصل کرنا چاہیں تو ان ڈرائیوروں کی تنخواہ کی مد میں ان کے الاؤنس سے 10000 روپے ماہانہ کٹوتی کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ سرکاری ملازمت کے لیے نئے ڈرائیوروں کی بھرتی
پر بھی پاپندی عائد کرنے کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کی دوسری پالیسیوں کی طرح ’’مونٹائزیشن آف ٹرانسپورٹ فیسلٹی‘‘ پالیسی پر بھی اس قدر بے جا تنقید کی گئی تھی کہ اس پر عمل درآمد ممکن نہ ہو سکا۔ اس کے علاوہ اعلیٰ سرکاری افسران نے بھی اسے ناپسند کرتے ہوئے بُری طرح ناکام بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔
یہ پالیسی کس حد تک جائز تھی، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پرائیویٹ سیکٹر میں موجود کئی منافع بخش ادارے اور بنک ایسے ہیں، جنہوں نے اپنے افسران اور عملے کے استعمال کے لیے گاڑیوں کا ذاتی بیڑا نہیں رکھا ہوا بلکہ وہ کسی دوسرے ادارے سے معاہدے کے تحت کرائے پر گاڑیاں حاصل کر کے اپنی سفری ضروریات پوری کرتے ہیں۔ ایسے پرائیویٹ ادارے اپنے سٹاف کی سفری ضرورتوں کے لیے نئی گاڑی کرایہ پر حاصل کرنے کا معاہدہ ایک سال سے زیادہ عرصہ کے لیے نہیں کرتے اور اس عرصہ کے دوران وہ صرف گاڑی کا کرایہ ادا کرتے ہیں۔ وہ گاڑی کے پٹرول، مرمت، ٹوکن ٹیکس پرزوں کی تبدیلی یا ایکسیڈنٹ کی صورت میں نقصان کے ذمہ دار نہیں ہوتے، بلکہ اس قسم کے تمام اخراجات گاڑی کا مالک ادارہ برداشت کرتا ہے۔
یاد رہے کہ ہر سرکاری گاڑی کے پٹرول، ٹوکن ٹیکس، پرزورں کی تبدیلی اور دیگر اخراجات کی مد میں 6 سے10 لاکھ روپے تک سالانہ خرچ ہوتے ہیں۔ ان گاڑیوں کی عمر 6 سال تک ہوتی ہے۔ اس عرصہ کے ختم ہونے پر یا اس سے پہلے ہی مجاز افسر کو نئی گاڑی فراہم کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر ان تمام اخراجات کو کل ملا کر دیکھا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ سرکاری افسران کو خریدی ہوئی گاڑیاں دے کر اور ان گاڑیوں پر سالانہ خرچہ کرنے کے بجائے سفری سہولتوں کے لیے انہیں ماہانہ الاؤنس دینے کی ’’مونٹائزیشن آف ٹرانسپورٹ فیسلٹی‘‘ پالیسی گھاٹے کا نہیں بلکہ فائدے کا سودا تھا کیونکہ تقریباً اسی قسم کی پالیسی منافع کمانے والے پرائیویٹ مالیاتی اداروں نے بھی اپنا رکھی ہے۔ موجودہ حکومت اگر چاہے تو قومی بچت اور کفایت شعاری کی اس پالیسی پر از سرنو غور کر سکتی ہے۔