23 ستمبر 2018

سخنِ کرپشن سخنِ کرپشن

معزز سامعین!  آج کل کرپشن کا دور دورہ ہے۔ نوید ہے کہ نئی حکومت اس خرابی کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکنے کا تہیہ کر چکی ہے۔ اگر ایسا ہو گیا تو یہ سرزمیں واقعی جنت نشاں بن جائے گی۔ اس سلسلے میں ہم نے اپنے فکاہی ادب کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ:
یوں تو پہلے بھی تھی، کامن کبھی ایسی تو نہ تھی
ملک پورے میں کرپشن کبھی ایسی تو نہ تھی
کر دیا اہلِ سیاست نے کباڑا اس کا
جیسی اب ہے میری نیشن، کبھی ایسی تو نہ تھی
صاحبو! فکاہی ادب کا جائزہ لیتے لیتے پتہ چلا کہ طنز و مزاح کے اوّلین شاعر جعفر زٹلی تھے جو اپنے دور کے بہت بڑے نقاد اور طنّاز تھے۔ اگرچہ رنگین مزاج اور فحش گو شاعر تھے لیکن زبان و بیاں پر ایسی قدرت رکھتے تھے کہ شعر میں جان پڑ جاتی اور حقیقت خود بخود آشکار ہونے لگتی۔ ان کی شاعری میں ہجو کے پس منظر میں ’سچ‘ ہوتا تھا، نڈر انسان تھے اور کسی کو خاطر میں نہ لاتے تھے حتیٰ کہ بادشاہِ وقت فرخ سیّر پر ایک کھرا شعر کہہ دیا اور گردن زدنی قرار پائے گئے۔ ہوا کچھ یوں کہ مغل بادشاہ نے اشیاء خورد و نوش پر محصول وغیرہ لگا دیا تھا جس سے عوام الناس پریشان ہو گئے۔ ایسے حالات میں جعفر زٹلی کیوں کر چپ رہ سکتے تھے۔ انہوں نے فی الفور مغل فرمانروا فرخ سیّر کے بارے میں مندرجہ ذیل شعر لکھا جو بہت جلد زبان زدِ خاص و عام ہو گیا۔
سِکّہ زَد بر گندم و موٹھ و مَٹر
پادشاہے تسمہ کش فرخ سیّر
مغل بادشاہ کو یہ سخن ناگوار گزرا۔ چنانچہ اُس نے سخنور کو موت کی سزا سنا دی اور یوں مرزا جعفر زٹلی اُردو ادب کے پہلے ’’شہیدِ ظرافت‘‘ قرار پائے۔
صاحبو! حال ہی میںاسلام آباد میں ادیبوں شاعروں کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہمارے ایک سماجی رہنما نے فرمایا کہ کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا وقت آ گیا ہے۔ ہمارے اہل قلم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی تحریروں اور شاعری میں اس بُرائی کی نشاندہی کریں اور اِس کو ختم کرنے میں معاشرے کی رہنمائی کریں۔
صاحبو! سب سے پہلے تو میرا ذہن کلاسیکی شعراء کی طرف پلٹ گیا۔ پتہ چلا کہ پرانے دور میں کرپشن نہیں تھی یا اتنی کم تھی کہ ہمارے شاعروں نے اسے قابل توجہ ہی نہیںگردانا۔ البتہ جعفر زٹلی، نظیراکبرآبادی اور حاجی لَق لَق کے ہاں کہیں کہیں ضمنی طور پر اس کا ذکر آتا ہے۔ حاجی لَق لَق کے ہاں اس موضوع پر کئی شعر مل جاتے ہیں۔ مثلاً:
زندگی کا ایک مقصد لیڈری کرنا بھی ہے
چندہ کھا کر قوم کی اُلفت کا دَم بھرنا بھی ہے
ملک پر جاں دینا، لفظی طور پر مرنا بھی ہے
اِس پہ مردہ باد کے نعروں سے کچھ ڈرنا بھی ہے
قارئین! اکبر الٰہ آبادی کے ہاں انگریزی عہد کی بدعنوانیاں کھل کر سامنے آئیں۔ اکبر کا دور قدیم و جدید کی آمیزش اور مشرق و مغرب کی متضاد تہذیبی قدروں کے تصادم کا زمانہ تھا۔ چنانچہ انہوں نے بے راہ روی کی شکار ہر سماجی روش اور شخصیت کو ہدف ملامت بنایا۔ انہوں نے شاعری میں کرپشن کا لفظ تو استعمال نہیں کیا لیکن اس کے اثرات کو شاعرانہ انداز میںاجاگر کیا۔ مثلاً:
شیطان نے ترکیبِ تنزل یہ نکالی
اِن لوگوں کو تم شوق ترقی کا دِلا دو
O
بابو ہمیں نِگل گئے اِس عہد میں تو خیر
رہنا پڑا ہے نبیوں کو مچھلی کے پیٹ میں
قارئین! قیامِ پاکستان کے بعد طنز و مزاح کے بڑے شاعر مجید لاہوری تھے جنہوں نے شاعری کے ذریعے سینکڑوں اشعار میں رشوت، سفارش اور بدعنوانیوںپر کڑی تنقید کی ہے۔ دو تین مثالیں دیکھئے:
نوٹ ہاتھوں میں وہ رشوت کے، لیے پھرتے ہیں
کوئی پوچھے کہ یہ کیا ہے تو چھپائے نہ بنے
خدا کے واسطے مجھ کو منسٹری دے دو
مرا مزاج لڑکپن سے لیڈرانہ ہے
صاحبو! مولا ظفر علی خاں کی ساری شاعری طنزیہ اور ہجویہ اشعار پر مشتمل ہے۔ فرنگیوں کی کرپشن کا ذکر جابجا کرتے ہیں۔ مثلاً:
میوہ خوری کے لیے چُننے لگے جب گول میز
رکھ لیے خود مغز، چھلکوں پر ہمیں ٹرخا دیا
سید محمد جعفری بھی کسی سے کم نہیں۔ دیکھئے دفتری کلرک کی کرپشن کا انداز ان دو شعروں میں کس طرح سمو دیا ہے:
لالچ کی مُہر کندہ تھی دل کے نگین پر
ٹی۔ اے وصول کرنے کو اُترا زمین پر
ابلیس راستے میںملا، کچھ سِکھا گیا
اُترا فلک سے تھرڈ میں انٹر لکھا گیا
قارئین! مشہور شاعر مرزا محمود سرحدی نے اپنی تخلیق ’’اندیشۂ شہر‘‘ میں جا بجا رشوت اور سفارش کا ذکر کیا ہے۔ ذرا یہ قطعہ دیکھئے:
حقیقت کی تجھ کو خبر ہی نہیں ہے
نہ جا ان کے ظاہر پہ میرے مربیّ
کمائی سے رشوت کی اکثر بنے ہیں
وہ گھر جن پہ لکھا ہو ’’مِن فضلِ ربی‘‘
صاحبو! حضرت رئیس امروہوی تو قطعہ نگاری اور نظم نگاری میں طنز و مزاح کے ایسے نشتر لگاتے ہیں کہ مریض کراہنے لگتا ہے۔ ان کی مشہور نظم ’کھٹمل نامہ‘ کے آخری دو اشعار ملاحظہ ہوں:
آپ کو تھپکیاں جو دیتے ہیں
آپ کا خون چُوس لیتے ہیں
یعنی حضرت کے لیڈرانِ کرام
سخت خونخوار، سخت خون آشام
قارئین! اردو کے ایک اور مزاح گو شاعر محبوب عزمی تھے۔ انہوں نے ڈاکٹر اقبال کی مشہور نظم ’’شکوہ‘‘ کی پیروڈی کی اور کرپشن کا بطور خاص ذکر کیا ہے۔ نظم کا ایک بند دیکھئے:
آ گیا گر کہیں دفتر میں کوئی بندہ نواز
ہوسِ زر میں گرفتار ہوئی قومِ حجاز
بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے
آئے رشوت کی جو زَد میں تو سبھی ایک ہوئے
معزز قارئین! اب ذرا جدید دور میں آ جائیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہمارے سبھی اہم شعراء نے کرپشن پر کچھ نہ کچھ ضرور کہا ہے۔ ہمارے دائیں بائیں جو کچھ وہ رہا ہے، اس سے صرف نظر تو نہیں کیا جا سکتا۔ عصرِ حاضر میںکرپشن کی مقبولیت کو دیکھ کر انور مسعود یہ کہنے پر مجبور ہو گئے :
کروں گا کیا جو کرپشن میں ہو گیا ناکام
مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا
اور پروفیسر طہٰ خاں کا اندازِ بیاں دیکھئے:
ارضِ پاکستان یہ کہتی ہے رشوت خور سے
شوق سے کھاؤ پیو، پھولو پھلو، آزاد ہو
دونوں ہاتھوں سے سمیٹو حق پہنچتا ہے تمہیں
سب میرے بیٹے ہیں لیکن تم میرا داماد ہو
صاحبو! محقق و شاعر ڈاکٹر انعام الحق جاویدؔ کا کرپشن کے حوالے سے یہ خوبصورت قطعہ دیکھئے:
گھر میں آ کر کھیلو کودو، دفتر میںآرام کرو
جھوٹ کے کاروبار کو جتنا کر سکتے ہو عام کرو
عزت اور توقیر سے رہنا چاہتے ہو تو چُپکے سے
رشوت دے کر کام کراؤ، رشوت لے کر کام کرو
اور پھر نوجوان شاعر محمد عارف نے ٹھیکوں کے بارے میں کیا خوب کہا  ہے:
جی ٹی کو ’’مال ‘‘ بنانا تھا جس نے
جی ٹی روڈ سے مال بنا کر چلا گیا
قارئین! میں اپنی بات اپنے ہی شعر پر ختم کر کے اجازت چاہوں گا:
مسلسل ڈَس رہا ہے وائرس ہم کو ’’کرپشن‘‘ کا
مگر اس روگ کو کب اپنے چارہ گر سمجھتے ہیں!