22 ستمبر 2018
تازہ ترین

سب کا کپتان سب کا کپتان

کرکٹ کے میدان سے سیاست کے میدان اور سیاسی میدان سے وزارت عظمیٰ کے منصب تک عمران خان نے بڑے نشیب و فراز دیکھے، دونوں بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کو حکومت چلاتے اور گرتے بھی دیکھا اور دونوں جماعتوں کی گراوٹ کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بھی جانچا کہ ان دونوں بڑی جماعتوں کے ٹیم ورک میں کہاں اور کیا نقائص موجود ہیں اور یہ بھی کہ ان دونوں جماعتوں کو جب بھی اقتدار سے نکالا گیا تو ان پر الزامات کیا اورکیونکر تھے؟ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کوئی بھی پاکستانی حکومت اس وقت تک کامیابی کی منازل طے نہیں کرسکتی کہ جب تک ریاست کے تمام ادارے اس کے شانہ بشانہ کھڑے نہ ہوں۔ مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی اپنے دورِ اقتدار میں کبھی تو عدلیہ سے الجھتے نظر آئے تو کبھی اسٹیبلشمنٹ کو شک کی نگاہ سے دیکھا، یہ تمام تر صورتحال پہلے سے عمران خان کے ذہن میں تھی اور اسے پتا تھا کہ اقتدا ر ملنے کے بعد اس نے ملک کو کس طرح درست سمت پر لے جانا ہے۔ اس کے قریبی رفقاء اور زمانہ شناس لوگ یہ جانتے ہیں کہ عمران خان مشاورت کے بہت شوقین ہیں ہر ایک کی بات بڑے انہماک سے سنتے ہیںمگر آخر میںفیصلہ وہ اپنی مرضی سے ہی کرتے ہیں۔ یوں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کی اپنی جماعت پر مکمل گرفت ہے جسے اقتدار میں آنے کے بعد بھی قائم رکھنا انتہائی اہم ہو گا۔
اقتدار سنبھالتے ہی عین ممکن ہے کہ ان کی حکومت میں موجود بعض سیاسی پنڈتوںنے عمران خان کو مشورہ دیا ہو کہ آپ کا حکومت کے ابتدائی دنوں میں ہی جنرل ہیڈ کوارٹر جانا مناسب نہیں، آپ کے وہاں جانے سے یہ تاثر پیدا ہوگا کہ سول حکومت اسٹیبلشمنٹ کے تابع ہے ۔سیاسی حریف اس پر خوب واویلا کریں گے ،مگر عمران خان کا سپاٹ چہرہ اور اس پر سنجیدگی کے آثار یہ بتاتے ہیں کہ اسے اندازہ ہے کہ ملک کو اندرونی و بیرونی محاذ پر کن چیلنجز کا سامنا ہے ۔افواج پاکستان کے جوانوں اور افسران نے ملک میں دہشت گردی کے خلاف جنگ اور امن کے قیام کے لیے کیا قربانیاں دے رکھی ہیں اسے پتا ہے کہ اس ملک نے80ہزار شہدا  کے جنازے اٹھائے ہیں جن میں افواج پاکستان، پولیس، فرنٹیرز کانسٹیبلری کے جوان و افسران اور عام شہری بھی شامل ہیں۔ اسے ادراک ہے کہ دہشت گردی کی جنگ میں ملک کو اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اسے پتا ہے کہ ملک کے شمالی علاقوں میں امن کے لیے عسکری اداروں نے کن مشکلات میں ٹارگٹ کو مکمل کیا اور بلوچستان کو کس طرح سے بین الاقوامی قوتوں کی شر انگیزیوں سے محفوظ رکھنا ہے اسے یہ بھی پتا ہے کہ جب تک افغانستان بارڈر پر لگائی گئی باڑ مکمل نہیں ہوتی بیرونی سرحدوں سے آنے والے شر پسندوں کو روکا نہیں 
جا سکتا۔ اسے اندازہ ہے کہ بین الاقوامی قوتیں پاکستان کو کمزور کرنے کے لیے کن منصوبوں پر عمل پیرا ہیں اور کون ان کا آلہ کار بن رہا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ملک کی جغرافیائی سرحدوں کو محفوظ رکھنے کے لیے افواج پاکستان کو کن وسائل کی ضرورت ہے اس کے لیے صرف سول حکومت ہی کافی نہیں اسے ریاست کے تمام سٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلنا ہے اسے بھرپور اندازہ ہے کہ اسے سابقہ حکمرانوں کی روش پر نہیں چلنا جنہوں نے اپنے ہی اداروں کو بد نام کرنے کے لیے دشمن قوتوں سے ساز باز کر رکھی تھی اور ملک دشمن عنامر سے ایسی ملاقاتیں بھی کیں جن سے آج تک ملک کے مقتدر حلقوں کو لاعلم رکھا گیا اسے پتا ہے کہ سابقہ حکمرانوں کی کرپشن نے ملک کو اقتصادی طور پر کھوکھلا کر دیا ہے۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ ملک کے تمام ستون یکجا اور یک زبان ہوں گے تو ہی ملک کے اندرونی اور بیرونی دشمنوں کو شکست دی جا سکتی ہے اور کپتان جب فیصلہ کر لیتا ہے تو پھر اس پر عملدرآمد بھی کر گزرتا ہے۔ 
پاکستان اور بیرونی ممالک نے دیکھا کہ وزیراعظم عمران خان اپنی ٹیم کے بہترین کھلاڑیوں کو لیکر جی ایچ کیو پہنچے تو وہاں پر موجود ہماری جغرافیائی سرحدوں کے محافظوں نے چار قدم آگے بڑھ کر اور بانہیں کھول کر اپنے وزیراعظم کا استقبال کیا اور انہیں اپنی صدارتی کرسی پر بٹھا کر ان کی عزت میں چار چاند لگا دیے۔ ان میں کئی ایسے جرنیل بھی موجود تھے جو بحیثیت لیفٹیننٹ اور کیپٹن اپنی چھاؤنی یا اکیڈمی میں بیٹھ کر بھارت کیخلاف عمران خان کی ٹیم کو کرکٹ میچ کھیلتے دیکھتے اور ان کی ہر کامیابی پر خوشی سے پھولے نہ سماتے تھے۔ ماضی میں کرکٹ کے ہیرو وزیراعظم کی صورت میں جب ان کے گھر جی ایچ کیو میں پہنچے تو سلیوٹ اور مصافحہ کرتے ہوئے ان جرنیلوں کے چہروں پر اپناپن اور خوشی دیدنی تھی دیکھنے والوں نے یہ بھی دیکھا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار آرمی چیف نے جی ایچ کیو میں کسی بھی وزیر اعظم سے مخصوص سٹک کے بغیر ملاقات کی جنرل کیانی، نواز شریف ملاقات ہو، جنرل راحیل شریف کی نواز شریف سے ملاقات، جنرل قمر جاوید باجوہ سے نوازشریف سے ملاقات یا جنرل قمر جاوید باجوہ سے شاہد خاقان عباسی کی ملاقات، ان سب ملاقاتوں میں آرمی چیف نے وزیر اعظم سے ملاقات کے وقت سٹک ہاتھ میں پکڑ رکھی تھی۔ گو بعض حلقوں کی طرف سے نئے وزیر اعظم اور آرمی چیف ملاقات میں سٹک کے ہونے یا نہ ہونے کو زیادہ اہم قرار نہیں دیا جا رہا، تاہم سوشل میڈیا میں کپتان کے چاہنے والے اسے بہت زیادہ اہمیت دے رہے ہیں کہ سول حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلے دن سے ہی ہم آہنگی پائی جاتی ہے اور دونوں سٹیک ہولڈرز ایک پیج پر ہیں۔ آرمی چیف کی باڈی لینگوئج، وزیراعظم سے ملنے کا انداز اور خوشگوار ماحول اس بات کی غما زی کر تا ہے کہ وہ نئی حکومت سے بھرپور تعاون کا ارادہ رکھتے ہیں۔ آج تک کسی بھی حکومتی سربراہ کو یہ عزت و تکریم اور پذیرائی نہیں ملی جو عمران خان کو جی ایچ کیو میں دی گئی، یہ نشست جو آٹھ گھنٹوں تک محیط تھی اس کے پاکستان کی سیاست اور طرز حکمرانی میں دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔
پچھلی چند دہائیوں میں سول بیوروکریسی جو سیاست کا لبادہ اوڑھ چکی تھی اور جو کئی سال سے ماضی کی حکومتوں اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مبینہ ٹکراؤ میں ’’چوہدری‘‘ کی صورت اختیار کر 
چکی تھی اور اس ٹکراؤ سے اپنے قانونی اور غیر قانونی مفادات کو تحفظ دیتی تھی۔ آج وہ یہ بات سوچنے پر مجبور ہے کہ اب ان کی بات بنتے نظر نہیں آتی۔ حکومت کے سیاسی حریفوں کو نیچا دکھانے اور انہیں ٹف ٹائم دے کر حکمرانوں کو خوش کرنے کے بجائے اب کام کرنا ہو گا۔ نئی حکومت کا یہ اقدام بڑا حوصلہ افزا ہے کہ سول بیورو کریسی میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ اور بڑے بڑے جغادری افسران کی بھی چھوٹے صوبوں میں تعیناتی کی جا رہی ہے۔ بیورو کریسی سے اسی انداز سے کام لینے کی ضرورت ہے جیسا کہ قائد اعظمؒ نے پاکستان بننے کے بعد سول بیوروکریسی سے اپنے پہلے خطاب میں اظہار کیا تھا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ احتساب کرنیوالے اداروں کو مزید اختیارات دینا ہوں گے۔ اپنی خارجہ پالیسی کے ذریعے پاکستان کو خود مختار اور باوقار ملک کے طور پر سامنے لانا ہو گا۔ بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک سے اپنی عزت نفس کو مجروح کیے بغیر معاملات کو آگے بڑھانا ہو گا۔ امریکا کے ساتھ دو دو ٹوک الفاظ میں برابری کی سطح پر تعلقات کو فروغ دینا ہو گا۔ پاکستانی قوم عمران خان سے یہ امید رکھتی ہے کہ جس طرح اس نے کھیل کے میدانوں میں پاکستان کا نام بلند کیا تھا اسی طرح اقتدار کے ایوانوں میں بھی بیٹھ کر وہ ملک اور قوم کی ترقی و خوش حالی کیلئے کامیابیاں سمیٹے گا کیونکہ اب وہ کرکٹ ٹیم اور پی ٹی آئی کا کپتان ہی نہیں پورے ملک کا کپتان ہے اور تمام ادارے بھی اُس کی ٹیم کا حصہ ہیں۔
بقیہ: خدائیاں