21 نومبر 2018
تازہ ترین

سب غدار ہیں؟ سب غدار ہیں؟

آپ نے وہ لطیفہ سن رکھا ہو گا جب لاہور سے قبل از تقسیم ہند نکلنے والے ایک اخبار ’’روزنامہ پرتاب‘‘ نے خبر لگائی۔ سب مسلمان کافر  ہیں۔ ظاہر ہے اس پر غصہ تو آنا ہی تھا اس لیے بھی کہ یہ کافر یعنی ہندو اخبار بھی تھا۔ مسلمانوں نے ایڈیٹر کو عدالت میں گھسیٹا، جس نے اس خبر کو own کیا اور عدالت سے درخواست کی کہ وہ مسلمانوں کے بڑے مکاتب فکر کے علماء کو الگ الگ عدالت میں بلائیں۔ قصہ مختصر اس نے بڑی ہوشیاری سے ہر مکتبِ فکر کے عالم سے دوسرے کے خلاف کفر کا اقرار کرا لیا اور مسلمانوں نے اپنی سادہ لوحی میں اس پر صاد بھی کر دیا۔ اس پر لالہ جی نے عدالت سے کہا کہ وہ کون ہوتے ہیں، مسلمانوں کو کافر کہنے والے۔ انہوں نے تو مسلم علماء کی بات ہی آگے بڑھائی ہے۔
آپ کو ایسے بہت سے واقعات پڑھنے سننے کو ملتے ہوں گے۔ تاریخ شاہد ہے کہ اگر ایک لاکھ مسلمان شہید ہوئے تو ان میں سے نصف سے زیادہ آپس ہی میں لڑ کر مارے گئے۔ دور کیا جائیے عراق، لیبیا، شام، افغانستان کس کس کی مثال دی جائے، ہر جگہ آپ کو مسلمان ہی ایک دوسرے کے خلاف لڑتے دکھائی دیں گے۔ یمن اور سعودی عرب کے درمیان جنگ نے پہلی مرتبہ سعودی عرب جیسی مضبوط معیشت کی حامل حکومت کے بھی گھٹنے زمین سے لگا دیے ہیں۔ جس کا اظہار بھلے حکومت نہ کرے لیکن ساری دنیا یہ تماشا دیکھ رہی ہے۔ وجہ خاشقجی کا قتل ہو یا کچھ اور، سعودی بادشاہت کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔پاکستان نے کس جذبہ سے 50لاکھ افغانی مسلمانوں کی مہمانداری کی۔ کل کی بات ہے۔ لیکن آج ہم افغانستان کا کتنا بھیانک روپ دیکھ رہے ہیں؟ مولانا سمیع الحق کے قتل پر افغانستان میں جو جشن منایا گیا اور اس حوالے سے پاکستان کو جس طرح سب و شتم کیا گیا، اس کا نظارہ آپ نے سوشل میڈیا پر کیا ہو گا۔ مولانا کا جرم صرف یہ ہے کہ ان کے مدرسے میں افغانستان کے ان علماء نے تعلیم حاصل کی ہے جو اب افغانستان میں جہاد کر رہے ہیں۔ ایک طرف امریکا ہے جو مولانا مرحوم کے ذریعہ طالبان سے بات چیت کا خواہش مند ہے دوسری طرف افغان حکومت جو انہیں فساد کی جڑ سمجھتی ہے۔
یہ تضاد فکری کیوں ہے؟ کبھی ہم نے ٹھنڈے دل سے اس پر غور کیا؟ وہ امریکا جس نے جہاد کے نام پر اس خطے میں دنیا کے سب سے بڑے فساد کی بنیاد رکھی۔ لاکھوں مسلمان ایک دوسرے کے ہاتھوں مروائے۔ جب اپنا مقصد یعنی روس کی شکست و ریخت حاصل کر لیا تو اپنی نرسری میں پلنے والے مجاہدین کو دہشت گرد قرار دے کر یہاں سے رخصت ہوا۔ دوبارہ واپس لوٹا تو تادم تحریر ان ہی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔امریکا نے اپنا نقطہ نظر کتنی تیزی سے تبدیل کیا۔ اس پر سوائے مجھ ایسے گھسے پٹے کالم نگاروں کے اور کسی نے کم ہی چیخ و پکار کی  ہو گی۔ گو کہ کبھی کبھی باسی کڑھی میں اُبال آتا ہے اور ہمارا کوئی سرکاری عہدے دار امریکا کو یہ بات یاد دلانے کی کوشش کرتا ہے لیکن امریکی اس پر شرمندہ ہوتے ہیں نہ ہی کسی اور کی صحت پر کچھ اثر پڑتا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ کیا صرف امریکا کا عالمی فوجی قوت ہونا؟ یا کچھ اور؟
میرے مطابق اس کی وجہ امریکیوں کا دماغ کا جائز استعمال ہے۔ ہم اپنے دماغ کو چونکہ زحمت ہی نہیں دیتے اس لیے یہاں شیطان اپنے ڈیرے لگائے رکھتا ہے۔ میں بہت ڈرتے ڈرتے لکھ رہا ہوں کہ گزشتہ دنوں ہم جس تباہ کن صورت سے دو چار رہے اس کی ذمہ دار ایک مذہبی سیاسی جماعت ہے۔ جس کے ایک لیڈر جمعرات کو جاری کی گئی ایک وڈیو پر بڑے جوش و خروش سے اپنے کارناموں کی تفصیل بیان کر رہے تھے کہ ان کے عاشقان نے پورے پاکستان کو کس طرح مفلوج کر کے اپنے قدموں پر جھکا لیا ہے۔ وہ بڑے ٖفخریہ انداز میں بڑی تفصیل سے بیان فرما رہے تھے کہ فلاں سڑک کو فلاں جگہ سے انہوں نے بند کیا ہے اور اس وقت سارا پاکستان مفلوج ہو چکا ہے۔ ان کے اردگرد موجود  عاشقان ان کی ہر کامیاب کارروائی پر پوری شدت سے نعرے بلند کر رہے تھے۔
میں خوفزدہ ہو کر یہ سوچ رہا تھا کہ یہ کلپ پاکستان کی ہر دشمن ایجنسی کے پاس محفوظ ہو چکا ہے۔ خصوصاً انڈیا اور افغانستان کے پاس۔ وہ پاکستان کو دہشت گردی کے لیے جام کرنے کے منصوبوں پر جانے کتنے لاکھوں ڈالر خرچ کرتے ہیں۔ ان محترم مولانا صاحب کے اس اعلان فتح سے انہیں یقیناً بہت راہنمائی ملے گی اور اللہ نہ کرے ہمیں اس کا عملی مظاہرہ بھی دیکھنے کو ملے۔ خدا جانے کس منت سماجت سے حکومت نے بند راستے کھلوائے ہوں گے۔ کس طرح ان معاملات پر مٹی ڈالی ہو گی، لیکن ہمارے ’’ماہرین‘‘ اب تک جلتی پر تیل ڈالنے میں مصروف ہیں۔ اپنے اپنے عالی دماغوں سے ایسی ایسی دلیلیں ڈھونڈ رہے ہیں جن سے یہ ثابت کیا جا سکے کہ جو کچھ ہوا اور آئندہ بھی ہو گا، وہ جائز تھا اور حکومت اگر تخریب کار عناصر کے خلاف کوئی کارروائی کرے گی تو اسے دوبارہ بھی رگڑا لگایا جا سکتا ہے۔
اپنے دماغوں کا استعمال اگر ہم نے ماضی میں کیا ہوتا تو عین ممکن ہے آج ہم ڈھنگ سے سوچنے کے قابل ہو گئے ہوتے۔