20 نومبر 2018
تازہ ترین

سب ادارے آئین کو پیر و مرشد مان لیں! سب ادارے آئین کو پیر و مرشد مان لیں!

جب سے مجھ میں آن بسا ہے
دُکھ نے سُکھ کا سانس لیا ہے
سانسیں گروی رکھ آیا تھا
جان… گئی تو قرض چکا ہے
پھول نہیں… تم چہرہ دیکھو
یار… یہ پہلی بار کھلا ہے
(صغیر انور)
ملک میں آئین اور ذات کی لڑائی ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ تین دہائیوں سے تو میں دیکھ رہا ہوں۔ انتظامیہ عدلیہ سے اور عدلیہ انتظامیہ سے مسلسل ’’ٹونٹی ٹونٹی‘‘ کھیل رہی ہے۔ رہ گئی ’’بی بی‘‘ پارلیمنٹ، اسے تو کوئی مقام ہی دینے پر تیار نہیں ہے۔ یہ لولی لنگڑی اگر چلی ہے تو وہ محترمہ بینظیر بھٹو کے دو ادوار میں چلی ہے، وگرنہ اسے ’’ربڑ سٹمپ‘‘ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ ’’ڈبیٹنگ کلب‘‘ بنا دیا گیا ہے۔ کھلاڑیوں کو بھی دیکھ لیں گے، وہ اس کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ جمعرات کو سینیٹ وہ پرانا منظر پیش کر رہا تھا، ایک وزیر ہاؤس میں نہیں تھا۔ مسئلہ چھوٹی یا بڑی کابینہ کا نہیں کارکردگی کا ہے، جس چیز کی آئین اجازت دیتا ہے، اسے کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ پارلیمنٹ کا 10فیصد کابینہ ہو سکتی ہے۔ پھر کیا مسئلہ ہے۔ پارلیمنٹ آئین کو عزت نہیں دے گی تو ایسے ہی تنقید کا شکار رہے گی۔
افتخار چودھری عدلیہ اور انتظامیہ کو ایک دوسرے کے سامنے کھڑے کرنے کے سب سے بڑے ملزم ہیں، پہلے سجاد علی شاہ تھے۔ اس وقت انتظامیہ کا داؤ چل گیا تھا۔ برادر ججز نے ایک دوسرے کا ساتھ نہیں دیا۔ رفیق تارڑ اور خلیل الرحمٰن خان کا کردار سب آشکار ہو چکا ہے، نسیم حسن شاہ کے حوالے بھی اب چھپے ہوئے نہیں رہے۔ پھر افتخار چودھری کیسے بنے؟ جسٹس شیر افگن سے ان کا قضیہ سب کو پتا تھا۔ اسی لیے ان کی برطرفی کیس میں وہ پہلے ہی روز الگ ہو گئے تھے اور بنچ ٹوٹ گیا۔ عدلیہ بحالی تحریک میں سب استعمال ہو گئے۔ ایک وہ لوگ تھے جنہیں سکرپٹ کا پتا تھا۔ مبینہ طور پر امریکا اور جنرل کیانی مل کر کیا کھیل، کھیل رہے تھے۔ وہ پرویز مشرف کو کمزور کرنا چاہتے تھے۔ افتخار چودھری مستعفی ہونا چاہتے تھے، گورنر بلوچستان کی خواہش رکھتے تھے مگرجنرل کیانی نے نماز جمعہ میں اسی روز ان کا ہاتھ دبا کر انہیں ’’بیعت‘‘ کر لیا۔ وہ ڈٹ گئے، مرشد کامل تھا۔ میری اس موضوع پر اعتزاز 
احسن سے بات نہیں ہوئی مگر مجھے یقین ہے کہ اعتزاز احسن کو بھی پورے سکرپٹ کا پتا تھا۔ وہ بینظیر بھٹو کا راستہ ہموار کر رہے تھے، اسی لیے انہوں نے طارق عزیز معتمد خاص کی وزیراعظم بننے کی آفر قبول نہیں کی۔ وہ جان سے جانے کی مبینہ دھمکی کو بھی پی گئے۔ انہیں ’’تحفظ‘‘ کی گارنٹی تھی۔ اعتزاز این آر او لے کر دینے میں راستہ ہموار کرتے چلے گئے، بینظیر آ گئیں۔ انہوں نے بھی افتخار چودھری کو اپنا چیف جسٹس تسلیم کر لیا، پھر وہ دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ گیم اعتزاز احسن کے ہاتھ سے نکل گئی۔
 بابر اعوان، لطیف کھوسہ، فاروق نائیک اور پرویز اشرف نے انہیں اور امین فہیم کو خوب شکار کیا۔ شیری رحمٰن بھی اسی ٹیم کا حصہ تھیں۔ آصف زرداری اقتدار میں آ گئے، وہ مشرف کی حمایت یافتہ عدلیہ کا حصہ بن گئے، مگر انہوں نے انتہائی چالاکی سے فقیر محمد کھوکھر کے بجائے ڈوگر کو چیف جسٹس بنوا دیا۔ نوازشریف سے عدلیہ بحالی کا معاہدہ بھی کر لیا۔ آصف زرداری اس سے قبل ایک معاہدہ عدلیہ بحال نہ کرنے کا جنرل مشرف سے بھی کر چکے تھے، اس کے گارنٹیئرز ڈک چینی، ٹونی بلیئر اور کچھ عرب دوست بھی تھے۔ میں نے یہ خبر بریک کی تھی، الشرق اخبار اس وقت دوبئی اور کراچی سے چھپتا تھا۔ میرا سورس بریگیڈیئر نیاز مرحوم تھے۔ پرویز مشرف نے گارنٹیئرز کو کہا کہ ججز بحالی، آصف زرداری کا لٹمس ٹیسٹ ہے۔ میں نے اس خبر کی تصدیق 
اعتزاز احسن سے چاہی تو انہوں نے مجھے مسکراتے ہوئے کہا کہ اس خبر کی تردید ہے نہ تصدیق ہے، کچھ بہرحال ایسی اطلاعات ہیں۔ میں نے ایک اور ذریعہ سے تصدیق کے بعد خبر دی، پھر کیا تھا بھونچال آ گیا۔ ہوا وہی کہ آصف زرداری ’’لٹمس ٹیسٹ‘‘ میں کامیاب ہو گئے۔ یہاں پر نیا گیم شروع ہوا، زرداری کو روکو، اس کی حکومت میں روڑے اٹکاؤ۔ دوسری طرف زرداری نے نوازشریف کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا اور کہا کہ وہ خود صدر بننا چاہتا ہے۔ پرویز مشرف کو ہٹانے میں (ن)لیگ ان کی مدد کرے۔ نوازشریف کو مواخذے کی تجویز دی گئی۔ نوازشریف کا دشمن نمبر ون، پرویز مشرف تھا۔ 
پرویز مشرف نے آصف زرداری کے صدر بننے کی خواہش کو قبل از وقت ہی نوازشریف کو پہنچایا۔ جنرل نصرت نعیم نے خواجہ آصف کے ذریعے پیغام دیا، آصف زرداری کا راستہ روکنا ہو گا۔ مشرف اور نوازشریف کی دوستی کرانے کا عندیہ بھی دیا گیا۔ 1990ء کی دہائی کی سیاست دوہرانے کے دعوے بھی کیے گئے، نوازشریف اپنے زخم بھلانے کو تیار نہ تھے۔ انہوں نے اس کے باوجود کہ انہیں پتا تھا آصف زرداری ججز بحال نہیں کرے گا، آصف زرداری سے بغضِِ مشرف میں ایک اور معاہدہ کر لیا۔ میں نے چودھری نثار کو کہا کہ ’’مومن‘‘ تو ایک سوراخ سے ایک بار ڈسا جاتا ہے، آپ دوسری بار خود کو ڈسوانے پر تیار ہو گئے۔ وہ ہنس پڑے اور کہا کہ وعدہ پاسداری کی امید رکھیں۔ پھر وہی ہوا، مشرف کف افسوس ملتے رہ گئے۔ کاش وہ فقیر محمد کھوکھر کو چیف جسٹس بنا دیتے مگر اس وقت تک چڑیاں کھیت چُگ چکی تھیں مگر فوج نے پرویز مشرف کا پھر بھی باعزت معاہدہ کرا دیا۔ انہیں تاحیات آرمی چیف والی سکیورٹی اور پروٹوکول ملے گا، پرویز مشرف کچھ دنوں کے بعد لندن اڑ گئے۔
اب منصوبہ سازوں نے دیکھا کہ آصف زرداری پھر سے زیادہ طاقتور ہو رہا ہے، یہ جنرل کیانی اور نوازشریف دونوں کو سوٹ نہیں کر رہا۔ وکلا کے ناکام مارچ کے بعد دوسرا لانگ مارچ ترتیب دیا گیا۔ اس بار میاں نوازشریف نے ’’پنڈی‘‘ سے ہاتھ ملا لیا۔ آصف 
زرداری برہم تھے، انہوں نے ایک ’’سافٹ‘‘ پیغام نوازشریف کو پہنچا دیا، وہ ڈر گئے۔ لانگ مارچ صبح شروع ہونا تھا یہ لوگ دوپہر تک نہیں نکلے۔ لاہور کے ’’ڈی جی‘‘ نے نوازشریف کو گارنٹی دی، پھر اس نے اپنے ’’باسز‘‘ کو روایتی انگریزی میں رپورٹ دی۔ تحفظ کی گارنٹی کے بعد یہ ’’بہادر اور نڈر‘‘ لوگ ماڈل ٹاؤن سے نکلے۔ آصف زرداری کو سخت پیغام دے دیا گیا تھا۔ رحمٰن ملک کی مخالفت اور مداخلت کی وجہ سے پی پی پی کے اندر نفاق پڑ گیا، رضا ربانی اور شیری رحمٰن اپنے عہدوں سے مستعفی ہو گئے۔ آصف زرداری پر دباؤ بڑھ گیا، وہ لانگ مارچ اور ان کے ماسٹروں کے سامنے گھٹنے ٹیک گئے، ساتھ ہی یہ پیغام بھی دیا گیا کہ گوجرانوالہ سے لانگ مارچ آگے نہ آئے وگرنہ وہ بھی پابند نہیں ہوں گے۔ یہاں آصف زرداری سے بہت بڑی سیاسی غلطی ہو گئی، وہ مولانا فضل الرحمٰن کا مشورہ صرف نظر کر گئے۔ مولانا نے کہا کہ یہ شخص آپ کو چین سے حکومت نہیں کرنے دے گا، آپ کے پاس موقع ہے۔ چارٹر آف ڈیمو کریسی کے مطابق جس جس جج نے ایل ایف او پر حلف لیا ہے اسے آپ فارغ کر دیں، آپ کی افتخار چودھری سے جان چھوٹ جائے گی، (ن) لیگ بھی ہل نہیں سکے گی۔ آصف زرداری کی اس غلطی کی سزا پھر آصف زرداری، ان کی حکومت اور پوری قوم نے بھگتی۔ سب سے بڑے بینی فشری میاں نوازشریف اور ان کی پارٹی ٹھہری۔ افتخار چودھری نے انتظامیہ کو عضو معطل بنا کر رکھ دیا، نوازشریف کالا کوٹ پہن کر سپریم کورٹ جا پہنچے، افتخار چودھری نے انہیں ہر طرح کا ریلیف دیا ’’ٹائم بار اپیل‘‘ سن کر نئی تاریخ رقم کی۔ 
تیسری بار وزارت عظمیٰ سے پابندی کی شق کو شاطر نوازشریف صدارتی انتخاب میں 
پہلے ہی ختم کرا چکے تھے، پورے ملک میں ’’سوموٹو‘‘ کا طوفان برپا ہو گیا۔ گزشتہ نو سال سے کچھ ایسی ہی ملی جلی صورتحال رہی۔ سیاستدان عقل سے عاری فیصلے کرتے رہے، فیصلوں کے پیچھے صرف ذاتی مفادات تھے۔ بیورو کریسی نے بھی خود کو ذات کے خول میں بند کر لیا۔ حکمرانوں کی ذاتی دلچسپی کے علاوہ دیگر کاموں سے وہ صرف نظر کرنے لگی۔ آج 9 سال سے ہم اسی ’’موڈ‘‘ میں ہیں، نون لیگ نے جو گڑھا پیپلز پارٹی کیلئے کھودا تھا، وہ خود اس میں گر گئی۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم کب تک یونہی باہم دست و گریباں رہیں گے؟ اختیارات کی تقسیم کے فارمولے کے تحت ادارے اپنی حدود میں رہیں۔ ہم پوری دنیا میں تماشا بنے ہوئے ہیں۔ آج لوگ سوشل میڈیا پر یہ بھی شور مچا رہے ہیں کہ عدلیہ کس طرف چل نکلی ہے۔ انتہائی معتبر لوگ سوالات اٹھا رہے ہیں کہ عدالتوں میں سولہ لاکھ مقدمات التوا کا شکار ہیں، وکلا کی بدتمیزیاں اور ہنگامے سنبھالے نہیں سنبھل رہے، لوگوں کو انصاف نہیں مل رہا۔ آج وکلا کے جتھوں کے سامنے ججز کانپتے ہیں، لوگ ان کو ’’اتھرے‘‘ بچے کہہ رہے ہیں۔ آج آپ سب کیخلاف شکایات سن رہے ہیں، جوڈیشل کمیشن کے حالات بھی تو دیکھیں، وہاں پر پڑے کیسز کا کیا بنا ہے۔ لوگ سخت پیغامات شیئر کر رہے ہیں، یہ کوئی اچھے آثار نہیں ہیں۔
 ملک میں نئی حکومت آئی ہے، انہیں کام کرنے دیں۔ 184-3 کے حوالے سے پاکستان بار کونسل کے تحفظات ڈھکے چھپے نہیں ہیں، نئے حالات میں عدلیہ کے حوالے سے ہمدردیاں کم ہو رہی ہیں۔ ہم سب کو اپنی حدود و قیود کا خیال رکھنا پڑے گا۔ یہ محض ایک دور یا ٹائم پیریڈ ہوا کرتا ہے، کالا کوٹ ہو یا کالا کمرہ، مہذب معاشروں میں انہیں مادر پدر آزادی نہ ہوتی ہے، نہ دی جا سکتی ہے۔ ہمیں سب کو اپنی چارپائی کے نیچے چھڑی لگانی چاہیے، بہت ہو چکا ہے۔ آئین کو سامنے رکھ کر اپنا محاسبہ کریں اور اپنی حدود کا تعین بھی، قابل احتساب قاضی القضا بھی ہے۔ اسلام اور آئین یہی کہتا ہے۔ انتظامیہ کو کام کرنا ہو گا، پارلیمنٹ کو بھی جاگنا ہو گا، میڈیا بھی خود احتسابی کی عادت ڈال ہی لے، تو بہتر ہے وگرنہ وقت بہت بے رحم ہے، سب کو کچل کر نکل جاتا ہے۔ بہتر ہے کہ جو آوازیں اٹھ رہی ہیں ان کو توجہ سے سنیں، ان پر کان دھریں اور مسئلے کا حل نکالیں۔ دوسروں کی حدود کا احترام کریں۔
باپ بوجھ ڈھوتا تھا کیا جہیز دے پاتا
اس لیے یہ شہزادی آج تک کنواری ہے
کہہ دو میر و غالب سے ہم بھی شعر کہتے ہیں
وہ صدی تمہاری تھی یہ صدی ہماری ہے
(منظر بھوپالی)
بقیہ: محاسبہ