21 ستمبر 2018
تازہ ترین

سادگی اور پسماندگی سادگی اور پسماندگی

وہاں موجود پانچ چھ لوگوں میں سے تقریباً ہر کوئی اسے قابل تحسین عمل قرار دے رہا تھا۔ واہ واہ کرنے کا یہ سلسلہ جاری تھا کہ سینئر دوست اور استاد شیخ کلب علی(مرحوم) بھی وہاں تشریف لے آئے۔ موضوع گفتگو، شیخ صاحب کے سامنے رکھتے ہوئے ان سے بھی رائے مانگی گئی۔ شیخ صاحب نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے نا صرف وہاں قائم ہو چکے اکثریتی نقطہ نظر سے اختلاف کیا بلکہ ایسی توجیہ بھی پیش کی کہ جس سے دیگر حاضرین کو اپنے قیاس پر نظر ثانی کی طرف مائل ہونا پڑا۔ وہاں بات ہو رہی تھی جماعت اسلامی کے جناب سراج الحق کے پشاور تا لاہور سفر کی، جس کے متعلق کہا جا رہا تھا کہ صوبائی وزارت کا قلمدان پاس ہونے کے باوجود سراج صاحب نے ہوائی جہاز کے بجائے عام بس کو آمد ورفت کا ذریعہ بنا کر نا صرف سادگی کی عمدہ مثال قائم کی بلکہ قومی خزانہ کو لاکھوں روپے کا فائدہ بھی پہنچایا۔ مرحوم شیخ کلب علی نے زیادہ سوچ و بچار کیے بغیر دو ٹوک الفاظ میں اپنا خیال یوں بیان کیا کہ یہ ’’سادگی‘‘ نہیں بلکہ ’’پسماندگی‘‘ ہے۔ انہوں نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی ہو یا صوبائی، وزارت کا منصب انتہائی اہم اور ذمہ داریوں سے بھر پور ہوتا ہے۔ آج کے دور میں وزارتی فرائض کی احسن طریقے سے ادائیگی اس وقت تک ممکن ہو ہی نہیں سکتی، جب تک دستیاب وقت کے ہر لمحے کو اس نیت کے ساتھ استعمال کرنے کی کوشش نہ کی جائے کہ گھنٹوں کا کام منٹوں اور منٹوں کا کام سیکنڈوں نمٹایا جانا چاہیے۔ کوئی وزیر منٹوں میں طے ہونے والے ہوائی جہاز کے سفر کا استحقاق رکھنے کے باوجود گھنٹوں تک بس میں طویل اور تھکا دینے والا سفر کرتے ہوئے قیمتی وقت ضائع کر دیتا ہے تو اسے سادگی نہیں بلکہ پسماندگی سمجھا اور کہا جانا چاہیے۔ اس کے بعد شیخ صاحب نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے مہاتما گاندھی کی غیر ضروری سادگی کی مثال پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سادگی کے نام پر مہاتما گاندھی نا صرف غریبوں کی بستی میں رہتے تھے بلکہ ریلوے کے تھرڈ کلاس کے ڈبے میں سفر کیا کرتے تھے۔ ہندوستان کی جدوجہد آزادی میں بھر پور حصہ لینے والی سروجنی نائیڈو نے ایک موقع پر مہاتما گاندھی کے اس سادہ طرز زندگی کے متعلق کہا کہ ان کی یہ سادگی اور غربت ریاست کو بہت مہنگی پڑتی ہے کیونکہ اس بزرگ شخص کو غریب رکھنے کے لیے ریاست کو اس سے زیادہ رقم خرچ کرنا پڑتی ہے جتنی کم رقم انہیں بہتر رہائش اور بہتر سفری سہولتوں کی فراہمی  پر صرف ہو سکتی ہے۔ اس طرح کی باتیں بتانے اور سمجھانے والے شیخ کلب علی اب ہم میں نہیں رہے مگر پسماندگی کو زبردستی سادگی ظاہر کرنے کا سلسلہ یہاں اب بھی جاری ہے۔
موجودہ حکمران یہاں عرصہ دراز تک سادگی کی اپنی من پسند توجیہات پیش کرتے ہوئے یہ باور کراتے اور دعوے کرتے رہے کہ نا صرف وہ اپنے رہن سہن کو سادگی کے اعلیٰ نمونے کے طور پر پیش کریں گے بلکہ اس طرح سے ہونے والی بچت کو عوام کی بہبود پر خرچ کیا جائے گا۔ آج ان کی حکومت قائم ہونے کے بعد ان کے رویوں سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ جو باتیں اور دعوے کیے جاتے رہے وہ محض زبانی جمع خرچ تھا۔ لوگوں کو خوش فہمی میں مبتلا کرنے والی باتوں کے متعلق شاید انہوں نے یہ سوچنا بھی گوارا نہیں کیا تھا کہ انہیں عملی جامہ پہنانا کس حد تک ممکن یا ناممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ابھی تک اپنے دعووں پر عمل کرنے کا کوئی منصوبہ پیش کرنے سے قاصر 
نظر آ رہے ہیں۔ حکمران بننے کے بعد سامنے آنے والے ان کے عمل سابق حکمرانوں کے ان افعال سے کسی طرح بھی مختلف نہیں ہیں، جنہیں وہ دن رات ہدف تنقید بنایا کرتے تھے۔ اقربا پروری کا یہ عالم ہے کہ حکومتی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کے جاگیردارانہ طرز زندگی کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے جن کے ساتھ رشتوں کو کوئی ڈھنگ کا نام بھی نہیں دیا جا سکتا۔ ’’زبردستی کا بول بالا‘‘ کے پاکپتن میں یکے بعد دیگرے جو واقعات رونما ہو چکے ہیں، اس کے بعد شہری کو تشدد کا نشانہ بنانے والے تحریک انصاف کے ایم پی اے عمران شاہ کو ملنے والی سزا اس کے ساتھ زیادتی سی محسوس ہونے لگی ہے۔ عامر لیاقت حسین نے جس طرح سے حسب عادت اپنے منہ پھٹ رویے کو دوہرایا ہے اس سے خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ یہ سلسلہ کہیں بڑھتا ہی نہ چلا جائے۔ ہو سکتا ہے کہ عمران شاہ کی طرح کی غلطی پر پارٹی کی طرف سے سزا سنائے جانے کے بعد اب کوئی یہ کہتا ہوا نظر آئے کہ پاکپتن میں جاگیردارانہ رویوں کی پذیرائی کے بعد کسی کے پاس مجھے سزا دینے یا روکنے کا کوئی جواز کیسے رہ جاتا ہے۔ گزشتہ 22 برس کے دوران چلائی جانے والی انتخابی مہم کے دوران یقین تو یہ دلایا جاتا رہا کہ ان کی حکومت داخلی، خارجی اور مالیاتی پالیسیوں میں انقلابی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہو گی، مگر ابھی تک ان شعبوں میں جس قسم کی کارروائیاں سامنے آ چکی ہیں ان سے تو اس طرح کے اشارے مل رہے ہیں کہ یہ انقلابی تبدیلیاں کیا کریں گے انہیں تو نقل کر کے پاس ہونا بھی نہیں آتا۔
ملک کو درپیش قومی، صوبائی اور علاقائی سطح کے مسائل مربوط ہونے کے ساتھ ساتھ کسی نہ کسی حد تک مختلف اور انتہائی پیچیدہ بھی ہیں۔ صوبائی و علاقائی سطح کے معاملات کو طے کرنے کے لیے جن لوگوں پر نظر کرم ڈالی گئی ہے، ان کے سابقہ اور موجودہ رویوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا اپنا کوئی نقطہ نظر سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ کیا ایسے لوگوں 
سے توقع رکھی جا سکتی ہے کہ یہ خاص طور پر پنجاب کے علاقہ در علاقہ مختلف نوعیت کے مسائل کو کماحقہ سمجھتے ہونگے اور ان مسائل کے حل کے لیے فوری طور پر کوئی لائحہ عمل تیار کرنے یا حتیٰ کہ رائے دینے کے بھی اہل ہیں۔ لوگ تو یہ سمجھتے رہے کہ پنجاب کے معاملات شاید رحیم یار خان سے دیکھے جائیں گے مگر پاکپتن کے واقعات کے بعد ایسا لگنے لگا ہے جیسے ملک کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے پر بنی گالہ سے نظر رکھی جائے گی۔ حکومت قائم ہونے کے بعد گزشتہ چند دنوں میں ملک میں جو کچھ ہو چکا ہے اس میں وہ سادگی کہیں نظر نہیں آ رہی، جس کے دعوے اور وعدے کیے گئے تھے۔
اگر کوئی ریاستی معاملات کو بچوں کا کھیل سمجھ کر انہیں ایسے تجربات کی نذر کرنا چاہتا ہے جن کی دنیا میں کہیں کوئی نظیر موجود نہیں، تو وہ یہ سمجھ لے کہ جس عوام کو سہانے مستقبل کی لوریاں سنا کر سلایا جاتا رہا وہ اب جاگ رہے ہیں اور نئے حکمرانوں کے ہر عمل اور حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ جو لوگ عوام کو سادگی کے دعووں کے ساتھ ملک کی پسماندگی دور کرنے کے خواب دکھاتے رہے، ان کے مبینہ 55 روپے فی کلومیٹر میں طے ہونے والے ہیلی کاپٹر کے سفر نے سادگی کے سارے پول کھول کر رکھ دیے ہیں۔ سادگی کی ہنڈیا تو بیچ چوراہے پھوٹ چکی، اب جب تک ملک کی پسماندگی دور کرنے کے لیے کوئی ٹھوس لائحہ عمل پیش نہیں کیا جائے گا، اس وقت تک خاص کیا عام لوگوں کو بھی مطمئن نہیں کیا جا سکے گا۔
بقیہ: لعل و گہر