24 مئی 2019
تازہ ترین

زوال پذیر معیشت کے لیے بیساکھیاں زوال پذیر معیشت کے لیے بیساکھیاں

سب دعوے، سب نعرے بے نتیجہ رہے۔ کرپشن کا خاتمہ ہوا نہ لوٹی ہوئی دولت کہیں سے واپس ملی۔ وہ جو نوازشریف اورآصف زرداری کے گرد احتساب کا شکنجہ تھا، سخت کرنے کے باوجود کچھ بھی تو حاصل نہیں ہوا۔ تمام تر مقدمات، ریفرنسز، سزاؤں اور جیلوں کے باوجود ہنوز مفاہمت کا کوئی تاثر قائم نہیں ہوا۔ وہ جو این آر او، ڈیل اور ڈھیل کی چرچا تھی، ہنگامہ ہائے ہاؤ ہو اور شور شرابہ تھا، اقتدار کے ایوانوں کی غلام گردشوں میں ہونیوالی سرگوشیوں کے سوا کہیں عملی شکل میں نظر نہیں آیا۔ لیکن افسوس صرف رسوائی اور بدنامی حاصل ہوئی۔
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
تین ہزار کروڑ فلاں سے مل جائیں گے، دو ہزار کروڑ وہ دے گا، فلاں اتنی رقم دے گا اور معاشی صورتحال بہتر ہو جائے گی، بجٹ خسارہ بھی کم ہو گا، ادائیگیوں میں بھی توازن آ جائے گا اور ڈیمز بھی تعمیر ہو جائیں گے۔ مگر 14 سو ارب روپے کے پراجیکٹ کیلئے صرف دس ارب روپے اکٹھے ہوئے۔ عدالت کا کردار ہی مثبت ثابت ہوا اور صادق اور امین کی مشہوری کام آئی نہ دیانت اور امانت کا پروپیگنڈہ کسی کام آیا۔ سادہ دل عوام نے تو ان باتوں پر خوش فہمیوں اور امیدوں کا شکار ہو کر یقین کر لیا سادگی اور بچت کے دعووں کو بھی گلے لگا لیا مگر کچھ بھی تو کہیں تبدیل نہیں ہوا۔ وہی ہوٹر، وہی پروٹوکول، وہی ہٹو بچو کی آوازیں، وہی شور وہی ہنگامہ۔
ہم تو چاہتے تھے کہ ریاست اور فرد، حکومت اور عوام کے درمیان کوئی فاصلہ نہ رہے لیکن یہ جو حفاظتی ادارے ہیں وہ بھی تو اپنے فرائض کی ادائیگی میں کہیں کوئی غفلت نہیں دکھانا چاہتے۔ خیر یہ تو یونہی ضمنی سی باتیں ہیں ہم نے تو ایوان وزیراعظم بھی چھوڑ دیا تھا اسے ریسرچ یونیورسٹی بنانے کا عندیہ دیا اور پھر وہاں موجود خستہ حال لگژری گاڑیاں بھی نیلام کر دیں، یہ الگ بات کوئی اچھا خریدار ہی نہیں آیا۔ بچت کیلئے اپنے تحفہ میں 
ملے 700 کنال کے گھر میں ہی رہنے کو ترجیح دی۔ ہم نے اسے نوازشریف کی طرح وزیراعظم ہاؤس ڈکلیئر نہیں کرایا یا پھر شہباز شریف کی طرح اپنی عالیشان رہائش گاہ کو وزیر اعلیٰ ہاؤس میںتبدیل کر کے اس کا تمام بوجھ سرکاری خزانے پر نہیں ڈالا۔ ہم کو اس ملک کے غریب اور مسکین محروم اور مجبور عوام نے تبدیلی کیلئے منتخب کیا تھا۔ ہم چاہتے تھے کہ تبدیلی نظر بھی آئے ہم نے حتیٰ الامکان تبدیلی کا مظاہرہ کیا۔
یہ ہمیں تو تھے جو عوام کی بہتری اور ملک کی ناگفتہ کسمپرسی کی حالت میں بیرون ملک دوروں پر گئے دوستوں کو بتایا کہ ہم اپنے ہی چوروں ڈاکوؤں کے ہاتھوں لٹ گئے ہیں۔ بخدا ہماری کچھ تو مدد کیجئے اپوزیشن کی کم فہمی نے اسے بھیک مانگنے کے مترادف قرار دیا، لیکن ہم نے حب الوطنی کی خاطر ملک کو بدترین معاشی تباہی سے بچانے کیلئے اس قسم کی فضول باتوں پر کچھ کوئی توجہ مرکوز نہیں کی۔ صرف اپنے ملک اپنے وطن کے مسائل کو سامنے رکھا اس کے مثبت نتائج بھی سامنے آئے۔ برادر ملک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے نقد امداد کے ساتھ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا عندیہ بھی دیا اور پھر اس کے شہزادے ہمارے ہاں تشریف بھی لائے، ہم نے ان کا شایان شان استقبال بھی کیا۔ واپسی پر وہ معاہدوں پر دستخط بھی کر کے گئے، یہ چین کے بعد دوسری بڑی سرمایہ کاری کے معاہدے ہیں۔
یہ عوام کا مسئلہ ہے نہ اسے پریشان ہونے کی ضرورت ہے اس کے بدلے میں ریاست پاکستان کو سیاسی اور دفاعی کیا خدمات انجام دینا پڑیں گی اور اس میں ہمارا کردار کیا ہو گا۔ عوام کو خوش ہونا چاہیے کہ ان کے مسائل حل ہو رہے ہیں، تین ضلعوں میں سستے گھروں کی سکیم شروع ہو گئی ہے، بیماریوں کے علاج کیلئے صحت کارڈز شروع کر دیے گئے ہیں، غربت کے خاتمہ کو بہت جلد روزگار سکیمیں شروع ہو جائیں گی۔ یہ جو بیرونی سرمایہ کاری آ رہی ہے، اس کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے۔ البتہ یہ جو دو چار ارب ڈالر کے وعدوں پر دوستوں کی طرف سے عملدرآمد ہو رہا ہے یہ پرانی ادائیگیوں میں توازن برقرار رکھنے کیلئے ہے۔ اگر ایسا نہ کرتے تو ملکی معیشت کچھ پابندیوں کی زد میں آ سکتی تھی جو ملک اور قوم کیلئے خطرات کا باعث ہو سکتا تھا، لیکن ظاہر ہے یہ پہلی حکومت ہے جو جذبہ حب الوطنی سے سرشار ہے۔ اس کا مقصد نئے پاکستان کی تخلیق ہے۔ ظاہر ہے پرانی بنیادوں پر نئی تعمیر تو نہیں ہو سکتی، نئی عمارت کیلئے نئی بنیادیں نئے خطوط پر رکھی جاتی ہیں اور یہ کام ہمارے پالیسی ساز وزیر خزانہ کی قیادت میں صبح و شام کر رہے ہیں، اس کے نتائج بہت جلد عوام کے سامنے ہوں گے۔ لیکن کیا کریں یہ جو درمیان میںمالیاتی ادارے رپورٹیں شائع کر دیتے ہیں، ان میں بیٹھے سابقہ حکومتوں اور پالیسی سازوں کی سازشیں ہیں۔ سٹیٹ بینک اور ایف بی آر تو بالکل ہی ہمارے ساتھ تعاون نہیں کر رہا۔ سٹیٹ بینک نے حال ہی میں جو رپورٹ بنائی ہے اور عوام کو بتایا ہے کہ ملکی قرضے 27 ہزار ارب روپے سے بڑھ گئے ہیں، موجودہ حکومت بھی وہی کچھ کر رہی ہے جو سابقہ حکومتیں کیا کرتی تھیں۔ ایک قرض کی ادائیگی کیلئے دوسرا قرض لے رہی ہے۔
بہرحال یہ بات تو واضح ہے کہ دوستوں نے زکوٰۃ اور خیرات دینے کے بجائے سرمایہ کاری کا عندیہ دیا ہے شاید انہیں بھی تجربہ ہو گیا ہے 
بدعنوان انتظامی ڈھانچے اور معاشی نظام یہ امداد عوام کیلئے فائدہ مند ثابت نہیں ہوتی۔ عوام کو محنت اور روزگار کی طرف راغب کرنا چاہیے۔ دوسرا یہ کہ احتساب کے شکنجے سے بھی مطلوبہ نتائج اور مفروضہ مقاصد پورے نہیں ہوئے۔ سیاستدانوں کیلئے سیاسی مستقبل زیادہ اہم ہوتا ہے وہ ڈیل یا ڈھیل کر کے خود کو ہمیشہ کیلئے گنہگار نہیں بنوا سکتے۔ ویسے بھی گزشتہ کچھ عرصہ میں جو ذلت اور رسوائی ان کے ماتھے پر سجی ہے، اب مفاہمت یا این آر او خودکشی کے سوا کچھ نہیں ہو گا۔ اب یہ راز پالیسی سازوں کیلئے بھی کوئی راز نہیں رہا۔ اسی لیے تو ایف بی آر کو بااختیار کر کے بے نامی جائیدادیں اور اکاؤنٹس کو ضبط کرنے کی اجازت دی گئی ہے تا کہ زوال پذیر معیشت اور تباہی کی طرف گامزن معاشی ڈھانچے کو بیساکھیوں پر کھڑا کیا جا سکے۔ لیکن کب تک؟؟ افسوس تو یہ بھی ہے کہ اس طرح ریاست اور سرمایہ داروں کے درمیان تعلق مزید خراب ہوں گے۔