زمیندارؔ، لالہ دونی چند اور بندےؔ ماترم زمیندارؔ، لالہ دونی چند اور بندےؔ ماترم

(9 ستمبر1923 ء کی تحریر ) 
 اور عقل و خرد، ہوش و حواس، واقعات و حقایق سب چیزوں کو جواب دے کر بلاتامل مان لیا جائے کہ جو کچھ ان کی زبان سے نکلتا ہے آسمانی الہام ہے جس کے ایک شوشہ میں بھی شبہ کی گنجائش نہیں؟ آپ سنگٹھن کیجئے اور ایک ہندوستان کیا چین، جاپان، برما، سیلون، سیام، تبت سب کو ایک رشتے میں پرو لیجئے اور اس مالا کو صبح سے شام اور شام سے صبح تک جپتے رہئے آپ کو کون روکتا ہے لیکن یہ کونسی انسانیت ہے کہ ایسے معاملات کیلئے واقعات کو غلط صورت میں پیش کیا جائے۔ پہلے خود فساد انگیزی کی جائے اور پھر بازار میں شور و غل اور عورتوں کی سی چیخ پکار سے آسمان کو سر پر اٹھا لیا جائے۔ پھر طرفہ یہ کہ جو باتیں عقل و درایت کے نزدیک صاف صاف تمسخر انگیز اور مضحکہ خیز ہوں ان کی حقانیت و صداقت کا سب سے اعتراف کرایا جائے۔ہم بندےؔ ماترم کی قوم پرستی اور دوستی سے واقف ہیں اور اس کی کوئی چیز ہماری نظروں سے مخفی نہیں۔ وہ وقت دور نہیں جبکہ اسے ان تمام باتوں پر پچھتانا اور پشیمان ہونا پڑے گا۔ لالہ دونی چند جی انبالوی کے بیان کی جو حیثیت تھی وہ ہم نے واضح کر دی۔ بندےؔ ماترم ہماری تحریر کو غلط سمجھتا ہے تو اس کا مدلل جواب دے۔ یہ کہاں کی اخبار نویسی ہے کہ موضوع بحث تو ایک بیان کی صحت و عدم صحت ہے اور جواب یہ دیا جاتا ہے کہ زمیندارؔ ہندو مسلم نفاق کو وسیع کر رہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کونسلوں کا قضیہ اور جمعیۃ العلما
(10 ستمبر1923 ء کی تحریر ) 
ہندوئوں اور مسلمانوں کے موجودہ افتراق نے ہندویت کے نہایت عجیب و غریب خصایص کے چہرے سے نقاب اٹھا دیا ہے۔ منجملہ ان خصایص کے ایک یہ خصوصیت بھی ہے کہ مسلمانوں کی طرف سے جو تحریک ہواس کی فی سبیل اللہ مخالفت کی جائے اور ہمیشہ ایسے کلمات استعمال کئے جائیں جس سے ان کے دلوں کو صدمہ پہنچے۔ چنانچہ ابھی کل کی بات ہے کہ کیسریؔ، لالہ شام لال کپور کا کیسریؔ حکومت ہند کو مشورہ دے رہا تھا کہ وہ اطالیہ کی شانِ خودداری کو ملحوظ رکھتے ہوئے افغانستان کو الٹی میٹم دے دے کیونکہ ’’ظالم سرحدیوںڈ‘‘ نے اسی طرح دو برطانی افسروں کو قتل کر ڈالا جس طرح کہ یونانیوں نے اطالوی وفد کے ارکان کو قتل کر ڈالا ہے۔ بندےؔ ماترم اتنی زبردست مہموں کا تو ابھی اہل نہیں ہوا لیکن حتیٰ المقدور وہ بھی اس میدان میں اپنے بھائیوں کی امداد کرتا رہتا ہے۔ چنانچہ پرسوں کی اشاعت میں اس نے سوامی شردھا نند کو مشہور ’’وطن پرست‘‘ کا خطاب دیا تھا۔ کل کی اشاعت میں وہ اس بات پر بگڑا ہے کہ کونسلوں کے متعلق کانگرس کے فیصلے کو جمعیۃ العلما کے فتوے سے قطعاً متاثر نہیں ہونا چاہئے۔ ہم پہلے یہ ظاہر کر چکے ہیں کہ ہم کانگرس کو جمعیۃ العلما کے ماتحت نہیں رکھنا چاہتے لیکن اگر وہ تئیس کروڑ ہندوئوں اور دوسرے ہندوستانی بھائیوں کی طرح آٹھ کروڑ مسلمانوں کو بھی نمایندہ ہے تو اسے کوئی ایسا فیصلہ نہیں کرنا چاہئے جو جمعیۃ العلما کے متفقہ فتوے کے خلاف ہو۔ جمعیۃ العلما نے کانگرس سے پیشتر کونسلوں میں جانے کی ممانعت کا فتویٰ دیا تھا اور وہ فتویٰ اس وقت تک قایم ہے۔ پھر اگر کانگرس آج کوئی ایسا فیصلہ کرے گی جو اس فتوے کے خلاف ہو گا تو وہ آٹھ کروڑ فرزندان توحید کے دین قیم کی توہین کا موجب ہوگی اور اسے قطعاً یہ حق حاصل نہ ہوگا کہ اپنے فیصلوں کو ناطق سمجھے۔حکومت برطانیہ کیخلاف ہماری سب سے بڑی شکایاتِ دینی میں سے ایک شکایت یہ بھی ہے کہ اس نے ہمارے علما کے فتوے کی توہین کی۔ اگر کانگرس نے جمعیۃ العلما کے فتوے کا احترام ملحوظ خاطر نہ رکھا تو ہمیں وہی شکایت کانگرس سے پیدا ہو جائے گی۔ یہ ایک ایسی صاف اور کھلی ہوئی بات ہے جس سے بندےؔ ماترم کا ناواقف ہونا نہایت تعجب انگیز ہے۔
آج ہم کو سنایا جاتاہے کہ اگر علما کو سیاسیات میں دخل دینے کا موقع دیا گیا تو ہندوئوں کے پنڈت، سکھوں کے گرنتھی اور عیسائیوں کے پادری بھی دخل دیں گے اور سب آپس میں لڑ پڑیں گے۔ لیکن جمعیۃ تو گزشتہ تین چار سال سے قایم ہے اور اس کا فتویٰ سب کے نزدیک مسلم ہے۔ کیا پنڈت یا عیسائی کا بھی کوئی مذہبی فتویٰ جاری ہوا؟ یا ان کی بھی کوئی جمعیۃ تھی؟ پھر سمجھ میں نہیں آتا کہ آج جمعیۃ کے فتوے کی آبرو زائل کرنے کیلئے کیوں ایسے بے بنیاد اور لغو غدر تراشے جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہیکہہندوئوں کیلئے کونسلوں میں جانا حرامنہیں ہے اور نہ عیسائیوں کیلئے اس لئے وہ کیوں علما کے فتوے کی پابندی کریں۔ یہ صحیح ہے کہ لیکن جب مسلمانوں کے علما اسے ممنوع قرار دے چکے ہیں تو مسلمان کس طرح فیصلہِ شرکت کو تسلیم کر سکتے ہیں۔ پھر ہندوئوں کو تو کل ہوش آیا کہ کونسلوں پر قبضہ کرنا چاہئے اور اس کے خاص وجوہ ہیں جنہیں ہم ابھی ظاہر کرنا نہیں چاہتے البتہ اجلاس خاص کے بعد بتائیں گے۔ لیکن مسلمان علما اسے تین سال پیشترممنوع کر چکے ہیں اس لئے رواداری کا تقاضا یہ ہے کہ اس فیصلہ کا احترام کیا جائے اگر ایسا نہیں ہو سکتا تو مسلمان کانگرس سے علیحدہ ہو جائیں گے۔ بندےؔ ماترم بہت بڑا قوم پرست ہے کیا اسے ایسے کلمات لکھتے وقت یہ محسوس نہیں ہوتا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ وہ اسلام کے اس ناموس پر حملہ کر رہا ہے جس کی خاطر مسلمان دنیا میں زندہ ہے۔ کیا اسے اس افسوسناک حرکت کے الم انگیز نتائج معلوم نہیں ہیں؟