26 اپریل 2019
تازہ ترین

زرِ اعانہ زمیندارؔ زرِ اعانہ زمیندارؔ

(29نومبر 1923ء کی تحریر)
رہنمایانِ ملک کی پندرہ ہزار کی اپیل
وہ تنہا تھا مگر توکل علیٰ اللہ کے استغنا اور بے پروائی نے اسے کثیر التعداد فوجوں کی صفوں سے مستغنی کر رکھا تھا۔ ایسے مبارک وجود کی بلند کی ہوئی صدائے حق راہ جہاد کے لازمی مصائب سے کیا مرعوب ہو سکتی تھی۔ چنانچہ طرح طرح کی اذیتیں نازل ہوئیں، قسم قسم کے ستم برپا کئے گئے، گوناگوں آلام سے سابقہ پڑا مگر زمیندارؔ اپنے پیش نظر مقصد کے عشق و شیفتگی میں تمام کٹھن منزلوں اور دشوار گزار گھاٹیوں سے صحیح و سالم نکلتا گیا بلکہ ہر مخالفانہ ضرب، ہر معاندانہ وار اور ہر سعی جبر و تشدد سے اس کی آواز میں زیادہ زور، زیادہ قوت اور زیادہ استحکام و رسوخ پیدا ہوتا گیا۔ یہ الفاظ جو بے اختیار زبان قلم سے نکل گئے تو ان کا یہ مطلب نہیں سمجھنا چاہئے کہ زمیندارؔ کو اپنے کارناموں پر فخر و ناز ہے بلکہ یہ محض تحدیثِ نعمت ہے واما بنعمتہ ربک فحدث۔ ہمیں اس مقام پر زمیندارؔ کی سرگزشت حیات سے بحث نہیں ہے اور نہ اس امر کی ضرورت ہے کہ ہزاروں روپوں کی ضمانتوں اور مطبع کی ضبطیوں، مدیروں، ناشروں اور طبعوں کی مختلف المیعاد سزاہائے قید کی تفصیل و تشریح کی جائے اس لئے کہ ان میں سے کونسی ایسی بات ہے جو ہندوستان اور دوسرے ممالک کے طول و عرض میں نہیں پہنچ چکی۔ یہ کس بھائی کو معلوم نہیں ہے کہ اس وقت تک کم و بیش زمیندارؔ کاڈیڑھ لاکھ روپیہ سرکاری خزانہ میں جا چکاہے۔ یہ کون نہیںجانتا کہ زمیندارؔ کے مالک و بانی اور اس کے اکلوتے بیٹے کو طویل قید کی سزائیں مل چکی ہیں۔ وہ اس وقت اپنے اعزا و اقارب سے دور بیٹھے جیل خانوں کی تنہائی میںعشق حق و صداقت کی مدتِ آزمایش کو صابرانہ پورا کر رہے ہیں  اور انہیں اتنی خبر بھی نہیں ہے کہ جس دعوت حق کے احیا و اعلا کی بدولت یہ سب کچھ انہیں جھیلنا اور برداشت کرنا پڑا وہ اس وقت کس ہولناک مصائب میں گھری ہوئی ہے۔ یہ حقیقت کس سے پوشیدہ ہے کہ اولوالعزم باپ اور اولوالعزم بیٹے کے علاوہ کم و بیش گیارہ سرفروشانِ حق زمیندارؔ کی خاطر تکالیف و محنِ قید میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ ان میں سے بعض تو اپنی مدتِ ابتلا کو پورا کر کے رہا ہو چکے ہیں اور باقی بھی اسے پورا کر رہے ہیں۔ ہم نہیں سمجھتے کہ ان میں کونسی بات ایسی ہے جس سے زمانہ ناواقف ہے یا جس کے تفصیل کے ساتھ دہرانے کی ضرورت ہے۔ حضرت مولانا ظفر علی خان کے بعد جس وقت ان کے فرزند ارجمند برادر محترم جناب مولوی اختر علی خان صاحب قید ہوئے تو جن لوگوں کے کندہوں پر زمیندارؔ کا بار امانت آ پڑا انہیں گو حضرت مولانا کے ساتھ کوئی خونی رشتہ نہیں تھا لیکن ان کے دل حضرت ممدوح کی ذات گرامی اور زمیندارؔ کی محبت و شیفتگی کے پاک جذبات سے لبریز تھے۔ اسی محبت و شیفتگی کے باعث انہوں نے قطعی طور پر یہ فیصلہ کر لیا کہ وہ ہر قسم کی قربانیاں کریں گے مگر اس مقدس امانت کو حضرت مولانا کی مدت ابتلا کے اختتام تک دستبرد زمانہ سے محفوظ رکھیں گے۔ چنانچہ مولوی اختر علی خان صاحب کی اسیری کے بعد زمیندارؔ پھر اسی آب و تاب کے ساتھ نکلا جو اس کی زندگی کے ہر عہد کا طغرائے امتیاز رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی جبر و تشدد کا وہ ہمہ گیر دور شروع ہوا جو دفتری حکومت کے اعمال کاغالباً تاریک ترین ورق ہے اور جس میں فداکاران ملک و ملت کی گرفتاریوں اور قیدوں کے ساتھ ساتھ اخبارات کو کچلنے کی بھی انتہائی کوششیں عمل میں ائیں۔ پندرہ پندرہ روز کے بعد دو دو ہزار کی ضمانتیں ضبط ہونے لگیں اورمدیر و ناشر قید ہونے لگے۔ یہ دور زمیندارؔ کی مالی مشکلات کا نہایت نازک دور تھا مگر اس امانت کے حاملوں نے ایک لحظہ کیلئے بھی گوارا نہ کیا کہ ضمانتوںکیلئے ملک و قوم کے آگے دست سوال دراز کریں اور حضرت مولانا ظفر علی خان کی عدم موجودگی میں ایسا راستہ اختیار کریں جس سے حضرت مولانا کی عالی ہمتی اور بلند حوصلگی کو صدمہ پہنچے۔ جب دسمبر 1921ء کی داخل کی ہوئی ضمانت جنوری 1922ء میں ضبط ہو گئی تو مخدوم محترم جناب آغا محمد صفدر صاحب نے خود بخود سیالکوٹ میں زرِ اعانت کی تحریک فرما دی اور ایک جلسے میں ڈھائی سو روپیہ کی رقم جمع کر کے اعانت کی عام تحریک کے متعلق ایک گرامی نامہ بھی اشاعت کیلئے بھیج دیا۔(جاری ہے)