20 ستمبر 2019
تازہ ترین

زرداری کی اُلٹی تصویر زرداری کی اُلٹی تصویر

چار کھونٹ مائنس مائنس کی بازگشت ہے، تاہم اس ضمن میں کئی سوال ہنوز تشنہ جواب ہیں۔ ان سوالات کی تشریح اگرچہ کہ ہر کوئی اپنے اپنے ’’منفرد انداز‘‘ میں کر رہا ہے ،لیکن بات پھر وہیں آکر ٹھہرتی ہے کہ ڈھاک کے تین پات کے مصداق یہ مائنس فارمولاآخرہے کیا؟ اور مائنس کا نعرہ مستانہ بُلند کرنے اوراسے سر انجام دینے کا عزم ِ مصمم رکھنے والے بھلا اِسے سرانجام دینگے کیسے ؟
 ویسے حقیقت ِحال تو یہ ہے کہ سو پاپڑ بیلنے کے باوجود بھی ابھی پہلے ہی مائنس فارمولے میں کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ، بھلاایسے میں باقی مائنس کیسے پایہ تکمیل کو پہنچ پائیں گے؟ پہلا ہی مائنس فارمولا بلی کے گلے کی ایک ایسی گھنٹی بن چکا ہے کہ پہنانے والا بظاہر خود اس مخمصے کا شکار نظر آتا ہے کہ بھلا اِس گھنٹی کو پہنایا کیسے جائے ؟اس امر کا بھی بخوبی ادراک ہے کہ رتی بھر کی غلطی خود پہنانے والے کیلئے گلے کا پھندا بھی بن سکتی ہے۔ کچھ را زداروں نے بس اتنا ہی افشائے راز کیا ہے کہ فارمولا محض مائنس ون یا ٹو تک ہی محدود نہیں بلکہ مائنس تھری بھی اس میںشامل ہے۔اس فارمولے پر عملدرآمد کا اہم موڑ امسال دسمبر میں شروع ہوجائے گا۔تاہم یہ علیحدہ امر ہے کہ تیسرے مائنس پر ہاتھ ابھی تھوڑا ’’ہولا‘‘ ہے۔چیزیں اتنی مہارت سے چلیں گی کہ کسی کو کانوں کان خبر بھی نہ ہوگی کہ کیا ہونے جارہا ہے ۔ بس اتنا کہنا کافی ہے کہ ریاست ِ پاکستان کا اگلا صدر بہت مضبوط ہوگا وہ موجودہ صدر ممنون حسین کی طرح نواز شریف یا پھر کسی اور سیاستدان کا ہرگز بھی ممنون نہ ہوگا،بلکہ وہ جن کا ممنون ہوگا اُن کے ارادے کرپٹ سیاستدانوں کے لئے کچھ اچھے نہیں ۔وہ کرپٹ زدہ اورنا انصافی پر مبنی ریاستی نظام کو بدلنے کا نا صرف مصمم ارادہ رکھتے ہیں بلکہ اس کے حوالے سے ایک مربوط منصوبہ بندی بھی کرچکے ہیں ۔
آنے والے دنوں میں سیاست کے اُفق پر ہونے بعض تبدیلیاں اور حادثات سیاستدانوں کو تو ورطہ حیرت میں مبتلا کر سکتے ہیں لیکن نظام کی تبدیلی کے ’’آرزو مندوں‘‘ کے لئے ان میں ہرگز بھی اچنبھے کی کوئی بات نہیں ہے۔پاکستان کی اندرونی سیکورٹی کے ذمے دار وزیر داخلہ احسن اقبال کے ساتھ احتساب عدالت میں ہونے والا سلوک اسی امر کی غمازی کرتا ہے کہ پُلوں کے نیچے بہت سا پانی بہہ چکا ہے ۔ 
فوج کو ڈان لیکس کے ذریعے دُنیا بھر میں بدنام کرنے کی کوشش اور اب وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے گھر کو صاف کرنے کا وہی راگ بیرون ملک الاپنے کا عمل جلد یا بدیر تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔ ایسا نہ ہوتا تو استعفا دینے اور ذمے داروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے دعویدار لیکن ’’بے بس و بے یارومددگار‘‘  وزیر داخلہ اب تک کچھ نہ کچھ ضرور کرچکے ہوتے ۔وزیر داخلہ کے جانب سے ’’گونگولوں پر مٹی جھاڑنے‘‘ کے مصداق آنے والے دنوں میں کوئی چھوٹی موٹی کارروائی ان کی ساکھ بحال کرنے کے لیے ہرگز کافی نہ ہوگی۔
 واقفانِ حال تو اس بات پر بضد ہیں کہ نا اہل وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے آئین میں ترمیم کے بعد مسلم لیگ (ن) کا ایک بار پھر صدر منتخب کرا کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو ’’کالعدم‘‘ کرنے کی کوشش خود اُن کے لئے اور اُنکی پارٹی کے لئے جلد یا بدیر زہر قاتل ثابت ہوگی۔ اُن کی یہ سعی لاحاصل مائنس ون فارمولے پر مہر ثبت کرچکی ہے ۔
اب چلتے ہیں مائنس ٹو فارمولے کی جانب جو مقتول وزیر اعظم بے نظیر بھٹو اور انکے بھائی مقتول میر مرتضیٰ بھٹو کی شکل میں ایک ایسی تلوار بن چکا ہے جو سابق صدر آصف علی زرداری پر لٹک رہی ہے ۔ بس ضرورت ایک شفاف اور غیر جانبدارانہ تفتیش کی ہے جو سابق صدر آصف علی زرداری کے دور حکومت میں نہ ہوسکی۔ ایسا ہوا تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔گزشتہ دنوں ہماری ملاقات لاہور سے تعلق رکھنے والے ہمارے ایک سینئر صحافی دوست کے ساتھ ہوئی جوقتل سے قبل میر مرتضیٰ بھٹو کے کافی قریب ہوچکے تھے۔ میرمرتضیٰ بھٹو سے اپنی آخری ملاقات کا احوال بیان کرتے ہوئے ہمارے اس صحافی دوست نے بتایا کہ اس ملاقات میں انہوں نے جب میر مرتضیٰ بھٹو سے جب اس حوالے سے استفسار کیا کہ کچھ ایسی خبریں آرہی ہیں کہ آصف علی زرداری محترمہ بے نظیر بھٹو کے وزیر اعظم ہونے کے باوجود بھی تشددکرتے ہیں تو میر مرتضیٰ بھٹو یہ سُن کر گویا پھٹ پڑے۔ ہمارے صحافی دوست کا کہنا تھا کہ میں نے میر مرتضیٰ بھٹو کو پہلے کبھی اتنے غیض و غضب میں نہیں دیکھا تھا۔ وہ آصف علی زرداری کو گالیوں کی شکل میں صلواتیں سناتے جارہے تھے اور بتا رہے تھے کہ آصف علی زرداری نا صرف ان کی بہن پر تشدد کرتا ہے بلکہ وہ اپنی بوڑھی ساس نصرت بھٹو کو بھی گالیاں دینے سے رتی بھر اجتناب نہیں کرتا۔ مقتول میرمرتضیٰ بھٹو نے ہمارے صحافی دوست کو بتایا کہ انہیں آصف علی زرداری سے سخت نفرت ہے اوریہی وجہ ہے کہ انہوں نے آصف علی زرداری کی تصویر اپنے باتھ روم میں اُلٹی لگارکھی ہے۔ اس کے کچھ عرصہ بعد ہی آصف علی زرداری کی وہ تصاویر بھی میڈیا میں آئیں جس میں وہ زندگی میں پہلی اور آخری بار کلین شیو نظر آئے ۔’’ سینہ گزٹ ‘‘یہی تھا کہ آصف علی زرداری کی یہ کلین شیو میر مرتضیٰ بھٹو سے ایک ملاقات کے دوران ہوئی ، جس کا بدلہ بعد ازاں پولیس کے ہاتھوں میر مرتضیٰ بھٹو کی موت کی شکل میں سامنے آیا۔
قارئین!کچھ سال قبل ایک انگلش چینل میں ملازمت کے بعد مجھے بھی کراچی جانے کا اتفاق ہوا ۔ اتفاقاً ہماری قیام گاہ اور دفتر کے راستے میں وہ مقام بھی پڑتا تھا جہاں میر مرتضیٰ بھٹو اور  اُن کے ساتھیوں کو پولیس کی گولیوں نے ابدی نیند سُلادیا تھا۔ اس مقام کے قریب ہی غیر ملکی سفارت خانہ بھی ہے ۔ میں اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ و ہاں پہنچا جہاں مجھے اسی سفارت خانہ کاایک ایسا سیکورٹی گارڈ ملا جو اس واقعہ کے وقت وہیں موجود تھا۔ میرے استفسار پر سیکورٹی گارڈ نے بتایا تھا کہ جب میر مرتضیٰ بھٹو اور ان کے ساتھیوں کو پولیس نے قتل کیا اس سے چند گھنٹے قبل چند پولیس والے ان کے پاس بھی آئے اور انہیں حکم دیا کہ دروازے اندر سے بند کرلو اور باہر کوئی نہ آئے۔ اس کے بعد علاقہ کی بجلی بند کردی گئی ۔ پھر گولیوں کی زبردست تڑتڑاہٹ کی آواز سے سارا علاقہ گونج اُٹھا۔ بعد ازاں ہمیں معلوم ہوا کہ قتل ہونے والا کون ہے ۔بے نظیر بھٹو کے قتل کے حوالے سے آصف علی زرداری کے سابق دیرینہ دوست ذوالفقار مرزا نے تو میڈیا میں آکر برملا یہ کہہ بھی دیا تھا کہ بے نظیر بھٹو کا قتل آصف علی زرداری نے کرایا ہے اور جس شخص نے ان پر گولی چلائی اس کا نام بھی طشت ازبام کر دیا۔ آصف علی زرداری پر الزام لگانے والوں کی فہرست میں سابق صدر پرویز مشرف کا نام تو بہت بعد میں آیا۔مائنس ون ہو یا مائنس ٹو فارمولا، اس کا نشانہ بننے والوں کے ہاتھ بے گناہوں کے خون اور کرپشن سے رنگے ہوئے ہیں ، ان کے لیے بس ایک شفاف عدالتی ہی عمل ہی کافی ہے ۔ تاہم اگر معاملات مائنس تھری کی طرف گامزن ہوئے تو پھر ملک کو انارکی کی جانب بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔