25 ستمبر 2018
تازہ ترین

زرداری قانون کے شکنجے میں… زرداری قانون کے شکنجے میں…

خواجہ ناظم الدین کے بعد پاکستانی سیاست آہستہ آہستہ معدوم ہونے لگی اور ایوب خان کے طویل دور اقتدار نے تو عوامی سیاست کو بالکل ہی تباہ کردیا، لیکن اس دوران بھٹو نے وزارت خارجہ کے عہدے سے دستبردار ہوکر ایوب کابینہ کو خیرباد کہہ دیا اور پیپلزپارٹی کے نام سے جماعت بناکر عوام کے درمیان آکھڑے ہوئے، یوں انہوں نے پیپلزپارٹی کے پلیٹ فارم سے ایک بھرپور عوامی سیاست کا آغاز کردیا اور دیکھتے ہی دیکھتے سندھ اور پنجاب کے عوام کے دلوں پر چھاگئے، نتیجتاً 1970کے انتخابات میں غریب اور عام لوگوں کو ٹکٹ دے کر بھی پیپلزپارٹی نے حیرت انگیز طور پر مغربی پاکستان میں سب سے زیادہ سیٹیں حاصل کیں، جمہوریت دشمنوں کو پیپلزپارٹی کا تیزی سے چڑھتا سورج ایک آنکھ نہ بھایا، پھر سازشوں کا زمانہ شروع ہوا مگر ذوالفقارعلی بھٹو پر ایک پیسے کی کرپشن کا بھی الزام نہ تھا، یہاں تک کہ وہ تختۂ دار پر چڑھ گئے۔
آج صورت حال یہ ہے کہ قانون کا بے رحم شکنجہ زرداری کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے، آصف زرداری پر الزام ہے کہ انہوں نے بے نظیر بھٹو سے شادی کرنے کے بعد فرسٹ جنٹلمین ہونے کے ناتے بھرپور فائدے اٹھائے، انہوں نے محترمہ کی حکومت میں ہی بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کرنے پر جیلوں کی ہوا کھائی، ان پر 1990 میں لگنے والے الزامات کا سلسلہ 1993 کی حکومت تک نہ رُک سکا، جس کے باعث اس حکومت کو بھی دوسال ہی چلنے کا موقع مل سکا، 1996میں پولیس نے مرتضیٰ بھٹو کو ان کے گھر کے سامنے ہی مارڈالا تھا، جس کا الزام بھی نصرت 
بھٹو اور ان کی بیوہ غنویٰ بھٹو نے زرداری پر ہی لگایا اور کہا کہ زرداری اور مرتضٰی بھٹو میں اَن بن رہا کرتی تھی، اس باعث ایک بار پھر یہ قانون کے شکنجے میں آچکے تھے۔ آج زرداری پھر سے قانون کے شکنجے میں پھنسے دکھائی دے رہے ہیں، ملک کے ایک بڑے بینکرز حسین لوائی بھی اس وقت قانون کے شکنجے میں ہیں، ایف آئی آر میں زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کا نام بھی شامل ہے کہ انہوں نے ملکی دولت کو لوٹ کر دنیا بھر کے بینکوں میں منتقل کیا، اس سے قبل اس طرح کے بے شمار کیسوں سے باعزت بری ہونے والے زرداری ایک طویل عرصے کی جیل سے رہائی بھی پاکر آچکے مگر ان سے منسوب بدعنوانی کی داستانیں اس قدر طویل ہیں کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہیں۔ دفاعی معاہدوں، توانائی کے منصوبوں، ٹیکسٹائل کے معاملات، صنعت وتجارت، 
تیل اور گیس کے پرمٹ، جہازوں کی خریداری، سرکاری زمینوں کی خریدوفروخت، شوگر ملوں پر قبضے اور غیر ملکی قرضوں سے عیاشیاں کرنا، کیا کیا الزامات نہیں ان پر…
آصف زرداری اور ان کی بہن کے خلاف منی لانڈرنگ کا ایک اور مقدمہ اپنے پھن پھیلائے بیٹھا ہے، سرے محل یا سوئس بینکوں میں رقوم کی منتقلی کا معاملہ شاید اس قدر اہم نہ ہو، ان پر الزام ہے کہ ان کا مسٹر ٹین پرسینٹ کا لقب ہی اس بنیاد پر پڑا تھا کہ وہ بغیر کچھ لیے کوئی کام ہی نہیں ہونے دیتے تھے۔ آج جو عدالت نے جعلی اکائونٹس کے ذریعے پیسہ باہر بھیجنے کے معاملے میں ان کی بہن کے ساتھ ان کے قریبی 35افراد کے خلاف گھیرا تنگ کرنا شروع کردیا ہے، یہ سب کے سب ایک ایک کرکے سارے راز اگل دیں گے۔ یقینی طور پر اس سارے کیس میں پاناما طرز کی جے آئی ٹی بننا وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ پاناما لیکس کی طرح اس وقت زرداری کی 35 ارب روپے سے زیادہ کی منی لانڈرنگ کے قصے گلی کوچوں میں عام ہورہے ہیں۔ اگر باقی لوگوں کا احتساب نہ کیا گیا تو دنیا یہی کہے گی کہ احتساب کا دائرہ صرف ایک خاندان تک محدود تھا، لہٰذا انصاف کے تقاضے اسی وقت پورے ہوں گے، جب ہر ایک کے ساتھ انصاف ہوتا دکھائی دے گا۔ 
آج مذکورہ بالا کیس کے گواہوں کو ہراساں کیے جانے کے انکشافات بھی سامنے آرہے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ کس کے کہنے پر لوگوں کو ہراساں کیا جارہا ہے، سندھ حکومت نے کچھ ایسا ویسا کیا تو چھوڑیں گے نہیں اور چوری کا پیسہ ہضم نہیں کرنے دیں گے۔ بدعنوانی کا ہی نتیجہ ہے کہ پیپلزپارٹی کے بانیان کا سلسلہ جو بھٹو سے شروع ہوا وہ بے نظیر کی شہادت پر ہی ختم ہوچکا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے عوام کی دادرسی کا سلسلہ جس طرح سے شروع کیا ہے، اس نے پاکستان کے عام آدمی کا حوصلہ بھی بلند کیا ہے۔ زرداری آج ایک وقت میں کئی کئی مشکلات میں گھر چکے ہیں، کیونکہ پیپلزپارٹی کے رہنمائوں کی جانب سے سابق صدر مشرف پر بے نظیر قتل کے الزامات لگانے کا یہ نتیجہ نکلا ہے کہ پرویز مشرف نے اپنے ویڈیو پیغام کے ذریعے آصف زرداری پر جو سنگین الزامات لگائے ہیں، اس نے پوری قوم کو ہی ہلاکر رکھ دیا ہے، ویڈیو میں مشرف نے بے نظیر قتل کیس میں زرداری کو ہی قصوروار ٹھہرایا ہے۔ 
آخر میں، میں یہ کہوں گا کہ قیام پاکستان کے بیس سال بعد ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر سے نکلنے والی پیپلزپارٹی کے جن منشوروں کا سنگ بنیاد رکھا گیا تھا، موجودہ پیپلزپارٹی کے رہنمائوں کو وہ سب باتیں آج بھول چکی ہیں، آج پی پی پی وڈیروں اور سرمایہ داروں کا ایک گروہ بن کر رہ گئی ہے، بھٹو نے ساڑھے چار سال بطور وزیراعظم اپنے انقلابی منشور سے پیپلزپارٹی کو وہ عروج بخشا جو کسی بھی جماعت کے حصے میں نہ آیا جب کہ پیپلزپارٹی کے گزشتہ دور میں اس کے منشور کی ناصرف دھجیاں اڑائی گئیں بلکہ بھٹو خاندان نے جس پیپلزپارٹی کو سڑکوں اور چوراہوں پر سجایا تھا، اسی کو اب بلاول ہائوس کے ڈرائنگ روم میں لاکر بند کردیا گیا ہے۔