13 نومبر 2018

زخمی سانپ کی پھنکار زخمی سانپ کی پھنکار

اس تلخ حقیقت سے کوئی صاحب نظر انکار نہیں کر سکتا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان ستر سال میں کبھی ایسی بداعتمادی ہوئی اور نہ ہی حالات میں ایسی کشیدگی ہوئی۔ بات بیانات سے آگے دھمکیوں اور ترجیحات پر عملدرآمد کیلئے سخت دباؤ تک پہنچ چکی ہے۔ دونوں طرف سے اپنے اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کا کوئی واضح اشارہ سامنے نہیں آ رہا۔ پاکستان میں نئی حکومت کا قیام ہو چکا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ جوگزشتہ روز اسلام آبادآئے اور انہوں نے پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت سے مذاکرات کیے۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ یہ دورہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی ازسر نو تشکیل کے ساتھ علاقائی صورتحال میں بھی نئی نہج کی نشاندہی کرے گا۔
یہ محض حسن اتفاق ہے کہ عین اس موقع پر جب نومنتخب وزیراعظم وزیر دفاع، وزیر خارجہ، وزیر خزانہ اور وزیر اطلاعات کے ساتھ جی ایچ کیو کا دورہ کر رہے تھے جہاں انہیں دیگر معلومات کے ساتھ علاقائی صورتحال پر آٹھ گھنٹے طویل بریفنگ دی گئی، امریکی حکام کی طرف سے یہ بیان بھی اخبارات کی زینت بنا۔ امریکی نائب وزیر دفاع نے کہا:
امریکا عمران خان کو بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کیلئے موقع دینا چاہتاہے۔
پاکستان کے حوالے سے امریکا کی موجودہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔
امریکا ناکام پاکستان میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔
چین سمیت کسی بھی دیگر ملک کے سامنے پاکستان نہ جھکے، معاشی صورتحال سمیت دیگر مسائل سے نبٹنے کیلئے پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
اسلام آباد میں متعدد نئی حکومتیںاقتدار میں آئیں، وہ بھارت سے تعلقات بہتر بنانا چاہتی تھیں جس کے بعد انہیں حقائق اور مشکلات کا سامنا ہوا۔
ادھر پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ:
پاکستان بھارت کے ساتھ متنازع امور کا خاتمہ چاہتا ہے، مثبت امور میں سیاسی پیش رفت کا خواہش مند ہے۔ پاک بھارت تعلقات میں وسیع خلیج پاٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پاک بھارت تجارت بڑا مسئلہ ہے، تجارتی پوائنٹ یا راہداری اس پوائنٹ کا چھوٹا مسئلہ ہے۔ کرتار پور بارڈر کھولنے کے مثبت نتائج ہو سکتے ہیں۔
بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ نے کہا کہ:
بھارت پاکستان سے نئے سرے سے تعلقات کا خواہاں ہے۔
ہم نے اپنے پڑھنے والوں کو یہ باور کرانے کی ہمیشہ کوشش کرتے رہے ہیں کہ:
اس خطے میں امریکا کی اولین ترجیح افغانستان اور وسطی ایشیا کے معدنی ذخائر اور تیل پر قبضہ اور ان کی بھارتی مارکیٹ میں ترسیل رہی ہے، اسی کے لیے سوویت یونین کے ساتھ جہاد شروع ہوا جس میں پاکستان نے اہم اور بنیادی کردار ادا کیا تھا۔
اس دوران میں چین ایک نئی اقتصادی قوت کے طور پر سامنے آیا اس نے بھی بیرونی مارکیٹوں تک رسائی شروع کر دی۔ ظاہر ہے جب اقتصادی قوت حاصل ہو جاتی ہے تو پھر دفاعی ترجیحات بھی تبدیل ہوتی ہیں اور اس تناظر میں نئے تعلقات بھی استوار ہوتے ہیں، پاکستان کے ساتھ دوستی کا ایک پہلو یہ بھی ہے۔ پاکستان نے بھی اسی پس منظر میں چین کو اولیت دی اور تکنیکی تعاون حاصل کیا۔ اپنے چھوٹے جنگی جہاز بھی بنائے اور ابتدائی اسلحہ بھی تیار کیا۔ یادرہے کہ پاکستان امریکی اسلحہ کا بہت بڑا خریدار تھا۔
چین نے گوادر کی بندرگار کے ذریعے مشرق وسطیٰ اور افریقا کی مارکیٹوں تک رسائی کی منصوبہ بندی کی، اس کے عوض 62 ارب ڈالر کا سی پیک منصوبہ بھی دیا۔ چینی صوبہ سنکیانگ سے گوادر تک راہداری بچھانے کے ساتھ سالانہ پانچ ارب ڈالر کے محصولات دینے کا وعدہ بھی کیا۔ انڈسٹریل زون بنانے اور پاور پلانٹس لگانے کا معاہدہ بھی کیا جس سے پاکستان کی معیشت اور معاشرت کی ترقی کے واضح امکانات بھی پیدا ہوئے۔ دوسری طرف وسطی ایشیا سے آنے والی آئل اور گیس پائپ لائن جو بھارت جانا تھی وہ تمام تر کوششوں اور ایم او یوز سائن ہونے کے باوجود تکمیل کے ابتدائی مراحل سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ اسی کیلئے امریکا نے تین ہزار ٹریلین ڈالر خرچ کیے، افغانستان پر قبضہ کیا، ہزاروں انسانوں کو موت کے حوالے کیا مگر:
چونکہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات بہتر نہیں تھے، مسئلہ کشمیر کے ساتھ بہت سارے دیگر تنازعات بھی موجود تھے۔ بھارت انہیں نظر انداز کر کے یا پھر انہیں اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق حل کر کے آپسی تجارت کے ساتھ راہداری کی سہولتیں حاصل کرناچاہتا تھا جس پر پاکستان رضامند نہیں تھا۔ پاکستان نے بین الاقوامی قوتوں خصوصاً امریکا اور برطانیہ کو ان تنازعات کو ختم کرانے کو کئی بار کہا لیکن یہ ممالک علاقائی، سیاسی، معاشی مفادات کے تابع بھارت کے بجائے پاکستان پر ہی دبائو ڈالتے رہے۔
چین کے نئی اقتصادی اور ایشیائی سیاسی قوت بن کر ابھرنے کے باعث امریکا ، برطانیہ و دیگر سرمایہ داروں کی علاقائی دفاعی ترجیحات میں بھی تبدیلی آئی۔ انہوں نے بھارت کو چین کے بالمقابل ایشیائی قوت کے طور پر نمایاں کر کے اپنا اتحادی بنایا، مختلف بین الاقوامی تنظیموں میں اسے شامل کیا۔ امریکا نے مشرق وسطیٰ سے جنوب مشرقی ایشیا تک ’’بحری کمانڈ‘‘ میں پہلے اسے شامل کیاپھر اس کا مکمل کنٹرول دینے کا اعلان کر دیا۔ گویا اب اگر اس تناظر میں دیکھا جائے تو بھارت بحر ہند سے آسٹریلوی سمندر تک کی واحد ’’دفاعی قوت‘‘ ہے۔ برصغیر میں اس کیلئے صرف پاکستان ہی سب سے بڑا چیلنج ہے جو اس کی علاقائی ہی نہیں، بین الاقوامی پوزیشن کیلئے بھی بہت بڑا خطرہ ہے جو امریکی سیاسی، اقتصادی اور علاقائی منصوبہ بندی کیلئے بہت بڑا سوالیہ نشان بنا ہواہے۔ مزید یہ کہ پاکستان نے گزشتہ کچھ عرصہ میں روس کے ساتھ تعلقات بھی بہتر بنا لیے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی اور اقتصادی تعاون میں پیش رفت ہوئی ہے۔ پاکستان اورایران کے درمیان تعلقات بھی مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیںجنہیں چند سال سے بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ نے مبینہ طور پر خاص منصوبہ کے تحت خراب کرنے کی کوشش کی تھی۔ کل بھوشن درپردہ اس سلسلے میں بھی اپنا کام کرتا رہا تھا۔
بہرحال، اس وقت کے منظرنامہ میں چین، روس، ایران اور پاکستان ایشیائی صورتحال میں متحد اور متفق نظر آتے ہیں لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ان میں پاکستان اقتصادی طور پر سب سے کمزور ملک ہے۔ اسے آگے بڑھنے کیلئے معاشی استحکام کی ضرورت ہے جس کیلئے وہ ابتدائی مرحلے میں سیاسی اور انتظامی شعبے میں کرپشن اور بدعنوانی کا خاتمہ کر کے داخلی معاشی نظام بہتر کر کے وسائلِ پیداوار میں اضافہ کرنا چاہتا ہے۔ اس پر واضح ہو چکاہے کہ عالمی قوتوں اور سرمایہ دار ملکوں کے کٹھ پتلی مالیاتی ادارے بآسانی تعاون نہیں کریں گے لہٰذا اس دبائو سے بچنے کیلئے داخلی معاشی نظام کی درستی پر تمام توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ عدالت اور نیب کا موجودہ کردار بھی اسی سمت کی نشاندہی کرتا ہے۔
لیکن دوسری طرف بین الاقوامی قوتیں سمجھتی ہیں کہ پاکستان کی سیاسی قوتیں عالمی ترجیحات کو بہتر سمجھتی ہیں اور وہ علاقائی امن کو اولیت دیتی ہیں، پڑوسی ملکوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات استوار کرنا چاہتی ہیں خصوصاً بھارت اور افغانستان کے ساتھ مگر…!! افغانستان میں تو اب بالواسطہ امریکی حکومت ہے جبکہ بھارت بھی علاقائی پارٹنر کے طور پر اس میں شامل ہے۔ گویا افغانستان میں دونوں ملکوں کی پالیسیاں اور منصوبہ بندیاں علاقائی اور بین الاقوامی ترجیحات حکمران ہیں اور وہ اپنی بالادستی قائم کرنا چاہتی ہیں۔ امریکا کی طرف سے بھارت کے ساتھ تعلقات کی بہتری کا دبائو اسی پس منظر میں ہے اور وہ نئی حکومت سے توقعات کی اوٹ میں واضح پیغام دے رہی ہیں، جو کسی خطرے سے کم نہیں۔
بہرحال اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ اس وقت امریکا ایک زخمی سانپ کی طرح پھنک رہا ہے، اس کی پھنکار امریکی نائب وزیر دفاع 
کے مذکورہ بالا بیان میں سونگھی اور محسوس کی جا سکتی ہے۔ ویسے تو یہ کوئی نئی بات نہیں، پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایسی پھنکاریں پہلے بھی محسوس کی گئی تھیں۔ یہ الگ بات کہ اس سے بچنے کیلئے ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے تعاون کی راہ تلاش کر لی گئی تھی اور پھر جس نے کوئلوں کی دلالی میں منہ کالا ہونے کا شکوہ کیا تھااسی افغانستان میں عملاً سٹریٹجک ڈیپتھ تلاش کرنا شروع کی تھی۔ ایک ہوائی جہاز فضائوں میں پھٹ گیا تھا، اس میں دو درجن سے زائد ہمارے اعلیٰ فوجی جرنیل بھی تھے۔ لیکن آج کی صداقت یہی ہے کہ آج ہماری فوجی قیادت افغانستان میں قربانی کا بکرا بن کر فخر کرنے والی نہیں بلکہ اس پالیسی کے مابعد اثرات سے لڑنے والی ہے۔ اسی کی وجہ سے دہشت گردی کا خاتمہ ہوا ہے۔ آپریشن ضرب عضب اور رد الفساد کامیابیوں سے ہمکنار ہو رہے ہیں۔ یہ وہ فوجی قیادت ہے جو اپنے عزم میں پُرجوش بھی ہے اور حالات کا گہرا ادراک بھی رکھتی ہے۔ یقیناً وہ دشمن کو کمزور سمجھ کر کسی غلطی اور کوتاہی کا مظاہرہ نہیں کرے گی۔
پھر بھی اس تلخ حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ستر سال کی رفاقت میں جو اثرات گہرائیوں تک اتر چکے ہیں اس کا مظاہرہ اسامہ بن لادن آپریشن کی صورت میں ہو چکا ہے۔ چنانچہ کسی وقت کوئی بھی سانحہ پاکستانی قوم کو حیرانی اور پریشانی کا سامان مہیا کر سکتا ہے اس لیے محتاط ہی نہیں چوکس اور ہوشیار رہنے کی اشد ضرورت ہے، خصوصاً سیاسی قیادت کو…!
بقیہ: پس حرف