20 نومبر 2018
تازہ ترین

ریوارڈ سے ایوارڈ تک ریوارڈ سے ایوارڈ تک

کوئی اس بات کو تسلیم کرے یا نہ کرے لیکن حقیقت یہی ہے کہ موجودہ حکومت ہر روز کوئی نہ کوئی فیصلہ یا اقدام ایسا ضرور کرتی ہے جو عوام کی توجہ بلکہ تحسین کا مرکز بن جاتا ہے۔ حال ہی میں ایسے ہی ایک فیصلے پر مبنی یہ خبر میری توجہ اور تحسین حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی جس کے مطابق وفاقی حکومت نے رواں مالی سال 2018-19ء کی بجٹ سازی پر ریوارڈ کے نام پر 40 کروڑ روپے کی بندربانٹ کا نوٹس لے لیا ہے اور وزارت خزانہ نے ایف بی آر سمیت دیگر وزارتوں اور ڈویژنوں میں ہونے والی اس بندر بانٹ کی تحقیقات کرکے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنے اور افسران و حکام سے غیر قانونی طور پر حاصل کردہ قومی دولت واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ واقفان حال نے بتایا کہ رواں مالی سال کی بجٹ کے بعد وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے تمام سرکاری ملازمین کے لیے تین ماہ کی تنخواہ بطور اعزازیہ دینے کی منظوری دی تھی، جس کی بعد میں وضاحت کی گئی تھی کہ یہ صرف ان وزارتوں و ڈویژنوں کے افسران و ملازمین کو ملے گا جنہوں نے بجٹ سازی میں حصہ لیا۔ ایف بی آر میں یہ رقم کسی کو ایک بنیادی تنخواہ تو کسی کو 8,8 اور 10,10 بنیادی تنخواہوں کی صورت میں تقسیم کی گئی جبکہ بعض ممبران کو 25,25 لاکھ روپے ریوارڈ کی صورت ادا کیے گئے۔ اب وزارت خزانہ نے قومی خزانے سے بھاری رقم کی بندر بانٹ کا نوٹس لے لیا ہے اور معاملہ کی جامع انکوائری کرا کر ذمہ داروں کا تعین کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور نا صرف ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی بلکہ بندر بانٹ کی نذر ہونے والی تمام اضافی 
رقم ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتی کی صورت واپس لیے جانے کا بھی امکان ہے البتہ جو جائز ریوارڈ بنتا ہوگا صرف وہی رقم ملازمین کو دی جائے گی اور اضافی رقم واپس لے لی جائے گی۔ 
قارئین خود محسوس کر سکتے ہیں کہ مذکورہ بالا خبر ہر اعتبار سے فکرانگیز اور قابل غور ہے۔ ایک پہلو یہ بھی ہے کہ بجٹ سازی کے باب میں جن سرکاری ملازمین نے حصہ لیا، کیا وہ اپنی تنخواہ وصول نہیں کرتے۔ فی الجملہ کہا جا سکتا ہے کہ ان ملازمین نے ایک کام کرنے کا معاوضہ دو مرتبہ وصول کیا یعنی اپنی تنخواہ بھی حاصل کی اور ریوارڈ کے نام پر بھاری رقوم بھی اپنی جیب میں ڈال لی۔ یہ بات بھی مدنظر رہے کہ عوام میں یہ تاثر بھی موجود ہے کہ سرکاری ملازمین میں سب سے زیادہ اذیت پسند ملازمین کا تعلق مالیات اور خزانے سے ہوتا ہے۔ ان لوگوں کی نفسیات کچھ ایسی بن جاتی ہے یا بنا دی جاتی ہے کہ وہ سرکاری پیسے کو اور قوم خزانے کو اپنی ذاتی ملکیت تصور کرتے ہیں۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ وہ دوسروں کو رقم کی ادائیگی کے وقت تو قواعد و ضوابط اور معیارات کو ایک کسوٹی کا درجہ دیتے ہیں لیکن جب معاملہ اپنے مفادات کو ہو تو وہ درپیش قوانین کو موم کی ناک خیال کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ جب کوئی سائل یا درخواست گزار ان سے رجوع کرتا ہے یا ان تک رسائی حاصل کرتا ہے تو وہ اس کے ساتھ یوں پیش آتے ہیں جیسے کوئی آقا اپنے غلام کے ساتھ پیش آتا ہوگا۔ یہ صورتحال اس وقت اپنے عروج پر دکھائی دیتی ہے جب معاملہ کسی ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن یا دیگر واجبات کی ادائیگی کا ہو۔ ظاہر ہے کہ سرکاری واجبات کی ادائیگی اور مالیات کی فراہمی کا بیشتر کام اے جی پی آر میں ہی انجام پاتا ہے لہٰذا ایک عامی کے لیے یہ مشاہدہ بڑی حد تک اور بجا طور پر ذہنی کوفت کا باعث بنتا ہے کہ اے جی پی آر کے دفتر کی غلام گردشوں اور اردگرد ایسے بے شمار افراد بے بسی اور کسمپرسی کی تصویر بنے گھومتے پھرتے ہیں جو کچھ عرصہ پہلے ایسے ہی کسی دفتر میں بڑے کر و فر کے ساتھ ہوا کے گھوڑے پر سوار ہوا کرتے تھے۔
مالیات اور اس سے متعلقہ امور کو نمٹانے والے اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد کا عمومی رویہ دراصل ابن صفی کسی ناول کے جاسوس ہیرو کی طرح ’’ہر طرح کے جذبات سے عاری‘‘ دیکھا جاتا ہے۔ فی الجملہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ لوگ معروضی حالات اور زمینی حقائق کی پروا کیے بغیر بس مکھی پہ مکھی مارتے چلے جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں یہ امر نہایت قابل ذکر ہے کہ وطن عزیز کے کئی اہل قلم اور اہل دانش کو ان کے تحریر کردہ ان مضامین کے معاوضے کی ادائیگی آج تک نہیں ہو سکی جو مضامین وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات کے زیر اہتمام لاہور سے شائع ہونے والے ایک میگزین کے فروری کے شمارے میں شامل رہے۔ اس کا سبب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ جس اہلکار نے مذکورہ مضامین کے بل تیار کیے تھے اس بل کی مالیت ایک لاکھ روپے سے زائد ہوگئی جس پر اے جی پی آر نے اعتراض کرتے ہوئے ادائیگی روک دیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس غلطی کا ارتکاب کرنے والے اہلکار کی بازپرس کرتے ہوئے اس کی تنخواہ روک دی جاتی لیکن ہوا یہ کہ سرکاری ملازمین تو حسب معمول اپنی تنخواہ اور مالی مفادات حاصل کر رہے ہیں لیکن مضمون نگار گزشتہ 6 ماہ سے پریشانی اور مایوسی سے دوچار ہیں۔
یادش بخیر ! وزارت خزانہ اور مالیات کے حوالے سے غلام اسحاق خان (مرحوم) کا نام اب ایک اساطیری حوالہ بن چکا ہے۔ ان کے ذاتی کوائف سے آگاہ لوگ جانتے ہیں کہ خان صاحب نے اپنی ملازمت کا آغاز مالیات کے شعبے سے ہی کیا تھا۔ وہ بنیادی طور پر سائنس کے طالب علم تھے اور ڈاکٹر بننا چاہتے تھے لیکن گردش ماہ و سال نے انہیں اپنا راستہ تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا۔ وہ حسابات اور اعداد و شمار کی دنیا میں کچھ ایسے داخل ہوئے کہ ان کو دوبارہ پلٹ کر جانے کا یارا نہ رہا۔انہوں نے متعدد مرتبہ وفاقی بجٹ کی تیاری میں کلیدی کردار ادا کیا اور وہ اس سلسلے میں ہندسوں سے یوں کھیلتے تھے کہ عوام حیران و ششدر ہو کر رہ جاتی تھی۔ اسی تناظر میں کسی ستم ظریف کا یہ تبصرہ بے حد مقبول ہوا کہ غلام اسحاق خان 2+2-2 کا فارمولہ استعمال کرتے ہوئے بجٹ تیار کرتے ہیں جس کے نتیجے میں عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ خان صاحب اس اعتبار سے بڑے خوش قسمت رہے کہ ان کی کنجوسی کو بچت تصور کیا گیا لیکن وہ اس اعتبار سے تنقید کا نشانہ بھی بنے کہ ان کی بچت پر کنجوسی کا تاثر نہایت گہرا رہا۔ اگرچہ خان صاحب انتہائی نرم دل اور خوف خدا رکھنے والے تھے لیکن (شاید) قومی خزانے اور مالی امور سے قربت نے ان کی قلبی کیفیت کو بڑی حد تک تبدیل کر دیا تھا۔ اس کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ وہ ایک طرف تو کلاسیکل موسیقی اور شاعری سے رغبت رکھتے تھے لیکن اس کے ساتھ ہی وہ بجٹ تیاری کے باب میں انتہائی سخت گیر دکھائی دیتے تھے۔ اس کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ جب اسلام آباد میں سرکاری ملازمین کو سرکاری کوارٹرز کے ملکیتی حقوق دینے کی تجویز خان صاحب کے سامنے رکھی گئی تو موصوف نے جواب دیا کہ کیا میری ریٹائرمنٹ کے بعد مجھے ایوان صدر الاٹ کر دیا جائے گا۔
ریوارڈ کی بات چل نکلی ہے تو دھیان ایوارڈ کی طرف بھی آن پڑا۔ اس سلسلے میں یہ تاثر یا خدشہ اب یقین کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے کہ سول ایوارڈز اب میرٹ کے بجائے ذاتی تعلقات، سفارشات اور سیاسی وابستگی کی بنیاد پر دیے جاتے ہیں۔ شاید اس کا ایک سبب یہ ہے کہ اس سلسلے میں ارباب نشاط کی پذیرائی کا سلسلہ تو حسب سابق جاری ہے لیکن ارباب دانش و ادب خود کو بے یارو مددگار خیال کرتے ہیں۔ اب تو وہ خوش فہمی بھی نہیں رہی جس کا اظہار احمد ندیم قاسمی (مرحوم) نے یوں کیا تھا:
عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہل وطن
یہ الگ بات کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ