22 اکتوبر 2019
تازہ ترین

ریاست پاکستان اور ہزارہ برادری ریاست پاکستان اور ہزارہ برادری

’’ہزارہ‘‘ پاکستان کا ایک انتہائی مختصر سا نسلی گروہ ہے جسے ملک میں دہشت گردی کی لہر کے نتیجے میں شدید جانی نقصان اٹھانا پڑا ۔ آج بھی دہشت گردوں کے دانت کھٹے کرنے اور ان کی کمر توڑنے کے دعووں کی گونج میں ہزارہ برادری دہشت گردی کے تازہ ترین واقعہ میں شہید ہونے والے اپنے پیاروں کی لاشوں کو سڑک پر رکھ کر نوحہ کناں نظر آ رہی ہے۔ دہشت گردی کے اس واقعہ میں 20 شہید اور 48 زخمی ہونے والوں میں سے اکثریت کا تعلق ہزارہ برادری سے ہے۔ اس واقعہ میں شہید ہونے والوں میں ہزارہ لوگوں کی سکیورٹی پر مامور ایک ایف سی اہلکار بھی شامل ہے۔ ایف سی اہلکار کی شہادت اس بات کا ثبوت ہے کہ آئے روز دہشت گردوں کا شکار بننے والے ہزارہ لوگوں کی حفاظت کے لیے حکومت نے کچھ نہ کچھ بندوبست کرنے کی کوشش تو ضرور کر رکھی تھی۔ واضح رہے کہ ہزارہ برادری کے تحفظ کے لیے سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کو صرف اسی صورت قابل اطمینان سمجھا جا سکتا ہے اگر وہ دہشت گرد کو روکنے اور حفاظت فراہم کرنے کے اپنے مقصد میں کامیاب دکھائی دے۔ اس کے بجائے اگر ہزارہ آئے روز دہشت گردوں کا نشانہ بنتے رہیں گے تو وہ سکیورٹی کے ہونے یا نہ ہونے کو ایک برابر ہی سمجھیں گے۔
2001 میں دہشت گردی کے واقعات کے آغاز کے بعد کوئی برس ایسا نہیں گزرا جس میں ہزارہ برادری کو دہشت گردوںکے ہاتھوں شہید ہونیوالے اپنے پیاروں کی لاشیں نہ اٹھانا پڑی ہوں۔ اس بات کی مثال دیتے ہوئے یہاں صرف دہشت گردی کے بڑے واقعات کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ 4 جولائی 2003 کو مسجد میں ہونیوالے بم دھماکے میں 55 ہزارہ شہید اور 150 زخمی ہوئے۔ 2 مارچ 2004 کو ایک ماتمی جلوس پر کی گئی اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں 60 لوگ شہید اور تقریباً 100 شدید زخمی ہوئے۔ 3 ستمبر 2010 کو کوئٹہ میں ایک جلوس کے دوران ہونے بم دھماکے سے 73 لوگ شہید اور 206 زخمی ہوئے۔ 6 مئی 2011 کی صبح ہزارہ برادری کے لیے اس وقت انتہائی بھیانک ثابت ہوئی جب ایک راکٹ لانچر کے ذریعے گراؤنڈ میں کھیلنے والے ان کے بچوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس راکٹ لانچر حملے میں بچوں سمیت 8 لوگ شہید اور 15 زخمی ہوئے۔ 16 جون 2011 کو اولمپک گیمز میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے ہزارہ باکسر ابرار حسین کو قتل کر دیا گیا۔ اگست 2011 میں عید الضحیٰ کے روز عید گاہ گراؤنڈ میں 13 ہزارہ لوگوں کو خود کش حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ 20 ستمبر 2011 کو تفتان جانے والی بس میں سے 26 کے قریب ہزارہ زائرین کو اتار کر گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔
 ان بڑے واقعات کے علاوہ بھی 2011 میں ہزارہ لوگوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ 2012 میں شاید ہی کوئی مہینہ ایسا گزرا ہو جس میں ہزارہ برادری دہشت گردی کے واقعات سے محفوظ رہی ہو۔ ان میں سے دہشت گردی کا بڑا واقعہ 28 جون کو اس وقت رونما ہوا جب ہزارہ زائرین کی اکثریت پر مشتمل 60 مسافروں کو ایران سے واپس لانے والی بس کو خود کش حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ اس خود کش حملے میں 
15 زائرین شہید اور 45 زخمی ہوئے۔ شہید اور زخمی ہونے والوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔ سال 2013 کے جنوری، فروری اور جون کے مہینے ہزارہ برادری کے لیے کسی طرح بھی قیامت سے کم نہیں تھے۔ 10 جنوری 2013 کو علمدار روڈ پر یکے بعد دیگر ہونے والے4 بم دھماکوں کے نتیجے میں 115 ہزارہ شہید اور 270 شدید زخمی ہوئے۔ 16 فروری 2013 کو ہزارہ ٹاؤن کے قریب واقع کیرانی روڈ پر ہونے والے بم دھماکے میں 70 ہزارہ شہید اور 180 زخمی ہوئے۔ 30 جون 2013 کو ہزارہ ٹاؤن کے علی آباد محلہ میں کیے گئے خود کش حملہ میں عورتوں اور بچوں سمیت 33 ہزارہ شہید اور 70 زخمی ہوئے۔ جنوری 2014 میں مستونگ کے قریب زائرین کی بس، جس میں ہزارہ لوگوں کی اکثریت تھی، پر خود کش حملے میں 28 لوگ شہید ہوئے۔ 23 اکتوبر 2014 کو ٹارگٹ بنا کر 8 ہزارہ لوگوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ حکومت 
بلوچستان کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق جنوری 2012 سے دسمبر 2017 کے دوران ہونیوالے دہشت گردی کے مختلف حملوں کے نتیجے میں 509 ہزارہ شہید اور 627 زخمی ہوئے۔ ہزارہ برادری کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے لوگوں کی شہادتوں کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔
 اس میں کوئی شک نہیں کہ آپریشن ضرب عضب اور ردالفساد کے بعد ہزارہ برادری پر ہونے والے دہشت گرد حملوں میں پہلے جیسی شدت نہیں رہی لیکن ان آپریشنوں کے دوران بھی ہزارہ لوگوں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ 2015 میں 10 ہزارہ لوگ 2016 میں آٹھ، 2017 میں  20 اور 2018 میں 6 ہزارہ لوگوں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ بات حیران کن ہے کہ حفاظتی اقدامات کے اعلانات کے باوجود دہشت گردوں نے ہر دور میں کبھی خود کش دھماکوں اور کبھی ٹارگٹ کلنگ کی صورت میں ہزارہ برادری کو نشانہ بنایا۔ اس وقت یہ بات ریاست اور ریاستی اداروں کے لیے بہت زیادہ تشویش ناک ہونی چاہیے کہ چند برس صرف ٹارگٹ کلنگ کے حملوں تک محدود رہنے کے بعد دہشت گردوں نے ایک طرح سے یہ اعلان کر دیا ہے کہ وہ پھر سے اس قدر طاقتور اور با اثر اور با رسوخ ہو گئے ہیں کہ تمام حفاظتی حصاروں کو عبور کرتے ہوئے اپنے ٹارگٹ کو خود کش حملوں کا نشانہ بنا سکتے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ہزارہ برادری ہی نہیں عام لوگوں میں بھی دہشت گردوں کا خوف کم اور ریاست و ریاستی اداروں پر اعتماد میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ اب ہزار گنجی کے دہشت گرد حملے کے بعد کی صورتحال یہ ہے کہ ہزارہ برادری تشویش اور خوف کی کیفیت میں ویسٹرن بائی پاس پر سراپا احتجاج ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ان کے احتجاج کے باوجود ریاست کی طرف سے ان کی داد رسی کی کوئی کوشش نظر نہیں آ رہی۔ ریاست کے اعلیٰ ترین عہدیداروں کا یہ فرض ہے کہ وہ ہزارہ برادری کے ریاست پر شکستہ ہوتے ہوئے اعتماد کو بحال کرنے کی کوشش کریں۔ ان کی اس کوشش سے یہ پیغام جائے گا کہ دہشت گرد اگر چہ وقتی طور پر اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہو گئے ہیں مگر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ریاست کے عزم میں اب بھی کمی نہیں آئی۔ اس طرح کے مثبت کام کے بجائے اگر اعلیٰ ریاستی عہدیدار حسب سابق دہشت گردوں کو للکارنے سے گریز کرتے رہیں گے تو عوام ان کے موجودہ رویوں کو ان کے سابقہ کردار کا تسلسل سمجھنے پر مجبور ہونگے۔