21 نومبر 2018
تازہ ترین

ریاستی اختیار کو ثابت کیا جائے ریاستی اختیار کو ثابت کیا جائے

ہفتہ رفتہ ملک کے طول و عرض میں جو ہنگامہ برپا رہا اس نے ہمارے قومی وجود کو لاحق امراض کی شدت میں مزید بڑھاوا دے کر ریاست کے ضعف اور نقاہت کو آشکار کر دیا۔ غیر ریاستی عناصر کا ریاست کو یر غمال بنانا او ر ریاستی اداروں کے خلاف یاوہ گوئی کرنا ہمارے لیے کچھ نیا نہیں کہ جیسے اس افتاد کے اچانک ہمارے سروں پر ٹوٹنے سے ہم سراسیمگی اور بد حواسی کا شکار ہو جائیں۔ماضی بعید کے اوراق پلٹنے کی بجائے فقط نئی صدی کی شروع ہونے سے لے کر آج تک کے واقعات کو ملاحظہ کر لیں تو غیر ریاستی عناصر کے منہ زور اور اشتعال انگیز نظریات کے سامنے ریاست کیسے سوکھے پتے کی طرح کانپتی رہی ۔
 جب طالبان کے آتشیں نظریات نے اس ملک کے گلی کوچوں میں آگ لگائی تو ریاست نے اس وقت بھی خود سپردگی کی کیفیت میں مبتلا ہو کر اپنے آپ کو ان منہ زور جتھوں اور ان کے شدت پسندانہ نظریات کے سامنے ڈھیر کر دیا جو آئین پاکستان، ریاستی اداروں اور اس پورے جمہوری اور سیاسی بندوبست پر تکفیر کی سرخ سیاہی سے خط تنسیخ پھیر رہے تھے ۔ جب کبھی ریاست نے تھوڑی بہت انگڑائی لی تو یہ کہہ کر طالبان کے بہی خواہوں نے اسے تھپکیاں دے کر سلا دیا کہ ’’یہ اپنے لوگ ہیں ‘‘، ان سے صلح صفائی اور گفت و شنید کے ساتھ معاملات کو طے کرنے میں ہی ریاست اور اس میں بسنے والے کروڑہا افراد کی عافیت و بھلائی ہے۔ کئی معاہدوں کے ذریعے ان طالبانی جتھوں کو مراعات اور رعایتیں فراہم کی گئیں لیکن ان کے شدت پسندانہ نظریات نے ذرا بھر بھی کروٹ نہ بدلی ۔ انتہا پسندانہ سوچ میں لپٹے ہوئے ان نظریات کے لیے ریاستی اداروں پر کاری ضرب لگانا ہی ایک محبوب مشغلہ تھا اور وہ پوری قوت و طاقت سے ریاستی اداروں سے ٹکرا کر انہیں تہس نہس کرنے پر درپے رہے تاوقتیکہ کچھ ایسے سانحات نے جنم لیا جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ ریاستی اداروں نے ضعف اور مصلحت کیشی کی چادر اتار کر پرے پھینکی اورپورے قوت و اختیار سے ان عناصر سے ٹکرا گئی جو ریاست کے آئینی وجود اور اس کے سیاسی بندوبست پر تکفیر کے لیبل لگانے کے ساتھ ساتھ اس ملک میں بسنے والے کے خون سے بھی ہاتھ رنگیں کر رہے تھے۔ 
فارسی زبان کے معروف شاعر انوری نے اپنے گھر یعنی ’’خانہ انوری‘‘ کو تمام عالم میں بد قسمت قرار دیا تھا ۔ انوری کے بقول جو بھی بلا آسمان سے نازل ہوتی ہے وہ سیدھا ’’خانہ انوری ‘‘ میں ڈیرے جما لیتی ہے۔ پاکستان بھی ’’خانہ انوری‘‘ کے سے مقدر کا حامل ایک بد قسمت ملک ہے کہ بلائیں اور عفریت اس کا پیچھا چھوڑنے پر راضی ہی نہیں۔ ایک عذاب سے نکلے تو دوسرے میں جا پھنسے ۔ ہماری قسمت تو ایسی بھی نہیں کہ ’’کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے‘‘ ۔ ہماری قسمت میں سوئے دار ہی ہیں کہ غیر ریاستی عناصر نت نئی شکلوں میں ظہور پذیر ہو کر ہمیں خوف زدہ کرنے پر کمربستہ ہیں۔ طالبان کے شدت پسندانہ نظریات اور رجحانات سے ریاست نے نمٹ کر اس ملک میں عافیت و سکون کی چند گھڑیاں فراہم کی ہی تھیں کہ غیر ریاستی عناصر کی ایک نئی سوچ اور شکل ریاست پر پوری قوت سے حملہ آور ہو چکی ہے۔ ریاست کا آئین اسلامی ہے جس میں قرآن و سنت کے متصادم کسی قانون سازی کی قطعی طور پر اجازت نہیں ۔ عدلیہ قرآن و سنت کے تابع اسی آئین کی تشریح کے فرض کی ادائیگی پر مامور ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انتظامیہ کے تابع فرمان ادارے بھی اسی آئین پر عمل پیرا ہونے کا با رہا اعادہ کرتے رہتے ہیں ۔تاہم شدت پسندانہ نظریات کی ایک نئی فصل نے اس ملک میں جس طرح سر اٹھا کر ریاست کے اداروں پر تکفیر کے فتوے لگائے ہیں وہ اس حقیقت کا غماز ہے کہ انتہاپسندانہ سوچ اور فکر کی جڑیں بہت گہرائی میں موجود ہیں۔ 
مذہب کی مقتدر ترین ہستیوں کے بارے میں تضحیک آمیز کلمات ادا کرنا کسی بھی ایسے شخص کے ذہن میں نہیں آسکتا جس کے اندر انسانیت کی ہلکی سی رمق بھی موجود ہو۔ اگر کچھ بیمار اذہان اس نوع کی گستاخی کرتے ہیں تو اس کے لیے پورا ایک قانونی بندوبست موجود ہے کہ ان سے کیسے نمٹا جائے اور انہیں تادیب و سزا کے کٹھن مراحل میں ڈالا جائے۔ کسی بھی مذہب معاشرے میں عدالتیں ہی اس نوع کے معاملات کو دیکھتی ہیں اور اس پر جزا و سزا کا فیصلہ سناتی ہیں۔ سڑکوں اور چوراہوں پر ایسے حساس نوعیت کے معاملات کے کیس تو نمٹنے سے رہے۔ عدالت عظمیٰ نے ایک فیصلہ سنایا جس سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے خلاف احتجاج اس نوع کی شدت اختیار کر لے کہ جس میں ریاستی اداروں کو ہدف تنقید بنا کر تکفیر کے فتوے بانٹے جائیں اور پھر ریاست بھی کمزوری کا اظہا ر کران سے معاہدے کرنے لگے تو یقیناً اس ملک کے مستقبل پر سوالا ت اٹھنے لگیں گے۔ وزیر اعظم عمران خان نے ایک دلیرانہ اعلان کے بعد مصلحتوں کا شکار ہو کر جو معاہدہ کیا وہ شاید ایک کڑوی گولی تھی جو انہیں نگلنے پڑی۔ اس ملک میں ہمیشہ ان غیر ریاستی عناصر نے ریاست کے اداروں کو نشانہ بنایا جو پاپولر ووٹ کے ذریعے اقتدار میں آنے سے قاصر ہیں۔ یہ غیر ریاستی عناصر ماضی، حال اور مستقبل کی طرح ریاست اور اس کے اداروں کو یر غمال بنا کر اپنے ایجنڈے پر عمل پیر ا ہوتے رہیں گے ۔ یہ اس ملک کی قومی دھارے جماعتوں جس میں نمایاں تر تحریک انصاف، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز ہیں کہ وہ کم از کم ایک نکاتی ایجنڈے پر متفق ہو کر جدو جہد کریں کہ غیر ریاستی عناصر کے خلاف وہ یک جان ہو کر ان کے عزائم کو ناکام بنائیں گے۔
وزیراعظم  عمران خان نے جب سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف پورے ملک کو مفلوج کرنے والوں کے خلاف سخت لہجہ اپنایا تو پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس سے پہلے غیر ریاستی عناصر کے خلاف سخت موقف کا اظہار کیا۔ نواز لیگ کی قیادت شاید ماضی میں ان غیر ریاستی عناصر کے ہاتھوں زخم کھانے کی وجہ سے خوفزدہ ہے یا کسی مصلحت کا شکار ہے کہ وہ دبے دبے الفاظ میں اپنے موقف کا اظہار کرنے پر مجبور پائی گئی۔ قومی دھارے کی ان تین بڑی جماعتوں کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ غیر ریاستی عناصر اور ان کے شدت پسندانہ نظریات کی بیخ کنی سے ہی ان کی سیاست او ر اس سے بڑھ کر ریاست کا مستقبل جڑا ہے جس پر کسی نوع کا سمجھوتہ ملک سے غداری کے مترادف ہے۔