13 اگست 2020

رہنمایان کانگرس میںاختلاف، اتحاد کی صورتیں رہنمایان کانگرس میںاختلاف، اتحاد کی صورتیں

25 مئی 1923ءکی تحریر
اب تک ملک کے سکون و جمود کے باوجود آٹھ ہزار رضاکار بھرتی ہو چکے ہیں اور پندرہ لاکھ کے قریب روپیہ بھی جمع ہو چکا ہے۔ اگر چند ماہ تک اتحاد ہند و و مسلم پر زور دیا جائے ا ور بھرتی اور فراہمی زر کی جانفشاں کوشش کی جائے تو پچاس ہزار رضاکار اور پچیس لاکھ روپے کی فراہمی کوئی بڑی بات نہیں۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ جہاںکہیں لوگ انفرادی خلاف ورزی قانون کیلئے طیار ہوں انہیں اجازت دے دی جائے کہ وہ اپنے صوبے کی مجلس کانگرس و مجلس خلافت سے منظوری لیکر اس مبارک کام کو شروع کر دیں تاکہ ایثار و قربانی کا نمونہ ملک کے پیش نظر رہے۔ہمارے وہ بھائی جو شرکتِ کونسل کے حامی ہورہے ہیں آخر پھر کانگرس کی اکثریت ہی میں آملیں گے کیونکہ مانٹیگو چیمسفرڈ کی اصلاحات کے ماتحت جو کونسلیں قائم ہیں ان میں یہ طاقت نہیں کہ احرار کے وجود کی متحمل ہوسکیں۔ جس وقت ہمارے بھائی کونسلوں سے ناکام ہوکر واپس آئیں گے اور خلاف ورزی قانون کے سوا اور کوئی چارہ کار انہیں نظر نہ آئے گا تو کانگرس کی جماعت اکثریت ان کے ساتھ متفق ہوکر خلاف ورزی کا اعلان عام کردے گی اور سارا ہندوستان ایک دم دفتری حکومت کے اقتدار کا مقابلہ کرنے کے لیے اٹھ کھڑا ہوگا۔
غرض جہاں تک ممکن ہو دونوں جماعتوں کےدرمیان تصادم کا کوئی امکان باقی نہ رہنا چاہئے۔ اگر شرکتِ کونسل کے حامی کسی شہر میں اپنے مقاصد کی تبلیغ و اشاعت کے لیے جائیں تو وہاں کی جماعت اکثریت بالکل خاموش رہے، نہ ان کے جلسوں میں شامل ہو، نہ ان کی مخالفت میں کوئی جلسہ منعقد کرے۔ اسی طرح جماعتِ اقلیت کا رویہ ہونا چاہئے۔ ہمیں امید واثق ہے کہ بمبئی کے ا جلاس میں ذی ہوش اور مدبر رہنما یان ملک کچھ اسی قسم کی راہ عمل تجویز کریں جس سے ملک کا بھلا ہو اور کانگرس کے وابستگان دامن کے درمیان کسی قسم کی کشمکش پیدا ہونے کا احتمال نہ رہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسٹر بونر لا کا استعفیٰ
قارئین کرام یہ خبر ملاحظہ فرما چکے ہوں گے کہ مسٹر بونرلا وزارت سے مستعفی ہوچکے ہیں۔ اس علیحدگی کی وجہ بیماری بیان کی جاتی ہے۔ بہت ممکن ہے کہ ایک وجہ یہ بھی ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ سیاسی میدانوں میں جسمانی صحت و مرض کو کبھی اہمیت نہیں دی گئی۔ البتہ ایسا ہمیشہ ہوا ہے کہ مختلف پیچیدہ مشکلات، حکمت عملی کی ناکامی یا کامیابی کی ؟؟، شرکائے کارو رفیقانِ راہ کی عدم رفاقت، مویدین کی قلت، ملک کے عدم اطمینان وغیرہ کو مرض، ناسازی طبیعت، خرابی مزاج اور نزاکتِ صحت کے نظر فریب نقاب پہنائے گئے ہیں اور استعفے دیئے گئے ہیں۔ بلاشبہ مسٹر بونرلا کے استعفے کے بھی ایسے وجوہ ہیں اور ان کے چھپانے کے لیے دنیا کو بتلادیا گیا ہے کہ صحت اچھی نہیں اور وہ وزارت کا کام انجام نہیں دے سکتے۔ مسٹر لائیڈ جارج کے شرانگیز وجود نے اپنی پیہم تباہ کاریوں اور مسلسل فتنہ زائیوں سے برطانیہ کو ہر سمت جن مشکلات میں الجھا دیا تھا ان سے اطمینان بخش طریقے پر عہدہ برا ہونے کے لیے مسٹر بونرلا جیسا نرم رو اور ملائم خو آدمی موزوں نہیں تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ انہیں ہر مقام پرناکامی ہوئی۔ نہ مصر کی حالت سدھری، نہ عراق کے معاملات روبہ اصلاح ہوئے ، نہ مشرق ادنیٰ میں سکون کی کوئی صورت پیدا ہوئی، نہ آئر لینڈ کی ہنگامہ خیزیوں کا دور ختم ہوا بلکہ فرانس کے روہر پر متصرف ہونے سے یورپی سیاسیات میں ایک نہایت اہم اور اضطراب انگیز مشکل اور پیدا ہوگئی جس نے اتحاد ثلاثہ کی بنیادیں ہلادیں اور فرانس و انگلستان میں انتہائی کشیدگی کے اسباب پید کردیئے۔ علاوہ ازیں روس سے بھی تعلقات خراب ہونے لگے۔ ایسی صورت میں مسٹر بونرلا ایسے عافیت پسند وجود کے لیے وزارت پر قائم رہنا نہایت مشکل تھا۔ مسٹر بونرلا کے بعد جدید وزیر کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ قریباً نصف درجن آدمیوں کے نام لیے جاتے ہیں۔ انہی میں ڈیوک آف ڈیونشائر (Devonshire) ، لارڈ بالفور اور یادش بخیر لارڈ کرزن بھی ہیں۔ لیکن ان اشخاص کے اس وقت تک کے جو کارنامے ہماے پیش نظر ہیں ان کی بنا پر بلاخوف تغلیط یہ دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ انگلستان کی کشتی تباہی خیر موجوں کے تھپیڑوں سے نہیں نکلے گی۔