21 اگست 2019
تازہ ترین

رہنمایانِ ملک کی پندرہ ہزار کی اپیل رہنمایانِ ملک کی پندرہ ہزار کی اپیل

(29نومبر 1923ء کی تحریر)
 کارکنانِ زمیندارؔ نے اس گرامی نامہ کو حسب ارشاد شایع کر دیا مگر بعدازاں اس کی نسبت معمولی سا تذکرہ بھی گوارا نہ کیا اور اپنے پاس سے دو ہزار کی تازہ ضمانت داخل کر کے اخبار کی اشاعت کا سلسلہ بدستور جاری رکھا۔ یہ ضمانت فروری 1922ء میں ضبط ہو گئی۔ اس اثنا میں مختلف اطراف سے زمیندارؔ کے کرم فرمائوں نے چندہ کی تحریک فرمائی۔ بار بار لکھا کہ اعانتی فنڈکھول دیا جائے بلکہ بعض اصحاب نے تو رقوم بھی بھیجنی شروع کر دیں مگر کارکنان زمیندارؔ نے ان تمام کرم فرمائوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے اصول کو قایم رکھا اور یہی کوشش کرتے رہے کہ حتیٰ الامکان قوم کیلئے بارِ خاطر نہ بنیں۔ اپریل 1922ء میں جدید قانون مطابع کے نفاذ پر ضمانتوں کا سلسلہ تو بند ہو گیا مگر مدیروں اور ناشروں کی گرفتاریوں میں ترقی ہو گئی۔ زمیندارؔ نے اس مصیبت کو بھی صابرانہ برداشت کیا اور فداکاران قوم یکے بعد دیگرے اس کی ذمہ داری کا بوجھ اٹھا اٹھا کر اپنے اپنے آپ کو قربانی کیلئے پیش کرتے گئے۔ اسی زمانے میں مسٹر آئس مونگر نے حضرت مولانا ظفر علی خان صاحب پر بہ حیثیت مالک اور برادر مکرم جناب مولوی عبدالمجید خان صاحب سالک پر بہ تہمتِ ادارت پندرہ ہزار کیلئے ازالہ حیثیت عرفی کا دعویٰ دائر کر دیا۔ اس قضیہ نامرضیہ کی تمام تفصیلات بھی ملک کے سامنے آ چکی ہیں اور یہ سب کو معلوم ہو چکا ہے کہ کس طرح عدالت نے پہلی پیشی کی ایک تاریخ مقرر کی لیکن حضرت مولانا اور جناب سالک میں سے کسی کو بھی اس تاریخ پر عدالت میں نہ لایا گیا اور تاریخ بدل دی گئی۔ دوسری تاریخ پر صرف حضرت مولانا کو منٹگمری جیل سے لایا گیا لیکن چونکہ اس مقدمہ کے دوسرے مدعا علیہ یعنی جناب سالک کو میانوالی جیل سے لانے کا کوئی انتظام نہ ہوا تھا اس لئے تاریخ پھر بدل دی گئی۔ ساتھ ہی عدالت کے کہنے پر زمیندارؔ کی طرف سے علیٰ الحساب پچاس روپے ہر دو حضرات کی آمد و رفت کے مصارف کیلئے جمع کر دیئے گئے۔ اس کے بعد جو تاریخ مقرر ہوئی اس پر دونوں حضرات میں سے کسی کو بھی نہ لایا گیا اور عدم پیروی کی بنا پر یکطرفہ ڈگری کر دی گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رہنمایانِ ملک کی پندرہ ہزار کی اپیل
یہ ایک کھلی ہوئی حقیقت تھی کہ حضرت مولانا اور جناب سالک دونوں مختلف جیل خانوں میں قید تھے اور مقررہ تاریخ پر ان کے عدالت میں حاضر ہونے کی یہی صورت تھی کہ عدالت ان کے منگوانے کاخود انتظام کرتی۔ ان کی آمد و رفت کے مصاف کیلئے روپیہ جمع کرا دیا گیا تھا۔ پھر پہلے حضرت مولانا کی ایک دفعہ اور جناب سالک کی دو دفعہ کی عدم حاضری کی وجہ سے تاریخ تبدیل ہو چکی تھی لیکن تیسری دفعہ عدالت نے خود اس بارہ میں کوئی انتظام نہ کیا بلکہ عدم حاضری اور عدم پیروی کے باعث دفعتاً یکطرفہ ڈگری کر دی۔ گویاکہ حضرت مولانا اور جناب سالک اپنے اپنے جیل خانوں میں مختار کل تھے اور ان کی آمد محض ان کی اپنی خواہش پر موقوف تھی۔ ڈگری کے بعد اس کی تنسیخ کیلئے درخواست پیش کی گئی وہ نامنظور ہوئی تو عدالت عالیہ میں ایک تو اس درخواست کی نامنظوری کے خلاف اپیل دائر کی گئی اور دوسری اس اصل فیصلے کے خلاف۔ عدالت عالیہ میںپہلے پہل اپیل کی سماعت ہوئی اور وہ نامنظور کر دی گئی۔ اسی اثنا میں مسٹر آئس مونگر کے کارندے عدالت ماتحت سے حضرت مولانا کی زمین، مکان، دفتر کے سامان اور اخبار کے منی آرڈروں کی قرقی اور ضبطی نیز سالک صاحب کے والد محترم کے مکان کی قرقی کے احکام لے چکے تھے۔ منی آرڈروں اورسامان کے خلاف مہتمم زمیندارؔ کی طرف سے عذر داری پیش ہوئی لیکن وہ بھی نامنظور کر دی گئی اور اب مسٹر آئس مونگر کے کارندے منی آرڈروں کی ضبطی کا سلسلہ شروع کر چکے ہیں۔ یہ واقعات ہیں اور یہ حالت ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اس صدمہ کے بعد زمیندارؔ کا جاری رہنا قطعاً ناممکن ہے اس لئے کہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ کارکنان زمیندارؔ اپنے خرچ پر اخبار شایع کر کے باہر بھیجتے جائیں اور مسٹر آئس مونگر ڈاکخانہ سے اس کے تمام منی آرڈروںکا روپیہ وصول کرتے جائیں۔ پندرہ ہزار روپے بلکہ معہ خرچ سولہ ہزار کی رقم زمیندارؔ کے پاس نہیں ہے جسے مسٹر آئس مونگر کے حوالے کر دیا جائے۔ اصل اپیل کی سماعت ابھی شروع نہیں ہوئی۔ اول تو یہ معلوم نہیں کہ اس کا فیصلہ کیا ہو لیکن کچھ بھی ہو اس کا فیصلہ اگر جلد سے جلد ہوا تو کم از کم دو سال میں ہوگا۔ اس نازک حالت میں اخبار کا جاری رہنا قطعاً ناممکن ہے۔