12 نومبر 2018

روہنگیا بحران کا ایک سال روہنگیا بحران کا ایک سال

 ایک سال کے بعد 7 لاکھ ر ر وہنگیا آبادی کی میانمار سے جبری بے دخلی پر اقوام متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کی رپورٹ بالآخر شائع ہو گئی۔  یہ رپورٹ توقع کے مطابق سخت ہے؛ اس میں میانمار کے سینئر جنرلوں کو نسل کشی کے جرم میںعالمی فوجداری عدالت کے حوالے کرنے کے علاوہ نوبل انعام یافتہ سول رہنما آنگ سان سوچی کی سخت سرزنش کی گئی ہے کہ وہ سخت عالمی تنقید کے باوجود اپنی فوج کا دفاع کرتی رہیں۔ اس رپورٹ کے بعد کیا عالمی برادری کے رویئے میں تبدیلی کی توقع کی جا سکتی ہے ؟ 
سال قبل میانمار فوج کی کاررائیاں نسل کشی قرار پانے کے باوجود مغربی رہنما میانمار سے توقع کررہے تھے کہ وہ داخلی سطح پرتحقیقات کرائے۔
 امریکا اور مغربی اتحادیوں نے شروع میں فوجی کمانڈ کے بعض افسروں پر محدود قسم کی پابندیاں بھی لگائیں جو براہ راست نسلی کشی میں ملوث پائے گئے؛ مگر میانمار کے کمانڈر انچیف جنرل من اونگ ہلینگ تک پابندیوں کی توسیع نہ دی گئی جوکہ میانمار میں فوجی حکمرانی کا تسلسل ہیں۔ علاوہ ازیں ،میانمار کی داخلی سیاسی حرکیات کچھ ایسی ہیں کہ مغربی مطالبے کے برعکس وہاں اس جرم میں مرتکب افراد کو جوابدہ بنانا ممکن نہیں۔ داخلی سطح پر اختیارات کا سرچشمہ ابھی تک میانمار آرمی ہے، جوکہ دفاع ، ملکی سلامتی، خارجہ پالیسی سمیت کئی معاشی امور پر کنٹرول کرتی ہے،  آنگ سان سوچی کی منتخب سول حکومت کچھ اختیارات حاصل کرنے کیلئے ہاتھ پیر مار رہی ہے۔
میانمار کے نئے مخلوط آئین کے تحت کمانڈر انچیف کو سول حکومت پر واضح برتری حاصل ہے۔ فوج کچھ بھی کرے، کوئی ریاستی ادارہ اس کے ہاتھ روک نہیں سکتا، کمانڈر انچیف سول حکومت کے کسی بھی اقدام کو ویٹو کر سکتا ہے۔ ریاست کے تمام پہلوؤں پر براہ راست کنٹرول کی وجہ سے میانمار میں فوج کو روکنے والا کوئی نہیں۔ مغربی قیادت اس خدشے کے پیش نظر آنگ سان سوچی پر بہت زیادہ دباؤ ڈالنے سے گریزاں رہی کہ میانمار میں جمہوریت کی جانب تھوڑی سی پیش رفت اور خطرے میں نہ پڑ جائے۔ یہ خدشہ بھی رہا کہ عالمی دبائو نے آنگ سان سوچی کی پوزیشن کمزور کی تو فوج براہ راست ملک کا کنٹرول سنبھال لے گی، اور میانمار چین کے دائرہ اثر میں مکمل طور پر چلا جائیگا۔
 میانمار کا معاملہ عالمی عدالت کو بھیجنے یااس کیخلاف سکیورٹی کونسل کی قرارداد چین ویٹو کر سکتا ہے۔ میانمار میں چین کے کئی منصوبے چل رہے ہیں، جن میں ملک بھر کو ہائی سپیڈ ریلوے لنک سے جوڑنے اور ویتوی بندرگاہ کے منصوبے شامل ہیں جوکہ چین کے سلک روڈ پروگرام کا حصہ ہیں۔ ویتوی ریاست راخائن کا دارالحکومت ہے، جوکہ میانمار میں روہنگیا آبادی کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ اپنے ملک کی طرح دیگر علاقوں میں بھی چین کیلئے شورش ناقابل قبول ہے، لگتا ہے کہ روہنگیا آبادی کیخلاف کریک ڈاؤن کو چین کی مکمل حمایت حاصل ہے، چین کو امید ہے کہ اس سے اس کے معاشی اور انفراسٹرکچر کے منصوبوںکی سکیورٹی میں اضافہ ہو گا۔
یہ چینی حمایت ہی ہے جس نے دیگر عالمی فریقین کے ردعمل میں رکاوٹ پیدا کی۔ جیسے کہ اوباما انتظامیہ کی مدت ختم ہونے کے بعد برطانوی حکومت نے روہنگیا پناہ گزینوں کی انسانی ضروریات پوری کرنے کی ذمہ داری اٹھائی ، مگر میانمار کے خلاف الزامات کا معاملہ عالمی عدالت میں اٹھانے سے گریز کیا، کیونکہ اسے چین کی جانب سے ویٹو کا خدشہ تھا۔اس وقت جو حالات بن چکے ہیں، آنگ سان سوچی عالمی تنقید کو خاطر میں نہیں لائیں گی، ان کی حکومت اور چین فوجی کارروائیوں کی حمایت جاری رکھیں گے؛ مغرب اور اقوام متحدہ محض شکایات ہی کرینگے، روہنگیا پناہ گزینوں کی انسانی امداد کے علاوہ کوئی قابل ذکر اور ٹھوس کارروائی نہیں کرینگے۔
موجودہ صورتحال کب تک برقرار رہتی ہے، اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔لگتا ہے کہ بنگلہ دیش اورعالمی انسانی تنظیمیں اس حقیقت کو قبول کرچکی ہیں کہ کاکس بازار میں روہنگیا پناہ گزینوں کا قیام مستقل ہے۔عالمی برادری خصوصاََ مغرب اپنی ذمہ داری اس حد تک ادا کریں گے کہ اس مقصد کیلئے بنگلہ دیش کو تمام ضروری مالی اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے کی پیشکش کرینگے؛ کاکس بازار کے نواح میں جھگیوں پر مبنی قابل رہائش نئے قصبے تعمیر کرنے میں مدد کرینگے، اور مقامی بنگلہ دیشیوں کو معاشی مراعات کی پیشکش کرینگے تاکہ وہ نئی روہنگیا بستیوں کے ساتھ معاشی روابط قائم کر سکیں۔ مغربی قیادت یہی کچھ کر نے کی متحمل ہو سکتی ہے؛ اس سے زیادہ کچھ کرنے کا ویژن ان میں نہیں، نہ اس سے زیادہ دلچسپی لیں گے۔ 
دراصل ٹرمپ کے اقتدار نے مغربی دنیا کا اعتماد ہی نہیں، اخلاقی رویئے کو بھی متاثر کیا ہے،کوئی روہنگیا مسئلہ کے مستقل حل کی ذمہ داری لینے اور بنگلہ دیش کی کھل کر مدد کرنے کو تیار نہیں۔ ایک سال گزرنے کے بعد بھی روہنگیا انفرادی اور اجتماعی طو رپر اسی قدر غیر محفوظ ہیں جتنے ایک سال قبل تھے۔ اس عرصہ میں انہیں واحد ریلیف یہ ملا کہ کوئی قوت منظم انداز میں ان کے بستیاں نذرآتش نہیں کر رہی، نہ سرحد پار بھاگنے پر مجبور کر رہی ہے۔کم از کم اس وقت تک یہی ان کا ریلیف ہے۔
(ترجمہ: ایم سعید۔۔۔ بشکریہ: العربیہ )