25 ستمبر 2018
تازہ ترین

روتے کیوں ہو       روتے کیوں ہو      

جے آئی ٹی کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے طرفین ایک دوسرے کو طعن وتشنیع سے نواز رہے ہیں۔ جو صاحب اقتدار ہیں وہ بھی بے اختیار اور مظلوم ہونے کی دہائی دے رہے ہیں اور جو ہیں ہی بے اختیار وہ بھی اپنی سی کر گزرنے پر تلے ہیں۔ مقتدر اور محترم اداروں کو برسر اقتدار لوگ ہدف تنقید بنا رہے ہیں یہ ادارے اور وہ شخصیات جو ان کے نشانے پر ہیں انہی کے ہاتھوں تراشے بت ہیں۔ اسے مکافات عمل ہی جانیے کہ بت گر ہی اپنے بنائے اصنام پر گریہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اب کے برس دستور ستم میں کیا کیا باب ایزاد ہوئے جو قاتل تھے مقتول بنے جو صید تھے وہ صیاد ہوئے آج ہم سب من حیث القوم اپنے اپنے مسائل کا رونا رو رہے ہیں لیکن یہ سب کچھ دو چار برسوں کی کمائی نہیں۔ ہم نے 70 سال پہلے اللہ کے نام پر جو مملکت خداداد حاصل کی تھی اُس کے قیام کے روز اول ہی سے اللہ کے احکامات سے روگردانی شروع کر دی تھی۔ آج جس مصنوعی اور منافق سماج کا سیاپا ہم دن رات کرتے ہیں وہ ہمارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے۔ ہم نے چن چن کر بے ضمیر اور گندے لوگوں کو اپنے سروں پر مسلط کیا۔ قائداعظم کی وفات کے بعد اگر دو تین سال لیاقت علی خان کا عہد نکال دیا جائے تو ہمارے پاس کیا باقی رہ جاتا ہے۔ اس مملکت خداداد پر جس کی بنیادوں میں لاکھوں شہیدوں کا خون شامل ہے ہم نے ایمان و اخلاص کے بجائے بے ایمانی، ریا کاری اور منافقت کی بلڈنگ کھڑی کی۔ قائداعظم کی وفات سے پہلے ہی سازشوں کا آغاز ہو چکا تھا۔ ہم نے اپنے قائد کی موت کو بھی مشکوک بنا دیا۔ آج تک نوجوان نسل کو یہ سمجھ نہیں آ سکی کہ آپ کی موت طبعی تھی یا غیر طبعی۔ اگر قائداعظم کی زندگی کے آخری ایام جو آپ نے زیارت کی ریذیڈنسی میں بسر کیے، اُن ایام کی کہانیاں سن لیں تو یقین نہیں آتا کہ ہمارا تعلق انسانوں کی کسی نسل سے ہے یا جانوروں کی۔ قائداعظم کی زندگی میں اُن سے قریبی ساتھیوں نے بدتمیزی کی حد تک اختلافات پیدا کر لیے تھے اور یہ بھی شنید ہے کہ آپ کو محترمہ فاطمہ جناح کے علاوہ اور کسی پر اعتماد ہی نہیں رہ گیا تھا۔ کبھی زیارت جائیں تو وہاں اُس دور کا کوئی بوڑھا بلوچ خدمت گار آپ کو کمروں میں بچھے بستروں اور میزوں کرسیوں کی نشاندہی کرنے کے بعد اُن سے متعلق ایسی ایسی کہانیاں سنائے گا کہ آپ چکرا کر رہ جائیں گے۔ فلاں لیڈر نے یہ بدتمیزی کی اور فلاں نے یہ۔ ہائے! اُس قائداعظم کی بے بسی کہ جس نے فرنگی اور ہندو کے خونی شکنجے سے ایک آزاد مملکت ہمیں چھین کر دی اور بستر مرگ پر جو حیدر آباد دکن اور کشمیر پر حملے کے احکامات جاری کرنے کے بعد بے بسی سے اپنے احکامات کی تضحیک کا نظارہ کرتا ہے۔ جس کے استقبال کے لیے ایک کھٹارہ وین کراچی ایئر پورٹ پر آتی ہے جو ایئر پورٹ سے شہر کے راستے میں خراب ہو جاتی ہے۔ ہم نے تو اُسے معاف نہیں کیا۔ برصغیر کی تاریخ بتاتی ہے کہ دو تین سال تک اس پر عملاً خواجہ سراؤں نے حکومت کی ہے مجھے اس کا تو علم نہیں کہ یہ سچ ہے یا جھوٹ لیکن پاکستان پر نفسیاتی مریضوں ہی نے نہیں غیر ملکیوں نے حکومت کی ہے۔ ایسا وزیراعظم بھی ہمارے سروں پر مسلط رہا جس کو امریکا سے افراتفری میں لا کر اس کا پاکستانی شناختی کارڈ بنایا گیا تھا۔ 1971ئ میں جنرل یحییٰ کے ایک وزیر بھارت کے نواب پٹودی کے بھائی جنرل شیر علی خان نے عجیب و غریب قسم کا دو قومی نظریہ متعارف کرا دیا۔ جنرل ضیائ آیا تو اُس نے قائداعظم کی خفیہ ڈائریاں دریافت کر لیں اور نظریہ پاکستان کے نام پر اس ملک میں ایسی ایسی دکانیں کھلیں کہ اہل خبر انگشت بدنداں انہیں دیکھتے ہی رہ گئے۔ اسلام کے نام پر حاصل کردہ اس ملک میں ہم نے اپنی ملی بداعمالیوں کے تحت ذات، برادری، زبان، صوبہ اور ایسے ایسے تعصبات کو رواج دیا کہ قائد کی روح کو شرما دیا۔ میں نے نوے کے عشرے میں خصوصاً شہر بے مثال لاہور کے درجنوں دو نمبریوں کو جن کی ہیروئن کی دکانیں سارے شہر میں کھلی تھیں۔ راتوں رات نظریہ پاکستان کا لبادہ اوڑھ کر مسلم لیگی پھر حاجی اور آخر میں پارلیمان کے معزز اراکین سے وزیر تک بنتے دیکھا اور دیکھ رہا ہوں۔ آج ہمارے سیاستدان گلا پھاڑ پھاڑ کر یہ تو چلاتے رہتے ہیں کہ پاکستان بننے کے فوراً بعد ہی فوج نے ملک پر قبضہ کر لیا اور انہیں کھل کھلا کر لوٹ مار نہیں کرنے دی لیکن کوئی اُن سے یہ نہیں پوچھتا کہ جتنے عرصے تک اُن کا ملک پر قبضہ رہا اُس دوران انہوں نے کیا کیا گل نہیں کھلائے؟ درجنوں کتابیں ایسی شائع ہو چکی ہیں جن میں ان سیاسی پیرزادوں، خانزادوں، نوابوں، جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور مولاناؤں کا پس منظر لکھا گیا ہے۔ دو تین بڑے بڑے ارب پتی سیاستدانوں کو میں جانتا ہوں جن کے والد صاحبان پولیس میں معمولی درجے کے ملازم تھے آج وہ آدھے سے زیادہ ملک کے مالک بنے بیٹھے ہیں۔ دن رات فوجی آمریت کا بینڈ بجانے والے ان سیاسی مسخروں سے کوئی یہ تو پوچھے انہوں نے بااصول، باکردار، ایماندار سیاستدانوں کا کیا حشر کیا؟ خواجہ ناظم الدین، حسین شہید سہروردی، چودھری محمد علی اور سب کو چھوڑیں نوابزدہ نصر اللہ خان مرحوم۔ آج تک کسی کو انہیں صدارتی اُمیدوار نامزد کرنے کی توفیق نصیب نہ ہوئی۔ میں نے اپنی صحافتی زندگی میں نوابزادہ نصر اللہ خان سے زیادہ با اصول، دیانتدار، باوقار اور قد آور سیاستدان نہیں دیکھا۔ غالباً 1986ئ کی بات ہے۔ واپڈا ہاؤس میں موجود سالوس ریستوران اور ریگل چوک والا شیزان اُن دنوں سیاسی سماجی سرگرمیوں کے اہم مراکز تھے۔ غالباً ایم آر ڈی کی کوئی پریس کانفرنس تھی جس میں باقی لیڈروں کے علاوہ نوابزادہ نصر اللہ خان بھی شریک تھے۔ کانفرنس ختم ہوئی تو ہم لیڈروں کے ساتھ باتیں کرتے باہر سڑک تک آ گئے جہاں اُن کے ڈرائیور آتے اور ایک ایک لیڈر کو لمبی لمبی کاروں میں بٹھا کر لے جاتے۔ میری ان گناہگار آنکھوں کو وہ منظر آج تک نہیں بھولتا۔ نوابزادہ صاحب اپنی چھڑی کے سہارے آخری لمحات تک اس بات کے منتظر رہے کہ کسی لیڈر کی گاڑی انہیں بھی بٹھا کر اُن کے دفتر نکلسن روڈ پر چھوڑ آئے گی لیکن آخر میں جب وہ اکیلے رہ گئے تو مولانا اجمل خان نے کہیں سے ایک کھٹارہ سی کار منگوائی اور انہیں اپنے ساتھ لے کر گئے۔ جو لوگ آج پاکستانی عوام کی گردنوں پر مسلط ہیں یہ سب مارشل لائ کی نرسری میں اُگے ہوئے پودے ہیں۔ کسی قدآور لیڈر کو کبھی ایوان اقتدار تک رسائی میسر نہیں ہوئی، اپوزیشن میں بھی انہیں انجن بنا کر رکھا گیا جن کے ساتھ بندھے  ڈبے آج پاکستان کے مامے بنے ہوئے ہیں۔ ساری زندگی ایئر مارشل اصغر خان اُصولی سیاست کا پرچار کرتے رہے اب تک کر رہے ہیں کہ علاوہ ازیں اور کچھ کر ہی نہیں سکتے۔ کیا کمی ہے اُن میں؟ سوائے اس کے کہ وہ منافقت، جوڑ توڑ اور کرپشن والی سیاست کے خلاف ہیں۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ ہم آج تک ایک قوم بن ہی نہیں سکے، بھیڑوں کا ریوڑ ہے جس کے ہاتھ میں مضبوط ڈنڈا ہو ہانک کر لے جائے۔ ہائے! سید عطائ اللہ شاہ بخاری ساری زندگی کی سیاست کا حاصل بیان کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے ہم نے تو اس قوم میں دو ہی خوبیاں دیکھی ہیں یہ پیسے والے کے پیچھے اور ڈنڈے والے کے آگے ہوتی ہے۔ اس مرد قلندر کی بات لفظ بلفظ صحیح ثابت ہوئی، اس کے بعد ہم اپنی تباہی کا رونا روئیں تو یہ سوائے ریا کاری کے اور کیا معنی رکھتا ہے۔