22 ستمبر 2018

رام ریاض آف جھنگ  (3) رام ریاض آف جھنگ (3)

ہم جہاں ڈوبے وہاں پتھر نہ کوئی نقش ہے
موج تھی گھل مل گئی، پانی برابر ہو گیا
رام ریاض پر آج تیسری قسط تحریرکر رہا ہوں۔ شاید رام ریاض کو اپنی کم مائیگی اور گمنامی کا ادراک ہو چکا تھا، اسی لیے تو انہوں نے اوپر والا لاجواب شعر کہا۔ سابق سیکرٹری احسن راجہ صاحب نے لکھ بھیجا کہ ’’کاش ایسے ہیرے کی قدر، یہ بدنصیب قوم زندگی میں کرتی‘‘۔ سابق سیکرٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود نے کہا ’’یار تم بڑا کام کر رہے ہو، یہ تو بڑا غزل گو انقلابی شاعر رہا ہے جس نے گمنامی اور محرومی میں زندگی گزار دی‘‘۔ اسلام آباد میں ان کی یاد میں کوئی تقریب رکھیں تاکہ ان کے یادگار کلام کے فروغ کیلئے سعی ہو سکے۔ صغیر انور، توقیر وٹو، مہدی حیدر صاحب، طاہر شیرانی، ذوالفقار درانی، شفقت چیمہ دفتر خارجہ، فاروق فہیم ارشد ایڈیشنل سیکرٹری، اشرف سہیل صاحب، عاصم جیلانی، ناصر کاظمی، سجاد ترین نوائے وقت، سی آر شمسی، پرنسپل انفارمیشن آفیسر شفقت جلیل صاحب، سید عرفان شاہ المعروف نانگا مست کس کس کا نام لکھوں، شعیب چٹا کوئٹہ ایک طویل فہرست ہے۔ رام ریاض نے اب تک پتا نہیں کتنوں کو ہی ’’رام‘‘ کر لیا ہے۔ علامہ ابوالخیر کشفی نے جب ’’پیڑ اور پتے‘‘ 1981ء میں چھپی تھی تو کہا تھا کہ ’’رام‘‘ تخلص پر میں کافی کشمکش میں رہا مگر جیسے جیسے کتاب پڑھتا گیا تو میں ’’رام‘‘ ہوتا چلا گیا۔ پھر منکشف ہوا کہ جو بھی ’’رام‘‘ کو پڑھتا ہے وہ ’’رام‘‘ ہو جاتا ہے۔
ناصرہ زبیری میری اس کاوش پر بہت خوش تھیں۔ عزیزی عاطف شیرازی کا فون آیا، وہ بہت خوش تھا۔ وہ شعر و ادب کا دیوانہ ہے، رام ریاض نے آج کل اسے بھی حصار میں لے رکھا ہے۔ لطیف جذبوں کا شاعر، جدت کے رنگوں کا مالک رام ریاض مرنے کے بعد بھی زندہ ہے، اس کے لفظ اس کے ہونے کی گواہی دے رہے ہیں۔
باولی دھوپ میرے صحن سے باہر مت جا
ایسی گرمی میں کہاں آبلہ پا جائے گی
آج دوپہر میں’’بوبی‘‘ میرا مطلب ہے احمد فراز سے ملاقات ہو گئی۔ رام ریاض نے اپنے دونوں بھتیجوں کا نام احمد فراز اور احمد فراغ رکھا تھا۔ فیاض خان اور رام ریاض انہیں پیار سے بوبی اور مانی کہتے تھے۔ دونوں جی تایا جی، جی تایا جی کی گردان گردانتے دکھائی دیتے تھے۔ بوبی بینکر ہے، مانی سول انجینئر ہے جو ان دنوں جدہ میں ہے۔ آنٹی خالدہ کو بھی ساتھ ہی لے گیا ہے۔ بوبی میرا شکریہ ادا کر رہا تھا کہ ہماری تاریخ آپ ہمیں پڑھا رہے ہیں۔ میں نے اس سے وعدہ کیا ہے کہ ہم ’’کلیات رام ریاض‘‘ چھاپیں گے، اس میں رام ریاض کا کچھ کلام جو غیر مطبوعہ رہ گیا ہے، بطور خاص ان کی منقبتیں اس میں شامل کریں گے۔ دوسری کتاب ’’ورق سنگ‘‘ بھی میری ہی کاوش تھی، اس میں جناب سلیم کوثر اور خالد شریف صاحب کا بڑا کردار ہے۔ یہ دونوں صاحبان نہ ہوتے تو بارہ سال کے بعد بھی ان کی کتاب نہ آتی۔ پھر خالد شریف نے ’’پیڑ اور پتے‘‘ کو بھی دوبارہ چھاپا۔ مجھے یاد ہے کہ استاد محترم سید تنویر عباس نقوی مرحوم نے کتنی ہی بار وصی شاہ کو سمجھایا تھا کہ ’’رام ریاض‘‘ کو چھاپ دو، تمہاری ’’دعا‘‘ پبلی کیشن کی کیڈلاک معتبر ہو جائے گی مگر وہ تو شاعر کے لبادے میں چھپا ہوا پکا، سکہ بند دنیا دار ہے۔ میں اسے شاعر نہیں مستری کہتا ہوں۔ جن پر لفظ اترتے تھے وہ تو آج تنویر عباس نقوی اور رام ریاض کی طرح منوں مٹی تلے چلے گئے۔ سلیم کوثر کی طرح ہسپتالوں میں پڑے موت سے لڑ رہے ہیں یا پھر زندگی سے لڑ رہے ہیں۔میاں طارق سے معذرت کے ساتھ کہ جسے بُرے طریقے سے استعمال ہی کیا گیا ہے، میں اس کے زخم ہرے نہیں کرنا چاہتا تھا، وہ میرا بھائیوں جیسا مخلص دوست ہے۔
یادوں کے دریچوں کو کبھی کھول کے دیکھو
ہم لوگ وہی ہیں کہ نہیں، بول کے دیکھو
ذرے ہیں مگر کم نہیں پاؤ گے کسی سے
پھر جانچ کے دیکھو، پھر تول کے دیکھو
ہم اوس کے قطرے ہیں کہ بکھرے ہوئے موتی
دھوکا نظر آئے تو ہمیں رول کے دیکھو
آخری دنوں میں رام ریاض نے شعر لکھا کہ:
شاید ہمارے بعد ہماری بھی پوچھ ہو
ہم نے بھی اپنے نام کا کتبہ لکھا لیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک شعر تو آخری شب سے پہلے کا ہے:
رام اب ہے وجہ پریشانیِ اسباب
گزر گیا جس روز تو آئے گا بہت یاد
کیا زندہ لوگ تھے، کیا عزم تھا:
تیری صورت تیری آواز بھی پہچانتے ہیں
ہم کسی اور حوالے سے بھی تجھے جانتے ہیں
ہم نے بھی عمر گزاری ہے شب ہجراں میں
ہم بھی یاروں کو ستاروں کی طرح جانتے ہیں
اس قدر اوجِ نزاکت پہ ہے اب رشتہ جاں
ٹوٹ جاتا ہے، اسے اور اگر تانتے ہیں
ہاتھ خالی ہیں تو دانائی کا اظہار نہ کر
ایسی باتوں کا بڑے لوگ بُرا مانتے ہیں
میں تجھے کیسے مٹی کے حوالے کر دوں
لوگ تو زر کیلئے ریت کو بھی چھانتے ہیں
رام اب شہر میں رہنے کا ارادہ ہی نہیں
دل لگانے کے تو ہم سارے ہنر جانتے ہیں
رام ریاض کا کمال کا مشاہدہ تھا:
اول جب ہم شہر سے نکلے، کتنے ساتھ ہمارے تھے
آوارہ تھے دیوانے تھے، جوگی تھے بنجارے تھے
آگے خود اندازہ کر لو زوروں پر اک دریا تھا
اور ہماری دونوں جانب کافی دور کنارے تھے
تو بھی تماشا دیکھ رہا تھا، تو نے بھی امداد نہ کی
ہم نے سنا ہے، ڈوبنے والے کافی تمہیں پکارے تھے
میں نے اس کو چھو کر دیکھا، آنکھیں جھلسیں ہاتھ جلے
گیسو تھے یا لاٹ دھوئیں کی، عارض یا انگارے تھے
اب کیا لیں گے لڑ کے تم سے، اتنا تو ہے یاد ہمیں
پچھلی بار لڑائی میں بھی تم جیتے ہم ہارے تھے
رام انہیں کس قریہ ڈھونڈیں، اب وہ لوگ کہاں جن کے
ہونٹوں پہ تھا خیر کا نغمہ، ہاتھوں میں اِکتارے تھے
رام ریاض کے ہاں فطرت، محبت اور احساس جابجا ملے گا۔
کونوں کھدروں میں وقت گزارے جائیں
میناروں کا قصہ کریں تو مارے جائیں
تم نے یونہی چھتری سے کبوتر اڑا دیے
نہ جانے کہاں بھوکے پیاسے بیچارے جائیں
انسانوں میں بھی اتنا پیار ہو کہ جنت میں
کوئی نہ جائے اور جائیں تو سارے جائیں
رام ریاض فطرت کا شاعر ہے۔ میں ایک عرصہ سے اسے اردو کا ولیم وڈز ورتھ کہتا ہوں۔
کھلے ماحول میں اکثر میرا دل گھٹنے لگتا ہے
تیری خوشبو تیرا آنچل ہوا کا ساتھ دیتا ہے
بسیرے کیلئے پیڑوں سے لوگو غار اچھے ہیں
جلے جو آگ تو جنگل ہوا کا ساتھ دیتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دور فٹ پاتھ پہ
کوئی چائے فروش
کھانڈ کا گھور لیے بیٹھا ہے
جیسے دریا کے کنارے پہ
کوئی ماہی گیر
آس کی ڈور لیے بیٹھا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلند پیڑوں نے بھی قرض ذات دینا ہے
ہوا چلتی ہے تو پھر پات پات دینا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہیں جنگل کہیں دریا سے جا ملتا ہے
سلسلہ وقت کا تلوار سے جا ملتا ہے
میں کہیں بھی رہوں، شہر میں دن ڈھلتے ہی
میرا سایہ تیری دیوار سے جا ملتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ آخری سفر ہے، میرے ہمسفر رہنا
پھر اس کے بعد جہاں جی چاہے عمر بھر رہنا
گلی سے نکلتے ہی ہم راستہ بدل لیں گے
ہمارے ساتھ بھی رہنا تو مختصر رہنا
ہمارے خیمے ابھی آگ کی لپیٹ میں ہیں
جدھر سے تیز ہوا آئے تم اُدھر رہنا
شناختوں کا زمانہ بھی آنے والا ہے
کتاب خلق میں … تم حرفِ معتبر رہنا
زمیں رام کہیں بے وفا نہیں ہوتی
جہاں بھی جاؤ ہمیشہ زمین پر رہنا
رام ریاض کو اس سرزمین سے بے پناہ محبت تھی۔ ایک جگہ کہا کہ:
یہی دعا ہے میری اے ارض وطن
تجھ پہ بادل کی طرح میرا جیون برسے
۔۔۔
وہ ننگ وفا تھا کہ میرے خون کا پیاسا
بستی کے کس شخص سے مجھے پیار نہیں تھا
۔۔۔
تم اہل طریقت ہو مگر اتنا رہے یاد
جائز نہیں سفاک کو، سفاک نہ کہنا
رام ریاض پر تین اقساط میں جو کچھ لکھا وہ میرے حافظے میں کہیں محفوظ ہے۔ اور بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے، مقصد انہیں خراج تحسین پیش کرنا تھا۔ مجھے معلوم ہے اب بھی بہت تشنگی ہے، تشنگی رہنی بھی چاہیے۔ آخر میں آقا پاک محمدؐ اور امام عالی مقام جناب حسینؓ کی شان میں رام ریاض کے دو اشعار کے ساتھ اجازت طلب کرتا ہوں۔
نسل در نسل تیری ذات کے مقروض ہیں ہم
تو غنی ابن غنی ہے میرے مکی مدنیؐ
۔۔۔
مجسمہ وفا پیکر رضا ہے حسینؓ
الگ خمیر زمانہ اور جدا ہے حسینؓ