20 ستمبر 2018

رام ریاض آف جھنگ  (1) رام ریاض آف جھنگ (1)

کئی نے سورج کو پوجا، کچھ تاروں کے ساتھ رہے
دیواروں کے سائے تھے ہم، دیواروں کے ساتھ رہے
ارضِ سخن کی جنگ تھی یا وہ اہل ہنر کا میلہ تھا
ہم نے دیکھا لوگ ہمیشہ سرداروں کے ساتھ رہے
جلتے گھروندے دیکھ کے دل کچھ ایسا ٹوٹا اس کے بعد
برسوں شہر کی شکل نہ دیکھی بنجاروں کے ساتھ رہے
کس نے پہلا پتھر کاٹا، پتھر کی بنیاد رکھی
عظمت کے سارے افسانے، میناروں کے ساتھ رہے
رام ریاض اور فیاض خان کے قافلے، میرے بزرگوں کے ساتھ تخلیق پاکستان کے فوری بعد اکٹھے پانی پت سے جھنگ ہی میں اترے تھے۔ آج 7 ستمبر ان کی 28ویں برسی ہے۔ یہ صدیقی پٹھان تھے۔ فیاض خان صاحب ہمارے کوچ تھے۔ لوگ انہیں بابائے کرکٹ جھنگ کہہ کر پکارتے تھے۔ اداکار محمد علی جیسی شکل، بھاری آواز، گورا رنگ، صاف اور شستہ مگر کھڑی اردو، اپنائیت محبت سے بھرے شخص تھے۔ رام ریاض ان کے بڑے بھائی تھے۔ شہر میں اکیلی فیملی تھی مگر پورا شہر ان کا تھا۔ کئی دہائیاں گزارنے کے بعد ایک روز کہنے لگے، صاحب… شہر کے لوگوں نے اتنی محبت دی ہے کہ کبھی اجنبیت کا احساس ہی نہیں ہوا۔ دل میں کبھی خیال بھی نہیں ابھرا کہ ہجرت کر جائیں۔
رام ریاض بھی بین ایسی ہی شخصیت کے مالک تھے مگر وہ شعر ترنم کے ساتھ پڑھتے تھے۔ شروع میں شگفتہ تخلص رکھا، بعدازاں ’’رام‘‘ رکھ لیا۔ کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کی محمود شام سے دوستی تھی۔ رام اور شام اکٹھے تخلص رکھا مگر رام ریاض، رام ریاض ہی تھا۔ سچا، پیدائشی گھڑا گھڑایا شاعر، ادیب، خوبصورت انسان، شفقت، محبت و اپنائیت اور اخلاق سے گندھا ہوا ہیرے جیسا انسان جس نے جو لفظ کہا امر ہو گیا۔ دوستوں کا دوست، شہر والوں کی پہچان، ہائے اور کیا کیا لکھوں؟ وہ کیا کچھ نہیں تھے۔ وہ شہر والوں کیلئے شجر سایہ دار تھے۔ دونوں بھائیوں نے سخت ترین وقت بھی دیکھا، خودداری، غیرت اور انا سے دستبردار نہیں ہوئے۔
ان کی گلی کا نام ’’رام سنائی‘‘ تھا، ہم نے جب ہوش سنبھالا تو ہمیشہ ان کے گھر میں رونق ہی دیکھی۔ بڑے بھائی راؤ معین ان کے دوست تھے۔ ہم نے سکول میں کرکٹ شروع کی تو پہلی بار فیاض خان صاحب کا نام سنا، صرف ایک بار انہیں کھیلتے بھی دیکھا، مگر وہ شوق کے آخری ایام تھے۔ سٹی کرکٹ کلب میں مجھے کھیلنے کی آفر کپتان مجاہد ٹوانہ نے دی تھی۔ سٹی کرکٹ کلب دراصل فیاض خان صاحب کا دوسرا نام تھا، ان کی روح تھی۔ جب اس خاندان کا حصہ بنے تو رام ریاض صاحب پر ہمارا اور ان کا ہم پر ویسے ہی حق شفہ قائم ہو گیا۔ میں نے پہلی بار رام ریاض کو میٹرک میں ہی پڑھا تھا، پتا نہیں ان کا کلام من میں اتر سا گیا۔ میں نے ان سے ایک روز کہا کہ آپ کی کتاب ’’پیڑ اور پتے‘‘ پڑھی ہے بہت پسند آئی ہے۔ وہ مالے چائے والے کی دکان پر بیٹھے چائے پی رہے تھے، جہاں ان کا پسندیدہ مشغلہ چائے میں کٹے ہوئے کچے امرود ڈبو کر کھانا ہوتا تھا۔ کہنے لگے، کیا واقعی؟ میں نے کہا علامہ ابوالخیر کشفی سے لے کر اتنے بڑے لوگوں نے تعریف کی ہے، کیسے پسند نہ آتی۔ رام ریاض نے کہا کہ چھوڑیں صاحب، ان سے تو میں پیسے دے کر بھی لکھوا سکتا ہوں، آپ اپنی بات کریں۔ مجھ پر یہ عملی زندگی میں آنے کے بہت بعد منکشف ہوا کہ فلیپ اجرتاً بھی لکھا جاتا ہے۔ منیر نیازی مرحوم ببانگ دہل یہ کہا کرتے تھے۔
میں نے رام ریاض کو کہا کہ مجھے واقعی بڑی پسند آئی ہے۔ اس شعر کے بعد آپ کو مزید شعر کہنے کی کیا ضرورت تھی۔ بس ایک ہی شہر کافی تھا، رام ریاض بہت خوش ہوئے۔ کہنے لگے کونسا شعر؟ میں نے انہیں سنایا:
مفت احسان نہ لینا یارو
دل ابھی اور بھی سستے ہوں گے
وہ حیرانی سے مجھے دیکھنے لگے، مجھے گلے سے لگایا، پیار کیا۔ جیتے رہئے اور خوش رہو کی دعا دی۔ میں نے ان کی فرمائش پر پوری غزل جو میں یاد کر چکا تھا سنائی:
تم نے موسم کئی دیکھے ہوں گے
یہ بڑے دن کبھی چھوٹے ہوں گے
جنہیں کرتے ہیں لوگ یاد بہت
وہ بھی شاید تیرے جیسے ہوں گے
پتھروں میں بھی کبھی جاں ہو گی
یہ بھی ہنستے کبھی روتے ہوں گے
مفت احسان نہ لینا… یارو
دل ابھی اور بھی سستے ہوں گے
تیرا دامن تو ابھی اجلا ہے
پھر میرے ہاتھ ہی میلے ہوں گے
وہ میرے سنانے کے انداز پر حیران بھی تھے اور خوش بھی۔ میری اس حوصلہ افزائی نے میرے شوق کو اور بڑھاوا اور نئی آتش بخشی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب انہیں فالج ہو چکا تھا۔ فیاض خان اور رام ریاض دونوں ذوالفقار علی بھٹو کے دیوانے تھے، میرے بڑے بھائی راؤ معین اور راؤ غلام نبی نظام بھی اسی کشتی کے سوار تھے۔ وہ تمام دن بھٹو کی انتخابی مہم میں رکشے پر اعلانات کرتے تھے۔ جب ذوالفقار علی بھٹو جھنگ آئے تو انہی کی گود میں بیٹھ کر ہم نے پہلی بار انہیں دیکھا تھا، کریم کلر کا شلوار قمیض، تلے والی پٹھانوں والی واسکٹ اور انہوں نے اپنے پیٹ سے قمیض اٹھا کر کہا کہ یہ دیکھو میرا پیٹ بڑا نہیں ہے کیونکہ میں حلوہ نہیں کھاتا۔
پھر ضیاء الحقی مارشل لاء نے ملک کی شہ رگ میں مارشلائی پنجے گاڑ دیے۔ ان دونوں بھائیوںکی تھانے بلا کر خوب تذلیل کی گئی۔ رام ریاض جو جھنگ وولن سنٹر میں سپننگ انسٹرکٹر تھے، انہیں نوکری سے نکال دیا گیا۔ انہیں اسی دوران فالج ہو گیا۔ انہوں نے اپنی کتاب ’’پیڑ اور پتے‘‘ کا انتساب بھی یہ کہہ کر ضیاء الحق کے نام لکھا:
’’اس محسن کے نام‘‘
جس نے مجھے بیروزگار کر کے
عمر بھر کیلئے ایک اپاہج
زندگی کے حوالے کر دیا
کتاب کے پہلے ہی صفحے پر یہ شعر لکھا ہے کہ:
اس دھوپ بھری دنیا میں رام
اک دن پیڑ اور نہ پتے ہوں گے
یہ رام ریاض کی زندگی کے انتہائی تلخ ایام تھے۔ بیروزگاری، اوپر سے فالج، بوڑھی والدہ، چھوٹا بھائی سیاسی طور پر زیر عتاب، روزگار کی راہیں مسدود ہو گئیں۔ فیاض خان صاحب کی مسز آنٹی خالدہ ٹیچر تھیں وہ پتا نہیں مارشلائیوں کی نظروں سے کیسے اوجھل رہ گئیں۔ بہت سے لوگوں نے ڈر سے ملنا چھوڑ دیا، کچھ سیاسی مخالفت میں کہیں آگے چلے گئے۔ انہی دنوں رام ریاض نے شہرہ آفاق شہر کہا کہ:
راستے سوئے پڑے رہتے ہیں رام
کس قدر آہستہ گزر جاتے ہیں لوگ
وہ گلی رام سنائی، جہاں ان کے گھر کے پاس سے گزرتے ہوئے زندگی ہر وقت قہقہے لگاتی سنائی اور دکھائی دیتی تھی، وہاں ویرانیوں اور تنہائیوں نے ڈیرے ڈال لیے۔ رام ریاض نے پھر کہا کہ:
تنہائی اوڑھ لی کبھی غم بچھا لیا
مشکل سے زندگی نے کوئی راستہ لیا
(جاری ہے)