20 ستمبر 2019
تازہ ترین

دیر ضرور ہے اندھیر نہیں! دیر ضرور ہے اندھیر نہیں!

 سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کا ان دنوں کا بیانیہ ماضی سے قطعاً مختلف نہیں۔ 1993ء میں صدر غلام اسحاق خان نے انہیں اقتدار سے چلتا کیا تو ان پر کرپشن کے سنگین الزامات لگائے تھے۔ 1999ء میں جب جنرل پرویز مشرف نے وزیراعظم ہاؤس سے نکالا تو بھی ان پر جہاز کے اغوا اور کرپشن کے پہلے سے بھی بڑے الزامات تھے۔ دونوں دفعہ ایوان اقتدار سے نکلنے کے فوراً بعد ان کے دل میں پاکستانی عوام سے محبت کا درد اچانک سے کروٹ لے کر اسی طرح نمودار ہوا تھا جس طرح سے آج وہ عدالت عظمیٰ کے ایک بڑے فیصلے کے ذریعے اقتدار کے ایوانوں سے الگ ہونے کے بعد پاکستانی عوام کی محبت سے سرشار ہیں۔ 2013ء کے انتخابات میںغالباً ووٹ تو انہیں 33فیصد ملے تھے مگر آج وہ ہر پاکستانی کی تمام تر تکالیف دور کرنے کا عزم لیے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کے ہر شہری کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ تاہم یہ بات پاکستانی عوام کیلئے انتہائی حیران کن، بلکہ پریشان کن بھی ہے کہ ہر بار انہیں اقتدار سے نکلنے کے بعد ہی عوام کا درد کیوں یاد آتا ہے اور وہ اپنے اقتدار کے جانے کا غم بھول کر عوام کے درد کی مالا جپتے اور اٹھتے بیٹھتے عوام کی، بجلی، پانی، روزگار اور بنیادی سہولتوں کے بغیر گزرتی زندگی کو ایک انقلابی ایکشن کے ذریعے بدلنے کے خواب دکھاتے نظر آتے ہیں۔ ان کے سینے میں پاکستانی عوام سے محبت کا درد اس وقت تک موجود رہتا ہے جب تک وہ اقتدار سے باہر ہوتے ہیں مگر جونہی انہیں مقتدر قوتوں کی وجہ سے اقتدار کی مسند ملتی ہے تو ان کے دل میں عوام سے محبت یا تڑپ اچانک سے معدوم ہو جاتی ہے۔ شاید وزیراعظم ہاؤس کے پُرفضا اور اونچے مقام سے انہیں پاکستانی عوام حقیر اور چھوٹے موٹے کیڑے مکوڑوں سے زیادہ نظر نہیں آتے۔ تب ہی تو ان کے ہردور اقتدار میں عام آدمی کی بھلائی، روزگار کی فراہمی اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے بجائے میگا پراجیکٹ ہی نظر آتے ہیں جن کے بارے میں پھر مبینہ طور پر کرپشن کے الزامات بھی زبان زد عام ہوتے ہیں۔
الزامات تو حکومتی جماعت مسلم لیگ ن پر بھی تواتر سے لگائے جا رہے ہیں کہ ان دنوں پوری پارلیمانی پارٹی اور وزراء کی فوج ظفر موج اپنے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف جنہیں سپریم کورٹ کی طرف سے نااہل قرار دے کر اقتدار سے باہر کر دیا گیا ہے کی عزت، توقیر اور عہدے کی بحالی کیلئے مصروف عمل ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ حکومت نام کی کوئی چیز انتظامی امور چلانے کیلئے موجود ہی نہیں۔ اگر وزیر داخلہ کو ہی احتساب عدالت میں جانے سے روکا جائے اور اسے پتا بھی نہ چل سکے کہ اسے روکا کس نے ہے تو حکومتی رٹ کہاں پہ ہے؟ جبکہ پارلیمنٹ سے حال ہی میں کرائی گئی ترامیم کے ذریعے عدالتوں سے نااہل قرار پائے میاں نوازشریف کو مسلم لیگ ن کا سربراہ بنانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں جبکہ آرٹیکل 62 اور 63 میں بھی تبدیلی لانے کا عندیہ دیا جا رہا ہے، بس سینیٹ سے اکثریت حاصل ہونے کی دیر ہے، ویسے تو حکمران سینیٹ میں اکثریت نہ ہونے کے باوجود بل پاس کرانے کا ’’گُر ‘‘ بخوبی جانتے ہیں، چاہے ایک ووٹ کی ہی اکثریت ہو لیکن سوال تو یہ ہے کہ کیا عوامی مفاد کے منافی اور کسی ایک فرد کو نوازنے کے لئے کی گئی آئینی ترامیم اعلیٰ عدالتوں مییں چیلنج نہیں کی جائیگی؟ اطلاعات تو یہ ہیں کہ اس آئینی ترمیم کو جلد ہی عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد شاید ایک بار پھر میاں نوازشریف مسلم لیگ ن کی صدارت سنبھالنے کے حوالے سے بھی اعلیٰ عدالتوںکے رحم و کرم پر ہوں گے۔ لگتا ہے اس بار بھی شریف فیملی کو عدالتوں سے سخت مایوسی ہو گی۔
مایوس تو نو منتخب وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی پاکستانی عوام کو کرنے پر تل گئے ہیں، جن کے ووٹ سے وہ منتخب ہو کر وزیراعظم ہاؤس میں براجمان ہیں مگر وہ فرماتے ہیں ’’میرے وزیراعظم تو میاں نوازشریف ہیں‘‘۔ اس پر ہم تو صرف یہی کہیں گے کہ محترم وزیراعظم صاحب! عزت ذلت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے، عوام کے ووٹوں کو وسیلہ بنا کر جس نے آپ کو بطور وزیراعظم جوعزت دی ہے تو اسی کے آگے سجدہ ریز ہوں اور شکر اس کا بجا لائیں جو سب کی عزتوں کا رکھوالا ہے۔ آپ کو وزیراعظم بنا کر دی گئی عزت کسی ایک فرد، پارٹی یا ایوان کی طرف سے نہیں یہ عزت آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی ہے، لہٰذا اس کے بندوں کی خدمت کرنے کی جو ذمے داری آپ کو دی گئی ہے اس پر کار فرما ہوں۔ گزشتہ کئی سال سے جن مسائل کی وجہ سے عوام کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے اس طرف توجہ دیں، اتنی چاپلوسی نہ کریں کہ شاہد خاقان عباسی کی اپنی شخصیت ہی اس میں دب جائے، مگر نجانے کیوں ایسا لگتا ہے کہ نہ پہلے حکمران عوام کے مسائل سمجھ پائے تھے نہ ہی شاید حکمرانوں کی موجودہ لاٹ یہ سمجھ پائے گی، کیونکہ ان کے نزدیک اس وقت اصل مقصد سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کو ان کے عہدوں پر بحال کرانا اور آئندہ سال سینیٹ الیکشن میں اکثریت حاصل کرنے کی حکمت عملی بنانا ہے۔
حکمت عملی تو دوسری طرف سے بھی ہو رہی ہے کہ کسی بھی طور پر حکمران جماعت کو آئندہ سینیٹ الیکشن میں اکثریت حاصل کرنے سے روکنا ہے، اسی لئے تو سب کچھ انتہائی تیزی سے ہو رہا ہے۔ لہٰذا حکمران جان لیں کہ مارچ ابھی دور است، دسمبر سے پہلے ہی بہت کچھ تبدیل ہو چکا ہو گا۔ عین ممکن ہے کہ ملک کا سیاسی منظر کچھ کا کچھ ہو جائے۔ یاد رکھئے کہ آپ نے سیاسی شہید بننے کی جو ٹھان رکھی ہے، ایسا ہرگز نہیں ہو گا۔ آپ کو ایسا کوئی موقع ملنے کا نہیں کہ آپ شہید اعظم بن کر ایک بار ہمدردیاں مانگتے نظر آئیں اور پھر اکثریت لے کر اقتدار میں براجمان ہوں۔ اس بار جو ہو گا آئینی اور قانونی طریقہ سے ہی ہو گا۔ احتساب ہو گا اور ضرور ہو گا، بلا تفریق ہو گا اور کڑا ہو گا۔ اگر اس بار نہیں پھر کبھی نہیں ہو گا۔ اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں لوٹ مار کا نظام آخر کب تک چلے گا؟ کب تک اشرافیہ ملک کے اسی فیصد سے زائد اثاثوں پر قابض رہے گی؟ عوام کے
دیرینہ مسائل کب حل ہوں گے؟ کیا کوئی مسیحا آئیگا جو ملک کی سمت کو درست کر پائیگا؟ ہاں مگر اللہ کے ہاں دیر ضرور ہے اندھیر نہیں۔
اندھیر نگری تو وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے بھی مچارکھی ہے کہ شریف فیملی سمیت ہر طرف سے دباؤ کے باوجود وہ وزارت خزانہ سے استعفا دینے کو تیار نہیں۔ ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ احتساب عدالت سے فرد جرم عائد ہونے سے ان کی ساکھ ختم ہو چکی ہے وہ استعفا دیں اور گھر جائیں۔ عدالت میں اپنی صفائیاں دیں، بے گناہ ہوں تو واپس آ کر جونسی مرضی وزارت سنبھالیں۔ ظاہر ہے اس ملک پر وہ گزشتہ چار سال سے بلاشرکت غیرے تمام حکومتی امور کے مالک تھے اب بھی تو ان کے سمدھی کی پارٹی کی ہی حکومت ہے، مگر اطلاعات تو یہ بھی ہیں کہ شریف فیملی پر اسحٰق ڈار کے اندرونی خفیہ معاملات کی قلعی کھل گئی ہے اور وہ سمجھ گئے ہیں کہ انہیں ’’مروانے‘‘ میں تھوڑا بہت ہی سہی ان کے سمدھی اسحٰق ڈار کا بھی ہاتھ ہے۔ شنید تو یہ بھی ہے کہ کرپشن کی بنیاد پر بننے والے رشتوں کے بندھن بھی ختم ہوتے نظر آ رہے ہیں (اللہ کرے ایسا نہ ہو)۔ ظاہر ہے ہر ایک کو اپنا ’’مال اور اولاد‘‘ بچانے کی فکر لاحق ہے۔ خبر تو یہ بھی ہے کہ ایک بڑی پارٹی کے میڈیا سیل میں چار پانچ ’’بندوں‘‘ کی مالش کر کے نئے سرے سے تیاری کی جا رہی ہے تاکہ ایک بار پھر انہیں مقتدر قوتوں کی میڈیائی کردار کشی کیلئے میدان میں اتارا جائے، مگر یاد رکھئے آپ کا وقت خراب ہو چکا ہے کوئی تدبیر کامیاب ہوتی نظر نہیں آتی، ماسوائے اس کے کہ جس نے بھی کرپشن کی ہے وہ پاکستانی عوام کا لوٹا ہوا پیسہ خود واپس لے آئیں، اپنے بچوں کا مستقبل، اپنی اور اپنے بزرگوں کی عزت بچائیں، وگرنہ سب طے ہو چکا ہے کہ کرپشن کا پیسہ کیسے اور کب واپس لانا ہے؟