20 ستمبر 2018
تازہ ترین

دو بھائیوں کا پرانا اور نیا پاکستان دو بھائیوں کا پرانا اور نیا پاکستان

شادباغ لاہور کے رہائشی دوبھائی ماجد اور ساجد والدین کے ساتھ رہتے تھے۔ ان کے والد (ن) لیگ کے سپورٹر تھے، اس باعث پورا خاندان مسلم لیگ (ن) کا سپورٹر بن گیا۔ ماجد اور ساجد علی کی شادیاں ہوئیں اور اب دونوں بھائیوں کے دو دو بچے بھی ہیں۔ تین برس قبل ان کے والد کا انتقال ہوگیا۔ بیوہ ماں اپنے بیٹوں کو ہمیشہ متحد اور پیار محبت سے رہنے کا درس دیتی رہتی۔ پورا خاندان خوش وخرم زندگی گزار رہا تھا، اس دوران قومی سیاست میں تبدیلی نے ان کی زندگی میں بھی بھونچال پیدا کردیا۔ جب نوازشریف کے خلاف پاناما کیس کی سماعت شروع ہوئی تو ساجد علی تحریک انصاف کا سپورٹر بن گیا۔ دونوں بھائیوں میں اکثر شریف فیملی کے خلاف زیر سماعت ایون فیلڈ فلیٹس، العزیزیہ سٹیل ملز اور فلیگ شپ ریفرنسز کے حوالے سے گرماگرم بحث ہونے لگی، جو بعض مرتبہ سخت جملوں میں تبدیل ہوجاتی، جس سے ان کی والدہ پریشان ہوجاتیں اور سمجھاتی رہتیں کہ سیاست کو آپس میں نفرت کا باعث نہ بنائو۔ جب نوازشریف کو سپریم کورٹ نے نااہل قرار دیا اس روز بھی دونوں بھائیوں کی سیاسی بحث دست وگریبان ہونے تک پہنچنے والی تھی کہ ان کی والدہ کی منت سماجت پر دونوں اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔ دونوں کی بیویاں اوربچے بھی اس صورتحال سے پریشان ہوگئے۔ والدہ بھی خوفزدہ رہتیں کہ کہیں دونوں بھائی سیاسی لیڈروں کی حمایت میں لڑ نہ پڑیں۔ جس روز نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کو احتساب عدالت نے سزائیں سنائیں تو ساجد علی نے کہا، ’’اب کوئی کرپٹ اور چور نہیں بچے گا۔ ان کے سپورٹر پٹواریوں کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا۔‘‘ ماجد علی نے یہ سن کر غصے سے کہا، ’’احتساب عدالت نے فیصلے میں لکھا ہے کہ نوازشریف پر کرپشن ثابت نہیں ہوئی، خان کو سیتاوائٹ کیس، بنی گالہ پراپرٹی کیس، سرکاری املاک پر حملے اور درجنوں دوسرے کیسز کے باوجود صادق اور امین قرار دلوادیا ہے۔‘‘ دونوں بھائیوں کی بحث کافی دیر جاری رہی اور پھر ساجد علی نے بڑے بھائی کو ’پٹواری، پٹواری‘ کے طعنے دینے شروع کردیے، جس پر ماجد علی بھی طیش میں آگیااور اپنے بھائی کو ’یوتھیا‘ کہنے لگا۔ اس سے قبل کہ دونوں بھائی گتھم گتھا ہوتے، ان کی بیویاں انہیں کھینچ کر اپنے اپنے کمرے میں لے گئیں۔
جب جولائی 2018ء کے انتخابات کے نتائج سامنے آئے تو دونوں بھائیوں میں پھر بحث شروع ہوگئی۔ ماجد علی نے کہا، ’’الیکشن کمیشن اور نگراں حکومت نے دھاندلی کرکے نوازشریف کو ہرایا۔ الیکشن کمیشن کا آر ٹی ایس سسٹم جان بوجھ کر بٹھایا گیا، پی ٹی آئی کو جعلی اکثریت دلوائی گئی۔‘‘ دونوں بھائی ایک بار پھر لڑ پڑے، اس دفعہ پٹواری اور یوتھیے کے ساتھ گالم گلوچ بھی سنائی دی۔ طیش میں آکر بڑے بھائی نے چھوٹے کو تھپڑ مار دیا، جس پر دونوں بھائی گتھم گتھا ہوگئے۔ دونوں کی والدہ اور بیوی بچے بھی رونے لگے۔ چیخ و پکار سن کر محلہ دار اکٹھے ہو گئے۔ انہوں نے دونوں بھائیوں کو الگ کیا۔ چند دن بعد چھوٹے بھائی نے تین مرلے کا مکان کرایے پر لیا اور والدہ کے روکنے کے باوجود اپنی بیوی اور بچوں کو لے کر وہاں شفٹ ہوگیا۔
زبیر اور اسد بھی دو سگے بھائی ہیں۔ 70 کی دہائی میں ان کا خاندان کراچی شفٹ ہوا، اعلیٰ فوجی افسر کے بیٹے ہونے کے باعث ابتدا سے ہی ان کو زندگی کی بہتر سہولتیں میسر رہیں۔ بڑے بھائی زبیر نے کراچی کے انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) سے ایم بی اے کیا۔ اگلے ہی برس 1981 میں انہیں آئی بی اے کا ممبر آف بورڈ آف ڈائریکٹر بنا دیا گیا۔ 2007ء میں زبیر نے اس عہدے سے استعفا دے دیا اور ٹی وی چینلز پر ٹاک شوزکی میزبانی کرنے لگے۔ چھوٹے بھائی اسد نے بھی آئی بی اے سے گریجویشن کرنے کے بعد ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ اسد کو ابتدا میں کینیڈا میں ایکسون کمپنی میں بطور بزنس ماہر رکھ لیا گیا۔ 1985 میں اسد کینیڈا سے ملک واپس آگئے اور اینگرو کارپوریشن سے منسلک ہوگئے۔ تیزی سے ترقی کرتے ہوئے اسد 1997 میں اینگرو پولی مر اینڈ کیمیکلز کمپنی کے پہلے چیف ایگزیکٹو آفیسر بنے اور2004ء میں انہیں اینگرو کارپویشن کا صدر اور سی ای او بنادیا گیا۔ 2009ء میں اسد کو حکومت پاکستان نے ان کی خدمات پر ستارۂ امتیاز سے نوازا۔ 2012 میں اسد نے 70لاکھ روپے ماہانہ کی نوکری کو خیرباد کہہ کر سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے قبل ازوقت ریٹائرمنٹ لے لی۔ اسی سال بڑے بھائی زبیر نے بھی سیاست میں طبع آزمائی کا فیصلہ کرلیا۔ دونوں بھائیوں نے ایک ہی سال میں سیاست میں داخل ہونے کے لیے دو الگ الگ سیاسی پارٹیوں کی رکنیت لینے کا فیصلہ بھی باہمی اتفاق سے کیا۔ بڑے بھائی زبیر نے (ن) لیگ جوائن کرلی جبکہ چھوٹے بھائی اسد نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرلی۔ حیران کن بات یہ کہ دیکھتے ہی دیکھتے بڑ ے بھائی سابق وزیراعظم نوازشریف کی آنکھ کا تارا بن گئے اور چھوٹے بھائی بھی موجودہ وزیراعظم عمران خان کے راج دلارے بن گئے۔ جی ہاں، یہ بڑے بھائی مسلم لیگ (ن) کے رہنما محمد زبیر ہیں جنہیں نوازشریف نے 2012-13 میں چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ بنایا اور 2013 سے 2017 تک وہ پرائیویٹائزیشن کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین رہے۔ فروری  2017ء میںانہیں نوازشریف نے سندھ کا 32واں گورنر بنادیا۔ ان کے چھوٹے بھائی اسدعمر ہیں جنہیں عمران خان نے اپنا وزیر خزانہ بنایا ہے۔ وہ 2013ء اور 2018ء کے انتخابات میں پی ٹی آئی کی طرف سے اسلام آباد کی نشست سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ اسد عمر اور محمد زبیر کے مجموعی طور پر چھ بھائی اور ایک بہن ہیں۔ ان کے والد جنرل(ر) غلام عمر سابق صدر یحییٰ خان کے قریبی دوست رہے۔
ان دوخاندانوں کے حالات سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ ایلیٹ کلاس مسلم لیگ (ن) میں ہو یا پی ٹی آئی میں، انہیں پرانے پاکستان میں بھی گورنری ملتی رہی اور نئے پاکستان میں بھی ان کے لیے وزارت خزانہ ہاتھ جوڑ کر کھڑی ہے۔ عہدے، سہولتیں، آسائشیں اور مراعات پرانے پاکستان میں بھی چند خاندانوں اور اشرافیہ کے لیے محدود تھے او ر نئے پاکستان میں بھی ان کے ہی گھر کی لونڈی ہیں۔ عوام اور ووٹرز کے لیے پرانے اور نئے پاکستان میں بھی ’’امیداور انتظار‘‘  ہی مقدر ہے۔ (ن) لیگ کے ووٹرزماجد علی کی طرح پرانے گھر کو پرانا پاکستان سمجھ کر خوش رہیں اور ساجد علی کی طرح پی ٹی آئی کے سپورٹرز نئے کرایے کے مکان کو نیا پاکستان سمجھ کر مزید سخت زندگی گزاریں۔بس میری ایک درخواست ہے کہ سیاسی پارٹیوں کی محبت میں اپنے اساتذہ، والدین، بھائیوں،دوستوں، کولیگز اور پیار کرنے والوں کو پٹواری اور یوتھیا کہہ کر پیار اور محبت کا رشتہ ختم نہ کریں۔ پلیز ایسا نہ کریں۔