23 ستمبر 2018
تازہ ترین

دوڑتا درخت… دوڑتا درخت…

انتخابی مہم کا زورشور عروج پر ہے، پہلی بار سوشل میڈیا کے ذریعے کمپین چلانے کے لیے ہاورڈ یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ آئی ٹی ماہرین کی خدمات کرایے پر لی گئی ہیں، متوقع وزیراعظم اہل ملک کو تعلیم، صحت، ملازمتوں اور رہائش کی فراہمی کے دلآویز وعدے کررہے ہیں، آکٹوپس کی طرح عشروں سے موجود کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ دینے کے دعوے ہورہے ہیں۔ بیرونی بینکوں میں جمع دَھن کو واپس ملک میں لانے اور اس کو لوگوں میں تقسیم کرنے کے حسین خواب دکھائے جارہے ہیں۔ لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اکاؤنٹس کھول لیں، کیونکہ حکومت بنتے ہی ہر فرد کے اکاؤنٹ میں 15 لاکھ روپے حکومت کی طرف سے جمع کرائے جائیں گے۔ بس پھر کیا تھا کروڑوں لوگوں نے دیوانہ وار اکاؤنٹ کھلوائے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بینک مالکان کو فیس کی صورت اربوں روپے وصول ہوئے۔
نہیں، نہیں۔۔۔ یہاں ہمارے نئے نویلے، خوبرو  وزیراعظم کے پری الیکشن وعدوں کا ذکر نہیں ہورہا۔ بات ہورہی ہے ہمارے ہمسایہ ملک کے وزیراعظم نریندرمودی کی، جنہوں نے 2014  میں یہ سب  To good to be true   وعدے بھارتیوں  سے کیے تھے۔ ساڑھے چار سال بعد وہاں لوگوں خصوصاً مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی کیا  حالت ہے، وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ لاکھوں تو درکنار لوگوں کو وہ خرچہ بھی واپس نہیں ملا جو انہوں نے اکاؤنٹ کھلوانے کے لیے کیا تھا، بلکہ ستم در ستم 8   نومبر 2016 کو اچانک مودی بہادر نے 1000 اور 500 کے نوٹوں پر پابندی لگاکر کروڑوں افراد کو ان کی جمع پونجی سے محروم کردیا اور خود Trillions اکٹھے کرلیے۔ یوں دن دہاڑے کھلم کھلا مالیاتی دہشت گردی کی وہ مثال قائم کی کہ سوچ کر ہی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ آخر وہ کیا محرکات ہیں، جب انسان اپنا سارا بھروسا، اعتماد اور ایمان چند لوگوں کے سپرد کرکے لامتناہی توقعات کے سمندر میں غوطہ زن ہوجاتا ہے؟ آخر مکر، فریب اور جعل سازی کی بھاری ہوا کیونکر لوگوں کے دل و دماغ کو مائوف کردیتی ہے؟ کبھی جواب ملا آپ کو؟
اب یہاں نظر ڈالیں تو ملک عزیز کو (خدانخواستہ) کھنڈر سے تشبیہہ دینے والے انقلابیوں کو ہر طرف ویرانہ ہی ویرانہ نظر آرہا ہے، تاہم خدا کے کرم سے ہم جیتے جاگتے بسے بسائے ملک کے شہری ہیں، جہاں زندگی ’’آگ کی طرح جدھر جاویں دہکتے جاویں‘‘  کی مانند ہمہ وقت اپنی حشر سامانیوں کے ساتھ رواں دواں ہے۔ زیست کی اس جوالا مکھی کو بھڑکائے رکھنے میں یہاں سیاست اور اس سے متعلقہ دیکھی اور اَن دیکھی قوتیں پٹرول نہیں تو ایندھن کا کام ضرور کرتی رہتی ہیں، یوں تو قیام پاکستان کے فوراً بعد ہی سیاست کے دنگل میں  ’ہو تُو تُو‘ شروع ہوگئی تھی، جو کبھی چولا بدل کر میوزیکل چیئر کی شکل اختیار کرلیتی تو کبھی لیفٹ رائٹ کی گھن  گرج بن کر ملک میں چھا جاتی، اس روپ سروپ میں اہل ہندوستان کی طرح اہل پاکستان ایک خواب سے دوسرے خواب، ایک جدوجہد سے دوسری جدوجہد اور قربانیوں کا سفر طے کرتے رہے۔ برسہا برس سے کیا کیا سکرین پلے معہ کرداروں، بیک گراؤنڈ میوزک، ایکشن اور تھرل کے ساتھ ہمارے سامنے پیش کیے گئے ہیں کہ بڑے بڑے جغادری رائٹرز کی بھی بولتی بند ہوگئی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم سب اندازوں کے تیر چلارہے ہیں، اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارنے کو فراست اور دُوراندیشی سمجھنے لگے ہیں۔ طاقت کی رمز وہی جانتے ہیں جو اس کا منبع ہیں، باقی سب تو گلشن کا کاروبار چلائے رکھنے کے بہانے ہیں۔
گزشتہ دو ماہ میں الیکشن کی تاریخ کے اعلان، لندن سے اڈیالہ جیل کا سفر، تمام تر خدشات، بے اعتباری، خون خرابے اور اربوں کے خرچے کے بعد انتخابات منعقد ہونا، نتائج کے اعلان میں ریکارڈ تاخیر، دھاندلی کا واویلا، کراچی میں 30 سال بعد ایم کیو ایم کے بجائے پی ٹی آئی کا نقارہ بجنا، آزاد اراکین کی جہاز بندیاں، اعدادوشمار کی جلوہ افروزیاں، حکومت کی تشکیل، تقریب حلف برداری، قیامت کو قیادت بنانے اور عید قربان پر نماز پڑھنے  یا نہ پڑھنے پر تبصرے، یقیناً ایسے ہی حالات ہوں گے جب غالب کو کہنا پڑا:
’’ہوتا ہے شب وروز تماشا میرے آگے‘‘
یعنی یہ سب نیا نہیں اور نہ یہ صرف پاکستان میں ہورہا ہے، نہ ہی پچھلی حکومتوں کی نااہلی یا بدعنوانی کا نتیجہ ہے، اس کے تانے بانے صدیوں پیچھے رہ جانے والے وقت سے جڑے ہیں جو انفرادی سطح پر یا قوموں کی سطح پر تو بدل رہا ہے لیکن اجتماعی طور پر دائرے میں گھوم رہا ہے۔ یہی وجہ تو ہے کہ اس کھیل کے کردار کبھی نہیں بدلے۔ہاں نام اور چہرے ضرور مختلف ہیں، کھیل ہے تو ڈرامائی موڑ بھی ہوں گے۔ ملنے بچھڑنے، ٹریجڈی اور کامیابی و فتح  کے مناظر بھی ہوں گے، ایسے سین بھی ہوں گے جو ناظرین و حاضرین کے جذبہ حب الوطنی کو دوبالا کریں گے اورروشن مستقبل کی امید باور کروائیں گے۔ پہلے بھی کشکول توڑنے اور IMF کے قرضوں سے فری پاکستان کی خوش خبری سنائی گئی تھی، ایک بار پھر وعدے ہیں تعلیم، صحت، ملازمتوں اور رہائش کے، کرپشن کے خاتمے اور قرضوں سے نجات کے۔
دلچسپ بات یہ کہ ایک ہی سین کی تشریح و توجیہہ دیکھنے والے اور دِکھانے والے مختلف انداز میں کریں گے۔ ایک ہی وقت میں کسی کے لیے تاریخ کی مضبوط ترین اپوزیشن اور کسی کے لیے کمزور اور تقسیم شدہ حزب اختلاف ہے۔ عمران خان کو دنیا کے ہینڈسم پرائم منسٹر کے طور پر پیش کیا جارہا ہے اور ان کا موازنہ ان کی شکل وصورت کی بنیاد پر مختلف سربراہان مملکتوں کے ساتھ کیا جارہا ہے، ساتھ ہی ایک مسخرہ نما  اینکر (اس کے منہ میں خاک) وزیراعظم کے فیصلوں اور ان کی طرز زندگی کو امریکی صدر ٹرمپ سے مشابہت دے رہا ہے۔ پچھلے دنوں ہونے والے چند واقعات جن کے باعث ہماری آس بڑھی، وہ پہلی بار قومی اسمبلی میںپہنچنے والے بلاول بھٹو زرداری کی اسمبلی میں پہلی تقریر تھی۔ شیدی قبیلے کی تنزیلہ شیدی پہلی سیاہ فام خاتون ہیں، جن کو پیپلز پارٹی نے مخصوص نشستوں پر نمائندگی دے کر صوبائی اسمبلی کا رکن بنایا۔ (شیدی کمیونٹی برصغیر میں افریقا سے لائے گئے سیاہ فام غلاموں پر مشتمل ہے، آج ان کی آبادیاں سمندر کے قریبی علاقوں میں آباد ہیں)۔ بڑے انقلاب سر آنکھوں پر، لیکن دوررس مثبت تبدیلیوں کے لیے بنیادی قدم وہ ہوتا ہے جب حقیقی لوگوں کی حقیقی آوازوں کو پلیٹ فارم ملے اور وہ مضبوط اور خودمختار ہوں، ورنہ ہر آنے والی تبدیلی چاہے وہ پاکستان میں ہو، بھارت یا امریکا میں، ایسی ہی ثابت ہوگی جیسے ٹرین میں بیٹھے مسافروں کو دُور دکھائی دینے والا درخت دوڑتا نظر آتا ہے۔