20 ستمبر 2018
تازہ ترین

’’دن میں علوی رات میں مولوی‘‘ ’’دن میں علوی رات میں مولوی‘‘

خیال جس کا تھا مجھے، خیال میں ملا مجھے
سوال کا جواب بھی سوال میں ملا مجھے
گیا تو اس طرح گیا کہ مدتوں نہیں ملا
ملا جو پھر تو یوں کہ وہ ملال میں مجھے
(منیر نیازی)
ایک بار بزلہ سنج حافظ حسین احمد نے مولانا فضل الرحمٰن کو کہا تھا کہ مولانا ’’پورا ملک‘‘ مر جائے تو بھی آپ وزیراعظم نہیں بن سکتے۔ حافظ حسین احمد کے مولانا سے کشیدہ تعلقات اس جملے کے بعد اور کشیدہ ہو گئے مگر اس جملے کو مولانا نے قہقہے میں لگا کر ’’انجوائے‘‘ کیا تھا۔ بعدازاں حافظ حسین احمد ایک دہائی تک زیر عتاب رہے مگر انہوں نے جمعیت کو نہیں چھوڑا۔ موجودہ صدارتی انتخاب مولانا فضل الرحمٰن کی زندگی کا دوسرا بڑا موقع ہے، وہ منصب صدارت کے خود کو بہت قریب سمجھ رہے تھے مگر وہ اس سے اب اتنے ہی دور ہو گئے۔ عجیب بات ہے ان سے اس بار بھی بیوفائی ان کی پرانی محبت پاکستان پیپلزپارٹی نے کی ہے۔
2002ء میں نوابزادہ نصراللہ خان نے ایسی سیاست کی بساط بچھائی کہ انہوں نے ایک وقت میں جنرل پرویز مشرف اور ’’فرشتوں‘‘ کو چاروں شانے چت کر دیا تھا۔ اس وقت بھی وزارت عظمیٰ کے امیدوار مولانا فضل الرحمٰن کو ہی بنایا گیا تھا۔ پریس کانفرنس ہونا تھی۔ بابائے جمہوریت، جے یو آئی اور اس کی اتحادی جماعتیں، پاکستان پیپلزپارٹی کا انتظار کرتی رہ گئیں۔ مخدوم امین فہیم کئی گھنٹے انتظار کرنے کے باوجود نہ آئے۔ اس روز نوابزادہ سیاسی زندگی میں سب سے زیادہ غمگین نظر آئے۔ نوابزادہ نصراللہ خان کی گنتی حقیقتاً حکومت کے نمبروں سے بڑھ گئی تھی۔ پھر محترمہ بینظیر بھٹو کی نگاہ مہربانی سے ’’پیٹریاٹ‘‘ بن گیا، ایم ایم اے کے ’’امیر مقام‘‘ نے اپنا ’’امیر‘‘ اور ’’مقام‘‘ تبدیل کیا تو پی پی پی کے 17 لوگ بھی اپنا امیر اور مقام بدل گئے۔ اس کے باوجود ایک ووٹ مزید کم تھا جسے ایک اور مذہبی رہنما کی مہربانی سے پورا کیا گیا۔ جنرل مشرف امین فہیم کو وزیراعظم بنانے پر تیار تھے بینظیر بھٹو نہیں مانیں۔ مولانا فضل الرحمٰن کی اتنے بڑے عہدے پر بھی وہ سپورٹ کرنے کو تیار نہیں تھیں۔ انہیں نائن الیون کے بعد بدلتے ہوئے بین الاقوامی حالات میں بہت سے معاملات کا ادراک تھا۔
مولانا فضل الرحمٰن’’بھائی لوگوں‘‘ سے طے شدہ معاملات کے باوجود دائو لگانا اپنا حق سمجھتے تھے مگر وہ دائو نہیں لگا سکے۔ لہٰذا وہ لیڈر آف دی اپوزیشن ایک طے شدہ منصوبے کے تحت بن گئے۔ صوبہ سرحد کی حکومت بھی لے اڑے حالانکہ پیپلزپارٹی کی تعداد ایم ایم اے سے زیادہ تھی۔ چودھری امیر حسین نے اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے مولانا کو اپوزیشن لیڈر بنا دیا۔ مولانا نے پرویز مشرف حکومت کے پانچ سال خوب نکلوائے، پرویز مشرف کے صدارتی انتخاب میں اپنے استعفے واپس لے کر پارلیمنٹ میں آ گئے۔ ہمارے سیاستدان بھی کیا خوب لوگ ہیں۔ گزشتہ اسمبلی میں یہی فضل الرحمٰن تحریک انصاف کے استعفے ہر صورت میں منظور کروانے پر تلے ہوئے تھے۔ مولانا آج بھی نہیں بدلے، وہ اسی پارلیمنٹ میں حلف لینے کے مخالف تھے پھر اپنے بیٹے اور سالی سمیت تمام لوگوں کو بھجوا دیا۔ اب وہ اسی پارلیمنٹ سے ملک کے صدر منتخب ہونا چاہتے ہیں۔ میں مولانا کو سیاسی شطرنج کا شاطر کہا کرتا تھا مگر پہلی بار مولانا حواس باختہ ہیں، ان کی عمران خان سے نفرت اور مخالفت ’’اوج ثریا‘‘ کے قریب تر ہے مگر انہیں پھر انہی حالات کا سامنا ہے۔ ایک بار نوابزادہ نصراللہ نے کہا تھا کہ فضل الرحمٰن کے اگر داڑھی نہ ہوتی تو آپ اسے وزیراعظم بننے سے نہیں روک سکتے تھے۔ آج پھر سے انہیں کچھ ایسے ہی چیلنج کا سامنا ہے۔ آصف زرداری مولانا کے اور مولانا آصف زرداری کے بے تکلف اور جگری دوست ہیں۔
یہ 2008ء کا واقعہ ہے۔ مجھ سمیت پانچ چھ صحافی ایف ایٹ زرداری ہائوس کے باہر کھڑے تھے۔ سردیاں تھیں، رات بارہ بج چکے تھے ہم اپنے کیمرے اور تاریں سمیٹ رہے تھے۔ مولانا فضل الرحمٰن کو اندر گئے چار گھنٹے بیت گئے تھے، ہمارے کئی ’’معتبر رپورٹر‘‘ اپنی ’’الہامی قوت‘‘ کے زور پر ’’الہامی بیپر‘‘ دے چکے تھے۔ جب مولانا اندر گئے تو میں نے ایک ’’فرضی بیپر‘‘ ازراہ تفنن دوستوں کو سنایا۔ پھر میرے دوستوں نے بین ہی بیپر سنے، سب کا ہنس ہنس کر برا حال تھا۔ اتنے میں زرداری ہائوس کا گیٹ کھلا تو ہمیں چار پانچ نوجوانوں کو آصف زرداری نے دیکھا تو بلا لیا۔ خوش اخلاقی سے سب کی خیریت پوچھی اور احساس ذمہ داری کی تعریف بھی کی۔ میں نے مسکراتے ہوئے شرارت کی اور سوال پوچھا کہ اگر آپ کو وزیراعظم نہیں مل رہا تو آپ مولانا فضل الرحمٰن کو وزیر اعظم کیوں نہیں بنا دیتے۔ آصف زرداری اورمولانا فضل الرحمٰن سمیت سب کے منہ سے ایک فلک شگاف قہقہہ برآمد ہوا۔ (یہ وہ وقت تھا جب امین فہیم کی وزارت عظمیٰ سے بطور امیدوار چھٹی ہو چکی تھی مگر ابھی یوسف رضا گیلانی کے نام کا اعلان نہیں ہوا تھا) آصف زرداری نے میرے سوال کے بعد اپنے قہقہے کو سنبھالا اور میرے کاندھے پر تھپتھپاتے ہوئے کہاکہ ’’نوجوان تم نے مجھے اتنا سادہ سمجھ رکھا ہے۔ میں مولاناکو وزیراعظم توبنا دوں پر ان سے وزارت عظمیٰ واپس کون لے گا۔ اس تبصرے پر اور زیادہ قہقہہ بلند ہوا۔ شاید اس وقت بھی کہیں آصف زرداری کے نہاں خانے میں یہ موجود تھا کہ ناخلفی کی صورت میں وہ کس وزیراعظم کو ہٹا سکتے ہیں مگر آصف زرداری کا تبصرہ کمال تھا۔ اس میں تجربے اور سچائی کی مکمل لو دکھائی دے رہی تھی۔
آج پھر کچھ ویسے ہی حالات ہیں، آج ایک بار پھر پاکستان پیپلزپارٹی مولانا سے فاصلہ اختیار کر رہی ہے۔ اب پیپلزپارٹی کے اندر بعض حلقے خورشید شاہ کے کردارکو پراسرارقرار دے رہے ہیں ۔ ڈاکٹر عذرا فضل پیچہو جو آصف زرداری کی بہن ہیں، ان کا بدترین دشمن بھی ڈاکٹر صاحبہ کی ایمانداری، دیانتداری، رحم دلی اور قابلیت کا اعتراف کرتا ہے۔ اس حوالے سے بلاول بھٹو کو بدظن کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس میں مبینہ طور پر خورشید شاہ ’’لابی‘‘ کا نام آ رہا ہے۔ پارٹی کے اندر سے ’’اندر‘‘ کے لوگ خورشید شاہ، قمر زمان کائرہ اورچودھری منظور کے حوالے سے تحفظات بھی ظاہر کر رہے ہیں۔ ایک زمانے میں میاں نوازشریف جہانگیر بدر کو گورنر بنانے کے سفارشی تھے، آج خورشید شاہ کے حوالے سے باتیں ہو رہی ہیں۔ خورشید شاہ کی مولانا سے بہت یاری ہے۔ شنید ہے کہ وہ ابھی تک مولانا کی امید نہیں ٹوٹنے دے رہے۔ مولانا ابھی بھی امید سے ہیں، اعتزاز احسن کی ایسے موقع پر دست برداری جہاں اعتزاز احسن جیسے بڑے آدمی کی توہین ہو گی وہیں پر بین الاقوامی طور پر پارٹی کے ’’لبرل‘‘ موقف کو دھچکا لگے گا۔ اس کے امیج پر سوالات اٹھیں گے۔ شیریں رحمٰن کے انگریزی میں حمایت کرنے سے بھی معاملات ویسے ہی رہیں گے۔ بہرحال مولانا شنید ہے کہ 
آصف زرداری سے ایک ملاقات، اس کالم کی اشاعت سے قبل کر چکے ہوں گے، جو آخری ملاقات ہوگی۔ آصف زرداری کے سامنے کچھ اور معالات بھی ہیں، وہ مولانا کی خواہشات پر یقینی طور پر اپنی ’’سیاست اور سیاست‘‘ کبھی قربان نہیں کریں گے۔ وہ ’’امن‘‘ اور ’’امان‘‘ کی شدید خواہش رکھتے ہیں، ملک میں سیاست چاہے کسی بھی ’’ڈگر‘‘ پر جا رہی ہو پیپلزپارٹی کو منفی نہیں کیا جا سکتا۔ آصف زرداری میں ابھی دم اور خم باقی ہے، وہ ایک بار پھر اپنا راستہ بنالے گا۔ ویسے بھی اسے ابھی آرام کی ضرورت ہے۔ اس کا سپہ سالار بلاول ہے جسے وہ ابھی دائو پیچ سکھا رہا ہے۔ ابھی کئی اور صدارتی و عام انتخابات آئیں گے۔ صدارتی الیکشن سیاسی ہے۔ عارف علوی انتہائی اچھے صدارتی امیدوار ہیں۔ قابل، دیانت دار، درد دل رکھنے والے مگر ان کا قد اعتزاز کے فی الحال برابر نہیں ہے مگر کیا کریں صدر خواہشات نہیں، سیاست دان منتخب کرتے ہیں۔ ڈاکٹر عارف علوی اور تحریک انصاف کو جیت کی پیشگی مبارک ہو۔ آخری شعر آصف زرداری کی نذر:
صرف بیٹھا نہیں ہوں سائے
میں ہی دیوار کا سہارا ہوں 
(خالد علیگ)
اور ہاں تحریک انصاف چاہے تو وہ مولانا فضل الرحمٰن کو ’’اکاموڈیٹ‘‘ کر سکتی ہے۔ وہ ایوان صدر میں نائٹ شفٹ شروع کر کے ان کو رات کا صدر بنا دے معاملہ حل ہو جائے گا۔ دن میں ’’علوی‘‘ رات  میں’’مولوی‘‘۔
بقیہ؍: محاسبہ