25 مئی 2019
تازہ ترین

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت

بوجھ بے معنی سوالوں کے اُٹھا رکھے ہیں
ہم نے سو فکر دل و جان کو لگا رکھے ہیں
آپ بھی کہیں گے کہ آخر منیر نیازی اس وقت کیوں یاد آگئے۔ بس کیا بتائوں حالات ہی کچھ ایسے ہیں کہ نہ چاہتے ہوئے بھی دل برداشتہ ہوجاتا ہوں۔ ستم ظریفی کہیں یا ستم بالائے ستم۔ مملکت پاکستان حالات جنگ میں ہو، ایسی صورت میں قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑی رہ کر، پھر سے منتشر ہوجائے تو دل خون کے آنسو نہ روئے تو اور کیا کرے۔
 بھارتی فضائی حملوں کے بعد دشمن کو تو افواج پاکستان نے سبق سِکھا دیا، لیکن درونِ خانہ حالات دگرگوں ہوں تو خاموش کیسے رہا جائے۔ نواز شریف کی خرابیٔ طبیعت یقیناً بہت بڑا مسئلہ ہے، نظرانداز کرنے کو جرم کے علاوہ کوئی اور دوسرا نام نہیں دیا جاسکتا۔ حکومتِ وقت نے اپنی طرف سے تو ہر ممکن کوشش کرڈالی کہ وہ اپنی مرضی کے ڈاکٹر، جس ہسپتال میں چاہیں، جس ڈاکٹر سے علاج کرانا چاہیں، پاکستانی ہو باہر سے بلایا جائے، سب کی ہامی بھر لی گئی۔ لیکن جہاں ضد آڑے آجائے، وہاں بات بجائے سنورنے کے بد سے بدتر نہ ہو تو کیا ہو۔ اس بات میں تو کوئی کلام نہیں کہ سابق وزیراعظم اور (ن) لیگ کے سربراہ عارضۂ قلب میں مبتلا ہیں، دل کا آپریشن بھی ہوچکا ہے۔ ایک ایسا شخص جو پیدائشی امیر تو خیر نہیں، لیکن عیش و عشرت کی زندگی کا عادی ہو، اُسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا جائے تو ویسے ہی نیند حرام ہوجاتی ہے۔ پھر تنہائی بذات خود کسی عذاب سے کم نہیں۔ مرض دوبارہ عود کر آئے تو حیرت کرنے والا بے وقوف کہلائے گا۔ والدہ، بیٹی، چھوٹا بھائی، عزیز و اقارب، دوست احباب سب نے ہی علاج معالجے کا مشورہ دیا، لیکن اگر سب کی بات رد کردی جائے تو اس کا علاج تو حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں۔ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا، بات پھر بھی نہیں بنی، 
اب سپریم کورٹ میں عرض داشت داخل ہے، تو پھر عدالت سے ہی اُمید رکھیں۔ جج صاحبان بھی قانون، قاعدے کے مطابق ہی فیصلہ کریِں گے۔ لیکن حکومتی ارکان کا بیان کہ ملک میں جدید ترین علاج و معالجے کی سہولتیں موجود ہیں، کسی حد تک درست ہے۔ 
قانون فطرت کو بھی پیش نظر رکھنا ہوگا۔ شریف خاندان قریباً تیس برس سے برسراقتدار ہے۔ آج تک اپنے تئیں ایسا کوئی جدید ہسپتال کیوں نہیں بنوایا، جہاں تسلی سے اپنا علاج کراسکیں۔ جس ملک میں امیروں کو انگلستان اور امریکا میں علاج کرانے کی پڑی ہو، اُن اُمراء کو سرکاری عہدے سنبھالنے کا حق نہیں۔ جہاں امیرِ شہر تو شِیر خورمہ سے خود بھی سرفراز ہوتے ہوں اور دوسروں کو بھی نوازنے میں آگے آگے ہوں، وہاں غریب اور اُس کے بچے، کتے کی جھٹلائی ہوئی روٹی کے لیے ترستے ہوں تو فریاد آسمان تک تو پہنچے گی۔ مالک کائنات سب کچھ دیکھتا رہتا ہے، اُس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ 
نواز شریف یہ کہتے ہوئے کہ وہ عدالتی حکم کے بعد جیل سے رہا یا ضمانت ملنے کے بعد انگلستان میں اپنے ہی ڈاکٹروں سے علاج کرائیں گے، کیوں بھول جاتے ہیں کہ وہ عدالت عظمیٰ سے مجرم قرار دیے جاچکے ہیں۔ بیمار ہونا الگ بات ہے، لیکن آپ جیسے سیکڑوں بلکہ لاکھوں مجرم قید و بند کی صعوبتوں کو بھگت رہے ہیں، اُن کا پرسان حال بھی تو ملک کا وزیراعظم ہوتا ہے، تو آپ نے اپنے دور وزارت عظمیٰ میں کیوں اُن کا خیال نہیں کیا۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی، لاہور کے ہسپتال جہاں اُنہیں لے جایا گیا تھا، کی دیوار سے ملا ہوا ہے، ایک منٹ میں آپ کی خیریت کے بارے میں معلوم کیا جاسکتا تھا۔ پھر راولپنڈی کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹ شہباز شریف نے نہیں، اُن کے پیش رو چوہدری پرویز الٰہی نے اپنے دور حکومت میں بنوایا تھا۔ (ن) لیگ کے لوگوں کا کہنا کہ شریف برادران نے پنجاب میں 19 ہسپتال بنوائے، قابل قبول نہیں۔ مریم نواز شاید کسی مجبوری کے تحت لمبے عرصے سے خاموش ہیں، چپ سادھ رکھی ہے، پھر بھی اُنہوں نے والد کی تکلیف کا ذکر کیا، پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو کی بھی ممنون و مشکور تھیں کہ وہ کوٹ لکھپت جیل میں عیادت کے لیے گئے۔ 
بلاول اعلیٰ تعلیم یافتہ، نوجوان اور بے نظیر کے تربیت یافتہ ہونے کے علاوہ، قومی اسمبلی کی انسانی حقوق کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں۔ اسی ذمے داری کو نبھانے کے لیے وہ نواز سے جیل میں ملنے گئے۔ اچھا کیا، مستحسن قدم تھا، کاش وہ جیل میں ہی دوسرے قیدیوں کو بھی دیکھ لیتے، وہ بھی انسانی حقوق کے متقاضی ہیں۔ وہاں کیوں بلاول چُوک گئے۔ دوسرے بیرکوں میں بھی چلے جاتے۔ ظاہر ہے کہ سیاست اصل مقصد اولیٰ تھا۔ عیادت کا تو نام لیا گیا۔ ان کی ملاقات کے بعد عوامی سطح پر بحث چھڑ گئی کہ کیا پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کوئی نئے محاذ، کوئی نئے میثاق جمہوریت کے متلاشی ہیں۔ پی پی پی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے وضاحت کر ڈالی کہ کوئی میثاق جمہوریت نہیں ہورہا۔ ہوگا بھی کیسے۔ 
چوہدری پرویز الٰہی جو آج کل پنجاب اسمبلی کے اسپیکر ہیں، نے تو اس ملاقات کی اہمیت کو ماننے سے انکار کردیا۔ کیسی جمہوریت، کون سا میثاق۔ کچھ بھی نہیں، صاف سیاست تھی۔ مشہور و معروف سیاست دان، اعتزاز احسن نے صاف کہہ دیا کہ نواز شریف مجرم ہیں، اپنی مرضی کیسے چلا سکتے ہیں؟ سزا سے بچ نہیں سکتے۔
فواد چوہدری اور نعیم الحق نے بھی حکومت کا موقف وضاحت سے بیان کردیا۔ خورشید شاہ کہتے ہیں کہ نواز کو کچھ ہوگیا تو عمران خان ذمے دار ہوں گے۔ کاش وہ اپنی پارٹی کے دور حکومت میں بھی انسانی حقوق کے علم بردار ہوتے۔ اُس وقت تو اُنہیں سانپ سونگھ جاتا تھا، حریفوں کا کبھی خیال نہیں آیا۔ آج حقوق انسانی کے بہت بڑے چیمپئن بنے پھر رہے ہیں۔ وزیر خزانہ اسد عمر نے بھی زرداری پر وار کر ہی ڈالا۔ زرداری بھٹو بن کے لیڈر بن گئے۔ آج بھی وہ اپنے الفاظ پر قائم ہیں۔
حکومت کا اور خود (ن) لیگ اور کئی ایک پیپلز پارٹی کے رہنمائوں کا بھی یہی موقف ہے کہ اُن کے باہر جانے یا ملک میں علاج کرانے کا فیصلہ عدالت کرے گی، حکومت کے ہاتھ میں رہائی نہیں۔ 
 ساری کتھا تو کہہ دی۔ خود ہی فیصلہ کرلیں خطاوار کون ہے۔ ہم صرف اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ میری بات کو ہر کوئی سمجھ نہیں پاتا۔ غالب نے شاید اسی وجہ سے کہا تھا کہ:
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں