18 نومبر 2018
تازہ ترین

دل و دماغ کی چشمک دل و دماغ کی چشمک

عمران خان نے انتخابات جیتنے کے بعد اور وزیرِاعظم کا حلف اُٹھاتے ہی قوم سے خطابات کیے۔ پاکستان کئی محاذوں پر چیلنجز کا سامنا کررہا ہے، لیکن یہ دو تقاریر عمران خان کی مکمل حکمتِ عملی کی عکاس ہیں۔ اگرچہ درپیش مسائل صرف باتوں سے حل نہیں کیے جاسکتے لیکن ان کے الفاظ ان کے نقطۂ نظر کی درست سمت کا تعین ضرور کرتے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب لوگ دل و دماغ کو یکجا کرکے محنت کرتے ہیں تو ایسا کچھ نہیں ہوتا جو ناقابلِ حصول ہو۔ 
تجزیاتی نقطۂ نظر سے دیکھیں تو اوباما اور عمران متوازی کردار ہیں۔ انہوں نے اپنے الفاظ کے ذریعے لوگوں کے دل و دماغ مسخر کیے۔ بالکل ایسے جیسے اوباما نے پہلے سیاہ فام صدر بن کر اس رکاوٹ کو توڑا۔ اسی طرح عمران نے پی پی پی اور (ن) لیگ  کے روایتی خاندانی سیاسی نظام کا تسلط توڑا۔ اوباما نے اس تاثر کی نفی کی کہ وائٹ ہائوس صرف سفید فام عیسائیوں کی میراث ہے۔ ان کا دوسری بار منتخب ہونا تعجب کی بات نہ تھی۔ خان صاحب کے بھی یہی مساوی حالات ہیں۔ وہ ایک ایسے انسان ہیں جنہوں نے ساری زندگی جدوجہد میں گزاری۔ زبردست قوتِ ارادی اور عزم کو ہمیشہ انہوں نے سراہا۔ بطور کرکٹر کئی دہائیوں تک وہ نوجوانوں کے ہیرو رہے، اس کے بعد شوکت خانم میں معیاری خدمات مہیا کرکے کینسر کے مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کے دلوں میں خاص مقام پایا۔ عمران نے اپنی کامیابی اور طرزِ فکر سے اندرون اور بیرون ملک کروڑوں لوگوں کے اعتماد اور دلوں کو تسخیر کیا۔ 
ملک کی گمبھیر سیاست میں بھی خان اسی عزم اور ولولے سے لیس داخل ہوئے۔ ہر طرف سے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا، لیکن معجزاتی طور پر انہوں نے ان حالات پر قابو پالیا۔ اب وہ نئی شروعات کررہے ہیں۔ پاکستان میں حکومت کرنا پیچیدہ، وسیع الجہت اور دشوار امر ہے۔ لیکن عمران خان درست سمت میں جاتے نظر آتے ہیں۔ مولانا رومی نے کہا تھا، ’’دل سے کہی بات دلوں پر اثرانداز ہونے کی طاقت رکھتی ہے۔‘‘
پچھلے حکمرانوں  کے برعکس خان نے ملک کے حقیقی مسائل کی نشان دہی کی ہے۔ ان کا لہجہ ان کے عزم اور ولولے کا غماز ہے۔ انہوں نے عوام کو اندھیرے میں رکھ کر افراتفری میں مبتلا کرنے کے بجائے مسائل سے خود صرفِ نظر کیا اور نہ عوام سے چھپایا۔ ان کی آواز میں کوئی خوف نہ تھا۔ انہوں نے انتہائی صاف گوئی سے ناکامیوں کو تسلیم کرنے کے ساتھ ان مسائل کو اجاگر کیا جو ملک کو درپیش ہیں۔ ان کی ابتدائی دونوں تقاریر ان کے فطری مزاج کے مطابق متاثر کن تھیں۔ انہوں نے ملک میں پانی کی کمی سے لے کر بچوں سے بدسلوکی جیسے ممنوعہ موضوع تک پر اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ ملک کی بہتری کی جدوجہد وہ اپنے دفتر سے شروع کریں گے۔ اگرچہ ابھی عملی اقدامات ہونے باقی ہیں، ابھی یہ صرف حکمتِ عملی ہے، لیکن یہ امید افزا اور دل و دماغ کو جیتنے کے لیے کافی ہے۔ 
ایک رہنما اور اس کے پیروکاروں کے درمیان امتیازی تعلق ہوتا ہے۔ رہنما شاید پیروکاروں سے کچھ زیادہ توقعات رکھتے ہیں، لیکن پیروکار رہنمائوں سے دو توقعات رکھتے ہیں۔ ایک ایمان داری اور دوسری پیروکاری کے ایسے نتائج جو دونوں کے لیے سودمند ثابت ہوں۔ خان صاحب دونوں سطحوں پر پورا اترنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ وہ اعتماد اور ایمان داری سے باہر نکلے ہیں۔ ان کا نقطۂ نظر روشنی کی طرح واضح اور شفاف ہے۔ یہی خواص جیت کا مجموعہ ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنی تقریر میں قوم کو اپنی ٹیم قرار دیا اور ہر کسی کو دعوت دی کہ وہ قومیت کی تشکیل کے کام میں شامل ہوکر’’پاکستان کا میچ‘‘ جیتنے میں کردار ادا کرے۔ انہوں نے دیانت داری کے ضمن میں خود مثال بن کر دکھایا، جیسا پیروکار رہنما کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ خان صاحب نے قوم کی چوری شدہ رقم واپس لانے اور شفاف احتساب کے آغاز کا بھی وعدہ کیا۔ یہ حکمتِ عملی ٹیکس گزاروں، غیر ملکی سرمایہ کاروںاور بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کو نتیجہ خیز سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ 
اب پاکستان کو درپیش بہت سے چیلنجز اور ان سے نمٹنے کے لیے نوتشکیل شدہ حکومت کے نقطۂ نظر اور قابلیت کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ سب سے پہلے مالیاتی امور دیکھیں تو بیرونی قرضے بدترین سطح پر پہنچ چکے ہیں، برآمدات بہت کم ہوچکیں جبکہ درآمدات تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں، ٹیکسز اہداف سے کہیں نیچے ہیں، سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے، ریاستی اخراجات قابو سے باہر ہوچکے اور بدعنوانی عروج پر ہے۔ خان نے کسی بھی عوامی مسئلے سے نمٹنے کے لیے انتہائی مؤثر طریقہ یعنی میرٹ کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ پی ٹی آئی کی ٹیم نے کے پی کے میں اپنے پانچ سالہ اقتدار میں کئی اہم تجربے کیے ہیں۔ اب وہ یہی حکمتِ عملی پورے ملک میں لاگو کرنا چاہتے ہیں۔ عمران خان نے اپنی ٹیم تشکیل دیتے ہوئے کرپشن کو ناقابلِ برداشت قرار دینے اور ہر قسم کے مالی استثنیٰ کے خاتمے کی بات کی ہے۔ انہوں نے ٹیکس دہندگان سے ایمان داری سے ٹیکس ادا کرنے اور سرمایہ کاروں کو ملک کی معاشی عدم استحکام کی صورتِ حال سے نکالنے کے لیے امداد کی درخواست کی۔ اگرچہ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے لیکن وزیرِاعظم کے ابتدائی خطاب کے فوراً بعد سے ہی سٹاک ایکسچینج کی قیمتوں میں استحکام دیکھنے میں آیا۔ 
ایٹمی قوت بننے سے ملک کی جغرافیائی سرحدیں محفوظ ہوگئی تھیں۔ پاک فوج سرحد کی کسی طرف سے بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ موجودہ صدی میں جنگ اب کسی اور طریقے سے لڑی جائے گی، جس میں لڑائی ڈالر اور برآمدات کے ذریعے ہوگی۔ اس شعبے میں پاکستان قیادت کے فقدان، دہشت گردی اور غیر مؤثر خارجہ پالیسی کے باعث بہت پیچھے ہے۔ دہشت گردی انسانی خون پینے کے ساتھ  خطرناک معاشی نقصانات پہنچارہی ہے۔ لیکن اب حالات کے بدلائو سے یہ وقت پاکستان کو آگے لے جاکر ایشین ٹائیگر بنانے کا بہترین موقع ہے۔ سی پیک اور اوبور کی بدولت پاکستان وسط ایشیا کے روشن امکانات کو سمیٹنے کے لیے درست سمت میں جارہا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی تھی کہ عمران خان جیسا دل و دماغ کو مسخر کرنے والا رہنما ملے جو مضبوط اعصاب کے ساتھ ملک کو مستحکم بنانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔