16 نومبر 2018
تازہ ترین

دریائے چناب کا کرب دریائے چناب کا کرب

پنجابی زبان کے لکھاری اور دانشور دوست ثناور چدھڑ آج ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئے۔ ثناور آج زندہ بھی ہوتے تو دریائے چناب پر تحریر کیے جانے والے کالم کا آغاز ان کے ذکر سے ہی ہوتا۔ اصل میں دریائے چناب پر کچھ لکھنے کی تحریک ثناور کے اس تحقیقی کام سے ملی جو وہ ’’رچنا‘‘ دوآب کے باسیوں پر کر رہے تھے۔ ثناور کا کہنا تھا کہ ’’راوی‘‘ کا مآخذ سنسکرت لفظ ’’روی‘‘ ہے جس کے معنی سورج ہیں اور چناب دریا کا نام لفظ ’’چن‘‘ یعنی چاند سے ماخوذ ہے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ انہوں نے اپنی تحقیق سے جو شواہد اکٹھے کیے ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ دریائے راوی کے کناروں پر سورج کو دیوتا ماننے والے اور لب دریائے چناب چاند کی پوجا کرنے والے لوگ بستے تھے۔ ثناور چدھڑ جب یہ عزم ظاہر کرتے کہ وہ ماضی کو کھنگال کر یہ دریافت کر کے رہیں گے کہ دو ہمسایہ دریاؤں کا نام سورج اور چاند سے کیوں موسوم ہوا تو دھیان ان دونوں دریاؤں کے حال کی طرف مبذول ہو جاتا۔ ان دونوں دریاؤں کا حال یہ ہے کہ ماضی میں جو دریا ایک جیسی آب و تاب کے ساتھ بہتے تھے ان میں سے ’’راوی‘‘ پاکستانی علاقوں میں تقریباً گندہ نالہ بن چکا ہے جبکہ ’’چناب‘‘ کے متعلق  یہ سوال پیدا ہو چکا ہے کہ بھارت کی طرف سے اس پر جا بجا ڈیم بنائے جانے کے بعدکیا اس میں پہلے کی طرح پانی کا بہاؤ جاری رہ سکے گا۔
دریائے چناب کو عمومی طور پر پاکستان اور خصوصاً پنجاب کی زرعی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ پاکستان اور انڈیا کے درمیان پیدا ہونے والے پانی کے تنازع کو 1960ء میں سندھ طاس معاہدے (Indus water treaty) کے ذریعے حل کیا گیا جس کے تحت پاکستان تین مشرقی دریاؤں راوی، ستلج اور بیاس کے سو فیصد پانی سے دستبردار گیا جبکہ اسے تین مغربی دریاؤں سندھ، جہلم اور چناب کے 93  فیصد پانی کو استعمال کرنے کا حق دیا گیا۔ اس معاہدے کے بعد لنک نہروں کے ذریعے دریائے سندھ اور جہلم کا پانی دریائے چناب کے ہیڈ ورکس اور بیراجوں تک لایا گیا اور پھر مزید لنک نہروں کے ذریعے چناب کے اپنے پانی سمیت یہ دریائی پانی خشک ہونے والے دریاؤں راوی اور ستلج تک پہنچایا گیا، جہاں سے زرعی زمینوں کو سیراب کرنے والی نہروں کے ذریعے اس پانی کو کھیتوں تک پہنچانا ممکن ہوا، جس کے بعد راوی اور ستلج کے علاقوں کی زیر کاشت زمینیں بنجر ہونے سے بچ گئیں۔
جس سندھ طاس معاہدے کے تحت دریائے راوی اپنے پانی سے محروم ہو کر سال کے زیادہ تر مہینوں میں گندے نالے کی طرح بہتا ہے اور جس سندھ طاس معاہدے کے مطابق دریائے چناب کا پانی رابطہ نہروں کے ذریعے خشک دریاؤں تک پہنچایا جاتا ہے، اسی معاہدے پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے پاکستان اور بھارت کے انڈس واٹر کمشنروں کے مذاکرات ہوتے رہتے ہیں۔ اس سلسلے میں دونوں ملکوں کے انڈس واٹر کمشنروں نے 29 اور 30 اگست کو لاہور میں ملاقات کی۔ ان کی ملاقات میں گفتگو کا مرکز بھارت کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بنائے جانے والے پاکال ڈل اور لوئر کنڈی نام کے دو ہائیڈرو پاور ڈیم رہے جو دریائے چناب تو نہیں مگر بھارت کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ان معاون دریاؤں پر بنائے جانے کا منصوبہ ہے جن کا پانی آخر کار دریائے چناب کے ذریعے پاکستان میںآنا طے ہے۔ کہنے کو تو یہ ایسے ڈیم (Run of the River Dam)  ہیں جن کا پانی بجلی پیدا کرنے کے بعد جوں کا توں پاکستان کی طرف بہہ جائے گا مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ بجلی کی پیداوار کے لیے بنائے گئے ڈیموں میں جب یہ پانی ذخیرہ کیا جائے گا اس وقت اس پانی کا بہاؤ وقتی طور پر رک جائے گا اور یہ وقت وہ ہو گا جب پاکستان میں فصلوں کو پانی دیا جانا اشد ضروری ہو گا۔ یاد رہے کہ  بگلیہار ڈیم کی تعمیر کے بعد انڈیا نے دریائے چناب کے پانی کو اپنے نوتعمیر شدہ ڈیم ذخیرہ کرنا شروع کیا تو اس موسم میں چناب کا بہاؤ انتہائی کم ہو گیا جب جب دیگر دریاؤں میں ابھی تک سیلابوں کا سلسلہ کسی نہ کسی حد تک جاری تھا اور مون سون بھی ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ اس وقت ماہرین کا کہنا تھا کہ چناب کے پانی کی بندش کی وجہ سے خریف کی تقریباً تیار اور ربیع میں بوئی جانے والی فصلوں کی پیداوار پر بہت بُرا اثر پڑے گا اور ان فصلوں کی پیداوار کے لیے مقرر کیے گئے اہداف کسی صورت پورا نہیں ہو سکیں گے۔ دریائے چناب کے پانی کی بندش کے خلاف پاکستانی حکام نے انڈیا سے احتجاج کیا ہے جس کے جواب میں انڈیا والوںنے کہا کہ دریائے چناب کے ڈرینیج ایریا میں کم بارشیں دریا میں پانی کے بہاؤ میں کمی کی اصل وجہ ہے۔ جبکہ پاکستان نے انڈیا کے اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ چناب میں پانی کی کمی کی اصل وجہ نو تعمیر شدہ بگلیہار ڈیم ہے جس میں پانی بھرنے کی وجہ سے خریف کے موسم میں دریائے چناب میں پانی کا بہاؤ مقررہ حد سے بہت کم ہے۔
بھارت دریائے چناب پر سلال اور بگلیہار  ڈیم بنا چکا جبکہ پاکال ڈل اور لوئر کنڈی ڈیموں کے منصوبوں پر کام جاری ہے، اس کے علاوہ   برسار ڈیم، سوالکوٹ ڈیم، ڈل حستی ڈیم اور راتل ڈیم کی طرح کے کئی  منصوبے اس کی پائپ لائن میں موجود ہیں۔ سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کو پاکستان کے حصے میں آنے والے دریاؤں پر ایسے ڈیم تعمیر کرنے کا حق حاصل ہے۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ نہ تو ہم سندھ طاس معاہدے میں ترمیم یا تبدیلی کا مطالبہ کر سکتے ہیں کیونکہ بھارت میں یہ مطالبہ بڑے زور شور سے کیا جا رہا ہے اور نہ ہی یہ بات ہمارے حق میں ہے کہ بھارت اپنی مرضی کے ڈیزائن کے مطابق دریائے چناب پر جتنے چاہے ڈیم بنا لے۔ ہمارے لیے بہتر یہی ہے کہ موجودہ سندھ طاس معاہدے کے اندر سے ہی جس حد تک ممکن ہے، اپنے لیے بہتری کا سامان پیدا کیا جائے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے بھارت کے ساتھ ہر سطح پر  مذاکرات کو ہی بہتر عمل قرار دیا جا سکتا ہے۔ انڈس واٹر کمشنروں کے لاہور میں ہونے والے مذاکرات میں بھارت نے پاکال ڈل اور لوئر کنڈی ڈیموں کے ڈیزائن پر پاکستان کے اعتراضات کو مسترد کر دیا۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی ماہرین کو ان مقامات کا جائزہ لینے کی اجازت بھی دے دی جہاں یہ دونوں ڈیم بنائے جا رہے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے انڈس واٹر کمشنروں کے لاہور میں ہونے والے مذاکرات سے قبل انسانی حقوق کی وفاقی وزیر محترمہ شیریں مزاری نے حکومتی نمائندے کے طور پر پارلیمنٹ میں یہ بیان دیا تھا کہ پانی کے مسئلے پر پاکستان مضبوط موقف کے ساتھ بھارت سے گفتگو کرے گا۔ یہ مذاکرات ہو چکے اور بھارت کا موقف بھی سامنے آچکا، مگر ابھی تک پاکستان کی نئی حکومت کی طرف سے ایسا کوئی بیان سامنے نہیں آ سکا جس سے ظاہر ہو کہ اس معاملہ میں حکومت کی حکمت عملی کیا ہو گی۔
یاد رہے کہ دریائے چناب کا پانی پنجاب کی زراعت کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس دریا کے رواں دواں مستقبل سے ہی پنجابیوں کا بہتر مستقبل وابستہ ہے۔