20 اکتوبر 2018
تازہ ترین

درمیانہ وار فیصلے درمیانہ وار فیصلے

برطانوی طرز بادشاہت ہو یا سعودی، جمہوری نظام ہو یا آمرانہ انداز حکومت، ہر ایک کی اپنی خوبیاں اور مختلف خامیاں ہیں۔ ہر دو نظام میں رہتے ہوئے ناصرف کاروبار مملکت چلایا جا سکتا ہے بلکہ پسے ہوئے اور محروم طبقات کی بہتری کیلئے مثالی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
جنرل ضیا الحق نے اقتدار سنبھالا تو ان سے انتقام لینے اور انہیں ناکام بنانے کیلئے مختلف کاروباری گروپ متحرک ہو گئے۔ یہ گروپ بااثر ضرور تھے لیکن انہوں نے ابھی تک مافیا کا درجہ حاصل نہیں کیا تھا۔ طے پایا کہ عوام کو مہنگائی کے ذریعے تنگ کر کے سڑکوں پر لایا جائے۔ یہ فرض ادا کرنے کیلئے کھانے پکانے کا تیل اور گھی تیار کرنے والے کمربستہ ہوئے۔ مختلف کمپنیوں کے ریٹ اور کوالٹی مختلف تھی، جو جب چاہتا قیمت میں اضافہ کر دیتا، ایک روز قیمت کچھ، چند روز بعد کچھ ہوتی۔
مارشلائی حکومت نے پیغامات بھیجے، مذاکرات کیے مگر جب کوئی نہ مانا تو اس صنعت کو قومیانے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے اعلان سے قبل اہم ادارے کو مطلع کر دیا گیا جس نے ضرورت کے مطابق دستے ٹارگٹ کی طرف روانہ کر دیے۔ ایک دستے کا نوجوان انچارج افسر اپنے کمانڈر سے رخصت کی اجازت لینے آیا۔ اس نے سلیوٹ کے بعد کمانڈر سے پوچھا اگر فرائض کی ادائیگی میں کوئی رکاوٹ ڈالے تو کیا مجھے گولی چلانے کی اجازت ہے؟ کمانڈر نے بلاتوقف جواب دیا، یقیناً ہے، چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اعلان کر چکے ہیں کہ شرپسندوں کو دیکھتے ہی گولی مار دی جائے۔ نوجوان افسران الوداعی سلیوٹ کر کے رخصت ہو گیا۔ اس سہ پہر جنرل ضیا الحق نے گھی اور تیل بنانے والی فیکٹریوں کو قومی ملکیت میں لینے کا اعلان کیا۔ ہر فیکٹری میں حساس دستے موجود تھے، کسی جگہ گولی چلانے کی ضرورت پیش نہ آئی کیونکہ مزاحمت کا ارادہ رکھنے والوں تک پیغام پہنچ چکا تھا کہ مزاحمت کو روکنے کیلئے کیا اختیارات دیے گئے ہیں۔
ہر نئی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی اسے ناکام بنانے کیلئے مزاحمت کرنے والے میدان میں اتار دیے جاتے ہیں۔ یہ نئی حکومت کا پہلا امتحان ہوتا ہے اسی سے اندازہ کیا جاتا ہے کہ حکمران ٹیم کے کھلاڑیوں میں کتنا دم خم ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت بننے سے قبل ہی آثار واضح تھے کہ وہ حکومت میں آ رہے لہٰذا انہیں ناکام بنانے کی حکمت عملی نگران زمانے میں مکمل کر لی گئی تھی، جونہی انتقال اقتدار ہوا منصوبے کے مطابق ڈالر مافیا نے اپنی سرگرمیاں شروع کر دیں۔
جانے والی حکومت خزانہ چاٹ کر بے تحاشا قرضے چھوڑ کر گئی تھی، رہی سہی کسر منظم ڈالر مافیا نے پوری کر دی، آج ڈالر 135روپے کو چھو رہا ہے، لے جانے والے اسے150تک لے جانے کا پروگرام رکھتے ہیں۔ پاکستان کے سر پر قرضوں کے انبار میں پندرہ روز میں کئی ہزار ارب کا اضافہ ہو چکا ہے، لیکن بحران سے نمٹنے والی ٹیم اور بالخصوص اس کے سربراہ اس معاملے میں بالکل کورے نظر آتے ہیں۔ ذمہ داری سے کہا جا سکتا ہے کہ ان کے پاس معاشی اور اقتصادی بحالی کا کوئی منصوبہ ہے نہ کوئی منصوبہ ساز۔ ان کی نیت نیک ضرور ہے مگر ان کا دھیان صرف چوری و ڈکیتی روکنے پر ہے جبکہ کاروباری طبقے کی حوصلہ افزائی کیلئے ساٹھ روز میں کوئی بڑا اعلان سامنے نہیں آیا۔
پچاس لاکھ گھر بنانے کے منصوبے کا اعلان تو ہو چکا، لیکن کام شروع ہونے اور اس پراجیکٹ میں سرمایہ کاری کرنے کے ثمرات عام آدمی تک پہنچنے میں مزید چھ ماہ لگ سکتے ہیں۔ مزید برآں اپنا گھر سکیم میں بھی کچھ خامیاں ہیں جو نہ ہوتیں تو یہ بہترین ہو سکتا تھا۔ منصوبے کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ حکمران طبقے سے وابستہ لوگ، خواہ ان کا تعلق کسی بھی پارٹی سے کیوں نہ ہو جب اپنے لیے گھر بناتے ہیں تو اس کا رقبہ ایکڑوں میں ہوتا ہے۔ غریب آدمی کو گھر دینے کی باری آتی ہے تو گھروں کے نام پر مرغیوں کے ڈربے بنائے جاتے ہیں، جس میں ہوا اور روشنی کا گزر کم رہتا ہے۔ اس طرح ہم اپنے ایسے عظیم الشان فیصلوں سے کمزور ذہن وجسم رکھنے والی قوم کی پرورش کر رہے ہیں، جس کی نظر بھی پیدائشی طور پر کمزور ہوتی ہے۔ اس قوم کے نوجوان ناک سے زیادہ دوری تک دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ یہ میدان عمل میں قوم کی راہبری کیا کریںگے۔ مرغیوں کے ڈربے نہیں کم ازکم پانچ مرلے کے گھر دیے جائیں، جہاں ہر گھر میں مرغیاں رکھنے کے ساتھ ایک درخت بھی لگایا جائے۔ اونچی چھتوں کا رواج ڈالا جائے، تاکہ بغیر اے سی کے پنکھے کی ہوا سے بھی گزارا ہو سکے۔
جمہوریت کا راگ ہر طرف گایا جا رہا ہے اداروں کو تسلط سے آزاد کرنے کی کوششیں اور ان کا انجام سامنے ہے، تجاوزات گرائی جا رہی ہیں، لیکن کسی کا دھیان اس طرف نہیں کہ رشوت کے ریٹ میں کس قدر اضافہ ہوا ہے اور ملاوٹ کا تناسب کتنا بڑھ چکا ہے۔ ادارے تو آزاد کیے جا رہے ہیں۔ ان اداروں میں کام کرنے والے اور عوام کے مسائل حل کرنے والے مادر پدر آزاد ہو گئے ہیں۔ انہیں روکنے والا کوئی نہیں۔ جو انہیں لگام ڈال سکتا تھا، وہ خواتین پولیس افسروں کی پاسنگ آؤٹ تقریب میں دو اعلیٰ پولیس افسروں کے درمیان یوں بیٹھا تھا، جیسے کوئی مجرم ہو۔ ڈرے ڈرے سہمے سہمے اس نے پہلے دائیں دیکھا پھر بائیں دیکھا جب اسے یقین ہو گیا کہ کوئی اسے نہیں دیکھ رہا تو اس نے ٹانگ پر ٹانگ رکھ لی تاکہ دیکھنے والوں کو یقین ہو سکے کہ سب سے بڑا افسر وہی ہے۔
مارشل لاء لگ نہیں سکتے، کوڑے برسائے نہیں جا سکتے، لیکن ایمرجنسی تو لگائی جا سکتی ہے۔ ایمرجنسی یا مالیاتی ایمرجنسی لگا کر ڈالر مافیا کو نکیل ڈالی جا سکتی ہے۔ ملک کو لوٹنے والے زیادہ ترآزاد ہیں، جو پکڑے گئے ہیں وہ پلہ نہیں پکڑا رہے۔ جن کے خلاف ناقابل تردید ثبوت مل چکے ہیں، انہیں سہولت میسر ہے کہ نیب قانون کے تحت وہ لوٹے ہوئے مال کا کچھ حصہ دے کر جان بچا سکتے ہیں۔ اپنی خطائیں معاف کرا سکتے ہیں۔ آج کل اسی منصوبے پر کام ہو رہا ہے۔ قوم کے مقدر میں ملزمان اور انہیں پکڑنے والوں کی آنیاں جانیاں دیکھنے کے سوا شاید کچھ نہیں۔ ڈالر دہشت گردی ختم کرنے کیلئے اسحاق ڈار کو فوراً پاکستان لائیں۔ انہیں اور ان کے ساتھیوں کو عبرت ناک انجام تک پہنچائیں۔ مردانہ وار یا زنانہ وار فیصلے کریں، کوئی حرج نہیں لیکن خدارا درمیانہ دار فیصلے نہ کریں۔
 بہروپ اور بہروپیوںسے قوم کی جان چھڑائی جانی بہت ضروری ہے اور اسی طرح خواجہ سرائی فیصلوں اور خواجہ سرائی نظام حکومت سے بھی، بصورت دیگرنیو ایسٹ انڈیا کمپنی تیزی سے پیش رفت کر رہی ہے، دائمی غلامی مقدر بن جائے گی۔۔۔ خدانخواستہ